Tania Tahir Revenge Novel

Revenge novel ,یہ عشق کی تلاش ہے Epi #2 Tania Tahir Novels

Here you find all types of interesting New Urdu Novel, Revenge Novel , Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels Here…

Web Special Novel, Revenge novel , Tania Tahir Novels ,
Revenge novel , Tania Tahir Novels , Episode #2

یہ عشق کی تلاش ہے

ایپسوڈ نمبر-2

Revenge novel , Tania Tahir Novels ,

سمھجہ گیا سائیں” مکرم مسکرا کر اٹھا ۔۔ اور عالم نے ٹیبل پر سے چابی اٹھا کر اسپر اچھال دی جسے مکرم نے کیچ کر لیا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔

اب تم سے ملاقات کا وقت ہے جہانزیب شاہ” مدھم مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر وہ فریش ہونے اٹھا مگر۔۔ اچانک اپنا خواب پھر سے یاد ا گیا ۔۔ جس نےا سکی سانسوں کو اور بھی بھاری کر دیا ۔۔ اتنا بوجھ پڑ گیا تھا ایکدم کے اسکا بس نہیں چلا کے شاہ والوں کو جلا کر راخ کر دے ۔۔۔۔

اور ہمیشہ کیطرح وہ اس خواہش کو دل میں رکھے اپنے کمرے میں ا گیا ۔۔۔

دوسرا اہم کام ۔۔۔ بھی سرانجام دینا تھا اور اسکے بعد ۔۔۔۔ یہ سب اسکے قبضے میں ہوتا ۔۔۔۔۔

اسنے سیاہ لباس نکالا اور آئینے کے سامنے ا گیا ۔۔

اپنے عکس کے ساتھ اسکا عکس ہزار بار سوچا تھا ۔۔۔ اسکی معصوم عالم سے سہمی نظروں کو بار بار سوچا تھا ۔۔۔

عالم کے جزبات سے گھبراتا اسکا چہرہ آنکھوں میں اکثر ا ٹھرتا تھا مگر سب خیال تھا قیاس تھا ۔۔۔ جسے اب اسنے حقیقت بنانا تھا ۔۔۔۔

اسنے خود پر مہنگا پرفیوم چھڑکا ۔۔۔اور اپنے پورشن سے باہر نکل کر وہ حویلی کیطرف آیا ۔۔۔

جہاں لمبے ستونوں کو تھامے کھڑی ممتاز بیگم کو دیکھ کر اسنے بے زاری سے ایک پل کو سوچا کہ اسکا کیا کرنے ہے ۔۔

ممتاز کی بھی نگاہ اسپر گئ اور وہ عالم کے پاس آ گئ ۔۔۔

عالم آپکے دادا جان ۔۔۔ کو اچانک ہی ۔۔۔ “وہ اسکے چوڑے سینے سے لگی رونے لگیں ۔۔۔

ہاں کبھی منہ سے کچھ نہ نکالنے والی منافق عورت اس سے کتنی نفرت کرتی تھی وہ جانتا تھا ۔ اور سب سے اہم

 وہ جہانزیب شاہ کی بہو تھی اور ۔۔۔۔ اس سے محبت کرتیں تھیں ۔۔۔۔

یہ انکا جرم تھا ۔۔عالم نے انکا ہاتھ پکڑ کر خود سے دور کیا ۔۔۔

کتنا اچھا ہو آپ کچھ دن کے لیے حویلی سے چلی جائیں” عالم نے گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے سنبھلے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔

ممتاز بیگم اپنی بے اختیاری پر کچھ شرمندہ سی ہوئیں ۔۔۔

مگر کیوں ۔۔۔ آپ نے دیکھا نہیں دادا جان کو فالج ہو گیا ہے حالانکہ رات وہ صیحی تھے آپ بھی تو ملے ” وہ اچانک رک گئیں

پھٹی پھٹی نظروں سے اسکو دیکھنے لگی جو انکی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

گویا اچانک انھیں یاد ا گیا کہ آخری بار صرف عالم ان سے ملا تھا ۔۔۔

انکی سرخ آنکھیں پھیل سی گئیں ۔۔ عالم ۔۔ کے لب مسکرا اٹھے ۔۔جبکہ نگاہیں ۔۔ سامنے سفیدے کے درخت پر تھیں جو تنہا جھوم رہا تھا ۔۔ جیسے ۔۔ مسرور ہو ۔۔۔

