Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Revenge Based Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Epi_24

Revenge Based Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Epi_24

Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

Revenge Based Urdu Novel, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode _24

تیمور ایکدم پیچھے ہٹا تھا حیران کن نظریں ائرہ سے ٹکرائیں

تمھیں کیا لگا بہت خوشی سے تم سے شادی کر رہی تھی وہ بھی تم سے ۔۔۔” وہ زور سے مکہ تیمور کے منہ پر مار گئ

نہ جانے کتنے دنوں سے اس دن کے انتظار میں تھی کہ کب مجھے تمھاری ہڈی پھسلی ایک کرنے کا موقع ملے چلو آج تو مل گیا ۔۔۔ اسنے تیمور کے بال پکڑ لیے تیمور نے اپنا آپ چھڑانے کے لیے اسکو مارتا کہ صیام نے بھی کھینچ کر لات ماری ۔۔ اور مکرم تو ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا ۔۔۔ جیسے ۔۔۔

نہ کچھ دیکھ رہا ہو نہ سن ۔۔

سارہ وہاج اور انکی ماں ۔۔ حق و دق تھے اگر وہ بھی بیچ میں کودتے تو پیٹتے تبھی وہ ایک طرف کھڑے رہے ۔۔۔ جبکہ آئندہ اور صیام کا تو دماغ ہی پھر گیا تھا تیمور کو بھن کر رکھ دیا ۔۔۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے ” پیچھے سے غصیلی آواز پر دونوں اس پرسے ہٹے ۔۔۔۔

تیمور ایکدم اٹھا ۔۔۔

تم دیکھ۔ رہے ہو ان دونوں کو کس طرح کا سلوک رکھا ہے انھوں نے میرے ساتھ ” تیمور غصے سے چلایا ۔۔

صیام ” عالم نے پوری آنکھیں نکال کر صیام کو گھورا ۔۔

سوری” وہ دانت نکالتا

۔۔ شانے اچکا گیا ۔۔۔۔

جبکہ ائرہ تو

۔۔ آنکھیں پھیرے کھڑی تھی اسکی جوتی بھی معافی نہیں مانگتی ۔۔

تیمور گویا اسکی معذرت کا بھی منتظر تھا ۔۔ مگر ائرہ تو دوبارہ جی اٹھی تھی اب اسے پرواہ نہیں تھی تبھی اسنے لہنگا بازؤں میں اٹھایا ور سر کھٹکتی اندر اپنے روم میں چلی گئ جبکہ حمائل بھی ہنسی دباتی اسکے پیچھے ہو لی ۔۔۔۔

عالم نے نفی میں سر ہلایا اب دوبارہ یہاں کوئ ہنگامہ نہ ہو ” وہ غصےسے بولا اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا

صیام بھی ہنستا ہوا چلا گیا جبکہ مکرم باہر نکل گیا تھا

تیمور بیوقوفوں کیطرح وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔۔

جبکہ وہاج کا ایکدم قہقہہ اٹھا

ٹھنڈے ہو گئے ارمان آپکے “: وہ ہنستا رہا ۔۔۔۔ تیمور کی آنکھوں میں شعلے تھے جیسے ۔۔۔

اس( گالی) کو تو میں جان سے مار دوں گا بہت جلد ۔۔۔۔۔

اسنے تیمور شاہ کی بے عزتی کی ہے “

جان سے تو اسے میں بھی مار دوں گی روز عالم کو ایمپریس کرنے کے طریقے ڈھونڈ کرآتی رہی جبکہ اس نے اس منحوس سے شادی کر لی ۔۔۔ ” سارہ بھی بولی دونوں بھائیوں نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔

اور سر جھٹکا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے یہ سب ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں” وہاج سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔

تم لوگوں کو یہ نہیں لگتا تم لوگوں کا باپ غائب ہے ” انکی ماں بھی غصے سے بولی ۔۔۔

کہیں بھی پڑا ہو گا

 کیا یہاں اپنی زندگی بہت سکون میں گزر رہی ہے جو اب انکی بھی فکر کریں جو اپنی مرضی سے غائب ہوئے ہیں اور حویلی کی منحوست میں تو دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔۔

اب تو پیچھلے باغ سے بھی بڑی گندی بدبو آ رہی ہے ” تیمور بولا ۔۔۔

جھمجھلایا ہوا تھا ۔۔

تو دیکھو وہاں کیا ہوا ہے ” انکی ماں نے کہا ۔۔۔۔

ہاں ملازم سے دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔ اور اس بلبل کے پر کاٹ کے وہ موت ماروں گا کہ آخری سانس تک تڑپے گی” وہ نفرت سے کہتا باہر نکلا ۔۔۔

