Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Revenge Story Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#12

Revenge Story Novel, Urdu Novels, یہ عشق کی تلاش ہے , Epi#12

 

Revenge Story Novel, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

Revenge Story Novel, Urdu Novel, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

 

#قسط_12

صیام جو منتظر ہی تھا کہ وہ۔۔۔ یہ عمل کرے اسکا چہرہ اپنی طرف مڑتے ہی اسنے حمائل

کی سانسوں کو الجھا دیا ۔۔۔ اسکے عمل میں آج بے پناہ نرمی تھی۔۔۔

حمائل کچھ پریشان سی ہوئ ۔۔۔۔۔ کیونکہ اسے مسلہ ہی ایسا تھا ایک لمہے میں سانسیں لینا مشکل ہو جاتا تھا ۔۔۔۔

اسنے صیام کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا اور ۔۔۔۔ اپنا چہرہ اس سے ایکدم دور کر لیا ۔۔

گھیرے گھیرے بوجھل سانس لینے لگی ۔۔کمرے کی خاموش فضا میں اسکی سانسوں کی آواز صیام کے حواس اور بھی معطل کر گئے۔۔۔وہ اسکو دیکھتا رہا یوں ہی ۔۔۔۔

اور جب اسکے سانس نارمل ہوئے ۔۔۔۔ تو اسنے دوبارہ سے اپنی خواہش کو عمل میں لانے کی کوشش کی ۔۔ مگر حمائل نے اسکی کوشش کو ضائع کر دیا ۔۔۔۔

صیام نے پھر سے ناگواری کا اظہار کیا ۔۔ جبکہ حمائل اس سے الگ ہو گئ ۔۔۔۔۔۔

صیام اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔جب جب وہ اسکیطرف بڑھا تھا ۔۔۔ حمائل نے کبھی اسے نہیں روکا تھا یہاں تک ۔۔۔ وہ خود بھلے مشکل میں پڑ جاتی ۔۔ مگر اسکو کبھی نہیں روکا ۔۔تھا صیام اب بھی یوں ہی اکڑ کر کھڑا تھا ۔۔

آپ آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔ ” وہ بولی لہجہ دھیما تھا نگاہیں جھکی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔

صیام کے ماتھے پر کئ بل ڈلے ۔۔ اسکی انا پر یہ کاری ضرب تھی ۔۔۔۔

کیوں جاؤں” اسنے سنجیدگی اور سختی سے پوچھا ۔۔۔۔

مجھے سونا ہے ” وہ نگاہ چراتی بولی ۔۔۔۔۔

صیام طنزیہ مسکرایا ۔۔۔اور بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

حمائل اسکے ایکطرف کھڑی تھی ۔۔۔صیام اسکو سر سے پاؤں تک دیکھنے لگا ۔۔وہ دھان پان سی بلکل ہلکی سی تھی پھر بھی اس میں اتنی کشش تھی کہ جب جب اسنے چھوا تو ۔۔۔ عجب ہی احساس نے جنم لیا تھا ۔۔۔۔

کل رات بھی تو میرے ساتھ سو رہیں تھیں آرام سے ۔۔ اب کیا پروبلم ہے ” وہ بولا ۔۔۔ لہجہ عام سا تھا۔۔۔۔

حمائل نے اسکیطرف نگاہ اٹھائ ۔۔۔ اسکی نظروں میں طنز تھا ۔۔حمائل نے نگاہ جھکا لی ۔۔۔

میں نہیں جانتی تھی آپ میرے پاس ہیں ” وہ بولی تو صیام کے لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔۔

کس کی وجہ سے مجھے ایسا رویہ دے رہی ہو ۔۔ یا یہ سمھجو تمھیں کوئ اور پسند آ گیا ہے ” وہ سختی سے دریافت کرنے لگا ۔۔ حمائل نے تڑپ کر سر اٹھایا ۔۔۔

وہ ایسے سوچ بھی کیسے سکتا تھا ۔۔۔۔

صیام کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔

کیا وہ اسکے لیے اپنی محبت کا اظہار کرے ۔۔۔۔ اور ایک بار پھر وہ اسے کہے ۔۔کہ حمائل خان ۔۔اپنی پہچان تو بتاؤ کیا ہے جو تم محبت کرنے لگی وہ مجھ سے

وہ یہ الفاظ نہیں سننا چاہتی تھی تبھی چپ سی رہ گئ ۔۔ جبکہ دوسری طرف صیام غصے سے اٹھا ۔۔۔

کس بات کا اٹیڈیوڈ دے رہی ہو ۔۔کس نے سیکھا دیا تمھیں یہ اٹیٹیوڈ دینا ” وہ بھڑک کر اسکا رخ اپنی طرف کرتا بولا ۔۔۔

جب میں آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی آپ کیوں آ گئے ہیں یہاں پلیز جائیں یہاں سے ” حمائل جھنجھلا کر ایک ہی سانس میں بولی ۔۔۔ صیام نے ۔۔۔ بنا لحاظ کے ایکدم اسکی گردن جکڑ لی ۔۔۔۔

