Web Special Novel, Revenge Based Urdu Novels ,

Revenge Based Urdu Novels| یہ عشق کی تلاش ہے | Epi-28

Revenge Based Urdu Novels | یہ عشق کی تلاش ہے | Epi-28

 

Revenge Based Urdu Novels , Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Revenge Based Urdu Novels , online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode _28

وہ اندر آیا تو ۔۔۔۔ جیسے ۔۔۔ پورے گھر میں سناٹا تھا ۔۔اسنے سر جھٹکا ۔اور ۔۔۔ ہر چیز کو اگنور کرتا وہ ۔۔ اپنے کمرے میں ا گیا دروازہ کھول کر اندر آیا تو وہاں ائرہ نہیں تھی

اسکی بلا سے بھاڑ میں جاتی ۔۔۔۔

اتنی ایکٹینگ وہ کسی کی برداشت نہیں کرتا تھا ۔۔ تبھی وہ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔سمانے ہی اروش کی تصویر تھی ۔۔

وہ غور سے دیکھتا رہا ۔۔۔

اس تصویر میں بھی عالم شاہ کے لیے شناسائی نہیں تھی

بس ایک پل کو اسکی محبت کے لیے وہ ترستا تھا ۔۔

مگر محبت نام کی واقعی اس تصویر میں بھی کوئ چیز نہیں تھا

۔۔

وہ خود سے نظریں چرا رہا تھا مگر حقیقت تھی اروش عالم شاہ سے خوف زدہ رہتی تھی ۔

میری محبت ہی کافی ہے ۔۔۔ تھی اور رہے گی ” وہ سر جھٹک کر خود سے ہی نفی کر گیا ۔۔۔۔

مگر بے چین تھا ۔۔ بے تاب تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم۔جا چکا تھا ۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر تکیوں میں منہ دیے رو دی تھی ۔۔ اپنا دل ہلکا کر کے ۔۔۔ اسنے سر اٹھایا اور سیل فون اٹھایا بابا کو کال کرنا چاہی ان سے بات کرنے کا دل تھا انکے پاس جانے کا دل تھا ۔۔۔

مگر عالم نے سیل پھینک دیا تھا تبھی سیل میں کریک ا گیا تھا ۔۔۔

اسنے سیل فون ایکطرف رکھ دیا ۔۔۔

اور سر تھام گئ اچانک اسے باہر کھٹ پٹ کی آواز آئ ۔۔ ا

سنے آنسو صاف کیے اور اٹھ گئ ۔۔۔

باہر جھانکا تو اسے تیمور چپکے سے اندر آتا دیکھائی دیا ۔۔

ایک پل کے لیے سر سے لے کر پاؤں تک اسکے وجود میں کپکپاہٹ گونج اٹھی جیسے ہی وہ مکرو مسکراہٹ کے ساتھ پلٹا اور نظر سیدھی احرہ سے جا ٹکرائی ۔۔۔۔

ائرہ ان نظروں کے مفہوم کو لمہوں میں سمھجی تھی اسنے پلٹ کر دوبارہ اندر کمرے میں بند وہ نا چاہا ۔۔ دروازہ بند کرنے لگی کہ تیمور نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔

تیمور عالم تمھیں جان سے مار دے گا ” احئرہ غصے سے چلائ جبکہ تیمور خباثت سے ہنسا

اس سلسے کی قسمت میں ہے ۔۔۔ کہ اس سے پہلے اسکی محبوبہ میرے بستر پر تھی اور ۔۔اب اسکی بیوی بھی ” وہ قہقہ لگا اڑھاائرہ کا دماغ گھوما اسنے کھینچ کر تیمور کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہامگر ۔تہمور نے اسکے ہاتھ جھٹک دیے

تجھے توڑنے میں ۔۔۔ کتنا مزاہ آئے گا ۔۔۔تو بہت مزے کی چیز ہے ” تیمور ہنستا ہوا ۔۔۔ اس تک پہنچا مگر احرہ گھوم کر کمرے کے دوسرے حصے میں چلی گئ ۔۔