اور ملازم کو بلوایا ۔۔۔۔

عجیب حیران کن بات تھی جیسے ہی یہاں سے نکل کر حویلی میں جاتے تو ۔۔ حویلی کی سمیل ناقابل برداشت ہوتی ۔۔ خیر یہ انکی لاپرواہی تھی دادا مر گیا تھا تو ۔۔۔ اسکو پھینکا دیتے ۔۔ نہیں دروازے بند رکھے ۔۔اور آپ سمیل تو جیسے رچ بس گئ تھی اور حیرانگی اس بات پر ہوتی تھی ۔۔ عالم کے پورشن۔

 میں کوئ سمیل نہیں تھی یہاں تک کے ۔۔۔ حویلی کی کھڑکیاں عالم کے پورشن میں کھولتی تھیں مگر پھر بھی اس حصے میں بدبو کا نام و نشان بھی نہیں تھا

اسنے ملازموں کو بلایا جو اسکے تھے ۔۔۔

جاؤ پیچھلے باغ کو اچھے سے دیکھو ۔۔پچھلے باغ سے بہت بدبو آنے لگی ہے کوئ بلی ویلی تو نہیں مر گئ ” تیمور نے حکم دیا تو وہ سر ہلا کر ۔۔۔ دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے

سارے السی ہو جو کام کہا ہے وہ ابھی کرو” وہ چلایا تو وہ ایکدم سارے پیچھلے باغ کیطرف جانے لگے مگر راستہ تو حویلی سے ہو کر جاتا تھا ۔۔۔

تبھی ان سب کو اپنے منہ پر کچھ نہ کچھ باندھنا پڑا ورنہ وہ اس بدبو سے مر جاتے وہ پیچھلے باغ میں آئے تو یہاں تو اور بھی بدبو تھی کے کپڑے سے بھی آر پار ہو رہی تھی

وہاں انھوں نے تیمور کے حکم کے مطابق تلاشی لی تو باہر کے دروازے سے تھوڑا سا آگے جہاں حویلی کا کوڑا پڑا تھا اور ان گندے لوگوں نے اٹھوایا نہیں تھا جیسے عرصے سے اسپر ۔۔۔۔ بڑے بڑے حشرات میں لیپٹی لاش پڑی تھی ۔۔۔

جس کے جسم سے ۔۔ کیڑے مکوڑے اور عجیب عجیب حشرات جو کبھی دیکھے نہیں تھے ۔۔۔۔ لیپٹے اس لاش کا ماس کھا رہے تھے ان سب کی آنکھیں اس خوفناک منظر کو دیکھ کر ابلنے کو ہو گئیں ۔۔۔۔

وہ چلاتے ہوئے وہاں سے دوڑ کر نکلے ۔۔۔

تیمور وہیں کھڑا تھا انکی چیخیں سن کر ایکدم وہ متوجہ ہوا

وہاں وہاں لاش ہے مردہ ۔۔۔ جسے کیڑے لگ گئے ہیں ۔۔ بہت بھیانک لاش ہے ۔۔۔۔” وہ سب بولے بھکلائے ہوئے سے ۔۔

تیمور خود حیران رہ گیا ۔۔۔

اور وہ ۔۔۔ اکیلا جاتا کہ ڈر الگ لگا اسنے اندر جا کر ایکدم شور مچا دیا

حویلی میں لاش ہے ۔۔۔ وہاج اپنی ماں اور سارا کے ساتھ ساتھ یہ شور سن کر صیام بھی نکل آیا ۔۔۔۔

لاش کا نام سن کر اسنے عالم کا دروازہ بجایا ۔۔۔

عالم اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔

بنا کسی چوں چرا کے اور ۔۔ بنا کسی ۔۔۔ تاثر کے وہ باہر نکل آیا ۔۔

تیمور اور ان سب کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ ائرہ اور حمائل کے علاؤہ باقی سب پیچھلے باغ کیطرف آ گئے ۔۔۔۔

اور جیسے ہی ان سب کی نظر اس لاش پر پڑی

۔

عالم کا بھی دل دھل سا اٹھا ۔۔۔۔ اسنے فور نگاہ پھیر لی ۔۔

یہ اس کے گناہوں کی سزا تھی جو اسنے نہیں دی ۔۔ اللہ نے دی تھی ۔۔۔۔ وہ سمجھہ بیٹھا تھا اسکی پکڑ نہیں ہو گی لوگوں کو مارنا اور جلا دینا عام بات ہو گئ تھی اسکے لیے ۔۔۔۔