دوبارہ بولو کیا کہہ رہی ہو ” وہ بھڑک کر بولا ۔۔۔

حمائل کا سانس روکنے لگا ۔۔۔

صیام” وہ اس سے اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ صیام نے اسے بستر پر دھکیل دیا ۔۔اور اسکو کھانستا دیکھ کر ۔۔۔ طنزیہ نظروں سے اسپر جھکا ۔۔۔۔

بس اتنے میں ہی ہار گئیں ابھی تو شادی ہو گی ۔۔۔۔۔

تب کیا کرو گی” وہ اسکے بکھرے بال سنوارتا بولا۔۔

مجھے نہیں کرنی آپ سے “‘ حمائل رونے لگی ۔۔۔۔

پھر کس سے کرو گی” وہ اسکی آنکھوں کی سرخی کو ۔۔۔ آنگلی کے پور سے چھونے لگا ۔۔۔۔

کسی سے بھی نہیں ” حمائل نے اسکا ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔

میں کرنے بھی نہیں دوں گا کسی اور سے ۔۔ہاں البتہ میں دوسری شادی کروں گا ” وہ دور ہوا ہاتھ جھاڑتے ہوئے ۔۔۔۔

جبکہ حمائل ہر اسکی یہ بات بم کیطرح گیری تھی ۔۔۔۔

وہ اسکو ایسے دیکھنے لگی جیسے صیام نے نہ جانے کیا کہہ دیا ہو ۔۔۔۔

صیام نے اسکی آنکھوں کی بے چینی کو بھانپ لیا ۔۔

مسکرانے لگا ۔۔۔۔

میں شادی کروں گا علینہ سے ۔۔ایکچلی وہ خوبصورت ہے بولڈ ہے بے باک ہے اسکی اور میری ہائیٹ بھی ملتی ہے اور زرا ۔۔۔۔ لڑکی لگتی ہے بچی نہیں ” وہ ایک پل کو اسکے چہرے کے نزدیک ہوا اور پھر سیدھا ہو گیا ۔۔

جبکہ لبوں میں ہنسی پوشیدہ تھی ۔۔۔

حمائل کا سر جھک گیا ۔۔۔

صیام نے اسکے جھکے سر کو دیکھا ۔۔۔

میں اماں کو کہہ دوں گی آپ علینہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو اسی سے کر لیں ” بمشکل اپنے آنسوں کو حلق میں اتار کر وہ بولی تو صیام نے جھٹکا کھا کر اسکو دیکھا ۔۔

خبردار جو تم نے اماں سے یہ بکواس کی۔۔وہ خوش ہیں تمھاری اور میری شادی پر نیا شوشہ مت چھوڑنا اور انھیں اس بات کی بھنک بھی پڑی تو زمہ دار تم ہو گی ” وہ غصے سے بولا۔ اور ۔۔۔ اسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔۔۔

حمائل اسے زخمی نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

جبکہ صیام ایک نظر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔

کئ دیر سے رکا آنسو مچل کر ۔۔۔۔گال پر آ ٹھرا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حویلی میں شادی کا شور اٹھ گیا ۔۔حویلی کو چاند کی طرح سجا دیا گیا تھا ۔۔۔

اماں نے حمائل سے اسکے پسند کے کپڑے بنانے کو کہا مگر حمائل نے اتنا ہی کہہ دیا جو آپ بنا دیں گی پہن لوں گی ۔۔

لو بھلا دیکھ لو علینہ یہ لڑکی ۔۔۔۔

اتنی سادھی اور معصوم ہے شادی بھی اسکی ہے اور کہہ رہی ہے مجھ بوڑھیا سے کہ آپ بنا دو بھلا مجھے آج کے فیشن کا کیا پتہ ” اماں ہنسی دباتے بولیں جبکہ علینہ نے کھا جانے والی نظروں سے ۔۔ حمائل کو دیکھا جو سادے سے لباس میں بھی بے پناہ حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔

تائ جان ۔۔ میں تو کہتا ہوں ۔۔۔ حمائل کو ساتھ بھیج دیں ہمارے ہم سب اکٹھے شوپینگ کر لیں گے ” ارسلان بولا ۔۔۔ جبکہ حمائل نے ۔۔اپنا رخ بدل دیا ۔۔وہ مطمئین تھی اماں اسے جانے نہیں دیں گی جبکہ ارسلان اسکا رخ بدلنا نوٹ کر گیا ۔۔۔۔

ارے ہاں بیٹا یہ ٹھیک کہا تم نے ” ارسلان کی ماں بولی ۔۔۔۔

اماں کچھ تزبزب کا شکار تھی ۔۔

میری بچی یہاں سے کبھی نکلی ہی نہیں ” اماں کو فکر ہوئ حمائل کی آپ فکر نہ کریں ۔۔۔ صیام بھی تو ہو گا ساتھ ” ارسلان نے یاد دلایا جبکہ چہرے پر مکرو ہنسی تھی ۔۔

