Web Special Novel, Revenge ,Best Urdu Novel,Yeh Ishq ki talaash ha

Revenge | Best Urdu Novel |یہ عشق کی تلاش ہے|Ep_09

Revenge ,Best Urdu Novel, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Revenge ,Best Urdu Novel, YE ISHQ KIO TALAASH HAI by Tania Tahir Novels

یہ عشق کی تلاش ہے

Revenge ,Best Urdu Novel,

Written by: Tania Tahir

#9 ایپیسوڈ نمبر

ہاں رہ لوں گا ” تیمور چلایا ۔۔۔۔۔

اسفند شاہ نے اسکا ہاتھ جکڑا

۔کیا بول رہے ہو یہ تم” وہ ناگواری سے بولے ۔۔۔۔

عالم شاہ مسکرا دیا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔” ضبط سے آنکھیں بند کرکے کھولی تھیں ۔۔۔۔ جیسے دل کاٹ لیا ہواپنا ہی اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔

جاؤ یہاں سے ۔۔” عالم بولا۔

تیمور نے ایک پل کو اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔

کہاں ۔۔” وہ غیر ارادی طور پر پوچھ گیا ۔۔۔

یہ گھر یہ حویلی یہ کاروبار یہ پگڑی ۔۔عالم شاہ کی ہے اور تم لوگ یہاں سے دفع ہو جاؤ ۔۔ اپنے اس معزور دادے کو بھی لے کر جانا۔۔ مزید عالم شاہ کے گھر میں تم لوگ دیکھائی مت دینا ۔۔ ورنہ ۔۔۔۔”وہ انگلی اٹھا کر سرخ آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔۔

تم سب کے ٹکڑے کسی کھائ میں پھیکوا دوں گا ” وہ بولا اور اسنے قدم پیچھے لیے ۔۔۔صیام بھی اسکے ساتھ ہوا۔۔

ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے یہ ہمارا بھی گھر ہے اس میں صرف تمھارا ہی نہیں ہمارا بھی حصہ ہے ” اسفند شاہ بولے ۔۔۔



چلو مان لیا تمھارا حصہ ہے اسفند شاہ ۔۔ تو کیسے ثابت کرو گے کہ یہ حویلی تمھاری ہے اور یہاں تم مفت کی روٹیاں توڑو گے ” عالم گویا لمہوں میں بدلا تھا

کچھ پل پہلے وہ۔۔جیسے کمزور سا لگ رہا تھا بے بسی چہرے پر چھلک رہی تھی ۔۔۔۔

مگر اب ایسےکوئ حالات نہیں تھے ۔۔۔

وہ بلکل مختلف نظر آ رہا تھا ۔۔

ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے ” سبحان شاہ بولے ۔۔۔۔

تو تم لوگوں کو عالم شاہ دھکے دے کر نکلوا دے گا ۔۔” صیام بیچ میں بولا۔۔۔۔

وہاں سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے ۔۔

اگر تم اس لڑکی کو طلاق دے دو یہ سب نہیں ہو گا ” اسفند شاہ لالچ میں اندھے ہوتے چیخے تھے۔۔

کسی باتیں کر رہے ہیں بھائ صاحب آپ کی میری بیٹی کی قیمت لگا رہے ہیں “ممتاز چلائ ۔۔۔

ہاں جو لڑکی ہمارے ساتھ رہ کر ہمیں نقصان دے تو بہتر ہے اسے نکال باہر کریں گے تا کہ

یہ سب ہمیں مل ۔۔جائے”اسفند شاہ بھپرے ۔۔۔

سب حیرانگی سے انھیں دیکھنے لگے ۔۔

آف کس قدر لالچی آدمی ہے یہ”صیام سے برداشت نہیں ہوا ۔۔۔

زیادہ دیر ڈراموں کی ضرورت نہیں ۔۔۔ تم لوگوں کو کہا ہے اپنا بوریا بستر اٹھاؤ اور نکلو یہاں سے “عالم شاہ جیسے انہی کی نبض پر کھڑا ہو گیا تھا سکون سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا ۔۔

شاید وہ اندر والی کو بھی جتانا چاہتا تھا کہ کون اسکے ساتھ ہے اور کون نہیں ۔۔ جبکہ اندر بیٹھا وجود اپنی حیثیت دوسروں کے دلوں میں جان کر ہی بے جان ہو گیا۔۔ جیسے ہر چیز ختم ہو گئ ہو ۔۔۔۔۔