عالم نے نگاہوں کو زرا سی جنبش دی ۔۔اور انکی جانب دیکھا ۔۔۔

ہم ٹھیک کہہ رہیں ہیں محترم ممتاز بیگم آپ یہاں سے چلی جائیں ” پراسرار مسکراہٹ نے ممتاز کو جیسے ہوش کی دنیا میں دھکیل دیا ۔۔۔۔

آپ آپ نے کیا کیا ہے بابا جان کے ساتھ ” وہ۔ بھڑک سی گئیں ۔۔

جبکہ عالم نے انکے اس طرح غرانے کا اثر لیے بنا ۔۔۔

انکی طرف قدم موڑ لیے ۔۔

ممتاز نے کچھ ڈرتے ہوئے قدم پیچھے لیے ۔۔۔۔۔۔

مجھے جہانزیب شاہ کے فیصلے سمھجہ نہیں آتے تھے تبھی میں نے انکو چپ کرا دیا ۔۔ فکر مت کریں ۔۔۔ وقت پر علاج نہ مل سکا تو اپاہج ہو جائیں گے مریں گے نہیں ۔۔۔ پتہ کیا انسان کو اپنے آپ کی پرواہ کرنی چاہیے ۔۔۔۔ یہ بات میں نے دادا سے ہی سیکھی ہے ۔۔۔۔ ” وہ نرم مسکراہٹ لیے انھیں سب سمجھا رہا تھا

۔

جبکہ ممتاز گویا سانس بھی بھال نہیں کر پا رہیں تھیں ۔۔۔۔

ک۔۔۔کیوں” وہ بے بس سی بولیں ۔۔۔

یہ سوال میں بھی تو کر سکتا ہوں ۔۔۔” اچانک انکا منہ اپنے ہاتھ کی سخت گرفت میں جکڑتا وہ غرایا ۔۔

صبح کی ہوا نے اسکے بال بکھیر دیے تھے ۔۔ ممتاز بیگم کا وجود لٹھے کیطرح سفید پڑ گیا ۔۔۔ جبکہ عالم کی انگلیاں انھیں گالوں میں کبھتی محسوس ہو رہیں تھیں۔۔

ع۔۔عالم ” انھوں نے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔۔۔۔

میں پوچھتا ہوں آپ سے ۔۔۔۔ کیا کبھی غور سے میری آنکھوں کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔” وہ چلایا ۔۔۔

م۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی” ۔

ہ

آہ جھوٹ سراسر جھوٹ ۔۔۔۔” عالم نے انھیں پیچھے دھکیل دیا ۔۔جن کی چور نظریں اب یہ بات واضح کر رہیں تھیں کہ وہ بلکے حویلی میں موجود ایک ایک ملازم بھی جانتا ہے کہ عالم شاہ بیوقوف بنایا گیا ہے اور یہ بات سوچتے ہی اسکا دماغ پھٹنے لگتا تھا ۔۔۔۔

ممتاز بیگم نے وہاں سے بھاگنا چاہا۔ مگر عالم نے انکا ہاتھ جکڑ لیا ۔۔۔۔

حویلی میں رہنا چاہتی ہو ۔۔۔ یہ کسی کھائ میں پھیکوا دوں ” اسنے سرد لہجے میں پوچھا ۔۔۔ گویا اسے چھوٹ دینے کا ارادہ رکھتا ہو ۔۔۔ “

میں ۔۔ میں نے باباجان اور سبحان کے کہنے پر ۔۔اروش اور تیمور کو ۔۔۔ ایک دوسرے کے قریب کیا تھا ۔۔۔۔

وہ

۔۔وہ باباجان ہی تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ تمھارا ۔۔۔ گندا خون”

م۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔ تم انکے خاندان میں شامل ہو “وہ جلدی سے سمبھل کر بولی ۔۔۔۔

عالم کا قہقہ اٹھا ۔۔۔۔

ممتاز بیگم نمازیں تو ایسے پڑھتی ہو جیسے تم سے زیادہ کوئ فرشتہ نہیں دنیا میں” عالم نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔ شکر ادا کرتی وہ وہاں سے بھاگنے لگیں ۔۔ کہ عالم کے ایک اشارے پر وہاں کھڑے اسکے ملازموں نے ممتاز کے ہاتھ جکڑ لیے ۔۔

پسینے میں شرابور وہ عالم کو خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔

چونکہ وہ خود بھی نہیں چاہتی تھیں کہ عالم اور اروش کی شادی ہو ۔۔ یہ بات انھیں۔۔۔ بہت عرصہ پہلے ہی پتہ لگ گئ تھی ۔۔۔

اور وہ خود بھی تو عالم سے سخت نفرت کرتیں تھیں جب سے انھوں نے یہ جانا تھا کہ اسکی ماں طوائف ہے ۔۔

انھیں وہ اپنے میعار کا کبھی نہیں لگا اور پھر باباجان کے سمجھانے پر انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اپنی نفرت کو کسی طرح چھپا لیں ۔۔۔

اور عالم کے ساتھ ۔۔۔ پھر وہ بھی کھیل کھیلنے لگی ۔۔۔

اور آج ۔۔ جیسے سب پکڑ میں آ گئے تھے نہ جانے وہ کیا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔

عالم نے لون میں بنے سیمنٹ اور اینٹوں کے بینچ پر پاؤں رکھا ۔۔۔ اور جوتے میں پھنسا چاقو نکالا ۔۔۔

ممتاز بیگم کا دل ڈوب سا گیا ۔۔۔۔

عالم ۔۔۔ ” انکے لب پھڑپھڑائے ۔۔۔

میں چاہتا ہوں تم سب زندہ رہو ۔۔۔۔ یقین مانو ۔۔۔ میری بے بسی پر ہنسنے والوں کی قبریں وقت آنے پر اسی حویلی۔میں سجا دوں گا ۔۔۔۔۔ مگر ابھی میں کسی کو مارنا نہیں چاہتا ۔۔۔تمھارے لیے بس یہ حکم ہے ۔۔ کہ اپنی چونچ ۔۔۔ بند رکھنا ۔۔جس دن بھی تمھارے منہ سے ۔ میرے خلاف ایک لفظ بھی نکلا ۔۔۔ اس دن سبحان شاہ سمیت ۔۔

تمھاری پیاری بیٹی ۔۔۔۔ کو بھی تمھارے کفن میں لپیٹ دوں گا ۔۔۔۔” اسکے کان میں پھنکارتا۔۔ وہ اسکے جھریوں زدہ پریشان چہرے پر اپنی طنزیہ ہنسی پھینک گیا ۔۔۔۔

لے جاؤ اسکو اور اچھے سے پوچھو کیا یہ اپنا منہ کھولے گی کبھی” اسنے چاقو ایک ملازم کی جانب اچھالتے ہوئے ۔۔۔ کہا ۔۔

ن۔نہیں نہیں عالم میں کبھی نہیں کھولو گی جو تم کھو گے میں وہ ہی کروں گی ۔۔ عالم مجھے چھوڑ دو ” ممتاز گڑگڑانے لگی مگر عالم شاہ ۔۔۔۔ وہاں سے نکل گیا ۔۔تھا ۔۔۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کہاں سے آ گئے آج ” صیام خان اپنی حویلی میں عالم کو دیکھ کر ایک پل کو حیران ہوا اور پھر ہنس دیا ۔۔۔۔

عالم خاموشی سے بیٹھا تھا ۔۔۔

وہ اٹھ کر اسکے گلے بھی نہیں لگا تھا ۔۔ صیام نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا ۔۔اور بیٹھ گیا سامنے ۔۔۔

کچھ بتاؤ گے بھی یہ منہ میں گڑھ ڈال کر بیٹھ گئے ہو ” صیام نے اسکی نگاہوں کے سامنے چٹکی بجائ جو ایک چیز کو مسلسل گھورے جا رہا تھا ۔۔۔

عالم نے گھیری سانس کھینچی۔۔۔۔۔

تم سے مکرم نے رابطہ کیا تھا کہاں تھے تم” عالم نے سوال کیا صیام نے سر ہلایا ۔۔۔

وہ جانتا تھا کہ وہ پورے پانچ ماہ سے اس سے رابطہ نہیں کر رہا تھا کیونکہ صیام خان کی غلطی یہ تھی کہ اسنے اسکا فون نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔۔

اور لاکھ منت سماجت کے باوجود ہر جگہ سے صیام کو بلاک کر کے وہ آج پانچ ماہ بعد اپناغصہ خود ہی اتار کرا سکے پاس تھا ۔۔۔ اور بات وہیں سے شروع کی تھی ۔۔