ارے ہاں ۔۔یاد آ گیا چلو ٹھیک ہے حمائل چل میری بچی اٹھ کر لباس بدل لے ۔۔۔ شوپینگ کر آ ” اماں بولیں

اماں مجھے ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ پلیز مجھے کہیں نہیں جانا ” حمائل نے انکار کیا ۔۔

بیٹا ۔۔ایسے نہیں کرتے ۔۔۔ چلو اٹھو تیار ہو “

مگر اماں ” حمائل رو دینے کو ہوئ ۔۔۔۔

اماں نے سنجیدگی سے اسکو دیکھا تو چار نگار اسے اٹھنا پڑا ۔۔۔۔۔ں

علینہ ارسلان اور صیام شادی کی شاپینگ کے لیے جا رہے تھے اور اب ان سب کے ساتھ حمائل بھی ۔۔۔۔

وہ یلو کلر کے قمیض شلوار میں ۔۔۔ سر پر دوپٹہ اچھے سے لے کر نیچے آ گئ ۔۔

پیلا رنگ الگ ہی جچ رہا تھا ۔۔ صیام نے اسکو دیکھا ۔۔

اور چند گھڑیاں دیکھ کر نظر پھیر لی جبکہ ارسلان تو ٹک ٹکی باندھ کر اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔

جا میری بچی اللہ کے امان میں ” اماں نے اسکا ضدقہ دیا ۔۔۔ اور یوں یہ سب شاپینگ کے لیے حویلی سے شہر کو نکل گئے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے صیام علینہ اور ارسلان نے گاگلز لگائے اور پراڈو میں سوار ہونے لگے ۔۔۔

 

تو علینہ نے کہا وہ آگے بیٹھے گی ۔۔حمائل تو کچھ بولی نہیں اسکی جرت ہی کیا تھی جبکہ ڈرائیو ۔۔صیام کر رہا تھا ۔۔۔

 

صیام چپ چاپ ۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ ارسلان کو تو موقع مل گیا ۔۔

حمائل کہنا چاہتی تھی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتی مگر حلق سے لفظ بھی نہیں نکلا اور وہ سینٹ کر پیچھے ارسلان کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔

 

سارے راستے وہ سب باتیں کرتے رہے صیام کم بول رہا تھا جب کہ وہ دونوں بہن بھائ زیادہ ۔۔ اچانک حمائل کو محسوس ہو ا ۔۔۔ کہ ۔۔ اسکا ہاتھ ارسلان نے پکڑ لیا ہے وہ گھبرا سی ۔۔۔ گئ ارسلان نے فورا ہاتھ چھوڑا ۔۔ حمائل بلکل دروازے سے چیپک گئ ۔۔۔ جبکہ صیام کی سیٹ کو ۔۔اسنے ایکدم پکڑ لیا۔۔۔

صیام نے نوٹس کر لیا ۔۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ارسلان پر نگاہ گئ جو لاعلم ہو گیا ۔۔

حمائل کے ہاتھ البتہ کانپ اٹھے تھے ۔۔۔

آگے او ڈرائیونگ کرو ” صیام نے گاڑی کو بریک لگا کر کہا ۔۔

یار میں اتنی لمبی ڈرائیو نہیں کر سکتا ا” ارسلان بولا تو صیام نے بنا جواب دیے ۔۔۔ دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا ۔۔ارسلان نے حمائل کو گھور کر دیکھا اور علینہ نے بھی اور صیام کے آ تے ہی ۔۔حمائل ٹھیک ہو گئ ۔۔۔ مگر دروازے سے اب بھی لگی ہوئ تھی صیام نے بنا کسی سوال اور جواب کے اسکی کمر میں آگے بڑھ کر ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔

اور اسکو اپنے نزدیک کر لیا ۔۔۔

علینہ اور ارسلان نے یہ منظر دیکھا ۔۔ دونوں جیسے جل بھن گئے ۔۔۔

دروازہ کھل گیا تو ۔۔ روڈ پر پڑی ملو گی۔۔ پھر اماں مجھ سے پوچھیں گی ۔۔ کہ کہاں پھیک کر آ گیا میں تمھیں ٹھیک سے بیٹھو ۔۔۔اور جب کسی کے ساتھ نہیں بیٹھنا ہوتا تو اس زبان کو ہلا کر بتا دیتے ہیں کہ میں کمفرٹیبل نہیں ” وہ اسکے جھکے سر کو دیکھ کر بے زاری سے بولا ۔۔۔۔۔۔

 

