Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Revenge Story Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#14

 Revenge Story Novel 2022, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

Best Urdu Novel, Revenge Story Novel 2022 , online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

#قسط_14

مختلف رسمیں ہوئیں ۔۔۔۔ اور حمائل کو ابٹن لگا دیا گیا ۔۔۔

بڑی عورتیں اسے آ آ کر پیار کر رہیں تھیں ائرہ بھی یہ سب دیکھ رہی تھی یہ سب رسمیں یہ رواج کبھی اسنے نہیں دیکھے تھے اسکے ہاتھ پر ایک چمکیلی چیز باندھ دی گئ تھی ۔۔۔۔ اور بتا دیا گیا تھا کہ آج سے بہو ۔۔۔ کا سب سے پردہ ہے تبھی سب عورتیں اسکو پیار کر رہیں تھیں ائرہ اپنی ہنسی روک رہی تھی ۔۔

 

کیا وہ بھی اس سے پردہ کرے گی ” آئرہ نے سوچا اور خود ہی ہنسی ۔۔۔

کافی دیر تک فنکشن چلتا رہا یہاں تک کے باہر سے بھی مردوں کے شور کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔ بلآخر یہ فنکشن تمام ہوا تو ۔۔۔۔ حمائل کو اکبری نے اٹھایا ۔۔ ائرہ نے جلدی سے اسے تھام لیا ۔۔

میں لے جاتی ہوں ۔۔ دوست کا تو پردہ نہیں ہے نہ” اسنے شرارتی لہجے میں اماں سے پوچھا ۔۔

نہیں بیٹا پردہ تو اب سب سے ہے ۔۔ تم ایسا کرو اسکو بس دروازے تک چھوڑ آؤ ” اماں نے کہا تو آئرہ نے اداسی سے انکی طرف دیکھا ۔۔

 

پلیز آپ اپنی رسموں میں میری جگہ بنا لیں تھوڑی سی آج ہی تو وہ میری دوست بنی ہے” ائرہ نے اداسی سے آنکھیں پٹ پٹا کر انکیطرف دیکھا تو ایک بوڑھی خاتون بول اٹھیں ۔۔

ارے چھوڑ ۔۔۔ وہ تو سہیلی ہے اسکی۔۔پردہ تو ہمارے سے ہے اسکا ” اس عورت نے کہا تو ائرہ نے جلدی سے سر ہلایا ۔۔

 

اماں مسکرا دیں ٹھیک ہے جاؤ ” انھوں نے کہا تو ائرہ نے جوش میں اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔

پلیز آپ میرے بابا سے کہہ دیجیے گا میں شادی تک یہیں رکوں گی” ائرہ نے اکبری سے کہا ۔۔ تو اکبری نے مسکرا کر سر ہلایا اور ائرہ حمائل کو لے کر کمرے میں آ گئ ۔۔

کمرے میں آتے ہی حمائل نے دوپٹہ الٹ دیا ۔۔اور گھیرہ سانس بھرا ۔۔جبکہ ائرہ بیڈ پر گر کر ہنسنے لگی۔۔

یار یہ کیا فیک رسمیں ہیں ” وہ حیران بھی تھی ۔

بس بڑوں کی رسمیں ہیں” حمائل تھکی تھکی سی مسکرا دی ۔۔

اور تم بھی کیسے سب کی باتیں مانے جا رہی ہو ۔۔ کہہ دو مجھے تو شادی ہی نہیں کرنی “

آئرہ نے ہاتھ جھاڑ کر کہا اور کانوں میں سے ائرینگ نکالے۔۔ جو درد کر رہے تھے ۔۔۔

بڑوں کا مان ہوتا ہے جسے توڑنا اچھا نہیں لگتا جب تم پر یہ وقت آئے گا ۔۔ اور اگر تمھیں اپنے دولہے سے محبت ہوئ تو تم ان رسموں کو اسکے لیے سر کے بل بھی کر لوں گی ۔۔ محبت چیز ہی ایسی ہے یہ دل میں بس جائے تو انسان ۔۔۔کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔۔

اپنے وجود میں کسی اور کے لیے۔۔۔۔ سانسوں کو محسوس کرنا جتنا پرلطف ہے اتنا ہی تکلیف دہ۔ ۔۔

 محبت ہمارے اندر سمائی جاتی ہے ۔۔۔ اور محبت ہر انسان کو ہوتی۔۔ بھلے کوئ یہ کہے کہ میرا محبت سے کوئ وسطہ نہیں ۔۔ اور محبت دور کھڑی مسکرا دیتی ہے ۔۔۔۔

کہ محبت تمھارے اندر چھپا دی گئ ۔۔

اور جب ۔۔۔۔ وہ شخص تمھارے سامنے آئے گا ۔۔۔محںت بن کر تمھیں کوئ دوسرا نہیں بھائے گا ۔۔

ہر چیز بے فائدہ بے مقصد لگے گی ۔۔۔

محبت میں سکون ہے ۔۔۔ مگر اتنی ازیت بھی خاص کر تب ۔۔ جب سامنے والا محبت تو کیا آپ سے انسیت بھی نہ رکھتا ہو ۔۔۔۔۔ تب ہم ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔ لگتا ہے سب بے معنی ہے ۔۔ اسکی زرا سی بات ۔۔۔ کسی اور کے ساتھ اسکا جوڑتا نام ۔۔۔۔ آپ کو بہت دور لے جاتا ہے ۔۔۔اور ستم یہ کے آپ چاہ کر بھی اس فکر اس تکلیف کو دوسروں سے بیان نہیں کر سکتے ۔۔۔

بس محبت ایسی ہے ۔۔ الجھا دیتی ہے ۔۔۔ بکھیر دیتی ہے ۔۔۔۔

مگر لبوں پر مجبورا مسکراہٹ بھی سجا دیتی ہے ۔۔۔عجیب ستم دیتی ہے محبت “

وہ چپ ہوئ تو ائرہ کی جانب ۔۔ بھیگی پلکوں سے دیکھا ائرہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ اسکا ایک ایک لفظ بھی سن رہی تھی ۔۔۔۔

حمائل کو اسکی شکل دیکھ کر ۔۔۔ایکدم ۔۔ روتے میں ہنسی آ گئ ۔۔

پلیز رونا مت ۔۔ میں دوسروں کو روتا دیکھ خود بھی رونے لگتی ہوں ” ائرہ منہ بسور کر بولی ۔ تو ۔۔۔۔ حمائل ہنس دی

تم کچھ کھاؤ گی ” حمائل نے پوچھا ۔۔ تو آئرہ نے زور و شور سے سر ہلایا ۔۔

 مگر ڈائیٹ ” اسنے کہا تو حمائل نے انکار کر سر ہلایا اور اکبری کو فون پر کچھ کھانے کو لانے کے لیے کہا ۔۔

تم بھی چینج کر لو یہ بہت بھاری ہے تھک گئ ہو گی” ائرہ چینج کر کے باہر آئ تو رف ٹراؤزر شرٹ میں تھی ۔۔۔حمائل کو دیکھ کر بولی ۔۔۔۔

نہیں میں اب یہ نہیں اتار سکتی شادی والے دن ہی اترے گا “حمائل بیڈ پر بیٹھ گئ جبکہ اسنے بھی منہ دھو لیا تھا اور لمبے بالوں کا جوڑا بنا کر۔۔۔۔ اونچا کر لیا نازک گردن شفاف بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔

واٹ تم تین دن اس لباس میں کیسے رہو گی ” آئرہ نے سر تھام لیا ۔۔

حمائل نے ہنس کر شانے چکا دیے۔۔۔

میں گزار لوں گی تم لیٹ جاؤ “حمائل نے اسکو بیڈ پر آنے کا کہا ۔۔ائرہ بیڈ پر لیٹ گئ جبکہ ۔۔ گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔

اف خدایا ۔۔۔۔ اتنی رسمیں اتنے رولز۔۔۔ شادی نہ ہوئ کوئ گورمنٹ پیپر ہو گیا ۔۔ جو اصولوں پر پابندی کرنی ہو گی ” ایرہ نے نفی میں سر ہلایا جبکہ حمائل ہنسنے لگی ۔۔

