Web Special Novel, Revenge ,Best Urdu Novel,Yeh Ishq ki talaash ha

Revenge Novel, یہ عشق کی تلاش ہے by Tania Tahir Epi#6

Here you find all types of interesting New Urdu Novel, Revenge Novel, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels Here…

Revenge Novel, YE ISHQ KIO TALAASH HAI by Tania Tahir Novels
Revenge Novel, YE ISHQ KI TALAASAH HAI by Tania Tahir

Revenge Novel ,Tania Tahir Novels 

یہ عشق کی تلاش ہے

#6 ایپیسوڈ نمبر

اروش کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔

بابا مجھے واپس جانا ہے مجھے یہاں نہیں رہنا کون ہے یہ شخص میں تو جانتی تک نہیں اور میرے پیچھے لگا ہوا ہے میری وجہ سے سب کو تکلیف دے رہا ہے ” وہ بولی جبکہ ممتاز نے اسے اپنے سینے سے لگالیا ۔۔

 

اروش جب تم یہاں نہیں تھی تو اسنے بابا جان اور تمھارے بابا کے ساتھ جو کیا وہ قابل قبول نہیں ۔۔ اگر بیٹا تم چلی گئ تو وہ ۔۔ کسی اور کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ کرے گا “ممتاز بولیں جبکہ اسفند شاہ جن کا ایک گال نیلا ہو چکا تھا بھڑک اٹھے ۔۔

 

تو اسکےخوف سے جینا چھوڑ دیں ۔۔۔ میرا بیٹا اور بہو وہاج اور سارہ چارویہاں سے جا رہے ہیں میں اپنے بچوں کو کسی بھی وجہ سے مصیبت میں نہیں ڈال سکتا۔۔۔۔” اسفند شاہ بولے جبکہ سبحان شاہ نے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

 

جن سے بچنا چاہ رہے تھے وہ بھی شاید انھیں کی اولاد تھی ۔۔۔

انھوں نے منہ ہی پھیر لیا یہ وہ بات تھی جو بتائ ہی نہیں جا رہی تھی ۔۔

 

وہ چین سے جینے نہیں دے گا ” وہ تحمل سے بولے ۔۔۔

تو کیا کیا جائے ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ وہ جو ازیت دے رہا ہے اسکو برداشت کرتے رہیں “اسفند شاہ غصے سے چلائے۔۔

بابا چلانے کا کوئ فائدہ نہیں” یہ آواز تیمور شاہ کی تھی ۔۔

 

پہلے چچا چچی سے اسکی حقیقت معلوم۔کریں ۔۔۔۔ کوئ تو بات ہے جو یہ لوگ ہم سے چھپا رہے ہیں”اسنے سبحان اور ممتازکو دیکھ اور پھر دوسری نظر اسنے اروش پر ڈالی جو ممتاز کے سینے سے چپٹی ہوئ تھی ۔۔

سبحان شاہ کی نظر بے ساختہ بیوی سے ملی ۔۔

 

اس بات کا جواب تمہیں ہم دونوں نہیں بابا جان دیں گے “

مگر وہ کیسے دے سکتے ہیں “تیمور چیڑ ہی گیا ۔۔۔۔

 

یہ ساراجال انکا ہی بنا ہوا ہے جسکی تکلیف ہم سہہ رہے ہیں تو جواب دہ بھی وہ ہی ہوں گے یہ پھر

اسفند شاہ” سبحان شاہ غصے سے بولے ۔۔۔

میرا کیا تعلق ہے اس سب سے ” اسفندشاہ سمھجہ نہیں سکے ۔۔

 

سبحان شاہ خاموش ہو گئے ۔۔ باپ کیطرف دیکھا جوبے بسی سے سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ممتاز کا منہ بند نہیں ہوا ۔۔اگر وہ جاننا چاہتا تھا تو اپنے بچوں کے سامنے ہی جانتا۔۔۔

 

جس کوٹھے والی کو بیاہ کر لائے تھے اس ایک کمرے میں رکھا تھا جہاں آج وہ تاج محل بنائے بیٹھا ہے ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے بھائ جان آپ کو بھولنے کا شوق ہے زرا” ممتاز بیگم طنزیہ لہجے میں بولی۔ ۔۔

اسفند شاہ کے رنگ سے اڑ گئے ۔۔ جبکہ تیمور وہاج اور سارہ سمیت انکی ماں۔۔۔ جو اب تک خاموش تھیں اور بس اسفند شاہ سے یہ کہا تھا کہ وہ یہاں سے جانا چاہتی

ہیں حیرانگی سے انکی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

 

جبکہ اسفند شاہ نے گھوٹ حلق میں نگلا تھا جو سانسوں کا انکے گلے میں پھنس گیا تھا ۔۔