حمائل کو رونا آنے لگا ۔کاش وہ بنا کہے سب سمھجہ جائے مگر تحافظ کا احساس ہوا اور وہ ریلکس ہو کر باہر گزرتے راستوں کو دیکھنے لگی ۔۔ دونوں کو شاید خیال نہیں رہا ۔۔۔۔ صیام کا ہاتھ اسکے شانے پر تھا اور حمائل ۔۔ بلکل اسکے ساتھ چیپک کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاپینگ مال کے سامنے گاڑی روک کر ۔۔ وہ سب گاڑی سے اترے ۔ تو صیام ۔۔ نے پینٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔

اور کسی کیطرف دیکھے بنا اندر چل دیا ۔۔

علینہ بھی اندرآ گئ ۔۔۔ ارسلان نے حمائل کیطرف دیکھا ۔۔

اب تم میرے ساتھ چل لو ” وہ ہنسا ۔۔۔

حمائل جلدی سے اسکے پا س سے بھاگ گئ ارسلان خباثت سے ہنسنے لگا ۔

وہ سب بڑی بڑی شاپس میں گھوم پھیر رہے تھے۔۔۔ ہر لباس کو ریجیکٹ کر دیتے ۔۔۔۔

انھیں پروا نہیں تھی کہ دولہن حمائل ہے ۔۔ علینہ کی شاپینگ میں صیام پوری مدد کر رہا تھا

اسے بتا رہا تھا کہ اسپر یہ سوٹ کرے گا یہ نہیں ۔۔۔۔

جبکہ علینہ تو بے حد خوش تھی ۔۔۔

ارسلان البتہ ۔۔۔ حمائل کے پیچھے تھا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے تمھاری شاپینگ مجھے کرانی ہو گی ۔۔آو ادھر “وہ بولا اور اسنے حمائل کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔۔ حمائل کی چیخ نکلتی کہ ارسلان نے ۔۔۔ اسکے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔

اب اگر بولی تو گردن دبا دوں گا ” وہ آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔

حمائل کی سانس پھولنے لگی خوف سے جیسے ابھی سانس بند ہو جائے گا ۔۔۔۔

ارسلان اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا کہ اسے یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔

وہ ایکدم اسے چھوڑ کر باہر کیطرف آ گیا جبکہ حمائل سانس بھلا کرنے کی کوشش میں زمین پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔

اسکی آنکھوں سے بھل بھل پانی بہنے لگا جبکہ سرخی آنکھوں میں بڑھ گئ ناک سرخ ہو گئ ۔۔۔۔

میڈیم آپ ٹھیک ہیں ” ایک سیلز بوائے اسکے پاس آیا ۔۔۔

حمائل نے کانپتی انگلی سے صیام کیطرف اشارہ کیا

وہ لڑکا سمھجتے ہوئے صیام کیطرف دوڑا ۔۔۔ اسکی پشت تھپتھپائ ۔۔۔

سر کیا وہ میڈیم آپکے ساتھ ہیں ” اس لڑکے نے کہا ۔۔صیام پلٹا اور حمائل کی حالت دیکھ کر وہ بے ساختہ اسکیطرف دوڑا ۔۔

حمائل ” اسنے حمائل کا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔

کیا ہوا ہے تمھیں “وہ پوچھنے لگا ۔

علینہ پانی لاؤ “صیام نے کہا ۔۔تو علینہ پاؤں پٹختی چل دی ۔

صیام نے حمائل کو صوفے پر بیٹھایا ۔۔۔

اسکو پانی پلایا ۔۔۔

تب جا کر حمائل کا سانس نارمل ہوا ۔۔۔

صیام اسکے گٹھنے پکڑے نیچے بیٹھا تھا ۔۔علینہ نے چبھتی نظروں سے یہ منظر دیکھا ۔۔

اب ٹھیک ہو ” وہ سوال کرنے لگا ۔۔ حمائل نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔۔

ڈرامے باز لڑکی” علینہ نے نخوت سے کہا ۔۔۔۔

حمائل کچھ دیر یوں ہی بیٹھی رہی ۔۔۔

جبکہ صیام بھی اسکے ساتھ بیٹھا تھا اور اس شاپ سے علینہ ڈریسز پسند کر رہی تھی ۔۔ ارسلان بھی اسکے ساتھ تھا ۔۔۔

چلو اٹھو اب ۔۔۔ ڈریسزز ٹرائے کرو ۔۔۔ تمھیں کوئ پسند آیا ۔”

صیام نارملی پوچھنے لگا ۔۔

مجھے گھر جانا ہے” حمائل بولی ۔۔۔

میں زبردستی نہیں لایا تمھیں ۔۔۔ ناٹک کم کرو اور اٹھو ” اسنے گھور کر کہا ۔۔۔ تو حمائل ایک نظر اسکو دیکھ کر ۔۔اٹھ گئ ۔۔۔۔

صیام نے ایک سیلز گرل کو مختلف ڈیزائن کے لہنگے لے کر اسے ٹرائے کروانے کو کہا۔۔۔

تو حمائل کچھ جھجھکتی ہوئ اسکے ساتھ ہو لی ۔۔۔

سیلز گرم نے اسے لہنگا دیا ۔۔۔ تو وہ اسکی کرتی کا اتنا بولڈ ڈیزائن دیکھ کر ۔۔۔شرم و حیا سے سرخ پڑ گئ وہ لڑکی مسکرائ ۔۔