اسنے تو اسے زندہ چھوڑا تھا مگر اسکی اولاد اس سے اتنی لاپرواہ تھی کہ خبر ہوئ تو مرنے کے بعد ۔۔

یہ یہ اسفند ہے” اسکی ماں ایک دم چیخی تھی اسفند کے ہاتھ میں ۔۔۔ ہمیشہ ایک چاندی کا کڑا ہوتا تھا ۔۔ جو ماس اتری ہوئ ہڈی میں لٹکا ہو اتھا ۔۔

وہ سب حونک رہ گئے ۔۔۔۔

عالم تو واپس پلٹ گیا ۔۔۔۔

صیام بھی جلدی سے پلٹ گیا ۔۔۔۔

یہ یہ سب ” اسکا چہرہ زرد ہو رہا تھا

عالم کی رفتار تیزی سے اپنے گھر کیطرف تھی ۔۔۔

بہت برا ہوا ” اسنے کہا اور ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھیں ۔۔ اور یوں ہی گھر میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔

میں مان ہی نہیں سکتا یہ تم نے کیا ہے ” صیام کو یقین نہیں آیا

تم پاگل ہو ” عالم نے اسکو گھور کر دیکھا

تبھی وہاج اور تیمور دروازہ کھول کر اندر ائے اور دونوں نے عالم کا گریبان پکڑ لیا عالم یوں ہی مظبوط چٹان کیطرح انکے سامنے کھڑا رہا

 تم نے مارا ہے نہ ہمارے باپ کو ۔۔اور یہ حال کیا ہے” وہ دونوں چیخے عالم نےانکا ہاتھ جھٹکا

تم دونوں اپنی اوقات میں رہو ۔۔۔۔ کب دیکھا تم لوگوں نے مجھے اپنے باپ کے ساتھ اسکی شکل دیکھنا نہیں چاہتا میں اور مجھے مارنے کے لیے اسکی شکل دیکھی پڑتی جو میں ایک لمہے کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا ” وہ نخوت سے بولا

یہ نا ممکن ہے” تیمور نے پھر سے اسکا گریبان پکڑا

میں پوسٹمارٹم کراؤ گا اور اس میں اگر کہیں بھی تم نکلے تو عالم جان سے مار دوں گا تمھیں میں “

عالم یوں ہی اسے دیکھتا رہا جبکہ وہ دونوں اور ماں بیٹی بھی وہاں سے باہر نکل گئے

۔۔

عالم نے ایک کال گھمائ تھی ۔۔۔

اور اگلی طرف سے بات سن کر سر ہلا کر وہ ۔۔ آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔

یہ تم نے کیا ہے نہ ” صیام نے پھر سے تصدیق چاہی ۔۔

اس ہنگامے میں اب حمائل اور ائرہ بھی نکل آئیں تھیں

ہاں ” عالم نے بنا کسی تردد کے کہا ۔۔

تم پاگل ہو اب کیا ہو گ جب وہ پوسٹمارٹم کروائے گا ۔۔۔۔۔”

صیام پریشان ہوا ۔۔

اس وقت وہ آہستہ آہستہ ۔۔عالم کے بنے جال میں پھنس رہا ہے ۔۔ پھنسنے دو ” اسنے سکون سے کہا ۔۔۔۔

اور اٹھ کر باہر نکل گیا

صیام بھی اسکے پیچھے گیا ۔۔

جبکہ حمائل اور احرہ جو انجان تھی مکرم نے انھیں سب کچھ بتایا اور وہ بھی عالم کے پیچھے نکلا تھا وہ دونوں ایک دم دنگ رہ گئیں

تمھیں لگتا ہے ائرہ وہ انسان تمھیں زندہ چھوڑے گا ” حمائل نے ہمدردی سے ائرہ کو دیکھا

ڈراؤ مت مجھے یار ” ائرہ نے کہا ۔۔۔

اور دونوں روم میں آ گئیں ۔۔۔۔

ایسا کرو عالم بھائ کے کمرے میں چلو ۔۔۔ تم بس شادی ہوگئ تو رخصتی خود سے کر لو” حمائل نے مشورہ دیا

ن۔۔۔نہیں نہیں بعد ہو جائے گی بس نکاح کافی ہے” ائرہ ڈر رہی تھی

بس چپ ہو جاؤ ۔” حمائل اسے کھینچتی ہوئ عالم کے کمرے تک لے آئ ۔۔۔۔

انھوں نے دروازہ کھولا تو ہر طرف اروش تھی

اسکی تصویریں اسکے پوسٹر ۔۔ اسکی چیزیں اسکی یادیں یہاں عالم نہیں تھا یہاں بس اروش تھی ۔۔۔۔