عالم ” وہ چلائ ۔۔۔

عالم ” وہ پھر سے چلائ ۔۔۔

مگر عالم ہوتا تو کچھ ہوتا ۔۔۔

تمھارا عالم یہ یہ کھوں کے بیوقوف عالم یہاں نہیں ہے درحقیقت وہ ایک بیوقوف آدمی ہے اگر اسے اروش چاہیے تھی تو اسنے انتظار کیوں کیا کہ میں اسے طلاق دوں گا ۔۔ طاقتور آدمی ہے بندوق رکھتا سینے پر اور طلاق دلوا دیتامگر نہیں اسنے انتظار کیا کہ اسکی حرکات سے میں اسے طلاق دے دوں گا مجھے اس سے نفرت نہیں تھی مگر اروشکے وقت میں ضد تھی تو میں نے اس سے اسکی سانسیں کھینچی آج تو مجھے اس سے نفرت ہے ۔۔ اسکے ہاتھ پاؤں عزت سب تھا نھس کر دوں گا میری چڑیا ۔۔

چل اب ” وہ ایکدم ا ئرہ وہ دبوچ کر بولا

۔۔

احرہ پھڑپھڑا گئ چلانے لگی

عالم ۔۔۔

عالم ” ائرہ چلائ ۔

مگر گھرمیں سے اسکی آواز گونج کر عطا سلوٹ آتی ۔۔ جبکہ تیمور کے مکرو قہقے۔۔

ائرہ نے اسکو مارنا چاہا مگر تیمور نے اسکے ہاتھ اسی کے دوپٹے سے باندھ دیے جبکہ ۔۔ منہ پر بھی اسنے ٹیپ لگا دی ائرہ کے لاکھ احتجاج کے بعد

اور تیمور نے اسے اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور وہاں سے اٹھا کر وہ اسے ۔۔۔ حویلی کی جانب لے کر چلا گیا ۔۔۔ ا

ئرہ نے ۔۔۔ چیخنے چلانے کی لاکھ کوشش کی مگر منہ بند تھا ۔۔۔

اسکی آنکھ سے بے شمار آنسو بجے رہے تھےاسکی ساری محنت ساری طاقت ۔۔۔ ساری بلیک بیلٹ کی پریکٹس ۔۔۔ سب ضائع گئ تھی ۔۔۔

آج وہ اپنی عزت کے لیے کچھ نہیں کر سکی تھی ۔۔۔

البتہ دل پھٹ رہا تھاعالم کو پکار رہا تھا مگر شاید اسے اندازا تھا عالم کے دل میں اگر کہیں بھی احرہ دھڑکتی تو وہ اسپر گزری مصیبت کو محسوس کر پاتا ۔۔۔

ٹیومر اسے حویلی میں لے آیا اور اسکو اسی کمرے میں لا پٹخا جہاں اروش کو مارا تھا ۔۔۔

اسی بیڈ پر پھینک کر اسنے کمرےما دروازہ بند کیا ۔۔

اروش کے ہاتھ بندھے تھے مگر اسنے پھر بھی بھاگنے کی کوشش کی ۔۔ تیمور نے کھینچ کر تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا بلکہ ایک نہیں دو تین اور جب چوتھا لگاائرہ زمین پر جا پڑی ۔۔

تو مجھے بیوقوف بنا رہی تھی ۔اس سے شادی کرنے کے لیے تو نے مجھے چارہ سمھجا ۔۔۔ آج اگر ضرورت پڑی تو تیرا بھی ادھر ہی کام تمام کر دوں گا جیسے اس اروش کا کیا تھا ۔۔اسکے منہ پر تکیا رکھ کر مار دیا تھا جان سے اسے ۔۔۔۔

جب ایس آلگا کہ عالم کی نظریں ہیں اسپر تو سخت بڑی لگنے لگ گئ بات بھی کرتی تھی تو جی کرتا تھا قتل کر دوں مگر برداشت کیا اور جب برداشت ختم وہ گئ تو۔۔

وہ قہقہ لگا کر ہنسا

کام تمام ۔۔۔

اور تجھ سے بھی مجھے ایسی ہی نفرتہےاب اپنے کلائ میکس کو پانی آنکھوںسے دیکھ ۔۔” اسنے احرہ کے بال جھنجھوڑ دیے جبکہ ائتہ کا سفید گال سرخی پھوٹ رہا تھا