یو آر سو کیوٹ”اسنے حمائل کا گال کھینچا

جائیں اب چینج کریں ” وہ بولی ۔۔۔

حمائل کیا کہتی انکار کرتی تو وہ آ جاتا پھر زبردستی کرتا ۔۔۔۔

اسنے اس کرتی کو دیکھا ۔ جس کا گلا آگے پیچھے سے گھیرا تھا پیچھے سے اتنا کے اسکی کمر آدھی نظر آتی ۔۔اور آگے سے ایسا تھا کہ ۔۔سارے شانے دیکھتے ۔۔ نیچے کرتی بے حد کامدار اور لہنگا اتنا بھاری کے وہ چکرا ہی جاتی ۔۔

اسنے پہنا مگر باہر آنے کی ہمت نہیں ہوئ تو سیلز گرل نے صیام کے غصے کے سبب دروازہ بجایا ۔۔

میڈیم پلیز باہر آ جائیں ” اسکی بے چارگی سے بھرپور آواز سن کر ۔۔۔۔ حمائل کو باہر آنا ہی پڑا ۔۔۔

جیسے ہی وہ باہر آئ ۔۔۔ سیلز گرل نےاسکی خوب تعریفیں کیں جبکہ ۔۔۔ اسنے دوپٹہ کامدار اچھے سے لے لیا ۔۔۔

وہ باہر آئ ۔۔تو صیام ۔۔۔ ساکت رہ گیا ۔ جبکہ علینہ نے تپ کر اسکے حسن کو دیکھا ارسلان تو خود حیران رہ گیا وہ لہنگے میں ایسی لگ رہی تھی جیسے آسمان سے اتری کوئ حور۔۔۔۔

جبکہ اسپر شرم سے سرخ پڑتا چہرہ ۔۔

وہاں کھڑے سب لوگ اسی کیطرف دیکھ رہے تھے ۔۔

جبکہ حمائل لب کاٹنے لگی ۔۔

صیام نے سب کو ۔۔۔ دیکھا ۔۔اسے غصہ سا آنے لگا ۔۔۔

وہ آگے بڑھا اور اسنے حمائل کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا ٹرائل روم میں لے گیا ۔۔۔

حمائل ڈر سی گیا ۔۔۔۔

بڑی بڑی گھبرائ ہوئ نظروں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔

صیام آئینے میں اسکا عکس دیکھ رہا تھا ۔۔۔

گوری رنگت ۔۔۔ جیسے مدہوش کر دینے کو تھی ۔۔۔

اسنے اسکے شانوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔

حمائل کسمسا کر اس سے دور ہوئ ۔۔ مگر ٹرائل روم تھا ہی اتنا سا کہ وہ گھوم کر اسکے سامنے آ گئ ۔۔۔

یہ ڈریس بیسٹ ہے “صیام کے منہ سے بے ساختہ نکلا جبکہ نظریں اب بھی اسی پر تھیں۔۔

م۔۔مجھے یہ نہیں پہنا ” حمائل نے احتجاج کیا ۔۔ وہ پہنے لائق نہیں تھا ۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ تم اپنی پسند کا کوئ اور لے لو ” وہ لہنگے کے موتیوں کو چھوتا بولا جو ۔۔کہ حمائل کے شولڈرز کے قریب تھے ۔۔اسکے انگلی نے زرا سا ٹچ کیا تھا ۔۔۔

حمائل کو یقین نہیں آیا ۔۔ کہ صیام نےا سے اجازت دے دی ہے ۔۔۔۔۔

وہ بے یقینی سے اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔

مگر میرے کمرے میں آنے سے پہلے پہلے تمھیں یہ لباس بدلنا ہو گا ” وہ اسکے نزدیک ایک قدم بڑھا ۔۔۔ حمائل پیچھے آئینے سے چیپک گئ ۔۔۔

جبکہ صیام ۔۔ نے مکمل اسکو ۔۔۔ چھپا لیا ۔۔۔۔

حمائل نے اسکیطرف بس ایک نظر دیکھا ۔۔

آپ علینہ پر یہ شوق پورا کر لیجیے گا ۔۔” اسنے کہا ۔۔ اور اسکے ہاتھ کے نیچے سے نکل کر باہر جانے لگی ۔۔۔کہ ۔۔ صیام نے پکڑ کر اسے دوبارہ وہیں کھینچ لیا ۔۔۔۔

زیادہ زبان نہیں چل رہی ” وہ آئ برو آچکا کر بولا ۔۔۔۔

یہ بات تو آپکی پسند کی تھی صیام اس میں بھی کوئ مسلہ تھا کیا ” حمائل کے لہجے میں سنجیدگی تھی ۔۔