وہ بے آسرا سی رہ گئ اسفند شاہ اسکے کتنے لاڈ اٹھاتے تھے اور آج انکا چہرہ دیکھ کر ۔۔۔ وہ حونک رہ گئ ۔۔۔۔

بس بس زیادہ مت سوچو طلاق دے دو اروش کو ۔۔۔ خود سوچو تمھیں لڑکیوں کی کمی ہے کوئ ۔۔۔۔ ہسارے بیزنیس کو ختم کر کے یہاں آئے ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تیمور بیوقوفی مت کرو “اسفند شاہ نےاسےجنھجھوڑا۔۔۔

بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائ ۔۔کیسے رہیں گے ہم یہاں سے نکل کر جائیں گے کہاں ” وہاج بھی بیچ میں آیا ۔۔۔

آپ دیکھ رہے ہیں ان لالچئ لوگوں کی حیرص سبحان میری بچی کی قیمت لگا رہے ہیں اور کیسے مطمئین ہیں ” ممتاز تلملائ ۔۔۔۔۔

جبکہ ۔۔۔ اسفند شاہ نے اسے گھاس نہیں ڈالی ۔۔

تمھیں لڑکیوں کی کمی نہیں ہو گی ۔۔۔۔ اور ایک کے بدلے دس بھی مل سکتی ہیں” یہ سارہ تھی اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولی ۔

پاگل ہو جاؤ تم سب لوگ ” تیمور ایکدم چلایا ۔۔۔

یہ آدمی کچھ بھی کہے اور میں مان لوں ۔۔۔۔ نہ میں یہ گھر چھوڑوں گا اور نہ ہی اروش کو ” وہ غصے سے بولا ۔۔۔۔۔۔

اور عالم شاہ کے نزدیک آیا جو اسکو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تم کسی بھول میں مت رہنا “تیمور نے اسکی جانب دیکھا جبکہ اروش کو لگا تپتی دھوپ میں تیمور چھاؤں کیطرح بن گیا ہو ۔۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئ ۔۔۔۔

عالم نے اسکو خونخوار نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے تو دفع ہو جاؤ ” صیام بولا ۔۔

یہ میرا بھی گھر ہے “تیمور نے غصے سے کہا اور اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔

مکرم سائیں”عالم شاہ کی باروعب آواز ابھری ۔۔

مکرم ایکدم حاضر ہوا ۔۔۔

زرا۔۔ اس حویلی کے کاغذات تو لاؤ “وہ مسکرایا ۔۔

جبکہ مکرم پلٹ گیا ۔۔۔۔

صبر کر جاؤ ۔۔۔۔۔” عالم اسکے چہرے کے اڑتے رنگوں کو دیکھنا چاہتا تھا

مکرم چند لمہوں کے بعد واپس لوٹا تو ہاتھ میں خاکی لفافہ تھا ۔۔ جبکہ اسکے جانے کے دوران خاموشی رہی سب اپنی اپنی جگہ ساکت تھے ۔۔ کہ کیا واقعی ان لوگوں کا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔

اور جب مکرم کاغزات لے آیا ۔۔۔ تو عالم نے لفافہ کھول کر کاغز باہر نکالا جس میں صاف درج تھا کہ ہر چیز زمین حویلی کاروبار سب عالم شاہ کا ہے اور اسپر دادا جان کے

انگوٹھے درج تھے گویا یہ سب دادا جان نے اسکے حوالے کیا تھا ۔۔

عالم انکے پھیکے چہروں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

اب کیا کہنا ہے تمھارا “

تم نے دھوکا کیا ہے ” تیمور کی کچھ توقف کے بعد آوازکافی دور سے نکلی ۔۔۔

 دھوکا تو بس میرے ساتھ ہوا ہے تم لوگوں کو تو کیے کی سزا ملی ہے ” عالم نے سر جھٹکا۔۔۔۔

اور ہاتھ جھاڑتا اٹھا ایک نظر دروازے کے پاس کھڑی اروش پر ڈالی ۔۔۔ جیسے نظر بھر کر اسکو دیکھا ہو ۔۔۔۔۔

کل تک تم لوگوں کے پاس وقت ہے یہ حویلی خالی کر دو ورنہ ۔۔۔ تمھیں یہ سے باہر پھیکوانے میں بس کچھ لمہے ہی تو لگیں گے ” شانے آچکا کر وہ ۔۔۔ سکون سے بولا جیسے جان گیا ہو ان لالچی لوگوں کا فیصلہ اسکے حق میں اترے گا ۔۔۔۔۔ تبھی وہ پرسکون تھا اور صیام بھی اسکی یہ بات سمھجہ گیا تھا ۔۔۔ وہ بھی مسکرا دیا ۔۔اور دونوں مکرم سمیت وہاں سے نکل گئے ۔۔