کچھ دیر بعد کھانا آ گیا ۔۔ ایرہ کا کھانا سائٹ کا تھا ۔۔ اسنے وہ سہولت سے کھایا جبکہ حمائل کی خوراک اتنی نہیں تھی اسنے تھوڑا سا کھانا کھایا ۔۔اور پیچھے ہو گئ۔۔۔۔

آئرہ اور وہ کچھ دیر باتیں کرتے رہے اور اچانک حمائل کو احساس ہوا وہ باتیں کرتے کرتے سو گئ ہے۔۔وہ مسکرا دی ۔۔۔

باہر شور ہنگامہ بھی ختم ہو چکا تھا مطلب سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر تھے

رات کے کوئ تین بج رہے تھے مگر اسے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔

آج اسنے صیام کے نام کا ابٹن لگوایا تھا اسکے نام کا لباس پہنا تھا ۔۔ ہاں یہ رسمیں بڑوں کی تھیں جنھیں زین نہیں مانتا تھا مگرانکے بڑوں کے رواج تھے یہ جو دولہا سے ریلیٹ کرتے تھے ۔۔اور صیام سے ریلیٹ کرتی ہر چیز اسکے لیے قیمتی تھی تبھی اتنا بھاری لباس اسنے تن سے جدا نہیں کیا تھا ۔۔ہاتھ میں موجود گانا نہیں اتارا تھا ۔۔۔۔

جبکہ یہ لباس اسے تھکا رہا تھا مگر پھر بھی نیند کوسوں دور تھی ۔

اب اسنے تین دن اسی کمرے میں گزارنے تھے ۔۔اور چوتھا دن صرف صیام کی نظر اسپر پڑتی ۔۔وہ اسکے پورشن میں چلی جاتی ۔۔ وہ اسکا گھونگھٹ اٹھا کر اسکو دیکھتا اور تین دن بعد اسکو کوئ دیکھتا بھی تو وہ صیام ہوتا

اسے تمام رسموں میں یہ رسم سب سے زیادہ پسند تھی مگر یہ رسم پر لطف تو تب ہوتی جب ۔۔ مقابل کو چاہت ہوتی اسے دیکھنے کی جب دل ہی نہ کسی کے دل سے ملے توکوئ کیا کرے ۔۔۔۔ وہ انھیں سوچوں میں گرفتار تھی کہ اسے محسوس ہوا کمرے کا دروازہ کھلا ہے ۔۔۔وہ ٹیریس میں کھڑی ۔۔رات کی تنہائ سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔

 

دروازہ کھلنے پر چونک کر پلٹی ۔۔۔

تو اندھیرے میں کسی کا سیایہ محسوس ہوا ۔۔

اسکے کمرے میں کوئ کیسے آ سکتا تھا ۔۔۔

کہیں یہ ارسلان تو نہیں ” کھڑے کھڑے وہ کانپ اٹھی تھی اس سوچ کے آتے ہی ۔۔

اسنے آئرہ کو پکارنا چاہا۔۔ مگر وہ عکس ۔۔۔ چلتا ہوا سامنے آ گیا ۔۔

حمائل اپنا آپ کسی کو دیکھانا نہیں چاہتی تھی ۔۔ حمائل جلدی سے اوٹ میں ہو گئ اور اگر کوئ اسے دیکھ لیتا تو ۔۔ رسم ٹوٹ جاتی۔۔اور اماں کہتی تھیں کہ ایسا کرنے سے صیام کی زندگی پر اثر پڑے گا اور وہ مر کر بھی اسکی زندگی کا نقصان نہیں چاہتی تھی ۔۔

حمائل چھپ گئ یہ دیکھے بنا کہ آیا کون ہے۔۔۔

جبکہ دوسری طرف وہ جو کوئ بھی تھا چلتا ہوا ٹیرس میں اتر گیا ۔۔اور ٹیریس کا دروازہ بند کرنے لگا ۔۔