اسے جو پہنانا ہو گا پہنا لوں گا فلحال اپنی سوچو ۔۔۔”وہ اسے باور کراتا ۔۔۔ باہر نکل گیا جبکہ ۔۔حمائل ۔۔۔ پیچھے کھڑی اس دروازے کو دیکھنے لگی ۔۔ جس سے وہ گزرا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تادیر شوپینگ کرنے کے بعد وہ ایک ریسٹورنٹ میں رکے ۔۔۔

اور وہاں ۔۔۔ انھوں نے لنچ آرڈر کیا ۔۔۔

حمائل تو پہلی دفع ہی یہاں آئ تھی ۔۔ وہ لوگ ۔۔ مزے سے کانٹوں اور چمچوں سے باتیں کرتے ہنستے ہوئے کہا رہے تھے ۔

حمائل نے صیام کے ہاتھوں کیطرف دیکھا ۔۔وہ بڑی مہارت سے چکن کو کھا رہا تھا ۔۔حمائل کو اسکا کھانے کا انداز بہت اچھا لگا جبکہ علینہ اور ارسلان بھی اسی طرح کھا رہے تھے

مگر حمائل چپ بیٹھی تھی ۔۔ کیونکہ ۔۔۔ اس کو تو ہاتھوں سے ہی کھانا آتا تھا یہ چمچ سے کانٹے اور چھری کا استعمال اسنے کبھی کیا بھی نہیں تھا ۔۔۔اور ضرورت بھی نہیں پڑی تھی ۔۔۔

ان سب کو دیکھا دیکھی اسنے ہمت کی اور چھری سے چکن کو کاٹنے لگی ۔۔۔

اور ایکدم اتنا فورس لگایا کہ ۔۔ چکن اچھل کر ۔۔ صیام کی پلیٹ میں جا گیرہ ۔۔۔۔

صیام ایکدم دور ہوا ۔۔

حمائل بھی گھبرا گئ ۔۔۔ وہ ۔۔ایکدم ہاتھ پیچھے کرنے لگی کہ سوس اسپر آ کر گیری ۔۔۔۔

علینہ اور ارسلان کے قہقہے اٹھ گئے ۔۔ جبکہ صیام نے بھی اسکی اس حرکت پر اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔ منہ پر ہاتھ کی مٹھی بنا کر رکھ لی ۔۔

جب تمھیں نہیں کھانا آتا ۔۔۔ تو تم نے کوشش کیوں کی” علینہ ہنستے ہوئے بولی حمائل کا چہرہ بے حد سرخ وہ گیا ۔۔۔

شرمندگی سے ۔۔۔۔

وہ انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔۔ جبکہ صیام نے علینہ کو روکا ۔۔

جاؤ واش کر آؤ ” اسنے کہا ۔۔ تو حمائل آنسو پیتی اٹھی ۔۔۔۔

میں بھی چلتا ہوں ساتھ” ارسلان نے کہا ۔۔

جبکہ حمائل وہیں رک گئ ۔۔۔

علینہ اور صیام اسکی طرف دیکھنے لگے جبکہ حمائل ۔۔۔ نے صیام کی جانب دیکھا ۔۔کچھ دیر پہلے اسنے کہا تھا کہ اگر کچھ نہیں ٹھیک لگتا تو منہ سے بول دینا چاہیے ۔۔

میں اکیلی چلی جاؤ گی ” وہ اپنے آنسو پیتی بولی ۔۔۔

تا کہ تم کچھ اور ناٹک کر لو ” علینہ نے ناگواری سے کہا ۔۔۔۔۔

جاؤ ارسلان لے جاؤ اور جلدی آنا ” صیام نے کہا ۔۔۔

مگر صیام میں خود چلی جاتی ہوں نہ ” حمائل اب بھی انکاری تھی وہ ارسلان کے ساتھ تنہا جانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

ارے چلو تم ” ارسلان نے فرینڈلی اسکو کہا ۔۔۔

جبکہ صیام نے گھورا ۔۔۔

مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ” وہ ایکدم چیخا ۔۔۔۔

حمائل اسے بتانا چاہتی تھی ۔۔۔وہ اس شخص کے ساتھ کہیں نہیں جانا چاہتی تھی وہ اسے نہ بھیجے مگر کہہ نہیں سکی ۔۔۔

اور ارسلان اسکے پیچھے پیچھے چل دیا ۔۔۔

لیڈیز واشروم میں اسوقت کوئ نہیں تھا جبکہ ۔۔ ارسلان کو دیکھنے بنا وہ واشروم میں گھس گئ ۔۔۔

ارسلان نے ارد گرد دیکھا اور ۔۔جب اسے دور دور تک کوئ نہیں دیکھا تو وہ بھی اندر کو چل دیا ۔۔۔۔۔

البتہ ۔۔وہاں سے گزرتی لڑکی کی آنکھوں میں آ گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارسلان اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ تو واش بیسن کے پاس ۔۔۔ حمائل کھڑی اپنی شرٹ صاف کر رہی تھی جبکہ دوپٹہ اسنے ایکطرف ۔۔ رکھا ہو اتھا ۔۔ارسلان وک دیکھ کر اسکے لبوں سے چیخ نکلی ۔۔