عالم میں گاؤں سے باہر تھا “

کہاں”اسنے گھورتے ہوئے دوسرا سوال فورا ہی کیا ۔۔۔

یار تم جانتے ہو ۔۔ میں اکیلا ہی مرد ہوں حویلی میں ۔۔۔

بختیار خان کو زمینوں پر مسلہ تھا ۔۔۔ اسنے بلا لیا ۔۔۔

جلد بازی میں سیل فون گھر ہی چھوڑ دیا ۔۔۔

اور بس اتنی سی بات پر تم اپنے بچپن کے دوست سے ۔۔۔ پانچ مہینے سے رابطے میں نہیں ہو ۔۔ ویسے حیران کن ہے ۔۔۔” صیام نے زر اخفگی کا اظہار کیا ۔۔عالم کے الٹے دماغ سے باخوبی واقف تھا ۔۔۔

تمھارے جیسے لوگ اس سزا کے مستحق ہوتے ہیں ۔۔اور میں معافی سے زیادہ سزا کو فوقیت دیتا ہوں ۔ انسان کو غلطی کرنی ہی نہیں چاہیے ۔۔ برحال ۔۔ یہ موبائل جس کام کے لیے ہے اسکے لیے استعمال کیا کرو “عالم نے کہا اور ملازم کو اشارہ کر کے سیگریٹ مانگی جو اسنے جلدی سے اسکے حوالے کی ۔۔

جی حضور اگلی بار ایسا ہی ہو گا ” صیام ہنستے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔

تمھاری ہیروئن کا کیا بنا پٹ گئے ہو اس سے تم ۔۔۔ “بڑی لاپرواہی سے دھواں ارد گرد بکھیرتے اسنے سوال کیا ۔ یعنی صیام خان کو بھڑکایا تھا ۔۔۔۔

صیام کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا اور عالم محظوظ ہوا ۔۔۔

جان بوجھ کر اسکا ذکر کر کے میرا موڈ مت خراب کرو ” صیام سنجیدگی سے بولا ۔۔

یار اگر کوئ مجھ سے ایسی محبت کرے ۔۔ تو شاید۔۔۔

عالم شاہ اسکی پناہوں سے کبھی آزاد نہیں ہونا چاہے”

عالم شاہ کا مزاج عشقانہ ہے تو ضروری نہیں صیام خان بھی اس چکر میں پڑے اور ویسے بھی لڑکیاں اپنے منہ سے اظہار کرتیں سخت زہر لگتیں ہے ۔۔۔

اماں سائیں کا احساس نہ ہوتا تو کب کا اسے گھر سے باہر پھینک چکا ہوتا ” صیام جھنجھلا کر بولا جبکہ عالم کا قہقہ ابھرا ۔۔۔

یہ اس بے وجہ ہنسی میں کوئ راز ہے ۔۔ میں نے کبھی عالم کو یوں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔۔۔۔”صیام نے سیگریٹ ایش ٹرے میں مسل دی ۔۔۔

عالم نے بالوں میں ہاتھ پھیرا لبوں پر اب بھی مسکان تھی ۔۔

شاہ والوں کے بارے میں کیا خیال ہے “

کیا خیال ہے” صیام کو کچھ سمھجہ نہیں آئ ۔۔۔

مگر سامنے والا جانتا تھا وہ اپنا دماغ چلائے گا ۔۔ عالم شاہ نے کبھی کھل کر کسی سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔

تو وہ سیدھے لفظوں میں کیسے بتاتا کہ سلگ رہا ہے ۔۔ وہ ۔۔

گویا کوئلوں پر اسکی روح کو بھونا جا رہا ہے ۔۔۔

اسے بیوقوف بنایا گیا ہے اسکا عشق

کسی اور کی قربت میں ہے ۔۔سوچو تو زرا ایسے انسان کے اندر کبھی قرار آیا ہے ۔۔

صیام کچھ پل اسکو دیکھتا رہا ۔۔۔اور ایکدم اسنے اپنا سر تھام لیا ۔۔۔۔

کس سے ہوئ ہے اروش کی شادی” وہ سمبھل کر بولا ۔

صرف وہ تھا جو دن رات اروش کے قصیدے عالم کے منہ سے سنتا تھا ۔۔۔

تیمور شاہ” عالم نے حلق سے بمشکل سانس بھال کیا ۔۔

صیام نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

شاید شاہ والے زندہ بچتے ۔۔۔ اب ۔۔

صیام کے رگیں خود بھی غصے سے تن گئیں تھیں ۔۔۔۔۔

اب ” وہ پوچھنے لگا ۔۔۔۔

سب راخ ” اسنے سیگریٹ کے شعلے کو ہتھیلی پر مسکرا کر مسل دیا ۔۔۔۔

اس میں اروش کا قصور نہیں ہے عالم”