حمائل ڈر کے مارے ابھی چیختی کے بھاری ہاتھ اسکے منہ پر رکھ دیا گیا۔۔۔

چاند کی روشنی میں دونوں کے عکس نمایاں تھا ۔۔۔

صیام اسے گھیری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔

حمائل کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جا رہیں تھیں ۔۔۔۔

وہ تو سب سے چھپ رہی تھی اور جس کے لیے چھپ رہی تھی اسی نے اسکو دیکھ لیا تھا ۔۔

حمائل پھڑپھڑانے لگی اسکا ہاتھ چہرے پر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ صیام نے اسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر بلکل اسکو اپنے قریب کر لیا ۔۔۔۔۔

یعنی لوگوں میں درست ادھم اٹھایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ تم پر آخری دن کا روپ خوب آیا ہے ” وہ بھاری آواز میں اسکے کان کے قریب جھک کر بولا ۔۔۔ حمائل نے اس سے زبردستی اپنا آپ چھڑایا ۔۔۔ اسکے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا ۔۔ گلے کی گھیرائ واضح تھی۔۔۔۔

جبکہ بازؤں پر اب بھی سیلیوس تھیں صیام اسکو بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔ حمائل ایکدم پلٹی جوڑوں میں بال قید ہونے کی وجہ سے ۔۔۔اسکا پیچھلا گلہ صاف دیکھائی دے رہا تھا کھڑے کھڑے صیام کا جی سا مچلا اور اسکو چھونے کی طلب نے انگڑائ لی اسنے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ اور ابھی ہاتھ اسکو چھوتاکہ حمائل کی آوز پر اسکا یاتھ رک گیا ۔۔

یہ آپ نے کیا کیا ہے ۔۔۔ میرا پردہ تھا سب سے ۔۔۔ آپ نے رسم توڑدی ۔۔ خدا نخواستہ اب کیا ہو گا ۔۔۔” وہ پریشانی کی انتہا پر تھی آواز بھیگ گئ تھی۔۔۔۔

تم ان فضول رسموں کو مانتی ہو” گلے کی گہرائ کو ہاتھ سے چھوتے ہوئے۔۔۔ وہ اسکے کان کے قریب بولا جبکہ حمائل کی اسکی جانب سے پشت تھی ۔۔۔

اسکا لمس ۔۔ گلے کے ڈیزائن کے ساتھ ساتھ محسوس کر کے حمائل ایکدم ۔۔ سٹپٹاگئ ۔۔

گھبرا کر۔۔اسنے صیام کیطرف دیکھنا چاہا ۔۔۔۔

چلو مان لیتے ہیں تمھاری رسم کو ۔۔ تم مجھے نہ دیکھو میں صرف تم دیکھ لیتا ہوں ” صیام نے ۔۔ جیب میں سے رومال نکالا ۔۔۔اور حمائل کی آنکھوں پر باندھ دیا ۔۔۔

حمائل کانپنے لگی ۔۔ صیام نے اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔

یہ بازوں تو نہیں تھے پھر کہاں سے آئے”وہ اسکے شانے پر ہاتھ سختی سے پوچھنے لگا ۔۔۔

حمائل کی آنکھیں چھپ گئیں تھیں جبکہ وہ اور بھی حسین اور دلکش لگ رہی تھی ۔۔

صیام مجھے فکر ہو رہی ہے پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔۔ یوں اسطرح آپکا مجھ سے پردہ ہٹا دینا مناسب نہیں ” حمائل نے اسکے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آزاد کیے ۔۔۔

تمھارا پردہ تو ۔۔ قائم ہے نہ پردہ تو میرا کھلا ہے ” وہ اسکے گہیرے گلے کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ حمائل پیچھے ہٹنے لگی نہ دیکھتے ہوئے بی اسکی قربت حمائل کے اوسان خطا کر رہی تھی ۔۔ عجیب تپیش تھی جو حمائل کو جھلسا رہی تھی ۔۔۔

وہ دور ہوتی گئ صیام نے پیچھے موجود جھولے کو دیکھا جس کیطرف سے پشت کیے وہ اسکے پاس صیام سے بچ کر سرک رہی تھی ۔۔