جبکہ ارسلان مسکرا کر اسکے نزدیک آیا ۔۔۔

دیکھو مجھے تمھارے ہی شوہر نے دوبارہ موقع دے دیا ” وہ مکرو ہنسی سے وہ بولا ۔۔۔۔

ارسلان بھائ باہر جائیں آپ ” حمائل دوپٹہ اٹھاتی بولی ۔۔

ارے مجھ سے کیا شرم ” ارسلان نے اس سے دوپٹہ لے کر دور اچھالا ۔۔۔

میں صیام کو بتا دوں گی” وہ رو دینے کو ہوئ ۔۔۔۔

بتا دو اسے کون سے تمھاری بات کا یقین ہے ” ارسلان ہنسا اور ایکدم حمائل کے شانے تھام لیا ۔۔

یقین مانو ۔۔۔ تم اس لہنگے میں شعلہ لگ رہی تھی ۔۔ آف جو آگ بھڑکا دے ۔۔۔” وہ گندی زبان بولتا بولا ۔۔۔

حمائل کا وجود سنانا گیا ۔۔

سانسیں اکھڑنے لگیں ۔۔

بس اب یہ ڈرامہ شروع مت کر دینا یہاں تو کوئ بھی نہیں ” ارسلان نے کہا اور ۔۔اسکے ہاتھوں پر ہاتھ چلانے لگا ۔۔۔

حمائل کا وجود سن رہ گیا ۔۔۔

ارسلان اسکے اسی خوف کا فائدہ اٹھاتا ۔۔۔ ابھی مزید اسکے ساتھ کوئ نیچ حرکت کرتا ۔۔ کہ ایکدم دھاڑ سے دروازہ کھلا ۔۔اور ۔۔ارسلان کی گردن پر جیسے کھینچ کر ۔۔کسی کی لات پڑی ہو ۔۔۔۔

وہ بلبلا کر حمائل سے دور ہوا ۔۔۔۔

یو پرورٹ ” لڑکی کی آواز سن کر ۔۔ ارسلان دنگ رہ گیا ۔۔

بلیک جینز شرٹ میں سر پر کیپ لیے اور اوپر کھلا سا جمپر پہنے ۔۔۔۔ وہ لڑکی اسکو قتل کر دینا چاہتی تھی ۔۔۔

اسنے پھر سے گھوم کر ۔۔۔ ارسلان کے منہ پر لات ماری ۔۔اور ایکدم جمپ کھا کر کھڑی ہوئی جبکہ ارسلان ۔۔۔ پیچھے جا گیرہ ۔۔ حمائل کی چیخ نکلی ۔۔۔

اس لڑکی نے حمائل کو اپنی طرف کھینچ لیا ۔۔۔

یہ تم جیسی لڑکیاں ہی ہوتیں ہیں جن کی بزدلی ۔۔مرد کو ۔۔۔۔ شیطان بنا دیتی ہے ” وہ لڑکی غصے سے حمائل کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

اور ارسلان بھی غصے سے اٹھا ۔۔۔

تو ہے کون سالی ” ارسلان اسکی جانب بڑھتا کہ اسنے کھینچ کر مکہ ارسلان کے منہ پر مارا ۔۔اور اسکے بعد اسکے پیٹ پر لاتیں ماری۔ ۔۔ جبکہ اسکی ٹانگ میں ٹانگ پھنس آکر ۔۔

اسکو ایسے مارا کہ وہ ۔۔۔ دروازے سے باہر جا کر پڑا ۔۔۔

وہ ۔۔ باہر نکلی ۔۔۔۔ اور کمر پر ہاتھ رکھے ارسلان کو دیکھنے لگی ۔۔

کیوں ۔۔۔ اب دم ہے تم میں ۔۔۔۔ اور پیٹنے کا ۔۔۔ چوہے” آنکھیں نکالتی وہ غصے سے بولی۔۔۔۔۔۔

ارسلان کراہ رہا تھا اسکے سر سے خون نکلنے لگا ۔۔

وہ لڑکی مڑی اور ۔۔حمائل کو دیکھنے لگی ۔۔

پکڑو اپنا دوپٹہ ” انسے زمین پر سے اٹھا کر حمائل کو دوپٹہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو تم اس خبیث کے ساتھ ہوٹل میں آئ ہو ” وہ لڑکی آنکھیں نکالتی بولی ۔۔

حمائل نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔۔

کس کے ساتھ آئ ہو ” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔

اپنے ہزبینڈ کے ساتھ ” حمائل کو بتاتے ہوئے بھی شرمندگی ہو رہی تھی اسکا شوہر کیسا تھا ۔۔۔۔۔