منتازکو اور پھر سبحان شاہ کو دیکھا۔۔۔

عالم۔شاہ”انکے لبوں نے دوبارہ یہ لفظ دہرائے ۔۔۔۔

 

جبکہ سب خاموش تھے کچھ لوگوں کی سوالیہ نظریں تھیں جب کہ کچھ کی طنزیہ چبھتی ہوئیں ۔۔اسفند شاہ کو لگا آج وہ ہوش میں آگئے ہیں ۔۔

انھوں نے اپنے سارے بچوں کو دیکھا جو سوال بنے انکی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔

یہاں سے چلنے کی تیاری کرو جلدا زجلد ۔۔۔” انھوں نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔۔۔

 

بابا بات سنیں میری کون کوٹھے والی جواب دیں اس بات کا ” تیمور پیچھے لپکا ۔۔۔

جبکہ وہاج اور سارہ بھی اروش البتہ اب بھی نہ سمھجہ آنے والی نظروں سے دیکھ

رہی تھی ۔۔

مما

مجھے کچھ سمھجہ نہیں ا رہا “اسنے بھیگے لہجے میں کہا ۔۔

میری جان بس یہاں سے جانے کی تیاری کرو باقی باتیں سمجھنے کی ضرورت نہیں تمھیں ” ممتاز نے اسکو پچکارہ ۔۔جبکہ سبحان شاہ سے نظریں چرائیں جو آگ بگولہ سے ہورہے تھے۔۔

 

تیمور کی والدہ بھی شاید سب سمھجہ گئیں تھیں چپ چاپ وہاں سے اٹھ گئیں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح وہی حال تھا ۔۔ مکرم نے کچن کے دروازے بند کردیے تھے ۔۔

جبکہ سب کا بھوک سے برا حال تھا ۔۔۔۔ رات بھی ڈھنگ سے کھانا نصیب نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔

 

مگر اب کی باری کسی نے کسی سے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔اسفندشاہ تو کمرہ بند کیے ہوئے تھے جبکہ سبحان شاہ بھوک سے بے چین تھے دوائ بھی لینی تھی مگر بولے کچھ نہیں اروش خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔تیمور نے بھی کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔

 

اس سے مزید اپنوں کو یوں تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں ہوا اور وہ وہاں سے نکل آئ ۔۔۔ تیمور اس وقت کمرے میں تھا ۔۔ جبکہ سبحان شاہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا بولے کچھ نہیں نہ ہی کسی کو بتایا۔۔ا

اروش غصے میں ۔۔ عالم شاہ کے پورشن میں پھنچی ۔۔ وہ لاونج میں ہی کاوچ پر سو رہا تھا ۔۔ اروش نے بھڑک کر اسکطرف دیکھا اچانک جیسے ڈر خوف نکل گیا تھا ۔۔۔۔

 

اٹھاؤ اپنے عالم شاہ کو ” اروش کو وہاں آتے دیکھ مکرم سب سے پہلے وہاں آیاتھا ۔۔۔

عالم کو دیکھ کر اور اروش کا حکم سن کر زیر لب مسکرایا ۔۔

 

شاہ سائیں” مکرم نے اسکو ہلایا ۔۔۔ عالم کے وجود میں جنبش سی ہوئ ۔۔

اروش بی بی آئیں ہیں” مکرم بولا عالم کی نیند بھک سے اڑ گئ ۔۔ ایکدم سیدھا ہوا۔۔

 

وہ سامنے ہی کھڑی تھی اسکا سر گھوما تھا بری طرح مگر وہ خود پر کنٹرول کرتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسکو دیکھنے لگا ۔۔

 

اچانک لب مسکرا اٹھے ۔۔۔

کچن کے دروازے کھلواو ۔”اروش نے حکم دیا۔۔ چہرہ سرخ ساتھا ۔۔۔ ناک کے نتھنے پھول رہے تھے عالم۔یہ منظر دیکھ کر فدا ہی ہو گیا ۔۔۔

 

جاؤ بھئ مکرم دروازے کھلواو دو ” اسنے کہا ۔۔

جی سائیں” مکرم جلدی سے بولا ۔۔۔۔

جبکہ اروش نے ایک نظر اسکو گھور کر دیکھا جو ضرورت سے زیادہ دلکش اور ہینڈسم تھا ۔۔۔۔ مگر وہ نگاہ پھیر کر پلٹنے لگی ۔۔۔

 