مگر اسکے جسم سے تیمور شاہ کے لمس کو اترنا ہو گا “

عالم قہقہ لگاتا بولا ۔۔۔

عالم وہ تمھاری ہے ۔۔۔ “صیام بے چین ہوا ۔۔۔۔

کچھ تو اس آگ پر بوندیں پڑیں ۔۔۔ صیام خان تمھارے پاس آتے ہی ہم اسی لیے ہیں ۔۔ تمھارے لفظ زخموں پر دوا بنتے ہیں” وہ بے بس سا لگا ۔۔۔ سنجیدہ سرخ نظریں ۔۔۔۔

صیام اسکی تکلیف کو محسوس کر پا رہا تھا ۔۔۔۔

اگر انکے بیچ پیچھلے اٹھائیس سال میں کوئ موضوع رہا تھا تو وہ صرف اروش شاہ کا تھا ۔۔۔۔

اپنے دوست کا ایک ایک پل جو اسنے اروش شاہ کے انتظار میں گزارا صیام خان کو سب یاد تھا ۔اور اس وقت شاہ فیملی پر اسکو سخت غصہ ا رہا تھا کہ

عالم نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔

تیمور کہاں ہے”

اسنے سوال کیا ۔۔۔۔

اپنے باپ کے پاس “

کیا وہ جانتا ہے تمھارے بارے میں”

جہانزیب شاہ مجھے نیچا دیکھانے کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے صیام خان ۔۔۔اور اسنے تیمور شاہ کو بھی سب بتایا ہو گا ۔۔۔۔۔ اور میری پیٹھ پیچھے یہ سب ۔۔۔ مجھ پر ہنسے ۔۔۔۔ “اسنے مٹھیاں سختی سے جکڑ لیں ۔۔۔۔۔

صیام کو اسکا ضبط دکھ رہا تھا ۔۔۔۔

غصے سے خون اسکا بھی کھول رہا تھا ۔۔۔

ایک جیتے جاگتے انسان کے جزابات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا حق کسی کو نہیں تھا ۔۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ عالم شاہ کو دھوکا دیتے۔۔۔اب وہ سب اپنے کیے کے خود زمہ دار تھے ۔۔۔

صیام نے سر جھٹکا ۔۔

میں تمھارے ساتھ ہوں ” اسنے اسکا ہاتھ تھامہ ۔۔۔

عالم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔اور بلکل صیام کے پیچھے کھلے دروازے میں ۔۔۔

 حمائل خان کو دیکھ کر ۔۔۔۔ وہ نگاہ پھیر گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ لبوں پر مسکان بھی ٹھر گی تھی ۔ دو لوگ ہی تو تھے دنیا میں جو اپنی محبت کے ہاتھوں زلیل ہو رہے تھے ۔۔

عالم شاہ اور حمائل خان ۔۔

صیام نے اسکی نظروں کے سامنے دیکھا اور حمائل کو دیکھ کر اسکا میٹر شاٹ ہو گیا ۔۔

کیا کر رہی ہو یہاں ” وہ غصے سے غرایا ۔۔۔

وہ آپ دکھ نہیں رہے تھے ۔۔ تو آپکو ڈھونڈ رہی تھی “ڈری سہمی آواز پر عالم کا قہقہ ابھرا ۔۔ جبکہ صیام سڑ ہی گیا ۔۔۔۔

شیٹ آپ جاؤ یہاں سے”صیام نے بنا لحاظ کے غصے سے کہا ۔۔

اور رخ پھیر لیا جبکہ عالم تو ویسے بھی صوفے سے سر ٹکائے تقریبا لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔

بے ادبی کرتے ہو صیام خان محبت کی جس دن تمھیں محبت ہو گی ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ تمھارے پلے کچھ نہیں رہے گا ” عالم نے سر سیدھا کیا حمائل جا چکی تھی ۔۔۔

کیا بکواس ہے عورت کو مرد سے پہلے محبت نہیں ہو سکتی اور وہ بھی وہ مرد جو اسکو منہ بھی نہ لگائے”

کسی دن لگانا پڑ گیا تو ۔۔”