اور ایکدم اسکا پاؤں پس گیا ۔۔

حمائل کے منہ سے چیخ نکلی مدھم بے بس ۔۔۔

اور وہ خود کو بچانے کی آئ کرتی کرتی ۔۔ جھولے کی آغوش میں سم آگئی ۔۔ جس پربسترہوا ہوا تھا وہ اکثر یہاں بیٹھ کر پھیرو صیام کو سوچتی تھی ۔۔۔۔

حمائل کو احساس ہوا وہ جھلے میں ہے ۔۔۔ اور صیام اسکے سامنے کھڑا ہے ۔۔۔

ص۔۔صیام” اسنے آہستگی سے پکارہ ۔۔۔۔

صیام نے اسکے آگے بڑھے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں پھنسایا اور جھلے کے اوپر بسترے پر اسکے ہاتھ لگا دیے ۔۔۔

حمائل کی دھڑکنوں میں طوفان سا مچ رہا تھا ۔۔

صیام نے اسکے بازؤں پر بنا کچھ کہے زور ڈالا ۔۔۔

نازک بازو ۔۔۔ بنا کسی مزاحمت کے پھٹتا چلا گیا ۔۔۔

صیام ” حمائل چیخی ۔۔

ششششش” اسنے نرمی سے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر اسکو کچھ بھی کہنے سے باز کیا ۔

صرف محسوس کرو ” نرمی سے بول کر وہ اسکی گردن پر جھکا ۔۔۔۔

اور بے تاب لمس ڈھکتا ہوا بکھیرنے لگا۔۔

دوسری طرف حمائل کے لیے تو ناقابل برداشت سا تھا ۔۔

صیما چھوڑیں مجھے” صیام نے اسکے دونوں بازو کو الگ کر دیا تھا پھٹے ہوئے بازو صیام کے ہاتھ میں تھے جبکہ ۔۔۔ اسکی گردن میں چہرہ چھپایا ہوا تھا ۔۔

اسکی پکار کا صیام کے پاس کوئ جواب نہیں تھا ۔۔ شاید اسکی عزت گھٹ رہی تھی اس اظہار پر کہ ۔۔۔ اسے اسکی پرواہ ہو رہی ہے ۔۔۔ ارسلان والے حادثے کے بعد صیام کے زہن پر صرف حمائل سوار تھی ۔۔

ارسلان کو تو وہ بہت اچھا سبق سیکھانے والا تھا ۔۔ فلحال تو اسنے کوئ ایکشن نہیں لیا تھا جس سے اسے یہ لگ رہا تھا کہ صیام نہیں جانتا ۔۔۔۔

مگر صیام جانتا تھا ۔۔۔۔

اور کہاں کب کیسے اسے سبق سیکھنا ہے یہ بھی ۔۔۔

صیام کو ہوش نہیں رہی تھی اسکی قربت اسکے لمس میں وہ طاقت تھی کہ صیام بھک اٹھا ۔۔۔اسکے بے بسی سے کھلتے بند ہوتے لبوں کو اسنے مسکرا کر دیکھا ۔۔اور اسکے چہرے پر آئیں شریر لٹیں پیچھے کیں ۔۔۔

تم دلچسپ ہو اور اتنی پر لطف مجھے انداز ہی نہیں ہوا ” صیام کی نظریں اسے یوں بھی خود پر محسوس ہو رہی تھیں ۔اسکے ہاتھ مسلسل حرکت میں تھے ۔۔۔

حمائل نے چادر کو کس کے پکڑ لیا ۔۔ جھلا مسلسل ہل رہا تھا ۔۔

صیام نے گھیرہ سانس بھرا اور اسکے پاس لیٹ گیا ۔۔ کہیں اسے سانس کا مسلہ نہ ہو جائے نہ جانے کیوں اسکی پرواہ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔

وہ چاند کو دیکھ رہا تھا ۔۔ حمائل نے محسوس کیا وہ اسپر سے ہٹ کر اب اسکے ساتھ آ لیٹا ہے ۔۔۔۔

صیام نے حمائل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔

میرے ہاتھ کی آپکو ضرورت نہیں علینہ کا ہاتھ تھام لیں _” حمائل نے اس سے خود کو آزاد کرانا چاہا ۔۔۔