مگر ایک بات ماننی وہ گی اروش تو خوبصورت تھی ۔۔

مگر تو تو آفت ہے ۔۔۔ تجھے ایسے تو نہیں ماروں گا ” کب سےاس موقے کی تلاش میں تھا کہ کسی دن تو مجھے مل جائے اکیلی اب وہ تیرا غلام اسکی قبر پر ٹے بھا رہا ہو گا کل تیری ہر بھی چل دو تو بھا لے گا ” وہ ہنسا ۔اور احرہ کے منہ پر ایک اور تھپڑ مارا

اظرہ بے جان سی ہو کر لڑھک گئ ایکطرف ۔۔۔۔

دل نے شدت سے عالم کو پکارہ تھا ۔۔۔

مگر صدا اس تک۔ نہیں پہنچ سکی ۔۔۔

تیمور کچھ دیر زمین میں پڑی ائرہ وک دیکھتا رہا اور پھر باہر نکل گیا ۔۔۔

کافی دیر بعد وہ اندر آیا تو اسکے ہاتھ میں کچھ سامان تھا اظرہ خوف سے کانپ اٹھی ایک بار پھر وہ اسے ۔۔ زخم دینے والا اٹھ ا۔۔۔

وہ پیچھے ہٹنے لگی ۔۔

تیمور کا قہقہ بلند ہوا زہین ہو سمھجہ گئ ہو ” وہ چھری ہاتھ میں جکڑ کر اسکے نزدیک بیٹھا ۔۔

تمھارا منہ بھاڑ دوں گا میں عالم شاہ ۔۔۔۔ تمھارے منہ پر تھوکے گا بھی نہیں ۔۔اور تمھارا یہ ہی انجام بنتا ہے کہ تم ۔۔۔مجھے بیوقوف بناؤ گی تیمور شاہ کو ۔۔ ” وہ چلایا اور اچانک اسنے چھری اٹھا کر احرہ کے گال پر ۔۔ دے ماری۔۔۔

اظرہ کی آنکھیں پھٹیں رگیں تن گئیں جیسے وہ چیخ رہی ہو ۔۔۔۔

گال پر ایسے لگا جیسے کسی نے ۔۔۔ تیزاب سا پھینک دیا ہو ۔۔ شاید وہ چھری کسی استعمال میں تھی گال کٹنے کی تکلیف چھری پر لگی کوئ شے۔۔۔ اور منہ پر بندھی پٹی ۔۔۔ اور زور زور سے پاؤں مارتی رورہی تھی البتہ تیمور ۔۔۔

محظوظ ہو رہا تھا تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو

اسکے گال سے بھک بھل بھٹا خون ۔۔۔۔ تیمور نےاس کے گال پر ہاتھ رکھا

اور اسکا زخم افسوس سے سہلانے لگا ۔۔

اگر تم مجھے بیوقوف نہ مناتی تو زید میں تمھیں پیار کرتا کیونکہ تم خوبصورت ہو ۔۔” وہ ہنسا مگرا ب ایسا کچھ بھی نہیں وہ گا ۔۔۔” اسنے شانے اچکائےاور ۔۔۔۔

ائرہ کے رونے کی دبی دبی آوازیں اسے عجب سکون سا دے رہیں تھیں ۔۔

تیمور بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔

مزاہ ا رہا تھا ۔۔

وہ بلکل بھی پاگل نہیں تھا مگر ۔۔۔ جو اسکے ساتھ ۔۔ غلط کر تا تھا وہ اسکے ساتھ ۔۔۔ اس سے بھی غلط کرتا تھا۔۔۔ ہر اچھی چیزعالم۔کص کیوں لے اسکا کیوں نہیں تھا اچھی چیزوں پر حق

وہ نفرت سے سوچتا رہا

وہ جانتا تھا اسکے گال سے خون نکلتا جا رہا تھا

مگر اسے تسلی تھی اچھا تھا وہ بھی مر جاتی ۔۔۔۔

اور عالم شاہ پھر بھٹکتا پھرتا وہ ہنسنے لگا پاگلوں کی طرح

پھر ایکدم اٹھا

وہ سسک رہی تھی گال میں بے حد تکلیف ہو رہی تھی ۔۔

تیمور نے چھری پھر سے اٹھائ ۔۔

ایرہ نے خود کو رونے سے باز رکھا ۔۔ اب بھلے چاہے وہ اسے مار دے وہ روئے گی نہیں ۔۔

جب غلام تک اسکی سد انہیں پہنچی تو وہ لٹے یہ مارے ۔۔۔

کسی کو فرق نہیں پڑتا وہ تیمور کو ۔۔ دیکھتی رہی نفرت سے تیمور نے غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔

وہ تو اسکی انکھوں میں خوف آنسو دیکھنا چاہتا تھا وہ کیوں ۔۔۔ اتنا اکڑ رہی تھی ٹیومر نے اسے پھر سے مارا تھپڑ کھینچ کھینچ کر احرہ کے کان سے خون نکلنے لگا مگر اسکے منہ پر کوئ تاثر نہیں آیا ۔۔

تیمور نے غصے اور ضد میں ۔۔۔۔

چھری اسکے ہاتھوں پر موجود انھیں زخموں پر چلا دی جو اسنے پہلے دیے تھے ۔۔۔۔

اظرہ نے تکلیف سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ جبکہ اسنے اپنا آپ چھڑایا ۔۔

یہ ہی یہ ہی تکلیف دیکھنی ہے مجھے

ایکدم اسکا سیلفون بجنے لگا ۔۔۔۔

وہ اٹھ کر باہر نکل گیا ۔۔

ائرہ کی سانسیں پھول گئیں ۔۔

وہ دل ہار کر رو دی ۔۔۔۔۔۔

ایک آخری بار عالم کو پکارہ تھا اسنے

مگر وہ نہیں آیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکرم حویلی میں داخل ہوا تو حویلی میں سناٹا تھا وہ عالم کے پورشن میں آیا تو وہاں بھی کوئ نہیں تھا عالم کا تو اسے پتہ تھا وہ گھر میں نہیں تو احرہ کو تو گھر میں ہونا چاہیے یہاں آتے ہوئے اسنے حویلی کے اندر کے دروازے کھلے دیکھے تھے ۔۔۔۔ مگر توجہ نہیں دی ۔۔۔۔۔

وہ احرہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتا رہا ۔۔ تبھی غلام کے کمرے تک پہنچا کچھ پریشانی کا احساس سا ہوا تھا ۔۔۔

اسنے یہ غیر اخلاقی حرکت کی تو تھی مگر وہ کر گیا ۔۔ دروازہ کوھلا تو علامہ بیڈ پر لیٹا تھا ٹانگیں البتہ نیچے تھیں ۔۔۔

ہاتھ کھولے وہ چھت کو گھور رہا تھا ۔۔

شاہ سائیں ” مجرم کی آواز پر اسنے گردن ترچھی کر کے دیکھا

معافی چاہتا ہوں اس مداخلت پر مگر احرہ بی بی تو پورے گھر میں نہیں ” وہ پریشانی سے بولا ۔۔

اپنے کمرے میں ہو گی” وہ سننا نہیں چاہتاتھ سائرہ کا زکر تبھی لاپرواہی سے بولا اور ویسے ہی لیٹا رہا

مگر شاہ سائیں وہ واقعی کہیں نہیں ہیں ” مکرم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔

عالم شاہ نے مکرم کیطرف دیکھا

ایس اکیسث ہو سکتا ہے” بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا اوروہ کمرے سےنکللا تھامکرم نے دیکھا اسکے پاؤں میں تیزی تھی ۔۔۔۔

وہ نیچے آیا مکرم بھی اسکے ساتھ ہی تھاائرہ کے کمرےمیں جھانکاخالی تھا

کمرے کا حلیا ویس آہی تھا جیسے وہ چوھڑ گیا تھا آخری بار وہ بیڈ پر تھی

ایک بار پھر دیکھو ” عالم مڑ کر بولا ۔۔۔

مکرم سر ہلا کر چیک کرنے نکل گیا ۔۔۔

اور عالم شاہ نے اس کمرے کو غور سے دیکھا

ہوسکتا ہے چلی گئ ہو ۔۔” وہ سوچنے لگا اور تلخی سے ہنس دیا

عالم شاہ وہ برداشت کرنا اتنا بھی اسان نہیں تھا ائرہ بی بی ۔۔ کہ تم محبت مثبت کا ڈھنڈورا پیٹتی اور عالم تمھارے قدموں میں ڈھیر ہو جاتا ۔۔۔۔