حمائل کو دکھ ہوا وہ بلاوجہ اسے یہاں لے آئ ۔۔۔

چلو ٹھیک ہے ۔۔ چلتے ہیں” اسنے ائرہ کا ہاتھ کھینچنا چاہا ۔۔ جبکہ ائرہ تو اس کمرے میں اروش کو دیکھ رہی تھی

ن۔۔نہیں” اسنے کہا اور ۔۔۔ بیڈ کے اوپر لگی اروش کی تصویر کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

وہ بہت خوبصورت تھی ” ائرہ نے کہا

حمائل نے سر ہلایا

مگر تم سے زیادہ نہیں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہی کہ تم میری دوست ہو ۔۔۔مگر یہ حقیقت ہے ۔۔۔” حمائل نے کہا

ائرہ کی انکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔

نہیں دیکھو وہ کتنی خوبصورت ہے ہر جگہ اروش ہے ۔۔۔ یہاں تو عالم بھی نہیں حمائل” وہ سسک اٹھی ۔۔۔۔

دیکھو ائرہ تمھیں حوصلے سے چلنا ہوگا تم یہ بھی جانتی تھی کہ عالم بھائ کسی اور سے محبت کرتے ہیں اور اتنی کہ شاید ہی زندگی بھر وہ یہ بات بھولا سکیں “

ایک بات کہوں ” ائرہ نے آنسو صاف کیے ۔۔

ہاں کہو ” حمائل سننا چاہتی تھی ۔۔۔

میں انکی محبت سے محبت کروں گی ۔۔۔۔ اور اپنی محبت کو زندہ کروں گی تم دیکھنا ” وہ مسکرائ

پاگل ہو گئ ہو تم تو ” حمائل حیران ہوئ

محبت پاگل پن سے آگے کچھ نہیں ۔۔۔

محبت میں سمجھداری ۔۔۔۔ شاید سیاسی لوگ رکھتے ہوں ۔۔ دیوانے کو تو محبوب کی گلی کا کتا بھی پیارا ہے ۔۔” اسنے کہا ۔۔۔

اور وہاں سے نکل گئ

حقیقت تو یہ تھی وہ ۔۔۔اور چند لمہے کھڑی ہوتی تو ۔۔اسکا دم گھٹ جاتا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوسٹمارٹم سے پتہ چلا تھا کہ اسفند کو اچانک فالج اٹیک ہوا تھا جس سے جہاں وہ تھا وہیں گر گیا اور ۔۔۔ وقت پر درست علاج نہ ہونے کی وجہ سے ۔۔۔ وہ مر گیا اورلاش کو ۔۔۔ کیڑے لگ گئے ۔۔

اسفند کو دفنا دیا

دونوں بیٹے آج بہت اداس تھے ۔۔

یہاں تک کے وہ دونوں روئے بھی ۔۔

عالم سچا لگا تھا

عالم رات کا ڈنر کر رہا تھا

تب تیمور اسکے پاس آیا اور پوسٹمارٹم کے بارے میں بتایا

۔۔

افسوس ہوا” وہ بس اتنا بولا صیام حمائل ائرہ تینوں موجود تھے

تیمور نے سرہلایا ۔۔۔۔

میں چاہ رہا تھا یہ حویلی بیچ کر ۔۔ ہم سب کہیں اور شفٹ ہو جاتے ہیں” تیمور نے کہا ۔۔۔

یہ حویلی نہیں بکے گی ” حتمی لہجے میں کہا

یہاں رہ کیا گیا ہے ۔۔” تیمور نے اسکو دیکھا

اروش ” عالم نے نگاہ تیمور پر گاڑھ دی ۔۔

تیمور کے رنگ زرد سے پڑ گئے ۔۔۔۔۔

عالم کی آنکھوں میں اسے عجیب بات دیکھائی دی تھی ۔۔۔

وہ۔۔وہ تو مر گئ ہے ” وہ تھوڑا گھبرا اٹھا ۔۔یہاں تک کے وہاج ۔۔ سارہ ور انکی ماں بھی ۔۔

ائرہ صیام حمائل اور پیچھے کھڑا مکرم چپ چاپ یہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

میرا مطلب یہ ہے تم اروش سے میری اٹیچمنٹ جانتے ہو ۔۔۔اور میں یہ جگہ نہیں بیچوں گا ” وہ بولا ۔۔۔