اس لڑکی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور ارسلان کو وہیں چھوڑ کر ۔۔۔وہ دندناتی ہوئی باہر نکلی ۔۔۔

کہاں ہے تمھارا شوہر” اس لڑکی نے پوچھا ۔۔۔

حمائل نے اسے روکا ۔۔

 آپ انھیں کچھ مت بتائیے گا ۔”

بس چپ یہ کمزور بن کر تمھیں کوئ خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہو گا اور اس کم بخت کو تو دیکھو اسکی تو ۔۔ماں کی ” وہ بھڑکتی گالی دیتی ۔۔۔ حمائل کو حیران چھوڑتی صیام تک پہنچی ۔۔۔

وہ لیلا کے مجنو ” اسنے ڈش اٹھا کر صیام پر پلٹ دی ۔۔

صیام اس حرکت پر ۔۔۔ ایکدم سرخ چہرے سے اٹھا ۔۔۔

ائرہ نے اپنی کیپ بنا ٹھڑی کی اور اسکا گریبان جکڑ لیا ۔۔۔۔

جب تمھارے سے ایک بیوی نہیں سنبھالی جا رہی تو ۔۔گرل فرینڈ وہ بھی اس چالاک منہ والی کو بنانا ضروری ہے ” وہ بھڑکتی ہوئی پوچھ رہی تھی ۔۔۔

پیچھے سے باسم بھاگتا ہوا آیا ۔۔

آئرہ چھوڑو کیا کر رہی ہو ۔۔۔

اڈیٹ باسٹرڈ نون سینس ” وہ صیام کو گالیاں دینے لگی جبکہ باسم نے اسکو پکڑ کر پیچھے کھینچا۔۔۔

تمھیں میں نے کہا تھا باہر کھڑی رہو “باسم آئرہ کو زبردستی صیام سے دور کرتا بولا ۔۔

ائرہ نے خود کو اس سے چھڑایا ۔۔۔

صیام عورت ہونے کے لحاظ سے کھڑا اسکو گھور رہا تھا ۔۔۔ جبکہ ائرہ بنا ڈرے اسکو کھا جانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔۔۔۔

صیام کی اچانک پیچھے نظر گئ ۔۔۔

حمائل کھڑی تھی اسکے سر پر دوپٹہ نہیں تھا اسنے ہاتھ میں دوپٹہ جکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

صیام کے دماغ نے گویا حرکت کی

آئرہ اب بھی لمبے لمبے سانس لیتی ۔۔۔ اسے گوھر رہی تھی ۔۔

کیا ہوا ہے تمھیں ” صیام نے آگے بڑھ کر حمائل کو پکڑا ۔۔

جبکہ حمائل کا ہاتھ اٹھا اور صیام کے چہرے پر زور سے پڑا ۔۔۔۔

علینہ حق و دق رہ گئ ۔۔ جبکہ یہ ہی حالت صیام کی تھی وہ ۔۔چہرے پر ہاتھ رکھے ۔۔حمائل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ حمائل نے سانس نگلا ۔۔۔۔

کاش آپ سے محبت نہ کی ہوتی ۔۔تو آپکی لاپرواہی اتنی تکلیف نہ دیتی ” مسلسل بہتے آنسو کے درمیاں وہ ۔۔۔ بولی ۔۔۔

اور دوپٹہ سر پر اٹھا کر باہر نکل گئ ۔۔۔

آئرہ کے لب مسکرائے ۔۔۔ تو گالوں میں کمال حسن سہ بھر گیا ۔۔۔ گھیرے گڑھوں کی دلکشی ۔۔۔۔ غضب تھی ۔۔ وہ صیام پر دو حرف بھیجتی ۔۔۔ حمائل کے پیچھے بھاگی ۔۔ جبکہ باسم ۔۔ ائرہ کے پیچھے ۔۔۔۔

یار تم نے تو کمال کر دیا “ائرہ نے حمائل کا شانہ تھپتھپایا ۔۔۔

حمائل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔

میرا نام ائرہ ہے آئرہ اروش عباس ایکچلی اب تم سوچ رہی ہو گی ۔۔ یہ کیا ۔۔نام ہے یہ پوری تختی ۔۔” وہ خود ہی ہنسی ۔۔۔ سر پر سے کیپ اتار دی ۔۔

 سیلکی گولڈن براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔

تو اس کی کہانی یہ ہے کہ میری موم کو آئرہ پسند تھا اور ڈیڈ کو اروش ۔۔۔ لڑائ جھگڑے میں دونوں نے میرا نام آئرہ اروش رکھ دیا ۔

جس کا دل جو کرتا ہے وہ لے لیتا ہے ” وہ مزے سے بتا رہی تھی جبکہ ۔۔۔ حمائل اروش پر ٹھٹکی ۔۔

اسے پتہ چلا تھا ۔۔ اروش کی ڈیتھ ہو گئ ہے وہ روئ بھی تھی….

 

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Revenge Story Novel Best Urdu NovelTania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Leave a Comment

Your email address will not be published.