وہ تلخی سے سوچ کر باہر نکلنے لگا کہ ایک چیزپر نظر پڑی ۔۔

بیڈ پر پاس ٹیپ پڑی تھی ۔۔اسنے چونک کر دیکھا

۔۔

اور ٹیپ ہاتھ میں اٹھا لی ۔۔۔۔

مکرم واپس لوٹ آیا ۔۔

سائیں” اسنے پکارہ عالم مڑا اور مکرم نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

عالم نے وہ ٹیپ پھیل دی

یقین ہو گیا وہ چلی گئ ۔۔۔

اسنے سر جھٹکا ۔۔۔۔

نہ جانے کیا ہو رہا تھا وہ چلتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

سائیں ۔۔” مکرم کو سمھجہ نہیں ا ئ کچھ

چلی گئ ہو گی۔۔ تھک ہار کر” وہ ہنس دیا ۔۔

مجھے نہیں لگتا سائیں ” مکرم پریشان تھا

کیوں ” وہ پھر سے ہنسا ۔۔۔تو مکرم نے نفی کی ۔۔۔

میں ایک بار حویلی میں دیکھتا ہوں” وہ بولا

۔۔ اور باہر بھاگا ۔۔۔

جبکہ عالم شاہ ہنس دیا۔۔ ہنستے ہنستےاسکی آنکھ میں پانی کیسے آیا وہ جان نہیں سکا مگر آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مکرم بھاگتا ہوا آیا ۔۔

سائیں” وہ باہر سے ہی چیخا۔۔۔۔

عالم نے سرخ نظریں کھولیں ۔۔۔۔

اور مکرم کو دیکھا ۔۔۔ جس کی ناکھیں بھیگی ہوئی تھیں وہ اٹھا ۔۔ اسکی جانب بڑھا ۔۔

مکرم حویلی کیطرف بھاگا ۔۔۔

عالم کے قدم ۔۔ عجیب سے لڑکھڑا اٹھے

انھونی کے خوف سے وہ ۔۔ تھکاوٹ محسوس سکرنا لگا قدم قدم بھاری ہونے لگا

حویلی میں داخل وہا تو تیمور کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی

اور اندر سے آوازیں ا رہیں تھیں مدھم مدھم ۔۔۔۔

جو تیمور کی ہی تھیں دوسری کسی کی نہیں تھی جبکہ عجیب گھٹی گھٹی آواز تھی

۔۔

پوری حویلی اندھیرےمئں ڈوبی تھی ایک بس اس کمرےکی روشنی عجیب خوفناکی پھیلا رہی تھی ۔۔ مکرم نے کاٹیں جلا دی ۔۔ جبکہ عالم نے اس کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا ۔۔

اگر اندر ائرہ ۔۔۔۔ ہوئ ۔۔۔۔ تو ” وہ رک گیا ۔۔۔۔

اندر سے تھپڑ لگنے کی آواز آئ ۔۔۔

اور عالم۔شاہ نے ۔۔۔۔ دروازہ کھولا ۔۔۔۔

مگر دروازہ لوک تھا ۔۔ مکرم نے شور مچانے سے اسے روکا اور کچن کے ڈیوائڈر سے چابی لینے دوڑا ۔۔۔۔

وہ چابی لایا عالم نے دروازہ کھولا ۔۔۔

اور ۔۔۔ جہاں تھا وہیں رہ گیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین پر خون سے لے پت اظرہ نیم جاں سی پڑی تھی جبکہ تیمور ۔۔۔۔ ایکطرف کھڑا تھا ۔۔۔

صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔ ائرہ کے چہرے پر کٹ کا نشان جبکہ اسکے ہاتھوں پر کٹ کے نشان ۔۔