پیچھے وہ لوگ ۔۔ گویا خاموش کھڑے رہ گئے ۔۔

اگر تم اس کو طلاق دے دیتے تو یہ سب نہ ہوتا ” اسفند شاہ نے تیمور کو دھکا دیا جو ۔۔ساکت کھڑا تھا ۔۔

اروش کی آنکھیں پھیر سے بھیگ گئیں ۔۔۔۔

تایا جان اس میں میرا کیا قصور ہے جو آپ تیمور کو یہ سب ۔۔

شیٹ آپ ” اسفند شاہ نے انگلی اٹھا کر اسکو جھڑک دیا گویا بات کرنے سے روک دیا ۔۔۔۔

سب چپ چاپ کھڑے تھے سبحان شاہ بھائ کی بے حسی پر واقعی غمزدہ سے رہ گئے ۔۔۔

جبکہ ممتاز تو تلمل ما رہی تھی اسکی بیٹی کو سمھجہ کیا لیا تھا سب نے ۔۔ کوئ حیثیت ہی نہیں رہی تھی ۔۔

تیمور کچھ نہیں بولا تو اسفند شاہ اسکے پاس سے ہٹ گئے ۔۔اور یوں رفتہ رفتہ وہاج اسفند شاہ ۔۔ سارہ انکی ماں ۔۔۔۔ سب اندر چلے گئے ۔۔

ملازم بھی اس روز کے تماشے سے عاجز آ کر اپنے موٹرز میں چلے گئے ۔۔جبکہ سبحان شاہ نے اپنی بیوی کو ۔۔۔۔ اشارہ کیا کہ ویل چئیر کمرے کیطرف لے جائے ۔۔۔

ممتاز نے اروش کو ایک نظر دیکھا جس کی آنکھیں سرخ تھیں جن آنکھوں میں ۔۔۔ زندگی کے خواب تھے آج ان آنکھوں میں آنسوں تھے ۔۔۔ وہ بے بس سی۔۔۔ وہاں سے ۔۔اپنے کمرے میں چل دیں ۔۔ جبکہ تیمور اب بھی بیچ میں کھڑا غیر مری نقطے کو گھور رہا تھا ۔۔۔

اروش خرما خرما چلتی اسکے نزدیک آئ ۔۔اور اسکا ہاتھ تھام لیا تیمور اس لمس پر چونکا اور اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔

اروش کی بھیگی آنکھیں ۔۔۔۔ اور کانپتا وجود وہ خود میں بھینچ گیا۔۔ مگراسکے چہرے پر ۔۔۔۔ ایسی کوئ بات نہیں تھے ۔۔ عجیب سپاٹ انداز تھا جبکہ گرفت میں بھی ضرورت سے زیادہ سختی تھی ۔۔اروش کسمسا سی گئ ۔۔

چلو ” تیمور نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے کمرے میں لے آیا ۔۔

تیمور ” اروش بولی ۔۔۔ جبکہ تیمور نے اسکے آنسو صاف کیے ۔۔

فکر مت کرو میں تمھیں اسکا ہونے نہیں دوں گا ” وہ بولا لہجہ آہستہ تھا مگر سنگین ۔۔اور یہ سنگینی سامنے کھڑی لڑکی ۔۔جس کے لیے یہ سب اسکی توقع کے برعکس تھا سمھجہ نہیں سکی وہ تو اپنے شوہر کے تحفظ پر خوش ہو گئ ۔۔ گویا اب دنیا کی کوئ طاقت اس کو ۔۔۔ چھونہیں سکتی ۔۔

وہ خود سے تیمور کے سینے سے لگ گئ ۔۔۔۔

تیمور نے اسکے بالوں پر پیار کیا ۔۔۔۔۔۔

اور اسے بیڈ کی جانب لے کر آ گیا ۔۔۔۔

تمھیں ریسٹ کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایک گھیری نیند کی اروش “تیمور نے پیار سے کہا ۔۔۔۔

آپ میرے ساتھ ہیں تو میں سکون سے سو جاؤ گی ” اروش مسکرا دی تیمور بھی مسکرا دیا ۔۔

تادیر وہ اسکے سر میں ہاتھ چلاتا رہا اسکے بال سہلاتا رہا ۔۔ جس سے ۔۔اروش اسکو دیکھتی دیکھتی سو گئ ۔۔۔۔