عالم نے غور سے اسکو دیکھا ۔۔

چار سال پرانا نکاح ہے عالم شاہ صیام خان کو اسکی جگہ سے کوئ نہیں ہلا سکتا ” صیام نے مغروریت سے کہا ۔۔۔

یہ عشق نہیں آساں

ہم نے سمھجہ لیا ہے ۔۔۔۔ یہ آگ کا دریا

تمھیں بھی ڈوب کر جانا ہے “عالم نے اسکا گال تھپتھپا یا ۔۔۔۔

اور اٹھنے لگا ۔۔۔

کدھر ۔۔۔۔ “صیام نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔

دیکھنا ہے اب جہانزیب شاہ پر فالج پڑ کر کیسا دیکھتا ہے” عالم نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔اور اپنی شال اٹھا کر شانوں پر پھیلا لی ۔۔۔۔

تم نے کیا یہ”صیام حیران ہوا ۔۔۔

تمھیں میری قابلیت پر شک ہے” عالم نے سر پھیرے انداز میں اسکو دیکھا

نہیں “صیام نے سانس کھینچا ۔۔۔۔۔

اور دونوں باہر نکل آئے ۔۔۔

رات ڈیرے پر دعوت ہے شغل میلہ ہو گا ۔۔۔ دماغ کچھ درست ہو جائے گا ا جانا اور مجھے بلیک لسٹ سے ہٹا دینا” صیام نے سوال کے ساتھ حکم بھی دیا ۔۔۔

جس پر عقلم نے سر ہلایا ۔۔۔۔

مگر ڈیرے پر نہیں او گا ” وہ بولا۔۔۔

کیوں” صیام چیڑ ہی گیا ۔۔۔

ہم محبوب لوگ خیانت کو پسند نہیں کرتے ۔۔” عالم نے ترچھی نظر اسپر ڈالی ۔۔۔۔

صیام نے گھیری سانس بھری ۔۔۔۔۔

وہ جان گیا تھا اسکی بات کو ۔۔۔ کہ وہ کس نظریے سے کہہ رہا ہے ۔۔۔

ایک بار کر کے دیکھو تمھیں مزاہ آئے گا ” صیام نے اکسایا ۔۔۔

ایک بار خود محبت کر کے دیکھو ۔۔ تمھیں لطف آئے گا ” اسکا شانا تھپتھپا کر وہ وہاں سے نکل گیا ۔۔۔ صیام اسکے پیچھے ہی آیا تھا ۔۔ بلیک پاروڈو میں بیٹھتے ہوئے گلاسز لگا کر ایک بار پھر اسکی نگاہ حمائل پر گئ ۔۔

اور افسوس سے صیام کو دیکھا ۔۔ جو حد درجے اس سے غافل تھا ۔۔۔۔

اور یہ حقیقت تھی اروش عالم شاہ سے ایسی محبت کرتی تو عالم شاہ خود کو خوش قسمت تصور کرتا ۔۔۔

صیام نے ایک بار پھر اسکی نظروں کا ٹھرنا دیکھا اور پیچھے مڑا تو حمائل جلدی سے چھپ گئ اسنے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔

عالم نے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی موڑ لی ۔۔۔ جبکہ صیام خان اسکو سی آف کر کے مظبوط چال چلتا پیچھے پلٹا اور برق رفتاری سے اسکے فرار ہونے سے پہلے حمائل کا ہاتھ تھام کر ۔۔۔ وہ اسے اسی کمرے میں لے آیا جہاں سے عالم شاہ کی خوشبو ابھی بھی ا رہی تھی ۔۔۔

اسنے حمائل کو صوفے پر دھکیلا ۔۔۔۔

اور دروازے کو کنڈی چڑھا دی۔۔۔۔

حمائل جلدی سے اٹھ گئ اسکے پلٹنے تک ۔۔۔۔

صیام جانے دیں مجھے ” وہ بولی مگر نظر تو اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔

کیا چاہتی ہو تم اور کتنا بے عزت ہونا چاہتی ہو حمائل ” وہ غرایا اور اسکے بال اپنی مٹھی میں جکڑ لیے ۔۔۔۔۔

روز محبت کی سزا کیوں دیتے ہیں آپ مجھے ۔۔۔ آپ کو بس دیکھنے آئ تھی ” حمائل نے خود کو چھڑانے کی زرا بھی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔

جبکہ صیام نے کچھ پل اسکی صورت کو ٹھر کر دیکھا تھا ۔۔۔۔ اسکا یہ ہی اظہار ۔۔۔اسے سخت زہر لگتا تھا