عالم شاہ لمہوں میں ائرہ تک پہنچا

ائرہ” اسنے پکارہ جبکہ ائرہ کے چہرے پر اسے دیکھ کر کوئ ریسپوںس نہیں ایا ۔۔۔

عالم نے اسے پھر سے جھنجھوڑا وہ ہوش میں تھی ۔۔ مگر کوئ تاثر نہیں تھا ۔۔

تیمور خود سے پیلا پڑ گیا ۔۔۔۔

اسنے بھاگنے کی کوشش کی مگر مکرم اسپر ایکدم حملہ اور ہوا ۔۔ ا

ور اسے ۔۔بری طرح مارنے لگا تیمور اپنے بچاؤ کے لیے اسے مارنے لگا۔۔۔

دونوں گتھم گتھا تھا ۔۔۔۔

عالم۔ائرہ کی آنکھوںیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ایک اور لڑکی اسکی وجہ سے۔اطنا سب کھو دینے پر تھی ۔۔۔

اور وہ بھی وہ لڑکی جو اسکی بیوی تھی

عالم شاہ کی بیوی۔۔۔

علام۔ہے جسم میں آگ کے شعلے ابل پڑے وہ احرہ وکغہیں چھوڑ کر اٹھا اور تیمور کا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔

چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی ۔۔۔۔

عالم میں میں نے نہیں کسی اس نے یہ سب خود کیا ہے ” تیمور کی روح تک کانپ اٹھی غلام وک دیکھ کر ۔۔

عالم چیخا (گالی) اور اسکے منہ پر ۔۔۔ کھینچ کر مکہ مارا ۔۔۔

اسکے جبڑے پر ایسا مکہ لگا ۔۔۔

کہ تیمور دور جا پڑا ۔۔ عالم اس تک پہنچا اسے دوبارہ اٹھایا اس وقت اس کے ہاتھ میں اتنی طاقت تھی کے تیمور کا دانت ٹوٹ گیا ۔۔۔۔

عالم۔نے بنا روکے جنونی انداز میں اسے کھینچ کھینچ کر ملت مارےتیمور چیخنے لگا جبکہ اسکے دانت ٹوٹ رہے تھے اور علامہ شاہ خود محسوس کر راہ تھا

تیمور زمین پر جا گیرہ عالم نے اپنا جوتا اسکے منہ پر دے مارا۔۔

مکرم” وہ دھاڑا۔۔۔۔۔

اسکوباہر کھینچ کر لاؤ ۔۔۔

اس پیلے کی موت کا وقت ا ہی گیا۔” وہ جوتے کی ٹھوکر اسکے پیٹ میں مارتا۔۔ائرہ کو بانہوں میں سختی سے بھرتا ۔۔ باہر نکلا ۔۔

ائرہ کی آنکھیں کھلیں تھیں مگر کوئ تاثر نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ اسے لیے باہر اپنی جیپ کیطرف بھاگا۔۔۔

مکرم جبکہ تیمور کو کھینچ کر لے گیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اظرہ کے سٹیچیز لگے تھے عالم ۔۔۔ مٹھیاں بھینچتا کھڑا تھا اظرہ کے منہ پر تالے لگے تھے ۔۔

وہ تکلیف سے بھی نہیں کراہی تھی البتہ آنکھ سے آنسو متواتر جاری تھی

غلام سے اسکی یہ حالت نہیں۔ دیکھی گئ وہ بے قصور تھی تیمور نے اسکے ساتھ بہت برا کیا تھا اڈاکٹر باہر نکلے تو وہ اپنی کیفیت خود بھی نہ جانتے ہوئے احرہ کو سینےسے لگا گیا ۔۔۔

اسکے سسک ے کی آواز ضرورتھی مگر اسنے کوئ ریسپوںس نہیں دیا ۔۔۔

عالم نے ۔۔۔۔ اسکا چہرہ دیکھا ۔۔ احرہ کچھ نہیں بولی نہ اسکی آنکھوں میں دیکھاالبتہ منہ موڑ لیا ۔۔۔

اس سے عالم کا بس نہیں چلا تیمور کو جلا کر رکھ کر دے ۔۔

چلو ” ہاتھ بڑھا کر اسنے ۔۔ کیا مگر احرہ نے ہاتھ نہیں تھاما آٹھ کر چلنے لگی

اسے چکر ا رہے تھے خون نکل گیا تھا بہت ۔ڈاکٹر نے ۔۔۔ اڈمیٹ کر لیا تھا مگر عالم تیمور کا انجماسےاسکی آنکھو۔ سے دیکھانا چاہتا تھاجبکہ ائرہ کو پرویا نہیں تھی