جبکہ تیمور کی نیند حرام ہو گئ تھی ۔۔۔۔

وہ اروش کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

عالم شاہ ۔۔۔۔ بچپن کی کوئ جھلک سی دماغ میں اتری تھی ۔۔۔۔

وہ انکے ملازم کا بیٹا تھا اروش کو دادا جان کے کہنے پر تیمور سے اس سے دور ہی رکھا ۔۔ جبکہ تیمور کو ۔۔ یہ الفاظ بھی داداجان کے یاد تھے ۔۔ کہ اسکو ۔۔۔ کبھی غلام کے ساتھ کھیلنے مت دینا ۔۔اور اگر یہ خود کھیلنا چاہے تو ۔۔۔ بہت مارنا ۔۔۔۔

پھر اسنے عالم سے اروش کو دور رکھا ۔۔۔ چچی بھی اسکے ساتھ اس میں شامل تھی ۔۔۔۔

اروش نے کبھی عالم کو دیکھا نہیں تھا جب وہ بڑی ہوئ ۔۔۔

جبکہ چچی تو عالم کا نام بھی نہیں لینا چاہتی تھیں ۔۔

اور اسفند شاہ نے کیا کہا تھا وہ نیچ خون ہے اسکی ماں طوائف تھی جبکہ وہ ایک خاندانی عورت کا بیٹا تھا ۔۔

نہ جانے والے

اسفند شاہ ہی کی اولاد تھی یہ پھر کسی اور کی ۔

کیا طوائف پر یقین کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

اور پھر جو اسکا تھا ۔۔جس پگڑی کے لیے وہ یہاں پاکستان آیا ۔۔۔ وہ غلام کے سر پر پہلے سے سجی تھی ۔۔۔

پھر اسکی پرسنلٹی اسکا اونچا لمبا قد اور پھر اروش کے لیے ۔۔۔ سب کر جانے کی چاہ ۔۔

اسکی نظروں کی بے چینی ۔۔۔۔

وہ ۔۔ تیمور شاہ کا مقابلہ کر چکا تھا ۔۔۔

تیمور ایکدم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

اور سارا کا سارا فساد ۔۔۔۔ یہ لڑکی تھی جو اسکے پہلو میں تھی ۔۔

اسنے پھر سے اروش کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اور اگر ایسا ہو کہ یہ لڑکی ہی نہ رہے ۔۔۔۔۔” ایک پل کو خیال آیا ۔۔۔۔۔

اسفند شاہ اسے طلاق کا کہہ رہے تھے تو کیا وہ اتنا گیا گزرا تھا کہ اسکو اتنی آرام سے اسکا ہونے دیتا ۔۔۔۔۔

جو تیمور کے مقابلے کا انسان ہی نہیں تھا جس کا خون ہی نہیں تھا وہ کہ کوئ جان سکتا کہ یہ کس کی اولاد ہے ۔۔۔۔۔

اسکو تیمور شاہ اروش کو دے دیتا ۔۔ وہ بھی وہ عام لڑکی نہیں اسکی بیوی ۔۔۔۔۔

وہ کافی دیر اروش کو دیکھتا رہا ۔۔۔

اگلی صبح وہ ان سب کو باہر پھیکوا دے گا ۔۔۔۔ ممکن ہے اروش کو بھی پھیکوا دے ۔۔ یہ سہولت دے گا تو اسے دے گا اور ان سب پر سب حرام کر دے گا ۔۔۔