ویٹ آ مینٹ لیڈی “عالم اٹھا ۔۔ اروش رک گئ ۔۔۔

آپ نے جو کام کرایا ہے اسکا حرجانہ کون بھرے گا ” وہ اسکے پیچھے سے آگے آیا ۔۔۔۔

کیا ضرورت ہے آپکو ۔۔۔سب کچھ تو چھین لیا سب سے ” اسنے طنز کیا ۔۔۔۔

 

یہ سب میری محنت ہے “عالم کو برالگا ۔۔۔۔

اچھا واقعی ” اروش کو سمھجہ نہیں ا رہی تھی اتنی ہمت اس میں کہاں سے آ گئ اس ہمت پر توعالم بھی حیران تھا مگر یہ ہمت مزاہ بھی دے رہی تھی ۔۔۔۔

 

چلیں ناشتہ کر کے جائیے گا “عالم مسکراکربولا ۔۔۔

میں اپنے ہزبینڈ کے ساتھ ناشتہ کرتی ہوں “اروش کے الفاظ تھے یہ تیر۔۔عالم کے ڈائیریکٹ چبھے تھے ۔۔۔

 

اسنے اروش کیطرف سرخ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

اگر وہ شوہر ہی نہ رہے پھر “عالم سنگین لہجے میں۔ بولا

اروش کی آنکھیں پھیلیں جبکہ عالم کے قدم اسکی جانب اٹھنے لگے ۔۔۔

 

ایسا کیسے” وہ زرا ڈری سہمی سی بولی ۔۔۔

ویسے ہی جیسے آپ سن رہیں ہیں محترمہ جیسے آپکے دادا چلنے پھیرنے تو کیا بولنے قابل بھی نہیں رہے ۔۔۔۔ یہ پھر چچا چلنے قابل نہیں رہے اور کتنا نقصان کرانا چاہتی ہیں آپ ” وہ مسکرا دیا ۔۔۔۔

اور اروش ایکدم چئیر پر بیٹھ گئ ۔۔

 

ویری گڈاب ناشتہ شروع کرو ۔۔۔ میں فریش ہو کر ا رہا ہوں ۔۔۔ اور جانے کی کوشش مت کرنا جب تک میں نہیں اوں گا یہاں سے تمھیں کوئ جانے نہیں دے گا ” عالم بولا اور جلدی سے اوپر چلا گیا جبکہ اروش

۔ نے وہاں سے ۔بھگانے کی کوشش کی اور اسکی بات کے مطابق کسی نے اسے جانے نہیں دیا ۔۔۔۔

وہ واپس آنکھوں میں خوف لیے ا کر بیٹھ گئ ۔۔۔

 

یہ کیسی مصیبت تھی اچھی بھلی زندگی میں۔۔۔ اگر تیمور کو پتہ چل جاتا کہ وہ یہاں ہے تو ۔۔۔۔ وہ بھڑک جائے گا اسے ڈانٹے گا ۔۔۔

۔۔۔

وہ انھیں سوچوں میں غلطان تھی کہ عالم شاہ اپنے کرتے کے بٹن جلدی جلدی بند کرتا نیچے ا رہا تھا ۔۔۔۔

اروش نے نگاہ پھیر لی ۔۔

ویری گڈ اینڈ سوری فور ویٹ” اسنے کہا اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

 

ناشتے میں کیا کچھ نہیں تھا ۔۔۔ اتنا سب کچھ کہ اگر حالت نارمل ہوتے تو وہ سب کھا جاتی ۔۔۔ مگر اس وقت تونگاہ اٹھا کر بھی کسی چیز پر نہیں ڈالی تھی ۔۔

 

مجھے جانا ہے” وہ تلخی سے بولی ۔۔۔

چلی جانا کچھ کھا لو پہلے’ عالم نے اسکے لیے پلیٹ تیار کی اور اپنے آگے رکھ کر۔۔۔ لقمہ بنایا اور اسکیطرف بڑھایا

۔

اروش کا سا گھٹنے لگا ۔۔۔۔

میں کسی کی بیوی ہوں “وہ ایکدم اسکے لقمے کو دور اچھال کر چلائ ۔۔۔۔

عالم نے اسکی جانب صبر سے دیکھا ۔۔۔

اور دوسرہ لقمہ بنایا ۔۔۔

 

ایسا لگتا ہے تمھیں تربیت کی ضرورت ہے

۔ رزق ضائع نہیں کرتے ” اسکاتحمل۔قابل دید تھا ۔۔ اروشنے سر تھام لیا ۔۔۔

جبکہ عالم کے لقمے کو پھر سے پرے دھکیل دیا ۔۔۔

 

مجھے فرق نہیں پڑتا تم کسی کی بیوی ہو یہ نہیں ۔۔۔۔

تم سب سے پہلے عالم۔کی ہو۔۔۔ یہ بات اپنے ذہن میں نقش کر لو”وہ آنکھیں نکالتا بولا ۔۔۔۔