اسنے اسے دور دھکیل دیا ۔۔۔اور خود دوبارہ سیگریٹ اٹھا لی ۔۔۔

حمائل کو سانس کا مسلہ تھا وہ جانتا تھا تبھی جان بوجھ کر اسکو تکلیف دینے کے لیے اسنے یہ عمل کیا تھا حمائل جان بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگنے لگی کہ صیام نے مسکرا کر اسکو ایک بازو میں سختی سے جکڑ لیا ۔۔

بہت بے باک ہو اظہار محبت میں حمائل خان ۔۔۔۔ تو محبت کا ستم سہنے کی ہمت نہیں” اسکے ہاتھ میں لائٹر تھما کر وہ اسکے کان میں بولا بولتے ہوئے اسکے کان کی لو سے ۔۔۔۔ صیام خان کے کا لمس ٹکراو ہوا ۔۔۔ مگر اس بات کو وہ تو محسوس نہیں کر سکا البتہ حمائل سن سی رہ گئ ۔۔۔۔

اسنے ایک جھٹکے سے حمائل کو سیدھا کیا ۔۔۔

اور اب دونوں آمنے سامنے تھے ۔۔۔ حمائل ۔۔۔ نے اپنے ہاتھ میں لائٹر اور اسکے لبوں میں دبا سیگریٹ دیکھا ۔۔۔۔

جلاؤ “صیام کی طرف سے حکم ہوا ۔۔

ن۔۔نہیں” حمایل جانتی تھی وہ اسکے دھویں سے سانس نہیں لے پائے گی پیچھلی بار بھی وہ اسے تڑپتا چھوڑ گیا تھا ۔۔۔

میں نے کہا جلاؤ” وہ سختی سے چلایا ۔۔۔۔

اماں سن لیں گئ صیام ۔۔۔

ماں کو جتنا مان ہے آپ پر سب ختم ہو جائے گا ” حمائل نے سرخ نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔۔

تم سے مشورے نہیں مانگے میں نے جو کہا ہے وہ کرو ” صیام نے اسکی کمر میں سختی سے ہاتھ ڈال لیا ۔۔۔

حمائل کو اپنی کمر ٹوٹتی محسوس ہوئ اور اسی وجہ سے ۔۔۔ اسنے لائٹر جلا دیا ۔۔۔۔

سیگریٹ میں آگ لگتے ہی دھواں اٹھنے لگا ۔۔

صیام خان لبوں پر مسکراہٹ لیے ۔۔اسکو سانس روکے اپنے بے پناہ نزدیک دیکھ رہا تھا ۔۔

حمائل سانس روکے کھڑی رہی ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ صیام اسکی ضد پر پل بھر کے لیے حیران ہوا یہ تو وہ جانتا تھا وہ گرفت ہلکی بھی کر دے وہ تب بھی اسکے پاس سے اب نہیں ہٹے گی ۔۔۔۔

جب تک وہ اسے باہر خود نہیں نکال دے گا ۔۔۔۔

حمائل نے سانس نہیں لیا

۔ صیام کو فرق نہیں پڑا اسنے دوسرے ہاتھ سے ۔۔۔ سیگریٹ کا گھیرہ کش لے کر ۔۔۔۔۔ دھواں منہ میں بھر لیا ۔۔۔۔

اور سیگریٹ حمائل کے ہاتھ میں تھماتا وہ اسکے چہرے پر جھک گیا

۔۔

حمائل پھڑپھڑا سی گئ ۔۔ جبکہ صیام اسکی سانسوں میں سیگریٹ کا دھواں چھوڑ چکا تھا ۔۔۔

حمائل کو لگا اسکی سانسوں کی نالیوں کو یہ دھواں چیر دے گا ۔۔۔۔۔

جبکہ صیام اسکی حالت سے حظ اٹھاتا اس سے دور ہوا ۔۔۔۔ یہ عمل بہت مختصر اور سری سا تھا جزبات سے عاری ضد میں پوشیدہ

لبوں سے دھواں آزاد کیا ۔۔۔ اور ہاتھ کی مدد سے لبوں کو صاف کیا ۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف وہ لہرا کر زمین بوس ہوئ تھی ۔۔