یہ بندوق ہے زور پر اگر اسنے اس سے زبردستی اروش کو طلاق دلوا دی ۔۔۔

تو ۔۔۔ تو پھر نہ اسکی عزت رہے گی ۔۔۔ اور نہ یہ گھر نہ شان شوکت ۔۔۔

نہ یہ پیسہ نہ یہ مال ۔۔۔۔

نہ یہ پگڑی ۔۔۔

وہ کیا کرے گا ان لولے لنگڑے اپاہج معزور لوگوں کا ۔۔۔۔۔

اسنے دانت کچلا کر ۔۔۔ سوچا اور پھر سے اروش کیطرف دیکھا ۔۔۔۔

اپنا تکیہ اٹھایا ۔۔۔۔ اور ہاتھ میں سختی سے تھام لیا ۔۔۔۔۔

بادل زور سے گرجے تھے ۔۔۔۔۔

کہ انکی کڑک دھاڑ سی لگی ۔۔۔۔۔

تیمور نے ۔۔۔۔ اس کڑک کو سنا تھا ۔۔۔۔ سہما دینے والی کڑک تھی ۔۔۔۔

جو وہ کرنے جا رہا تھا ۔۔۔اسکئ عزت کے لیے یہ ہی بہتر تھا ۔۔۔۔۔۔

ورنہ کچھ باقی نہ رہتا ہو سکتا ہے ۔ صدمے صدمے سے عالم شاہ بھی مر جائے ۔۔۔۔

مر مرا جائے تو ۔۔۔۔۔ یہ سب جائیداد اسکی ہو جائے گی ۔۔۔ اور رہ گئ اروش ۔۔۔۔

اسنے اروش کیطرف دیکھا ۔۔شاید اسکے لیے مر جانا ہی بہتر تھا ۔۔۔۔۔

وہ مر جاتی تو باقی کی زندگیوں میں سکون آ جاتا ۔۔۔۔۔۔

دوبارہ سے بادل کی گھن گرین نے اسےاپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ ہاتھ میں تکیہ لیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

بادل کی کڑک نے اسے خوف میں مبتلہ کیا ضرورتھا مگر تا دیر نہیں ۔۔۔۔

وہ اروش کے کان کیطرف جھکا ۔۔۔۔

ایم سوری اروش ۔۔۔۔۔ مگر میں تمھیں مار سکتا ہوں بانٹ نہیں سکتا ” وہ اسپر سے ہٹا اور ۔۔۔۔

اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔

اسکے لمس پر اروش نے کسما کر کروٹ لینی چاہی ۔۔۔ جبکہ تیمور نے اسے کروٹ لینے نہیں دیا ۔۔

اروش نے آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا ۔۔اسکی آنکھوں میں نیند کا پورا پورا خمار تھا ۔۔۔

تیمور مسکرا رہا تھا اروش بھی مسکرا دی ۔۔اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں اور جیسے ہی اسنے آنکھیں بند کیں ویسے ہی تیمور نے اسکے منہ پر تکیہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔

تکیہ اسکے منہ پر سختی سے رکھ کر ۔۔۔ اسنے اپنا سارا وزن ۔۔۔ اس تکیے پر ڈال دیا جبکہ وہ

اروش پر چھڑ سا گیا ۔۔

بادل کی گھن گرج اور بارش کا شور بڑھ گیا ۔۔

اروش اس گستاخ پر بھکلا کر ۔۔ خود کو آزاد کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں ہلانے کی کوشش کرنے لگی مگر ۔۔۔۔ تیمور کے پاؤں کے نیچے اسکے ہاتھ تھے اور ۔۔اسکا نیچلا وجود تڑپ رہا تھا اسکی تڑپ کا پتہ دے رہا تھا ۔۔۔ اسکی گھٹی گھٹی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔

تمھیں مرنا ہو گا اروش۔۔ میں تمھیں کسی اور کو نہیں دوں گا ۔۔۔۔میں یہ گھر نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔

دیکھو میرے پاس کوئ اوپشن بچا ہی نہیں تھا

۔۔۔۔وہ اونچی آواز میں بولا ۔۔

وہ نازک سی جان اس دیو ہیکل کو خود پر سے ہٹانے کی تگ و دو میں بہت دیر تک اپنی زندگی کے لیے اس سے لڑتی رہی ۔۔اور بلآخر ۔۔۔ آدھے گھنٹے کے اس ظلم کے بعد

۔۔اسکی ٹانگیں ساکت ہو گئیں ۔۔۔۔

ہاتھ بے جان ہو گئے ۔۔

منہ سے گھٹی گھٹی آوازیں آنا بند ہو گئیں ۔۔۔۔

وجود بے جان ہوا تو تیمور اسپر سے ہٹا اسپر سے تکیہ ہٹایا ۔۔۔ اسکا منہ کھلا تھا ۔۔۔

آنکھیں پھٹی ہوئ تھیں ۔۔

تیمور کو اسکو دیکھ کر خوف آیا اور وہ

ایکدم اس سے دور ہوا ۔۔۔۔۔

اروش کا دم نکل گیا تھا ۔۔۔

وہ ان ہی پھٹی آنکھوں سے تیمور کو دیکھ رہی تھی ۔۔

تیمور کے ہاتھ کانپ گئے ۔۔۔

مجھے مت دیکھو ۔۔ تمھاری موت یوں ہی لکھی تھی ” تیمور چیخا ۔۔۔۔ بادل کی گرج ۔۔۔۔ اور بارش کا زور بے تحاشہ بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