اروش مسکرا دی۔۔ طنزیہ مسکراہٹ سے اور سر جھٹکا ۔۔

 

جبکہ عالم۔پر جیسے جلتی پر تیل کا کام کر گئ تھی یہ مسکراہٹ ۔۔۔۔

سینٹامنٹس میں پھنسانا چاہتی ہو ۔۔۔ جتانا چاہتی ہو

۔کہ اب تک تم اسی کی بیوی ہو تمھارے جسم پر اسکی چھاپ ہے ۔” وہ سنجیدگی کی انتہا پر تھا ۔۔۔۔

اروش نےا سکیطرف دیکھا ۔۔۔

میرے لیے تمھارے ٹکے کے شوہر جس۔ کی کنپٹی پر بندوق رکھ دی ۔۔ تو ایک منٹ میں تمھیں طلاق دے دے گا مارنا مشکل نہیں ” عالم نے گویا اسے اطلاع دی ۔۔

نہیں” اروش تڑپ ہی گئ ۔۔۔۔

 

ویسے تم نے مجھے بلکل درست احساس دلایا ہےا ب تک تو تمھیں میرے کمرے میں ہونا چاہیے تھا ” عالم پرسوچ ہوا ۔۔۔

میں پیار کرتی ہوں تیمور سے ” اروش رونے لگی ۔۔

 

سب بکواس ہے” عالم۔چلایا

کون سا پیار ۔۔ یہ پیار کے معنی بھی ۔دونوں جانتے ہو ۔۔۔بس کسی نے کہہ دیا تم دونوں منگنی میں ہو تو مان لیا ۔۔۔

ساتھ رہنے لگے تو پیار ہو گیا ۔۔ بس جانے دوپیار چار لفظوں کا کھیل نہیں ۔۔ اس میں جزبات کا خون کرنا پڑتا ہے ۔۔ جو عالم شاہ نے کیا ۔۔۔

ہر رات کیا ۔۔۔۔۔ اس محبوب کی خاطر اپنے ہاتھوں سے ۔۔اپنی ہی سانسوں کو روکنا پڑتا ہے ۔۔۔۔

تم لوگ کیا جانتے ہو پیار کے بارے میں کچھ ۔۔۔” وہ بھڑک کر ۔۔ پلیٹ زمین پر پھینکتا چلایا ۔۔۔۔

اروش سہم کر دور ہوئ ۔۔

 

جاؤ یہاں سےاب ملاقات اختیارات پر ہو گی “اسنے تلخی سے کہا ۔۔اروش سہمی ہوئی نظروں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔ ا

اور ایک پل میں وہاں سے بھاگ اٹھی ۔۔

 

جبکہ۔۔ عالم نے اسکو دوڑتےہوئے دیکھا ۔۔۔ اور غصے کے مارے ساری پلیٹیں توڑ دیں ۔۔ نہ خود ناشتہ کیا تھا ۔۔ نہ اسنے کیا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اروش حویلی میں داخل ہوئ تو سامنا تیمور سے ہوا ۔۔اور دروازے پر ہی کھڑا ۔۔ تھا اسکا منتظر ۔۔۔

اروش اسکو دیکھ کر ۔۔ پریشان سی ہو گئ ۔۔

 

کس کی اجازت سے وہاں گئ تھی تم “تیمور نے سنگین لہجے میں پوچھا ۔جبکہ باقی سب ڈائینگ پر سکون سے کھانا کھا رہے تھے اگر وہ نہ جاتی تو کیا ان سب کو یہ کھانا نصیب ہوتا ۔۔۔۔

وہ وہ ۔۔ تیمور ۔۔۔۔ ” اروش سے بات نہ بن پڑی ۔۔۔

 

جبکہ تیمور کا ہاتھ اٹھا تھا اسپر ۔۔۔

سب دنگ رہ گئے ۔۔

زلیل کر رہی ہو مجھے بے غیرت ہونے کا تانا مار رہی ہو ۔۔۔۔

تم گئ کیسے وہاں “وہ دھاڑا ۔۔۔

 

اروش گال پر ہاتھ رکھے ۔۔۔ تیمور کو دیکھنے لگی ۔۔ جس نے پہلی بار اسپر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے تیمور ” سبحان شاہ بولے اور ویل چئیر ہلایا ۔۔

بس چچا” تیمور بلند آواز میں بولا ۔۔۔

میری بیوی ہے یہ بلاوجہ اپنی مفلوج ڈانگیں مت اڑائیں۔ ” وہ بدلاحظی کرتا اسکا ہاتھ جکڑتا وہاں سے لے گیا۔۔۔۔۔