صیام جانتا تھا وہ بے ہوش ہو گئ ہے ۔۔

ہممم نزاکت دیکھو محترمہ کی اور محبت کی رٹ ۔۔ ایک رات میں یہ عشق کا بھوت اتار سکتا ہوں حمائل خان تمھارا ۔۔” اپنے قدموں میں اسکو ڈھیر دیکھ کر وہ طنزیہ بولا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

کوئ بھی ملازمہ اسکو دیکھ کر اٹھا لیتی سب ملازم جانتے جو تھے صیام خان کو ۔۔۔۔

اور بے بس حمائل کو ۔۔۔ جبکہ اماں کی نظر میں انکا بیٹا ۔۔۔

بے حد آئیڈیل تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہانزیب شاہ کے کمرے میں قدم رکھتے ہی وہ مسکرا دیا ۔۔۔

سبحان شاہ ابھی باہر نکلے تھے ۔۔۔۔۔ اور مکرم کو عالم حکم دے چکا تھا ۔۔۔ کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔

وہ جہانزیب شاہ کے پاس۔ آکر بیٹھ گیا ۔۔۔

ممتاز ابھی بھی اسکے ملازموں کے بس میں تھی ۔۔۔

کیسا محسوس کر رہے ہیں دادا “وہ انکے سفید بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔۔

جن کی آنکھیں پھٹ کر ابلنے کو تھیں ۔

عالم مسکرا دیا ۔۔۔

فکر نہ کریں اب میں کوئ نقصان نہیں پہنچاؤ گا آپکو ۔۔۔” عالم نے انکے گال تھپتھپایا۔۔۔۔

مگر آپکو بتائے بنا تو کبھی میں نے کچھ نہیں کیا دادا”وہ انکے شانے کو مٹھی میں جکڑ گیا جس سے ۔۔ وہ مفلوج سے پھڑپھڑا گئے ۔۔۔۔

اروش کو بلا لو دادا “جھک کر وہ پیار سے انھیں دیکھتا بولا ۔۔۔ جبکہ وہ گڑ گڑ کرتے نفی میں سر ہلانے لگے عالم نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور انکی گردن ایک بار پھر سے جکڑ لی چہرے پر سنجیدگی تھی جس کی وجہ سے وہ پھڑپھڑا سے گئے ۔۔۔۔

میں حکم دے رہا ہوں دادا اروش کو بلا لو ۔۔۔ ورنہ تم مفلوج تمھاری بہو غائب اور تمھارا بیٹا لنگڑا ۔۔۔۔۔ وہ ہنسا ۔۔۔

عالم شاہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے یہ آگ اروش کے وجود سے بھجے گی ورنہ یہ حویلی آگ کی لپیٹیوں میں رہے گی اور تم تیمور کو حکم دو کہ وہ اروش کو طلاق دے ۔۔۔ سمجھے یہ تمھارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سمجھائے” آنکھیں نکالتا وہ غرایا ۔۔۔

جبکہ جہانزیب شاہ کی آنکھوں سے آنسو بھنے لگے ۔۔۔۔ جو بے بسی کے تھے عالم کو ان آنسو کی رتی بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔

وہ ان سے دور ہوا ۔۔اور دوسری طرف سے انکا موبائل اٹھا لیا ۔۔۔۔ اور اسفند شاہ کا نمبر ملایا ۔۔۔

اس آدمی کی تو وہ شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ بس اروش واپس آ جائے ۔۔۔۔

اسنے اسفند شاہ کو وڈیو کال کر کے جہانزیب شاہ کے آگے رکھ دیا موبائل ۔۔۔۔ کچھ دیر میں کال کنیکٹ ہو گئ جہانزیب شاہ بے بسی سے سرخ چہرے سے ۔۔ اور ابلتی آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگے حقیقی طور پر تو وہ انھیں واپس لوٹنے سے روکنا چاہتے تھے مگر اسفند شاہ یہ سب سمھجہ نہیں سکے وہ تو باپ کی حالت اور انکی شکل دیکھ کر ہی حیران رہ گئے چیخ چیخ کر سبحان شاہ کو بلانے لگے مگر عالم چپ چاپ اپنی ہنسی دباتا یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اگر تم لوٹ آئے ۔۔۔۔ تو بدلہ ہو گا اسفند شاہ ” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read online urdu novels, Tania Tahir Novel, romantic story , Revenge novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

1 thought on “Revenge novel ,یہ عشق کی تلاش ہے Epi #2 Tania Tahir Novels”

Leave a Comment

Your email address will not be published.