جیسے اس ظلم پر ۔۔۔۔۔ بادل بھی تڑپ کر ٹوٹ کر برس رہے ہوں ۔۔۔۔۔

اچانک بجلی کے چلے جانے سے ۔۔ تیمور ۔۔۔ بھکلا کر باہر بھاگا ۔۔۔۔

چارو جانب اندھیرہ تھا ۔۔اسکے کانپتے ہاتھوں سے موبائل کی ٹارچ کھولی اور اسفند شاہ کا دروازہ بجایا ۔۔۔۔

جب انھوں نے نہیں کھولا تو اسنے دروازہ دھڑ دھڑا دیا ۔۔۔

اسفند شاہ نے دروازہ کھولا ۔۔ تیمور کو دیکھا ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔” انکا دھیان بجلی کیطرف گیا ۔۔۔

م۔۔۔میں نے اروش کو مار دیا ” وہ آہستہ آواز میں انھیں اطلاع دینے لگا ۔۔

کیا ” اسفند شاہ حونک رہ گئے ۔۔۔۔

۔۔کہاں ہے اروش “, وہ بھاگے اسکے کمرے کیطرف کیونکہ تیمور نے وہیں اشارہ کیا تھا۔۔۔۔

اسفند شاہ کمرے میں آئے ۔۔۔تو کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا اچانک بجلی آ گئ تو اسفند شاہ نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔

وہ چہرہ بے حد خوبصورت تھا عالم شاہ اپنی جان اسکے لیے ایسے ہی دینے کے لیے تیار نہیں تھا مگر اس وقت ۔۔۔ اسکا سانس گھوٹنے سے نیلا پڑتا رنگ کھلا منہ جھلی آنکھیں ۔۔ خوف زدہ کر گئیں اسفند شاہ نے جلدی سے اسکا منہ بند کیا اور اسکی آنکھیں بند کر کے ۔۔وہ پلٹے تیمور ۔۔۔۔ کی شکل بتا رہی تھی وہ یہ کر کے خوف و حراس کا شکار ہو چکا ہے ۔۔۔۔

اسکا رنگ سفید پڑ گیا تھا اسفند شاہ نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا ۔۔۔

یہ کیا کیا ہے تم نے “وہ چلائے تیمور خود ساکت تھا ۔۔جبکہ اسفند شاہ کے چہرے پر پسینے کے قطرے تھے ۔۔۔۔

وہ سر تھام گئے ۔۔۔

میں اسکو عالم کو نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔” تیمور بولا ۔۔۔۔

طلاق مارتے اسکے منہ پر ۔۔ نہ کے جان سے مار دیتے” وہ دھاڑے ۔۔

عالم کو پتہ چل گیا ۔۔ وہ نسلیں بھی زندہ نہیں چھوڑے گا ہماری ” اسفند شاہ بولے ۔۔۔۔۔

میں میں جا رہا ہوں لندن ” اسنے کہا ۔۔۔اور اپنی الماری کی جانب بڑھا ۔۔۔۔

اس لاش کو ٹھکانے لگاؤ ” اسفند شاہ نے اسکا ہاتھ جکڑا ۔۔۔۔۔

اور اسے الماری کے پاس سے ہٹایا ۔۔۔۔

میں میں کہاں لگاؤ گا “تیمور نے اپنا خشک گلہ تر کیا ۔۔۔

اٹھاؤ اسکو “اسفند شاہ بولے ۔۔ میں بجلی بند کر رہا ہوں ” اسفند شاہ کہہ کر باہر نکلنے لگے ۔۔۔

بابا مجھے اسکی شکل سے خوف آ رہا ہے” تیمور نے کہا تو اسفند شاہ کا دل کیا ایک اور منہ پر جڑ دے اسکے اچانک انکی آنکھوں میں وہ کوئلہ ہوئ لاش گھوم گئ ۔۔۔ جس کو انھوں نے کتنی آسانی سے ٹھکانے لگا دیا تھا اور اس دن انھوں نے بھی جہانزیب شاہ کو یہ ہی بات کہی تھی ۔۔۔۔۔

مارتے ہوئے ڈرنا چاہیے تھا ” مگر انھوں نے اپنے آپ والے الفاظ اسکو نہیں کہے تھے تیمور نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔۔

آپ نے بھی تو اپنی پہلی بیوی کو مارا تھا ” تیمور بولا ۔۔۔

تمھارا اسکو مارنا ضروری نہیں تھا ۔۔۔۔ اسکو طلاق دیتے اور اس جائیداد کے مالک بنتے اپنی استعمال کی ہوئ چیزعالم کو دیتے ۔۔۔ تم ۔۔۔۔ مگر تم نے ” وہ ضبط سے اسکو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ایک بار مجھ سے پوچھ لیا ہوتا ” وہ اسکے شانے پر ہاتھ مار کے بولے تیمور خاموش رہ گیا ۔۔۔

اسفند شاہ نے اسکو اسے اٹھانے کا کہا ۔۔

اور خود جلدی سے بجلی بند کرنے بھاگے ۔۔۔۔

تیمور نے اروش کے منہ پر کپڑا ڈالا اور اسے لے کر باہر نکلا ۔۔۔۔

دونوں باپ بیٹے اس اندھیرے میں اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے ۔۔۔ دوڑے ۔۔۔۔ حویلی سے باہر نکلو ۔۔۔”اسفند شاہ نے تیمور ر سے کہا ۔۔اور وہ سر ہلا کر حویلی سے باہر نکلا اس وقت سب سو رہے تھے ۔۔۔۔

صبح ہونے کے قریب ہی تھی ہلکی ہلکی سفیدی پھوٹتی ۔۔۔

بارش میں گھن گرج اب بھی تھی تیمور بھیگتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ ۔۔۔۔ ایک طرف بھاگا اور ایک آدمی سے ٹکرایا ۔۔۔۔

وہ بزرگ اسکے ہاتھ میں لالٹین تھا ۔۔۔ وہ زمین بوس ہوا ۔۔۔

اور اسکی نگاہ اس لاش پر گئ ۔۔۔۔

جس کا چہرہ نیلا ہو چکا تھا ۔۔وہ خوف سے استغفار کرنے لگا ۔۔۔۔ جبکہ اسفند شاہ کو دور سے آتے دیکھ وہ درخت کی اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔۔

شاہوں نے ایک اور بے قصور کو مار دیا ” وہ مدھم لہجے میں بول جںکہ بوڑھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم اچانک اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔۔

پسینے سے پیشانی بھیگ گئ تھی ۔۔۔ وہ اس خواب کا مطلب نہیں جان سکا یہ کیسا خواب تھا ۔۔۔۔ پریشانی سے دل میں ادھم سا مچ گیا۔۔

نہیں وہ کسی کے پاس بھی رہے مگر زندہ رہے ۔۔۔ وہ ان ہواؤں کو سانسیں دیتی رہے ” عالم کے دل نے کہا ۔۔۔۔

وہ اٹھا اور بیڈ سے اتر کر باہر آ گیا ۔۔

بارش کا بے تحاشہ زور تھا ۔۔ عجیب سما تھا جیسے ۔۔ حول سے دل کو لگے تھے ۔۔ مکرم آج اسکے پاس ہی سو گیا تھا ۔۔ عالم نے مکرم کو دیکھا وہ صوفے پر سو رہا تھا ۔۔۔

وہ نیچے اترا ۔۔۔۔

مکرم ” اسنے مکرم کو آواز لگائ ۔۔۔

جی شاہ سائیں ” وہ ہڑبڑا کر اٹھا ۔۔۔۔

کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا یار ۔۔ جاؤ زرا ۔۔۔ پتہ کر کے او ۔۔۔وہ ٹھیک ہے ” عالم اضطرابی کیفیت میں بولا ۔۔۔

جی شاہ سائیں ” مکرم نے کہا اور دوڑ کر وہ حویلی تک گیا تھا ۔۔۔۔

وہاں حویلی کا مین سوئچ بند تھا اسنے جلایا ۔۔تو چارو جانب خاموشی تھی

مگر پوری حویلی روشنیوں میں نہا گئ تھی اسنے ۔۔۔ تیمور کے کیمرے کیطرف قدم اٹھائے۔۔ دروازہ لوک تھا ۔۔اسنے دروازہ ہلکا سا کھولا ۔۔۔ تو نگاہ بستر پر گئ ۔۔

تیمور شاہ۔۔ سو رہا تھا ۔۔ جبکہ اسکے ساتھ ۔۔۔ضرور اروش ہی تھی اسنے سر تک کمبل تانہ ہوا تھا اور تیمور شاہ کا ایک ہاتھ اسپر تھا ۔۔۔۔۔

مکرم وہاں سے ہٹا ۔۔۔اور فورا دوڑ کر عالم تک پہنچا ۔۔۔

عالم بے تابی سے ۔۔ باہر کھڑا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔

اروش بی بی سو رہی ہیں ” مکرم نے بتایا ۔۔۔

تیمور کے ساتھ “عالم نے پوچھا تو مکرم نے سر ہلا دیا ۔۔

عالم نے ایک زہریلی سی سانس بھری ۔۔

شاہ سائیں بس کل کی صبح ہی تو ہے بیچ میں ۔۔۔ آپ بندوق اسکی کانپٹی پر رکھ کر اروش بی بی وہ طلاق دلائیے گا ۔۔وہ لالچی انسان ۔۔ دے دے گا “مکرم نے کہا تو عالم شاہ نے سر ہلایا ۔۔

ہاں اب یہ ہی ہو گا “اسنے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔

جبکہ اضطراب تو وجود میں سے اب بھی ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔

وہ کھڑکی میں کھڑا شور مچاتی ۔۔۔۔ تڑپتی ۔۔۔۔۔ چیختی بارش کو دیکھتا رہا ۔۔اور صبح کی کرنوں کا منتظر ہوا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور نے ۔۔۔ مکرم کے جاتے ہی سر اٹھایا ۔۔۔۔ اور اسفند شاہ کیطرف دیکھا ۔۔

میں جانتا تھا یہ ضرور آئے گا ” اسفند شاہ نے کہا اور تیمور جلدی سے بستر سے اترا ۔۔۔

اور تکیوں کو لات مار دی جن کو چادر سے ڈھانپا کر اسنے اروش کو ظاہر کیا تھا ۔۔۔۔

مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے ۔۔”

تیمور زرا پریشانی سے بولا ۔۔۔

بیوقوف ہو تم اب تو کام ہو گیا ۔۔۔۔۔ ” اسفند شاہ نے مسکراکر شانے آچکا ہے ۔۔

کیا مطلب “تیمور سمھجا نہیں ۔۔۔۔

اب تو ہو گیا ۔۔۔۔ اروش تومر گئ ۔۔۔۔۔ اور کھائ میں وہ اتنی نیچے چلی گئ ہو گی کہ ایسی لاش بھی کسی کو نہیں ملے گی ۔۔۔۔

اب یہاں سے جانے کا فائدہ نہیں ۔۔ اب عالم شاہ کو ٹریپ کرنے کا وقت ہے “اسفند شاہ دماغ لڑانے لگے ۔۔

میں اسے کیوں ٹریپ کروں گا “تیمور نے نفرت سے کہا ۔۔

جائیداد کے لیے ۔۔”اسفند شاہ نے اسکودیکھا ۔۔

اسنے بے ایمانی سے ۔۔۔بابا کے انگوٹھے لگوا لیے ۔۔ تو اسی بے ایمانی سے ہم اسکا سب لے لیں گے ۔۔۔۔”

اور کون اسے سمبھالے گا جب ۔۔۔ اسے اروش کے غائب ہونے کا پتہ چلے گا ۔۔۔۔

ہم یہ بتا کر کے وہ تو بھاگ گئ ۔۔ اور فرض کرواسکی لاش اگر عالمم نے نکلوا لی تو ۔۔ یہ ہو گا بھاگتے ہوئے کھائ میں گیر گئ ۔۔۔۔

اور پھر اسکے ساتھ ہمدردی کر کے ساری جائیداد اپنے نام کروا کر یہاں سے نکل جائیں گے اور لندن میں جا کر آرام کی زندگی گزاریں گے ” اسفند شاہ کا پلین سن کر تیمور بھی متفق ہوا۔۔۔



اب تم سو جاؤ “اسفند شاہ نے تیور کے شانے پر ہاتھ رکھا میں یہاں نہیں سو گا ” تیمور جلدی سے بولا جبکہ اسفند شاہ ہنس پڑے۔ جاو وہاج کے پاس چلے جاؤ “

تیمور نے سر ہلایا

اور چچا چچی” تیمور کو یاد آیا

لعنت بھیجو ۔۔۔” اسفند شاہ نے شانے آچکا ہے اور وہاں سے چلے گئے انکے جاتے ہی تیمور بھی جلدی سے نکلا ۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Revenge ,Best Urdu Novel, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

1 thought on “Revenge | Best Urdu Novel |یہ عشق کی تلاش ہے|Ep_09”

Leave a Comment

Your email address will not be published.