 

یہ مکرم کی کوتاہی تھی کہ ۔۔ وہ وہاں موجود نہیں تھا ورنہ عالم۔شاہ کے ہوتے ہوئے اسپر کوئ ہا تھ اٹھا لیتا ۔۔۔۔

عالم شاہ اسے زندہ دفن کر دیتا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام سے فون پر بات کرنے کے بعد ۔۔۔ اسنے لیپ ٹاپ اٹھایا ۔۔اور حویلی کے اندر کے حالات چیک کرنے لگا ۔۔۔

اسنے اب حویلی کا کچن بند نہیں کرایا تھا ۔۔اس وقت سب رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔۔

چارو طرف خاموشی تھی ۔۔

 

اسے کسی سے پرواہ نہیں تھی نہ ہی اسے جاسوسی کرنی تھی یہ سٹینڈرڈ تھا ہی نہیں عالم کا اسے اروش سے مطلب تھا اورا سنے کیمرے کا فوکس اروش پر کیا۔۔

 

جو ہاتھ روکے تیمور کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔ چہرہ مرجھایا ہواتھا۔۔۔۔

عالم شاہ کو کیمرے میں نظر نہیں آیا ۔۔اسکے منہ پر تھپڑ کا نشان ۔۔۔

 

وہ مگر اسکی اداسی کی وجہ سے بے چین ہونے لگا کہ اسکے پیچھے عالم تھا ۔۔۔

اسنے لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔۔

جیسے چین سے بیٹھنا اسے نصیب ہی نہیں تھا ۔۔

 

وہ اٹھا اور باہر نکلا لبوں میں سیگریٹ دباتھا ۔۔۔

اسنے ۔۔۔ مکرم کو آواز دی۔۔

جی سائیں “حویلی جاو۔۔۔ پتہ کرو ۔۔۔ وہاں اداسی کی وجہ کیاہے ۔۔ اگر عالم شاہ ہے ۔۔۔۔ تو۔۔۔ کوشش کرو وہ مسکرائے اور اگر کوئ اور یے۔۔ تواسکی ٹانگیں توڑ دو “اسکےحکم۔پر مکرم فورابھاگ کر پلٹ گیا ۔۔۔۔

 

عالم البتہ ۔۔۔ وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

گلاس گیرل پر ۔۔۔ بازو رکھے وہ بے چینی سے ۔۔۔

دھویں فضا میں اڑا رہا تھا ۔۔

تیرے عشق میں ہم نے سانس لیا ہے ” دل میں ہوک سی اٹھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکرم وہاں پہنچا۔۔۔۔ توسب کھانا کھا چکے تھے۔۔۔اسےاندرا تے دیکھ کر اگنور کر دیا ۔۔۔۔

مکرم نے اروش کو دیکھا ۔۔ غور سے ۔اسکے چہرے پر انگلیوں کے واضح نشان تھے ۔۔ وہ دنگ سا رہ گیا۔۔۔

 

تیمور نے اسکا غورکرنا محسوس کر لیا تھا ۔۔

کمرے میں جاؤ “وہ حکم دیتا بولا ۔۔۔۔

اروش فورا اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔

بی بی کے چہرے پر نشان کیسا ہے ” مکرم نے سوال کیا ۔۔۔

کسی نے جواب نہیں دیا ۔۔۔

سوال کا جواب دو ورنہ سونا حرام ہو جائے گا “وہ غصے سے ۔۔اپنئ بندوق دیکھاتا بولا ۔۔۔۔

مارا ہے اسکے شوہر نےا سے۔۔۔ اس زلیل گھٹیا عالم شاہ کے پاس جانے پر”تیمور آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔ممتاز نے سر تھام لیا ۔۔۔ جبکہ سبحان شاہ کی بھی یہ ہی حالت تھی اسفند نے ۔۔ بیٹےکوگھور کر دیکھا جو رات سے ہی عجیب برڈنائز سا ہو چکا تھا ۔۔ وہاج اور سارہ دونوں اس تماشے کو افوڈنہیں کر سکتے تھے تبھی چلے گئے ۔۔۔

جبکہ انکی ماں بھی ۔۔۔

مکرم الٹے قدموں بھاگا تھا پیچھے ۔۔۔

یہ سب کیا پاگل پن ہے تیمور بیٹے اب تمھیں لگتا ہے وہ عالم تمھیں زندہ چھوڑے گا “ممتاز بولیں ۔۔

میں نہیں ڈرتا کسی سے ۔” وہ بولا ۔۔۔ اور کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف عالم اسکا کب سے انتظار کر رہا تھا حالانکہ اس بیچ چند منٹوں کا وقفہ ایا تھا مگر عالم کو ۔۔ وہ صدیاں لگیں تھیں

مکرم بھاگ کر اںدر آیا عالم۔ دوسرا سیگریٹ جلا چکا تھا ۔۔۔

سائیں اروش بی بی کو مارا ہے جی صبح یہاں آنے پر ۔۔ وہ کھوتے نے “وہ بولا ۔۔۔ اور عالم۔کو لگا۔۔اسپر جیسے کسی نے تیزاب سا چھڑک دیا ہو۔۔ ہاں اسے اتنی ہی تکلیف ہوئ تھی جبکہ داماغ تو جیسے بلکل موندھا ہو گیا تھا۔

شاید یہ آدمی جلدی مرنا چاہتا تھا ۔۔۔

وہ سیڑھیوں پر سے اترا ۔۔

ہاتھ میں کوئ ہتھیار نہیں تھا ۔۔ جبکہ مکرم اسکے پیچھے تھا ۔۔ وہ سیدھا حویلی کی جانب چل دیا ۔۔۔

حویلی کے شیشے تو ویسے ہی توڑ چکا تھا ۔۔ دروازے کا لوک بھی ٹوٹ اہواتھا ۔۔ وہ دروازے کو پاؤں کی ٹھوکر سے کھولتا ۔۔۔ اندر داخل ہوا ۔۔۔

اور سیدھا بنا کچھ دیکھےتیمورشاہ کے کمرے میں پہنچ گیا ۔۔

وہ بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔

جبکہ اروش ایک طرف بیٹھی تھی۔

عالم سےیہ منظر کہاں برداشت ہونا تھا ۔۔

تیمور اور اروش اسکو دیکھ کر چونک کر اٹھ گئے ۔۔۔

جبکہ عالم تیمور کے پاس گیا اور اسکا گریبان جکڑ کر اسکو اٹھا لیا ۔۔

تیمور کی آنکھوں میں عالم۔کے لیے واضح خوف تھا ۔۔۔۔

مکرم زرا چھری تو لے او”ضبط کرتا بولا ۔۔۔

یہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ “اروش ایکدم بیچ میں آئ عالم نے توجہ نہیں دی جبکہ مکرم چھری لینے پہنچ گیا ۔۔۔

چ۔۔ چھوڑ مجھے”

آوے آواز نیچی رکھ کبھی تیری زبان بھی کاٹ دو مگر ایسا میں کروں گا نہیں کیونکہ ۔۔ تجھے اسی زبان سے ایک نیک کام کرنا ہے اور وہ ہے ۔۔ اروش شاہ کو طلاق دینی ہے ۔۔۔” وہ اسکا منہ اپنے ہاتھ کی سخت گرفت میں جکڑتا بولا ۔۔۔

کبھی نہیں” تیمور بولا ۔۔

جبکہ عالم۔نے اسکے منہ پر تھپڑ جڑ دیا ۔۔۔

اروش کی ایک دم چیخ نکلی ور وہ عالم کو پیچھے ہٹانے لگی تب تک مکرم بھی ا چکا تھا

سائیں کاٹ ڈالیں اس سالے کے ہاتھ ” مکرم نے اسکے ہاتھ میں چھری دی ۔۔۔

اور عالم شاہ نے زبردستی تیمور کا ہاتھ جکڑ کرا سکی کلائ اپنے سامنے کی اروش کی ٹانگیں کانپ سی گئیں تھیں وہ باہر مدد کے لیے بھاگی مگر عالم شاہ کو نہ کسی کا ڈر تھا نہ ہی کسی کی پرواہ ۔۔۔

 

تیمور گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔ مگر عالم کی آنکھوں میں اسنے اروش کے لیے ایک جنون دیکھا ۔۔۔ اور اسنے عالم کیطرف دیکھا ۔۔

افسوس کی بات ہے عالم۔شاہ جس کے لیے تم مجھے ختم کرنے آئے ہو وہ میرے لیے مدد مانگنے بھاگی ہے ۔۔۔۔ “تیمور نے طنز کیا ۔۔

عالم مسکرا دیا ۔

یقین مانو مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں میرے بازؤں میں اتنا دم ہے کہ ۔۔۔۔ میں اسے تم سے چھین بھی سکتا ہوں ۔۔۔اور تمھاری جان بھی لے سکتا ہوں ۔۔۔۔۔

جس کی کوئ پرورش نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ دھوپ چھاؤں پرورش کریں….