تیمور چپ ہوگیا

میں نے تمھیں نہیں روکا تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ ” عالم نے کہا ۔۔جبکہ تیمور نے چونک کر اسکو دیکھا ۔۔۔

یعنی وہ اسے نکال کر پوری حویلی پراروش کے بہانے سے قابض ہونا چاہتا تھا اور ایسا تو وہ ہونے نہیں دے گا ۔۔

اسنے نفی کی نہیں میں ادھر ہی ٹھیک ہو ” تیمور نے کہا ۔۔۔اور سب خاموشی سے کھانا کھانے لگے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات میں نیند تو آتی نہیں تھی ۔۔۔ اسے کافی کی طلب ہوئ کسی کو جگانے اور اٹھانے کے بجائے اسنے خود بنانا ضروری سمجھا تبھی وہ ۔۔۔ نیچے آ گیا

کچن میں کافی بنانے لگا ۔۔۔

اور کچن میں ائرہ کو داخل ہوتے دیکھ ۔۔۔ اسنے نگاہ پھیر لی

ائرہ البتہ دروازے پر ہی رک گئ ۔۔

دیکھائیں میں بنا دیتی ہوں ” وہ مسکرا کر بولی آنکھوں میں چمک ہی الگ تھی ۔۔ لبوں پر دھیمی مسکان

عالم نے ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔۔۔۔

میں اپنے کام خود کرتا ہوں

آگے سے تو میں کروں گی نہ

تمھیں کس نے کہا ساری زندگی تمھیں ساتھ رکھو گا ” وہ سرد مہری سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا

میں تمھیں بتا چکا ہوں اگر زندگی میں کوئ لڑکی عالم کے لیے تھی تو وہ صرف اروش تھی

وہ مر گئ ہے ” ائرہ نے سرخ نظروں سے اسے جیسے حقیقت بتائ ۔۔

عالم نے اسکی کلائی پکڑ کر موڑ دی ۔۔۔

دوبارہ کہو وہ مر گئ ہے ۔۔۔۔ کہو زرا ۔۔۔۔ پھر دیکھنا ۔۔۔۔ کیا کرتا ہوں تمھارے ساتھ ” وہ جزباتی سا ہو گیا ۔۔۔

ائرہ کو کلائی میں تکلیف ہو رہی تھی ۔۔۔۔

اور آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔

تم نے میرے نکاح میں خوشی سے آ کر غلط کیا ۔۔ پہلے تو شاید تمھارے انجان ہونے کا لحاظ کر لیتا” وہ اسکے کان کے نزدیک پھنکارہ

ائرہ نے ایکدم اسکی جانب پلٹ کر دیکھا تھا کیونکہ عالم اسکا ہاتھ چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔

یعنی اب میں آپکی ہوں ۔۔آپ ظلم کریں ستم کریں یہ محبت ۔۔۔۔ خود سے الگ مت کیجیے گا ۔۔۔۔

سنا تھا آپ نے کہا تھا کبھی کوئ مجھ سے اتنی محبت کرتا تو میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ۔۔۔۔۔

آپ میرا حاصل ہیں ۔۔میں دنیا کو چیخ چیخ کر بتا دیںا چاہتی ہوں حاصل شدہ شخص کی قدر کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔

محبت حاصل ہو جائے ۔۔ تو اس سے زیادہ قیمتی کچھ نہیں ۔۔ نہ جانے لاحاصل رہنے والے لوگ ۔۔ کیسے جی لیتے ہیں ۔۔

ہاں مجھے یقین ہے انکا دم گھٹ جاتا ہو گا ۔۔۔۔ اور وہ خود کو مار کر آگے بڑھتے ہو گے ۔۔

پہلا پیار کسی کو بھولتا نہیں عالم ۔۔۔ میں جانتی ہوں ۔۔۔۔۔

اور مجھے لگتا ہے عشق میں میں خوب رولنے والی ہوں ۔۔۔

لیکن اپنی خوشی سے ۔۔۔۔۔

میری آنکھوں میں دیکھیں مجھ میں ہے صلاحیت آپکی محبت سے بھی ٹوٹ کرمحبت کرنے کی” وہ بھیگی نم پلکوں سے ۔۔۔ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام گئ ۔۔

عالم اسکی گفتگو سے ساکت سا ہوا۔۔

جبکہ آئرہ نے اسکے سینے پر سر رکھ لیا ۔۔۔

عالم اسکی دل کی دھڑکنوں کا شور سن رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

continued…

Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagrhttp://Novelsnagr ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *