Tania Tahir Novels 2022

Revenge story | Urdu Novels | یہ عشق کی تلاش ہے Epi #8

Revenge story ,Urdu Novels, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Revenge story ,Urdu Novels, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

 

Web Special Novel, Revenge story ,Urdu Novels,
Revenge story ,Urdu Novels,

 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Revenge story ,Urdu Novels,

Written by: Tania Tahir

#8 ایپیسوڈ نمبر

اسفند شاہ رات کے آخری پھیر ۔۔ حویلی کے دوسری طرف چوروں کیطرح داخل ہوئے یہ عالم شاہ کا پورشن تھا جہاں صبح کے ملازم الگ جبکہ شام کے الگ تھے کہ۔۔۔اور وہ کسی

سے بھی بے خبر نہیں تھا ۔۔۔

مگر وہ پھر بھی چوری چھپے ۔۔۔۔ وہ وہاں آ گئے ۔۔۔۔۔۔ شاید دیکھنے ۔۔۔۔۔

عالم لاونج میں ہی موجود تھا ۔۔ سگار کا شعلہ صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔

اسفند شاہ کو لگا شاید وہ اسے نہیں دیکھ پائے گا مگر یہ اسکی غلط فہمی تھا عالم شاہ اب جو بھی کرنے والا تھا وہ سب اسکی بساط کا حصہ تھا سب کچھ کھیل تھا ۔۔۔۔۔

آ جاؤ ۔۔اسفند شاہ ۔۔۔ چھپنے کی ضرورت نہیں ” سگار کی راخ ایش ٹرے میں جھاڑ کر ۔۔۔۔ وہ دوبارہ سگار منہ میں دبا گیا اور اچانک جو حال کچھ دیر پہلے اندھیرے میں تھا وہ

روشنیوں سے جگمگا گیا اسفند شاہ ۔۔ اپنی جگہ جم سا گیا ۔۔۔۔

عالم نے رخ موڑ کراسکیطرف دیکھا ۔۔۔اور مسکرا دیا ۔۔۔۔

اسفند شاہ کی نظر اسکی نظر سے ملی عالم کے دماغ میں اسکے الفاظ گونجنے لگے ۔۔۔

کہ وہ ایک گندے خون کا تھا ۔۔ کیونکہ اسکی ماں ۔۔۔۔ طوائف تھی۔۔۔

جبکہ وہ یہ بھول گیا خون تو وہ اسکا تھا ۔۔۔

اسفند شاہ اندر آ گیا ۔۔۔۔

جبکہ عالم پرسکون بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

اسفندشاہ نے نفرت سے عالم کو دیکھا ۔۔۔۔

کیوں میرے اور میرے بچوں کی زندگی تباہ کرنے پر تلے ہو”

اسفند شاہ پھنکارے۔۔ مجھے اروش دے دو ” اسنے دھواں فضا میں اڑاتے ہوئے کہا ۔۔

تمھیں کس نے کہا کہ اروش تمھیں کبھی ملے گی بھی وہ میرے بیٹے کی بیوی ہے” اسفند شاہ بھڑک رہے تھے جبکہ انکا بھڑکنا عالم کو سکون دے رہا تھا ۔۔۔

عالم پاگل ہے اروش کے پیچھے۔۔۔۔ اور پاگل لوگ کچھ نہیں دیکھتے کہ غلط کیا ہے یہ سہی کیا ہے ۔۔ تمھارا کام بس اتنا ہے دو دن میں اپنے بیٹے کو فورس کرو اور اروش کو میرے حوالے کر دو “

عالم نے بے نیازی سے کہا ۔۔۔۔

اور میں ایسا نہ کروں تو ۔۔ جو کہ میں ایسا کروں گا بھی نہیں ” وہ بولے ۔۔۔ جیسے حتمی فیصلہ ہو ۔۔۔۔

عالم مسکرا دیا سگار کو ایش ٹرے میں مسل دیا اور اپنے جگہ سے اٹھا ۔۔۔

کپڑے جھاڑے اور اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔

تو پھر ۔۔۔اگر تمھارا بیٹا کسی ایکسیڈنٹ کی نظر ہو جاتا ہے تب بھی تو اروش بیوہ ہو گی ۔۔۔۔ہی ۔۔۔ خیر تمھیں تیمور کی زندگی میں دلچسپی نہیں تو ٹھیک ہے تمھارا یہ شوق میں لازمی پورا کروں گا ۔۔۔” وہ مسکرا اٹھا۔۔۔ جبکہ اسفند شاہ ایکدم اسکی دھمکی کا اثر لیتے گھبرائے

۔۔۔

تم ایسا کچھ نہیں کر سکتے ” وہ اسکے نزدیک آئے ۔۔ خوبصورتی میں وہ ہو بہو اپنی ماں پر گیا تھا وہ بے حد حسین عورت تھی خیراسفند شاہ خود بھی کسی سے کم تھوڑی تھا ۔۔۔۔۔

چیلینج کر رہے ہو ۔۔ شاید تم نے ابھی مجھے پہچانا نہیں ۔۔۔۔ یہ دوائ دیکھو ” عالم نے ایک شیشی اسفند شاہ کے قدموں میں پھینکی ۔۔۔۔ کانچ کی ہونے کے باوجود وہ ٹوٹی نہیں تھی ۔۔

اس میں وہ زہر ہے جو میں نے تمھارے باپ کو پلایا تھا جس سے آج وہ بولنے قابل نہیں رہا ” وہ کنفیس کرنے لگا اسفند شاہ کی آنکھیں پھیل سی گئیں ۔۔۔ پھٹی پھٹی نظروں سے ۔۔وہ کبھی اس شیشی کو اور کبھی عالم کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

اور ۔۔۔ یہ دیکھو ۔۔” عالم نے ریموٹ اٹھا کر ۔۔۔ ایل سی ڈی اون کی جس پر ایک کار کا بڑا برا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔۔۔۔اور کار کلابازیاں کھاتی ایک کھمبے سے ٹکرائی اور آدمی نکل کر اس کار میں سے باہر زمین میں پڑا ۔۔ جبکہ اگر وہ آدمی نہ نکلتا تو اگلے لمہے ہونے والے دھماکے میں مارا جاتا ۔۔اور بلاشک و شبہ وہ کوئ اور نہیں سبحان شاہ تھا ۔۔۔

اسفند شاہ کھڑے کھڑے ۔۔۔۔ کانپنے لگا ۔۔۔

ابھی یہاں بس نہیں ہوا ۔۔۔ یہ بھی دیکھو ” عالم کو اسکی گھبراہٹ مزہ دینے لگی تبھی وہ بولا اور دوبارہ ایک بٹن دبایا جس سے دوسری فوٹیج آنے لگی ۔۔۔ جس میں ممتاز کو ملازم اندھیری کوٹھڑی میں پھینک چکے تھے ۔۔۔۔ اور فرورڈ کر کے دیکھنے پر اسے ہفتہ وہاں رکھا گیا جبکہ اس دوران صرف دو بار اسے کھانا دیا گیا ۔۔

اسفند شاہ کے لیے یہ سب بہت سے بھی زیادہ تھا ۔۔

جانتے ہو اسفند شاہ میں نے تمھارے جتنا نیچ کام پھر بھی نہیں کیا ۔۔

زندہ عورت کو آگ لگا دینا وہ بی تب جب تمھارا ایک دن کا بچہ اسکے پاس ہو ۔” وہ ضبط سے ۔۔۔ اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔

اسفند شاہ کی پیشانی پسینے سے بھیگے گئ ۔۔۔۔

تمھاری گھبراہٹ بتا رہی ہے تم وہ ضرور کرو گے جو میں تمھیں کہوں گا “عالم بولا اور مسکرا دیا ۔۔

تم تم مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے” اسفند اٹکتے ہوئے بولا ۔۔ عالم نے سر ہلایا ۔۔

اچھا واقعی ۔۔۔۔۔ ” وہ جیسے کھل کر ہنسا ۔۔۔۔

میں تمھیں اپنا مدعا بتا چکا ہوں ۔۔۔۔ دو دن سے زیادہ وقت نہیں تمھارے پاس ۔۔۔۔

جس دن دوسرے دن کی شام ہو گئ ۔۔اس دن یہ تو اروش بیوہ ہو گئ یہ طلاق یافتہ اب یہ بات تمھیں ہی سوچنی ہے کہ تم اسے کیا بنانا پسند کرتے ہو ” عالم نے کہا اور شانے آچکا کر وہاں سے ۔۔اپنے کمرے کی جانب چلنے لگا جبکہ اسفند شاہ پسینے میں شرابور عالم کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔

یہاں تک کے وہ اپنے کمرے میں بند ہو گیا ۔۔۔۔

اروش تیمور کا بہت خیال رکھ رہی تھی جبکہ تیمور کا انداز آج زرا مختلف تھا وہ مسلسل اسکو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔

تیمور آپکو درد نہیں ہو رہا ” وہ اسکے نزدیک بیٹھ گی

ایکچلی میں تازی ہوا میں بیٹھنا چاہتا ہوں “اسنے کہا اور ٹیریس کیطرف اشارہ کیا ۔۔

اروش مسکرائ اور تیمور اٹھا ۔۔۔ دونوں ٹیرس میں آ گئے

یہاں سے عالم شاہ کا پورشن باآسانی دیکھا جا سکتا تھا جبکہ ۔۔۔ وہ بھی ٹیرس کو آرام سے دیکھ سکتا تھا ۔۔ یہ زیادہ اونچی نہیں تھی ۔۔۔۔

جان بوجھ کر تیمور ٹیرس میں آ کر بیٹھا اسکی آنکھیں چمک رہیں تھیں وہ عالم کا ہی منتظر تھا ۔۔۔۔۔

اروش اسکے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔

تیمور ہم واپس کب چلیں گے”اروش پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔

یار کیا ضرورت ہے یہ ہماری جگہ ہے اتنی خوبصورت ہے بس یہیں رہتے ہیں ” تیمور نے اسکے بال سنوارے ۔۔۔

اروش کچھ شرما سی گئ ۔۔ جیسے بہت دنوں بعد وہ پہلے جیسا لگ رہا تھا ۔۔ مگر وہ عالم “اروش نے کہا ۔۔۔

دیکھو اروش یہ عالم ہماری جائیداد ہمارے گھر پر قبضہ کر چکا ہے ہمارے دادا کو اس نے پیرالائیز کیا ہے ۔۔۔ تو ہم سب کو مصیبت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتے ” تیمور نے کہا ۔۔



جبکہ اروش کی نظروں میں خوف سا تھا ۔۔۔۔

پھر “وہ رک گئ جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر کہہ نہ پائ

تیمور مسکرا دیا ۔۔۔ اور اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسنے اسے اپنے نزدیک کر لیا اروش ایکدم گھبرا گئ ۔۔۔

تیمور ہم کمرے میں نہیں ہیں ” وہ بھکلا کر بولی جس تیزی سے وہ اسکے نزدیک آ رہا تھا اروش کی دھڑکنیں بڑھ رہی تھیں

تیمور نے نرمی سے ۔۔۔۔ زبردست جسارت کی۔۔۔۔ جبکہ اروش کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔

جہاں وہ بیٹھا تھا وہاں سے عالم اسے اپنے پورشن سے نکلتا دیکھائی دیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اروش کی نظرعالم پر نہیں پڑنی چاہیے تھی ۔۔۔

تبھی تیمور نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔

اروش نے تیمور کو سختی سے پکڑ لیا جبکہ تیمور اپنے کام میں ۔۔۔ مشغول ہو گیا ۔۔۔۔۔

یہ تو حقیقت تھی اروش ۔۔۔۔ کی قربت اس وقت عالم کو دیکھانے کے لیے تھی کہ وہ کچھ بھی کر لے وہ اسی کی بیوی ہے اور اسکے وجود پر اسکا اختیار ہے ۔۔۔

تیمور نے ایک جست میں اروش کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھا لیا ۔۔۔ اروش اس سے دور ہونا چاہتی تھی مگر ۔۔۔۔ تیمور ۔۔۔۔ جیسے مزید بہجکنے لگا اسکی قربت بھی ایسی ہی تھی ۔۔۔۔

زمینوں پر زمینداروں کے درمیان جھگڑا ہو گیا تاہم وہ جھگڑا کافی بڑھ گیا تھا ۔۔ وہ تبھی عجلت میں مکرم کے ساتھ اپنے پورشن سے نکلا ۔۔۔ تو۔۔۔ بلکل سامنے نگاہ گئ ۔۔

اس ٹیرس پر آج سے پہلے کوئ نہیں آیا تھا ۔۔ مگر تیمور کے ساتھ اروش کو دیکھ کر عالم اپنی جگہ پر کھڑا رہ گیا مکرم نے ۔۔۔ جلدی سے نگاہ پھیر لی ۔۔۔۔

اور ایک طرف کھڑا ہو گیا جبکہ عالم یہ منظر دیکھ رہا تھا

اسے ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ جیسے اسکے وجود پر کسی نے چونٹیاں چھوڑ دیں ہوں ۔۔۔۔۔ اور وہ اسکے جسم کو نوچ نوچ کے کھا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور جب ۔۔ تیمور اروش کو اندر لے جانے لگا ۔۔ جیسے ۔۔۔ عالم کا ضبط جواب دے گیا اسنے ۔۔۔۔

مکرم کے ہاتھ سے گن لی اور اسکو لوڈ کی ۔۔

شاہ سائیں ” مکرم ایکدم بولا ۔۔اور عالم کیطرف لپکا جبکہ عالم نے تیمور کی پشت کا نشانہ بنا لیا۔۔۔۔۔

آگ سی بھڑک اٹھی تھی ۔۔۔ سانسیں بھڑ گئیں تھیں ۔۔ دل میں گھٹن سی چاہ گئ تھی ۔۔ نہیں سمھجہ آیا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔۔

اور عالم نے ۔۔۔۔ فائر کھول دیا ۔۔۔ فائر جیسے ہی چلا مکرم نے فورا ہاتھ مارا ۔۔۔اور گولی کا روخ کسی اور طرف ہو گیا ۔۔ جس سے گولی تیمور کو نہیں لگی ۔۔ سامنے اروش ایکدم کانوں پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔تیمور کو جیسےاس سب کی تواقع تھی اسنے۔۔۔

عالم کیطرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ عالم کھڑے کھڑے بھپر اٹھا ۔۔۔اپنے لبوں پر ہاتھ پھیر کر اسنے ۔۔۔ اروش کو دیکھا ۔۔ جس کی آنکھوں پراب بھی اسکا ہاتھ

تھا ۔۔۔ عالم ۔۔۔ بے قابو سا ہوا کیونکہ تیمور مسکرا رہا تھا۔

تیمور یہ سب کیا ہوا ہے “اروش گھبرا کر پوچھنے لگی ۔۔۔۔

کچھ نہیں میری جان تم اندر چلو ” تیمور نے مسکرا کر عالم کو اگنور کیا اور وہاں سے ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں آ گیا اور ٹیرس کا دروازہ بند کر دیا ۔۔

عالم نے مکرم کو جھٹک کر خود سے دور کیا ۔۔۔ اور کھینچ کراسکے منہ پر تھپڑ مارا۔۔ تمھاری وجہ سے وہ زند ہ ہے” وہ دھاڑا ۔۔۔۔

جبکہ مکرم کچھ نہیں بولا ۔۔

بولتا بھی کیا اگر ۔۔زرا بھی یہ گولی تیمور کو لگ جاتی ۔۔ توکیا کچھ ہو جاتا ۔۔۔

مگر عالم کو پرواہ نہیں تھی

وہ بے چینی سے اپنے بال مٹھیووں میں جکڑ گیا۔۔۔۔

شاید آنکھوں سے ۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر ۔۔وہ زیادہ پاگل سا ہو گیا تھا

بانسبت اسکے کہ ۔۔۔ یہ بات اسکے سامنے نہیں تھی اور اب تو خیر جان بوجھ کر دیکھائی گئ تھی ۔۔۔

جاؤ مکرم اگر۔۔۔ تیمور اپنے کمرے میں رہا تو ۔۔ تم اس دنیا میں نہیں رہو گے” مکرم کا منہ سختی سے جکڑ کر اسنے آرڈرز دیے جبکہ مکرم سر ہلا کر فورا بھاگا تھا ۔۔

آہ ” عالم نے ۔۔ کھینچ کر کین کی ٹیبل کو لات ماری تھی ۔۔۔

مکرم فورا حویلی کے اندر بھاگا اور تیمور کے کمرے کے دروازے کو زور زور سے بجایا۔۔

مگر اسنے دروازہ نہیں کھولا مکرم نے ۔۔۔ چابیوں سے دروازہ کھولا ۔۔۔ تیمور بیڈ پر لیٹا تھا جبکہ اروش روم فریزر سے کوئ چیز نکال رہی تھی یہ اخلاقیات سے گیری حرکت تھی

ویسے تو مگر وہ اندر داخل ہوا اور۔۔ تیمور کو جکڑ کر باہر کھینچا جبکہ اروش پر نگاہ بھی نہیں اٹھائ تھی ۔۔ دروازے کو لوک کر کے ۔۔۔۔ اسنے تیمور کو دیکھا جو ہنس رہا تھا جس سے واضح تھا یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا تھا ۔۔۔۔

مکرم کو خود بھی اسپر بری طرح غصہ آیا ۔۔اس سے پہلے ۔۔ مکرم اسے مارتا تیمور نے کھینچ کر لات اسے ماری ۔۔۔

میں تجھے اور تیرے مالک کو ۔۔۔ عنقریب پاگل کر دوں گا پھر دونوں پاگل خانے میں رہنا کیونکہ تمھارے جیسے لوگوں کی جگہ تو وہیں ہے “

مکرم کا گریبان جکڑ کر وہ بولا ۔۔

یعنی تو مرنا چاہتا ہے “مکرم نے نفرت سے اسکو دیکھا ۔۔

تم دونوں کچھ نہیں کر سکتے میرے ساتھ سمجھے “اسنے کہا اور اسے دور دھکیل دیا جبکہ مکرم نے اسکی ٹانگ پر ٹانگ ماری ۔۔۔۔

اور تیمور نے پلٹ کر۔۔۔ اسکے منہ پر مکہ مارا ۔۔۔

تمھیں کیا لگ رہا ہے کہ میں ۔۔ کمزور ہوں “وہ چلایا جبکہ ۔۔۔۔مکرم کی ناک سے خون نکلنے لگا ۔۔۔۔ اسفند شاہ سمیت اس وقت سب مسکرا کر مکرم کو دیکھ رہے تھے جیسے جتا رہے ہوں کہ ہمارے بھی ہاتھ پاؤں بندھے نہیں ہوئے ۔۔

تیمور دوبارہ مکرم کے سامنے اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ مکرم فورا اٹھ کر باہر نکلا تھا ۔۔۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام کے اس رویے کے بعد ارمان کو عجیب سا احساس ہوا اور جب اسے سمھجہ آئ کے وہ کیا سمھجہ رہا ہے تو وہ جیسے خاموش سا ہو گیا۔۔۔

حمائل کو اسنے ایک دو بار دیکھا تھا قیصر اور ارسلان کے علاؤہ وہ ۔۔ علینہ سے بھی بات چیت کر رہا تھا جبکہ ۔۔ ارمان سے نہیں ۔۔۔۔۔

صیام کو زمینوں پر کام آ گیا تو قیصر اور ارسلان بھی اسکے ساتھ ہو لیے جبکہ ۔۔ ارمان گھر پر تھا ہی نہیں علینہ لاونج میں بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی حمائل اماں کے پاس سے نکلی ابھی اسنے نماز ادا کی ۔۔ تھی ۔۔ دوپٹہ نماز کیطرح باندھ کر وہ چمکتے چہرے سے وہاں سے گزری علینہ نے اسکو غور سے دیکھا اور ایکدم اسکے پیچھے آ گئ۔۔۔۔

جہاں تک میں صیام کو جانتی ہوں اسے تم جیسی لڑکی میں بلکل انٹرسٹ نہیں ہے رائٹ “

وہ زرا اترا کر بولی

غور سے دیکھو ۔۔۔ خود کو ۔۔ کسیے عجیب سے حولیے میں ہر وقت رہتی ہو کس کو ایمپریس کر سکو گی ” علینہ نے صاف لفظوں میں کہا جبکہ حمائل کنفیوز سی دیکھنے لگی۔۔۔ اسنے علینہ کیطرف دیکھا۔۔۔۔

آپکو کچھ چاہیے” اسنے بات بدل دی ۔۔

ہاہا علینہ ہنسی ۔۔۔ ویسے تم زرا میڈ ڈائیپ ہی لگتی ہو ۔۔۔

تم پر یہ کام سوٹ کرتا ہے اوکے ایک کپ کافی کا دے جاؤ “علینہ ہنستی ہوئی باہر نکلی ۔۔ کہ پیچھے صیام کو دیکھ کر کچھ گھبرائ اور پھر مسکرا دی ۔۔

تم یہاں ” اسنے پوچھا ۔۔۔

مگر صیام نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔اور علینہ شانے آچکا کر چلی گئ ۔۔ صیام اندر داخل ہوا اور حمائل کو کافی بناتے دیکھا ۔۔۔ اور پیچھے سے اسنے بنا کچھ کہے کافی کا مگ پکڑ لیا۔۔۔۔

نزدیک جانے پراحساس ہوا جیسے وہ رو رہی ہے ۔۔۔۔صیام نے کے اندر غصہ سا اٹھا ۔۔۔۔۔۔

اور اسنے ۔۔ حمائل کے ہاتھ سے کپ لے کر دور پھینک دیا ۔۔۔۔

کپ چھناکے سے ٹوٹا ۔۔۔

حمائل ایکدم پلٹی ۔۔۔۔۔ اور صیام پر بھی نگاہ گئ ۔۔۔ صیام بے حد سنجیدہ تھا

صیام اسکے پاس سے زرا سا بھی نہیں ہلا ۔۔ جبکہ حمائل نے خود ہی آنسو صاف کیے۔۔

آپکو کچھ چاہیے”اسنے اس سے بھی وہ ہی سوال کیا ۔۔۔

یہ فضول سوال کرنا بند کرو ۔۔ کون ہو تم جو سب سے یہ پوچھتی پھر رہی ہو ” وہ بھڑکا۔۔۔۔

میں تو ” حمائل چپ ہو گئ ۔۔۔

حمائل انسان اپنی سنسیز بھی استعمال کر لیتا ہے ۔۔۔۔ “

کیا کیا ہے میں نے ” وہ بولی ۔۔۔ ہاں دل تو علینہ کی بات سے بہت دکھا تھا ۔۔۔

صیام نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔

کسی کا کام آئیدہ مت کرنا جو تمھیں کہے صاف انکار کر دینا”وہ انگلی اٹھا کر وارن کرنے لگا ۔۔۔

Revenge story ,Urdu Novels, YE ISHQ KIO TALAASH HAI by Tania Tahir Novels
Revenge story ,Urdu Novels, YE ISHQ KI TALAASAH HAI by Tania Tahir

 

مجھے آپ کا کام کرنا اچھا لگتا ہے” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بے بسی سے بولی ۔۔۔۔

جو چیز آپکی نہیں اسپر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے” صیام نے ٹکا سا جواب دیا ۔۔

حمائل مسکرا دی ہر بار کیطرح یہ ہی جواب دیا تھا۔

تو آپکو کیا مسلہ ہے پھر ۔۔ کہ میں کسی کا کام کرتی ہوں یہ یہاں کی میڈ کہلائی جاؤ یہ کسی کے ساتھ ہنسو “اسنے سوال کیا ۔۔۔

شیٹ آپ حمائل” صیام بھڑکا پلیز صیام یہ آپکا مسلہ نہیں ” وہ کہہ کر اسکے پاس سے ہٹی اور دوسرا کپ نکالا ۔۔۔ صیام ضبط سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اور حمائل نے کپ میں کافی بنائ اور اسکو ۔۔۔۔۔۔ ٹرے میں رکھا ۔۔۔

شاید وہ اسے چیڑا رہی تھی ۔۔ یہ کچھ اور صیام نے وہ ٹرے ہی الٹ دی ۔۔۔۔ کپ اور ٹرے اسکے ہاتھوں سے ایکدم اڑ کر زمین بوس ہو گئے اور صیام ۔۔ راستہ کاٹتا وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

علینہ نے بھی یہ منظر دیکھا تھا وہ حیرانگی سے حمائل کو دیکھ رہی تھی جس نے ایک نظرعلینہ کو دیکھا ۔۔اور وہاں سے جانے لگی ۔۔۔

تم نے مجھے کافی نہیں دی” علینہ غصے سے بولی ۔۔

حمائل پلٹی شاید میرے شوہر کو پسند نہیں آیا کہ میں ۔۔۔ تمھیں کافی دوں” اسکے لبوں پر مسکان سی تھی علینہ اپنی جگہ پر کھڑی رہ گئ ۔۔۔۔

اسکے چہرے پر کونفیڈینس دیکھ کر غصہ الگ آیا ۔۔۔

جبکہ حمائل اوپر چلی گئ ۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم شاہ چند ہی پل میں یہ کام کر دیتا وہ تیمور کو جان سے مار دیتا ۔۔۔ اگر ۔۔ اسکو روکا نہ جاتا ۔۔۔۔

اسنے صیام کا نمبر ڈائل کیا ۔۔۔۔ صیام نے کال پیک کر لی ۔۔

عالم نے اسکو اپنے پاس آنے کا کہا ۔۔۔حالانکہ صیام حساب کتاب میں مصروف تھا مگراسکی آواز سن کر پریشان ہو گیا ۔۔۔اور وہ سارا کام وہیں چھوڑ کر وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔

اور ایک گھنٹے کا سفر طے کر کے وہ ۔۔۔ عالم کے پاس آ گیا وہ کافی عرصے بعد وہاں آیا تھا ۔۔۔

عالم کا پورشن اور بھی جیسے خوابوں کی دنیا کیطرح ہو گیا تھا ۔۔ یار یہ سفید مور تو بے حد خوبصورت ہے”

وہ بولا اور اندر آیا ۔۔۔ گلاس کے ڈور کے ساتھ ہی دونوں طرف گلاس وال تھی باہر کا سارا منظر نظر آتا تھا ۔۔ وہ اندر آیا تو ہلکی زردیئ روشنی میں عالم شاہ سگار سے لطف ہو رہا تھا

جبکہ حولیہ کافی خراب تھا ۔۔۔ جیسے وہ بیمار ہو ۔۔۔

کیا ہوا ہے تمھیں ” صیام اسکے نزدیک بیٹھا ۔۔۔۔۔

عالم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔

مجھے ایک پل میں اروش چاہیے”وہ سنجیدگی سے بولا تو لے لو تمھیں روکا ہے کسی نے ” صیام نے کہا ۔۔۔

مگر تمھارے انداز درست نہیں لگ رہے تمھاری طبعیت تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔

صیام میں اروش کو بھی جلا کر راخ کر دوں گا ” غیر مری نقطے کو گھورتا وہ بولا جبکہ

صیام نے حیرانگی سے اسکو دیکھا ۔۔

کیوں ” اسکے لہجے میں حیرت تھی ۔۔۔۔

وہ لڑکی میرے لائق نہیں ہے میری محبت صاف ہے میری محبت پاک ہے جبکہ وہ لڑکی استعمال شدہ ہے “وہ دھاڑا اور اضطرابی کیفیت میں اسنے ٹیبل پر سامنے رکھا ساراسامان اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا ۔۔۔

 

اس میں اسکا قصور نہیں ہے اور ایک بات بتا دیتا ہوں ۔۔۔ تمھارے اندر چین اسی کے وجود سے آئے گا ۔۔۔۔۔ کیا تم اسے چھڑانا چاہتے ہو ” صیام نے اسکی جانب دیکھا جو سر تھام گیا تھا جیسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا ہو ۔۔۔

 

ہاں ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے مجھے بھاگ جانا چاہیے ۔۔۔۔”عالم نے سر جھٹکا دیوانے نہ بنو۔۔۔۔۔ عالم ۔۔۔ تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گے مت بھولو ان لوگوں نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے تمہاری ماں کو زندہ جلا دیا ہے ۔۔۔۔ “

 

مگر مجھے لگتا ہے میرے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اور اگر آ گیا تو میں اسے اپنے ہاتھ سےتوڑ دوں گا “

وہ سنگین لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔

میں نے تمھیں کبھی اس بات پر فورس نہیں کیا کہ تم اروش کے علاؤہ کسی کو نہ دیکھو ۔۔وہ تمھارا اپنا جنون ہے میں تو چاہتا ہوں تم اس فیص سے نکلو ۔۔۔۔ میرے بھائ وہ لڑکی واقعی تمھارے قابل نہیں”

مگر میں اسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا “عالم نے کہا ۔۔۔ اور صوفے پر پیچھے سر گیرا لیا ۔۔۔

نہیں صیام خان ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔اروش کو میرا ہی ہونا ہے ۔۔۔” وہ ضدی لہجے میں بولا صیام خاموش رہا ۔۔۔۔

اٹھو میرے ساتھ ” اچانک وہ اٹھا ۔۔

شکن آلودہ سا لباس سرخ آنکھیں بکھرے بال عالم کے ہاتھ میں ریوالور ۔۔۔۔ صیام اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔

کہاں جا رہے ہو ” اسنے پوچھا۔۔۔۔

اروش کو لینے ۔۔۔۔ وہ محبت کرتا ہی نہیں اس سے مجھے دیکھنے کے لیے وہ اسکے لبوں” وہ رک گیا ۔۔ ضبط سے آنکھیں سرخ جب کہ باہر ابلنے کو ہو گئیں ۔۔

صیام کو اب سمھجہ آئ تھی لوہا اتنا گرم کیوں ہے ۔۔۔۔۔

جو وہ دیکھ چکا تھا اسکے بعد ٹک کر بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔

صیام اسکے ساتھ تھا یہ جانے بنا کہ ۔۔آنے والے کل میں یہ ہی اسکا ساتھ دینا اسے کتنے پشتاوں میں گھیر لے گا ۔۔۔۔

وہ دونوں حویلی کیطرف آئے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ عالم شاہ نے دروازہ ٹھوکر سے کھولا ۔۔۔۔

وہ اندر دندناتا ہوا داخل ہوا۔۔۔

تیمور شاہ ” لاونج میں کھڑے ہو کر اسنے آواز لگائ ۔۔۔

مکرم ایکدم پیچھے بھاگتا آیا ۔۔۔۔

اسکی آواز کی للکار سے رفتہ رفتہ سب نکلنے لگے تیمور بھی باہر نکلا جبکہ اسنے اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا تھا ۔۔۔

عالم نے یہ منظر دیکھا اسکے مسکراتے لب دیکھے اور اسپر بندوق تان لی۔۔۔۔

تیمور ایکدم گڑبڑایا جبکہ صیام نے ان سب کو ایک نظر دیکھا تھا ۔۔۔۔

یار تو چلا دے یہ نشانہ لگانا ضروری نہیں ۔۔۔”وہ سکون سے انھیں خوف زدہ کرنے لگا جبکہ ۔۔ عالم شاہ نے گن لوڈ کر لی ۔۔۔

تیمور پیچھے ہوا ۔۔اور اسفند شاہ بھاگ کر تیمور کے آگے آ گئے ۔۔

تم نے مجھے دو دن کا وقت دیا تھا۔۔ میں اسے سمھجا دوں گا میرے بیٹےکو نشانہ نہ بناؤ

” اسفند شاہ بولے ۔۔۔

زیادہ وقت نہیں ہے اسفند شاہ۔۔۔اسنے صبح جرت دیکھائی ہے۔۔تو اب زرا میرے سامنے دیکھائے نہ جرت اکیلے میں تو گلی کا کتا بھی خود کو شیر سمجھتا ہے ” عالم شاہ للکارہ۔۔

میں تمھیں اروش کسی صورت نہیں دوں گا ” تیمور نے باپ کے پیچھے سے کہا ۔۔۔۔

یہ سب رکھ لو ۔۔۔ اروش دے دو ” وہ بولا تو سب حیران رہ گیا ۔۔

کیا اتنی شدت تھی ایسے دل میں اروش کے لیے ۔۔جبکہ اندر دروازے کے پیچھے چھپا وجود بھی پتے کیطرح کانپ رہا تھا۔۔

یہ سب کیا ہو رہا تھا ۔عالم۔شاہ ۔۔۔ کس طرح اپنا سب کچھ اسکے لیے قربان کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔

وہ دل تھام کر زمین میں بیٹھ گئ ۔۔۔

باقی سب ساکت رہ گئے وہ بہت بڑی بات کر گیا تھا ۔۔اب کچھ کرتے تو کیسے کرتے ۔۔۔۔۔

دے دو تیمور طلاق اروش کو “اسفند شاہ سب سے پہلے بولے

دوسرا حیرانگی کا جھٹکا انکی طرف سے سب کو لگا تیمور نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔

میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔ بس اروش کو ہی تو مانگ رہا ہے ۔۔۔

میری ضد ہے بابا میں اروش اسے نہیں دوں گا ۔۔ صاف بات ہے وہ میری بیوی ہے کھیلونا نہیں ” تیمور چلایا ۔۔۔۔۔

جبکہ اروش نے باہر دیکھا ۔۔۔۔ تیمور کتنی محبت کرتا تھا اس سے محبت کرتے ہو “عالم نے گن نیچے کر لی ۔۔صیام نے غصے سے عالم کو دیکھا۔۔۔



ہاں کرتا ہوں ” تیمور نے باپ کو ہٹایا ۔۔ اور تمھیں اروش کو کبھی نہیں دوں گا ۔۔۔۔

اسنے دوٹوک کہا ۔۔

ایک جھونپڑی میں اسکے ساتھ رہ لو گے ” عالم کے سوال گویا ہارے ہوئے تھے صیام پہلو ناگواری سے بدل رہا تھا

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 Revenge story ,Urdu novels, Revenge story ,Urdu Novels, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

 

 

2 thoughts on “Revenge story | Urdu Novels | یہ عشق کی تلاش ہے Epi #8”

  1. ایک تھپڑ میری طرف سے بھی مکرم کو لگانا زرا عالم ۔۔۔۔۔ وہ کمینہ چاہے اروش کا شوہر ہے مگر یوں دل جلانا ایک دل جلے کا تو اس پر گولی چلانا تو بنتا ہے نا🙄😬

Leave a Comment

Your email address will not be published.