وہ کبھی کمزور نہیں پڑتا ۔۔۔۔ تمھاری طرح ۔۔۔ برگر بوائے مجھے اپنے جال میں مت پھنساو ۔۔۔ تمھارے ہاتھوں کو سزا ضرور ملے گی تاکہ اگلی بار یہ جرت نہ کریں ” عالم نے چھری اسکی کلائی پر رکھی ۔۔

عالم “اسفند شاہ چلائے اور عالم نے چھری اسکی کلائی پر سختی سے چلا دی

جس سے خون کے فوارے ایکدم اٹھے تیمور کی چیخیں ابھریں ۔۔ جن میں اروش کی بھی شامل تھیں ۔۔۔۔

اپنا کام کر کے وہ اس سے دور ہوا ۔۔۔۔

 

اسفند شاہ دوڑ کر اس تک پہنچے تھے ۔۔ جبکہ ممتاز بھی اور سبحان شاہ اپنی ویل چئیر گھسیٹ کر اندر آنا چاہ رہے تھے ۔۔

عالم دروازے کی جانب مڑا تیمور کراہ رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اروش منہ پر ہاتھ رکھے دور کھڑی تھی عالم نے اروش کے منہ پر نشان دیکھا ۔۔ دل تو کیا پلٹ کر اسکے دونوں ہاتھ تن سے جدا کر دے ۔۔۔

مگر وہ ضبط سے اسکے پاس سے گزر گیا ۔۔۔ جبکہ مکرم بھی ۔۔

کوئ گاڑی نکالے ۔۔۔ گا “اسفند شاہ بولے تو وہاج گاڑی نکالنے کے لیے بھگا ۔۔۔

تیمور کی کلائی سے متواتر خون بہہ رہا تھا ۔۔۔۔

 

جبکہ اسکی آنکھیں اب بند ہونے لگیں تھیں جوان بیٹے کو اس طرح دیکھ کر اسفند شاہ کے قدموں تلے زمین کھسکی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور ہوسپیٹل میں تھا ۔۔۔۔

ڈاکٹرز نے پٹی تو کر دی تھی اور ڈسچارج بھی مگر ۔۔ اسفند شاہ ہی ضد پر وہ ابھی ہسپتال میں ہی تھا۔۔۔

میں تمھیں کہہ رہا ہوں اس مصیبت سے جان چھڑاؤ اور چلو ۔۔۔۔ یہاں سے “اسفند شاہ بولے تو تیمور نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

میری بیوی ہے وہ جس سےجان چھڑانے کی بات کر رہے ہیں آپ “تیمور نے کہا ۔۔۔ جبکہ اسفند شاہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

تیو۔ر تمھیں لڑکیوں کی کمی نہیں “

پہلے مجھے یہ بتائیں ۔۔۔ عالم شاہ کا آپ سے کیا تعلق ہے “تیمور کے سوال پر وہ ایکدم رکے ۔۔۔

کچھ نہیں “زبان لڑکھڑائ ۔۔

تو یہ چچی نے کیا بات کی تھی”وہ بچہ نہیں تھا وہ اسے چلا نہیں سکتے تھے ۔۔۔ تبھی نظریں چرانے لگے ۔۔

میں اسکی حقیقت جان سکوں گا تب ہی کچھ کر پاؤ گا ۔۔ بابا ۔۔۔”

تیمور کو غصہ آیا ۔۔

تم اروش کو چھوڑ دو دے دو اس سر پھرے کو ۔۔”

کوئ کھلونا ہے جو اسنے مانگا اور میں نے دے دیا “تیمور غصے سے چلایا ۔۔۔

میرے لیے میرا بیٹا قیمتی ہے “

اسفند شاہ بولے عالم شاہ کون ہے بابا”تیمور نے ضبط سے پوچھا ۔۔ جبکہ اسفند شاہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی گفتگو کا آغاز کرنا پڑا ۔۔۔۔

شاہ تھے ہم ۔۔۔ کوٹھے پر جانا آنا عام بات تھی ۔۔۔

بابا جان کو بھی بچپن سے دیکھتے آئے تھے ۔۔۔ اماں جان کے حق ضبط کر کے وہ کوٹھے پر لوٹاتے تھے ۔۔۔

میں جوان ہوا ۔۔ تو گاؤں میں میرے چرچے سے پھیل گئے ۔۔۔۔

لوگوں نے سبحان اور میرا مقابلہ شروع کر دیا اور میں یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ ۔۔ ہاں ۔۔ میں سبحان سے زیادہ خوبصورت ہوں ۔۔۔

 

میں نے بہت چھوٹی عمر میں کوٹھے پر جانا شروع کر دیا ۔۔ شاید بابا جان جانتے تھے ۔۔۔ مگر مجھ پر ظاہر نہیں کیا کبھی ۔۔

جان لوٹاتے تھے ۔۔ مجھ پر سبحان سے زیادہ اور اسی چیز کا فائدہ میں اٹھاتا رہا ۔۔۔

اور پھر مجھے کوٹھے پر کنزہ پسند ا گئ۔۔۔

مگر وہ لڑکی ۔۔۔ بہت روتی تھی شاید وہاں رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

اور اسنے مجھ سے شادی کی درخواست کی ۔۔ میرے دماغ پر اسکی قربت کا ۔۔ بھوت ایسے سوار ہو گیا کہ ۔۔۔۔ جیسے وہ نہ ملی تو کچھ نہیں ملے گا ۔۔۔ مگر وہ پاس نہیں آنے دیتی تھی ۔۔۔۔

اور میں نے جوش میں ا کر اس سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔

وہ بے حد خوش تھی۔۔۔

اسنے مجھے کہا یہاں سے لے جاؤ مجھے اور میں اسے حویلی لے آیا ۔۔ اسی جگہ پر جہاں عالم شاہ کا پورشن ہے ۔۔

شروع میں بابا سے چھپا کر رکھا ۔۔۔۔ اور میں کنزہ کے ساتھ کافی خوش رہنے لگا تھا وہ بھی خوش تھی ۔۔۔ مگر بابا کو اطلاع نہیں ہوئ ۔۔

 

پھر ایک دن ہمارے گھر نرمین آئ ۔۔۔

اسکی ڈائیورس ہوئ تھی اور سارہ اسکے پاس تھی ۔۔نرمین بابا کی بھتیجی تھی

وہ کنزہ سے کہیں گناہ زیادہ خوبصورت تھی ۔ یہاں تک کے پہلے اسکی طلاق ہو چکی تھی ۔۔ میری توجہ کنزہ پر سے ہٹ کر اسپر چلی گئ

 

یہاں تک کے مجھے اسکی بیٹی سارہ سے بھی کوئ اختلاف نہیں تھا دوسری طرف کنزہ ماں بننے والی تھی مجھے یہ خبر پسند نہیں آئ تھی ۔

 

میں نہیں جانتا کیوں ۔۔ بابا نے نرمین میں میرا انٹرسٹ دیکھا اور کہا ۔۔ کہ تمھاری شادی اس سے ہو گئ ۔۔۔۔ میں خوش ہوا مگر ۔۔۔ مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کنزہ سے جان چھڑانے کے لیے ۔۔۔ بابا جان کو سب بتانا پڑا ۔۔ باباجان خفا ہوئے ۔۔خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی ۔۔ مجھے تانے دیے ۔۔ مگر میں نے کہا تھا نہ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے ۔۔۔۔

 

تبھی انھوں نے کہا ۔۔ کہ کنزہ کو جلا کر مار دو۔۔۔۔ کیونکہ ۔۔ ملازموں کی بھی نگاہ کنزہ پر چلی گئ تھی ۔۔۔

اور گاؤں میں یہ افواہ پھیلنے لگی تھی کہ ۔۔۔ اسفند شاہ کوٹھے والی کو بیوہ لایا ہے ۔۔۔

جس رات اسکو جلایا بلکل اسی رات اسنے عالم کو جنم دیا ۔۔۔۔

میں نہیں جانتا تھا وہ بچہ زندہ ہے اور کنزہ کو پہلے سے علم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ کہ میں یہ سب کرنے والا ہوں تبھی اسنے عالم کو پھینک دیا دور ۔۔۔

 

عالم اسکے بعد بابا کو ملا اور بابا نے مجھ سے اسکو چھپائے رکھا ۔۔

یہاں تک کہ آج ۔۔۔ عقلم شاہ اٹھائیس سال کا ہو گیا ہے تب مجھے پتہ چلا ہے کہ ۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے “

وہ خاموش ہو گئے جبکہ تیمور انکی طرف اب بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

 

باہر کھڑے وجود نے بھی یہ سب سنا تھا۔۔ حالانکہ وہ یہ سب جانتا تھا مگر آج اسفند شاہ ہے منہ سے اپنی ماں کا زکر اتنا بے ضرر سن کر اسکا خون ساکھول گیا ۔۔۔۔

 

یعنی عالم شاہ میرا بھائ ہے ” تیمور بولا ۔۔۔

وہ نیچ عورت سے پیدا ہو اتھا تمھارا کچھ نہیں لگتا تم خاندانی ہو جبکہ وہ ایک طوائف کا بیٹا ۔۔۔”اسفند شاہ بھڑکے تیمور مسکرا دیا ۔۔

اور عالم کے آگ سی بھڑک اٹھی ۔۔۔۔ وہ انھیں قدموں سے واپس پلٹ گیا ۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read online Urdu novels, Revenge Novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge Novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.