میں نے کب کہا کہ میں اسکا نہیں تھاموں گا مگر پہلے جس کا تھام رہا ہوں اسکو تو ٹائم دینا چاہیے” لہجے میں شرارت تھی ۔۔۔۔

حمائل نے لب کاٹے۔۔

تم انکو تکلیف دے کر مجھے مت اکساو ” صیام نے ایکدم آگے بڑھ کر ۔۔۔ اسکے لبوں کو دانتوں کی گرفت سے آزاد کرایا ۔۔۔

حمائل نے اپنی آنکھوں پر سے رومال ہٹانا چاہا۔ جبکہ صیام نے اسکے ہاتھ تھام لیے

صیام میں آپکی کبھی چوائس نہیں رہی۔ تو کیوں مجھ پر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں” وہ بولی۔۔ شکوے تھے لہجوں میں ۔۔۔ صیام اسکو دیکھتا رہا ۔۔

دل کی حالت اگر جان جاتی ۔۔ تو شاید ۔۔اڑتی پھیرتی۔۔ اسکی خاموشی سے ۔۔ حمائل کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

میری بانہوں میں کسی اور کا نام لے رہی ہو “

وہ اسکی گال پر لڑھک کر آتے آنسو کو چننے لگا ۔۔

حمائل نے اسکی شرٹ زور سے جکڑ لی ۔۔۔۔

وہ صیام سے اس قدر والہانہ پن ایکسپیکٹ نہیں کرتی تھی ۔۔۔

تم بے حد خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ ” اسنے پھر سے کہا ۔۔۔

اور اسکو خراج دیا ۔ جیسے خوبصورتی کو چن لیا ۔۔۔

حمائل سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔ اسنے زور لگا کر ۔۔۔ صیام کو خود سے دور کیا ۔۔ صیام جھولے پر جا گیرہ جبکہ حمائل اٹھ کھڑی ہوئی اب بھی اسکا لمس ارد گرد محسوس ہو رہا تھا ۔۔

حمائل نے آنکھوں پر سے پٹی اتاری ۔

تمھیں شرم نہیں آتی پردہ کھول رہی ہو مجھ سے ” وہ نارملی بولا ۔۔ لہجے میں شرارت تھی چھپی ۔۔

حمائل حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔

اب کیا چاہتے ہیں مجھ سے یہ کون سا نیا ڈھونگ ہے جو آپ ہمدردی کا مجھ سے رچا رہے ہیں” حمائل تڑپ گئ تھی ۔۔وہ کیا اسکو اور علینہ کو بیقوقت رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

کیا وہ اتنی گئ گزری تھی ۔۔۔۔

کہ اسکے لیے وہ کافی ہی نہیں تھی ۔۔۔

حمائل کی سانسیں پھولنے لگی۔ ۔۔

ریلکس ” وہ اٹھا ۔۔

جا۔۔۔جائیں یہاں سے ورنہ میں شور کر دوں گی ” اس سے دور ہوتی بولی ۔۔۔۔

صیام نے ضبط سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔

جب تکلیف دیتا تھا ۔۔۔ تب بھی تمھاری یہ ہی حالت تھی اور جب تمھاری طرف بڑھا ہوں تو زیادہ یہ حالت ہو گئ ہے کیوں “صیام نے غصے سے اسکے بازو تھام لیے ۔۔۔

کیونکہ مجھ سے آپکی منافقت برداشت نہیں ہو رہی پہلے کم از کم ایسا تو تھا کہ ۔۔۔ آپ کا اندر اور باہر مجھ پر واضح تھا آپ اندر کچھ اور سوچتے ہیں جبکہ باہر سے مجھے زلیل کر رہے ہیں۔۔میں میں سمجھہ نہیں پا رہی آپکو” چہرے پر ہاتھ رکھے وہ رونے لگی ۔صیام اسے کچھ دیر کھڑا ہوں ہی دیکھتا رہا ۔۔۔

اور پھر اسکے سانس پھول جانے کا آج خیال آ گیا تھا چلا گیا جبکہ یہ وہ شخص تھا جس نے جان بوجھ کر ہر وہ کام کیا جس سے اسکی سانسیں اکھڑ جائے۔وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اسنے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلا دن سکون کا تھا پورا دن آئرہ بولتی رہی بولتی رہی یہاں تک کے حمائل کو بور ہونے کا یہ تنہائ محسوس کرنے کا ایک پل بھی نہیں ملا ۔۔

تمھیں کبھی کسی سے پیار نہیں ہوا” حمائل نے ویسے ہی پوچھ لیا ۔۔

نہ” وہ مزے میں بولی ۔۔۔ تو حمائل مسکرا دی ۔۔۔

اور تم دیکھنا باسم تو ۔۔۔۔ جان سے مار دے گا مجھے ۔ ” وہ فروٹس کھاتی بولی ۔۔

وہ کیوں ” حمائل نے سوال کیا وہ باسم کو جانتی بھی نہیں تھی ۔۔

کیونکہ ۔۔۔ میں بنا بتائے یہاں جو ہوں ۔۔۔”وہ ہنسی

باسم کون ہے” حمائل نے سوال کیا ۔۔۔

اوہ جو تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے بچپن سے ہم دونوں ساتھ ہیں ۔۔وہ میرے بھائیوں کیطرح ہے ” ائرہ نے کہا ۔۔ تو حمائل نے سر ہلایا ۔۔

یار باہر چلتے ہیں ” اچانک اسے یاد آیا ۔۔۔

نہیں میں نہیں جا سکتی” حمائل نے افسوس سے جواب دیا ۔۔

آف ہو ۔۔ چلو چلتے ہیں چھوڑو ان رسموں کو ” ائرہ نےاسکا بازو کھینچا جو رات والے لباس میں تھی بس دوپٹہ اچھے سے لپیٹا ہوا تھا ۔۔ کہ اسکا کوئ حصہ نہیں دیکھائے دے رہا تھا ۔۔۔

نہیں پلیز یہ غلط ہے میرا پردہ ہے ان لوگ سے تم سمھجہ کیوں نہیں رہی” وہ بے بسی سے بولی ۔۔۔

کون لوگ “ائرہ نے فورا اسکا فقرہ پکڑا ۔۔

م۔۔۔میں میرا مطلب۔۔ تم” حمائل بھکلا کر بولی ۔۔ جبکہ ائرہ نے سر جھٹکا ۔۔

فکر مت کرو ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ۔”ائرہ نے کہا ۔۔ اور دروازہ کھول کر باہر جھانکا ۔۔۔

کل کی تھکن کی وجہ سے سب ناشتہ کر کے پھر سےسو گئے تھے۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ائرہ کو یہ ہی موقع درست لگا وہ حمائل کے نہ نہ کرنے پر بھی اسکو وہاں سے لیے باہر آ گئ ۔۔۔۔

حمائل مسلسل اسے روک رہی تھی مگر اسنے ایک نہ سنی ۔۔۔

اور دونوں باہر نکل آئے ۔۔۔

پلیز ۔” حمائل نے پھر سے کہا ۔۔

یار۔اچھا وہاں جاتے ہیں وہاں تمھیں کوئ نہیں دیکھے گا ” ائرہ نے کہا ۔۔۔

اماں کوبرا لگے گا “حمائل بولی ۔۔۔

لگنے دو تم کیوں اپنا آپ ویسٹ کر رہی ہو “ائرہ لاپرواہی سے بولی جبکہ حمائل نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ تھی دونوں کھیت میں آ گئیں حیرت تھی اپنے کہہ گاؤں کے کھیت اسنے پہلی بار دیکھے تھے چاروطرف درخت تھے جس سے یہ جگہ پوری ڈھکی ہوئی تھیں ور بے حد خوبصورت لگ رہی تھی حمائل حیرانگی سے ارد گرد دیکھنے لگی ۔۔

ہاں وہ ڈر رہی تھی مگر۔۔ اسے اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔

کس قدر خوبصورت ہے یہ جگہ” آیرہ نے گھومتے ہوئے کہا ۔

میں نے بھی پہلی بار دیکھی ہے” حمائل بولی ۔۔ تو آئرہ پسند دی ۔

اپنے ہی گھر کو پہلی بار دیکھا ہے ” آیرہ نے پوچھا تو وہ بس مسکرا دی دونوں گھاس پر بیٹھ گئ ۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس ۔۔۔ اور گھاس کی خوشبو بے حد اچھی لگ رہی تھی ۔۔ اچانک قدموں کی چاپ پر دونوں چونکیں ۔۔۔

اور حمائل کی نظر صیام پر جاتے ہی وہ ۔۔ایکدم گھبرا گئ ۔۔۔

اپنا چہرہ دوپٹے سے ڈھک لیا ۔۔۔

ایرہ نے بھی صیام کو دیکھا جو انھیں گھور رہا تھا۔ ۔۔

تمھیں اماں کے حکم کی عدولی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ کسی کے کہنے میں آ کر ” صیام بھڑک کر ۔۔ حمائل کو بولا جبکہ ایرہ پر طنز کیا ۔۔۔

حمائل شرمندگی سے سر جھکا گئ ۔۔۔

اوہ رئیلی تو تمھاری اماں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ تم سے بھی پردہ ہے پھر رات کو کیا کرنے آئے تھے ہمارے روم میں” آیرہ کی بات پر دونوں اسے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگے یہاں تک کے حمائل کے ہاتھ سے نقاب چھوٹ گیا ۔۔

اسکا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔

دیکھو یہ بےتکہ غصہ کسی اور کو دیکھنا ایک پہلو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا بدتمیز آدمی” آئرہ اسے جھاڑتی ہوئ وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ جبکہ حمائل نے ایک نظر صیام کو دیکھا تھا جس کی بھی نگاہ اس سے ملی ۔۔

اور حمائل نے سر جھکا لیا ۔۔

وہ شاید اب کبھی ائرہ کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔

وہ دونوں روم میں آ گئے ۔۔ حمائل کا سر جھکے جا رہا تھا ۔

او ہو گولی مارو منگیتر ہے تمھارا امریکہ میں تو لوگ ڈیٹ پر ایسا ایسا۔کر جاتےہیں کہ سن کر دنگ رہ جاؤ ۔۔” ایرہ ریلکس سی بولی ۔۔

ن۔۔۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہے ہمارا نکاح ہوا ہوا ہے”حمائل نے جلدی سے بتایا ۔۔

لو پھر تو مسلہ ہی ختم تو آرام سے رہو ۔۔۔ ویسے یہ پھٹے ہوئے بازو صبح سے مجھ سے چھپا رہی ہو نہ” وہ ہنسی ۔۔

آئرہ پلیز ” حمائل تو سرخ ہو چکی تھی۔۔

اور وہ ۔۔ موچھڑ تم اسکے روعب میں کسیے آرام سے آ سکتی ہو ۔۔ایک دو تھپڑ تھوپڑ مار دوں میں تو ہر وقت حکم جھاڑتا ہے ” ائرہ نے منہ بنایا ۔۔۔

حمائل کچھ نہیں بولی ۔۔

چلو شرمندہ ہونا بند کرو اور اچھی سی مووی دیکھتے ہیں” اسنے کہا تو ۔۔۔حمائل نے سر ہلا دیا ۔۔

اور ایرہ نے مووی لگا دی ۔۔

کتنی تیز لڑکی ہے کسیے کان بند کیے مزے لیتی رہی” صیام تو غصے سے تپ ہی گیا ۔۔

اور اسکو دیکھو کسیے اسکی بات ایک منٹ میں مانی ۔۔ ہے ہی وہ گئ بیوقوف لڑکی جس کی ماننی چاہیے ۔۔اسکی بھی مانتی ہے ویسے مگر صرف مجھ تک محدود رہے نہ یہ سب کے ساتھ ایک ہی قسم

کا رویہ کیوں ” وہ غصے سے بولتا گیا ۔۔ کہ علینہ پر نگاہ گئ جو ایکطرف بیٹھی تھی ۔۔

تم میرے روم میں کیا کر رہی وہ ” وہ بدمزہ ہوا ۔۔۔

سن رہی ہوں کیسے تمھیں اچانک اپنی بیوی کی خاص پروا ہونی شروع ہو گی”

 

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.