وہ ایکدم چکرا کر گیری عالم نے اسے تھاما ۔۔

عالم کے سہارے بنا بولے وہ وہاں سے باہر نکل گئ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر لوٹا ۔۔۔۔

تیمور کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہیں تھیںعالم ائرہ وک لیے وہاں لے آیا

۔

وہاں وہاج سارہ اور انکی ماں بھی تھی جو خوف سے تیمور وک دیکھ رہے تھے ۔۔ جس کو مکرم نے لون میں پھینکا ہوا تھا ارد گرد گارڈ ہی گارڈ تھے۔۔

اظرہ کا ہاتھ چھوڑ کر عالم بنا کسی لحاظ کے تیور رک پہنا اور۔۔ ٹی

ور پر ایک بار پھر برسپڑا اس بری طرح اسے لاتوں۔ گھوسوں اور تھپڑوں سے چھیتا کہ تیمور ۔۔۔ کی حالت غیر ہو گئ

اٹھاؤ اسے” وہ دھاڑا ۔۔۔

ڈبینظر دم سادے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

گارڈ نےاسکو ایسے اٹھایا جیسے وہ کوئ فالتو سی چیز ہو انسان نہیں ۔۔۔۔۔

عالم نفرت بھری نظروں سے تیمور کو دیکھ رہا تھا ایک ایک منظر گزر رہا تھا ۔۔صہ اسکے نزدیکا یا

نہیں عالم” تیمور نے اسے روکنا چاہا ۔۔

یہ رہی تمھاری موت ” وہ بولا ۔۔۔۔

نہیں نہیں عالم میں مرنا نہیں چاہتا میں ۔۔معافی مانگتا ہوں تم سے ۔۔ مجھے مت مارو مجھے جینا ہے عالم مجھے مت مارو ” وہ چیخا

اوپر سے نیچے پھینک دو اسکو ” اسنے حکم دیا

ائرہ نے خود سے اسکیطرف دیکھا

اسکے احلق سوکھنے لاگ ۔۔

نہیں” تیمور کی چیخیں اٹھیں وہج اور آکسی ماں تڑپ اٹھے ۔۔۔

سب چیخنے لگے گارڈاسکے حکم کے منتظر تھے اسے چھت پر کے گئے

پھینک دو ” عالم لایا اور تیمور کا وجود انھوں نے چھت سے ہوا میں معلق کر دیا ۔۔۔

اور تیمور ۔۔ نیچے فرش پر ا پڑا ۔۔۔

اسکا سر پھٹ گیا ۔۔۔۔

خون متواتر بھینے لگا ۔۔

دوبارہ لے جاؤ ” وہ کراہ رہا تھا ۔۔

وہ بولا ۔۔

عالم” ائرہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا ۔۔

یہ ازیت تھی ۔۔۔

گارڈ اسے دوبارہ لے گئے

اسکی ماںخصد کو پیٹنے لگی ایک بار پھر تیمور کو ہوا میں پھینک دیا اور اس باری وہ نیچے ا پڑا ۔۔۔

تواسکی کراہنے کی بھی آواز نہیں تھی البتہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز ضرور تھی عالم نے بندوق نکالی اور فضا میں لاتعداد گولیوں کی آواز گونج گئ ۔۔

تیمور کے جسم کا کون سا حصہ نہیں تھا جس پر غلام شاہ نے گولی نہیں ماری تھی

چیخوں سے ساری حویلی گونج اٹھی ۔۔ ائرہ نے اپنا چہرہ موڑ لیا

وہ اتنا سنگ دل تھا

ائرہ کی جان نکل گئ تھی ۔۔

وہاج اسکی جان اسے مارنے وک بڑھا۔۔ روتاہو العالم نے اسکی دونوں ٹانگوں پر شوٹ کیا

وہاج وہیں گیر گیا

کوئ اور مرنا چہتا ہے” وہ دھاڑا تھا حویلی میں اسک اجلال گونج رہا تھا ۔۔۔

اور آج اس حویلی میں دبی سسکیوں کے سارے مجرم اپنےانجام ۔کو پہنچ گئے تھے۔۔

 

continued…

 

Revenge Based Urdu Novels , Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and Afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our Facebook page for more content Novelsnagrhttp://Novelsnagr ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *