Web Special Novel, Revenge Urdu Novel,

Revenge Urdu Novel, یہ عشق کی تلاش ہے by Tania Tahir Epi#5

Here you find all types of interesting New Urdu Novel, Revenge Urdu Novel, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels Here…

Web Special Novel, Urdu Romance Based Novel, Revenge Urdu Novel,

Revenge based novel ,TaniaTahir Novels 

یہ عشق کی تلاش ہے

#5 ایپیسوڈ نمبر

حمائل اس دن کے بعد صیام سے بچتی پھیر رہی تھی وہ کوشش کررہی تھی کہ صیام کی نظروں سے دور ہی رہے ۔۔۔۔اسنے کبھی محبت نہیں کی تبھی وہ محبت کے بارے میں گویا کچھ نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔

کیا محبت کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ بس سوچ کر رہ جاتی تھی…

 

صیام کہاں تھا وہ نہیں جانتی تھی اماں نے اس سے پوچھا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا وہ کیا جواب دیتی ۔۔۔۔

 

سب ٹھیک ہے کا سگنل دے کر۔۔ وہ انھیں ٹال گئ اور پھر انکے پورشن سے نکلنے کی خطا نہیں کی مگر کیا کرتی اپنے دل کا اکبری سے جب اسکا حال چال پوچھا تو معلوم ہوا کہ اسے ہلکا سا بخار چڑھ آیا ہے ۔۔

دل بے چین ہو گیا تڑپ سا گیا ۔۔۔  اسکو دیکھنے کے لیے مچلا مگر وہ رک گئ اسنے کچن میں خود اسکے لیے اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔ سوپ بنایا ۔۔ اور اکبری کو ۔۔کہا کہ اسے دے کر آئے اور اسے ڈاکٹر پر جانے کا بھی کہا ۔۔۔اکبری صیام کو سوپ دے آئ ۔۔۔۔

 

جس کی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں ۔۔ مطلب وہ زیادہ بیمار پڑ گیا تھا اسنے دو تین چمچ بھرے اور پھر اکبری کے ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔اب اکبری میں اس سے جراح کرنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ ضد کر کے اسے پورا پلاتی ۔۔۔۔ تبھی وہ سوپ کا باؤل لے آئ ۔۔۔

خان صاحب ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں “اکبری بولی تو صیام نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔جاؤ تم”اسنے سرد لہجے میں کہا اور اکبری منہ دبا کر وہاں سے چلی آئ ۔۔ حمائل وہاں کھڑی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

اکبری نے سوپ کا پیالا اسے دے دیا اور بتا بھی دیا کہ اسکی طبعیت زیادہ خراب لگ رہی ہے حمائل اور بھی بے چین ہو گئ ۔۔۔ سوچا اماں کو بتا دوں ۔۔۔

مگر اماں کی طبعیت خود اتنی خراب ہوتی ہے اور بیٹے سے ویسے بھی وہ اتنی محبت کرتی ہیں اگر یہ جان گئیں تو شاید وہ مزید پریشان ہو جائیں

وہ یوں ہی پلٹ گئ ۔۔۔اور شام ڈھل آئ ۔۔ حمائل نے پریشانی میں ایک لقمہ  بھی نہیں توڑا تھا ۔۔ایک نظر اسے دیکھ تو لے ۔بس دل میں یہ ہی خواہش تھی ۔۔۔

اور جب وقت زیادہ گزر گیا اور اسنے دیکھا کہ سارا دن ہو گیا ہے اس کی گاڑی اب تک باہر نہیں نکلی تو معاملہ سنگین سمھجہ کر وہ ۔۔خود میں ہمت مجتع کر کے ۔۔۔۔ اسکو ایک نگاہ دیکھنے ا گئ ۔۔۔

اسکے روم کا دروازہ بند تھا جب کہ ملازم باہر تعینات تھے ۔۔

ملازموں نے حمائل کو دیکھا اور پیچھے ہو گئے حمائل کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے پتہ بھی چلے تھوڑا سا بھی ۔۔۔

اسی لیے وہ چھپ کر اسکو دیکھنے آئ تھی ۔۔۔

اسنے ارد گرد دیکھا ۔ ملازم دوبارہ  اپنی پوزیشن میں ا گئے تھے مگر ایسے جیسے  روبوٹ ہوں ۔۔۔

اسنے دروازہ ہلکا سا کھولا ۔۔ اور دل میں دعا کی کہ ۔۔۔ وہ سو رہا ہو

اور کتنے آرام سے اسکی یہ دعا قبول ہو گئ تھی وہ واقعی سو رہا تھا ۔۔۔حمائل اندر ا گئ ۔۔۔ کمرے میں ملگجے سے اندھیرے نے بھی اسکا کافی ساتھ دیا ۔۔۔

وہ بلنکیٹ میں چھپا ہو اتھا حمائل اسکے نزدیک ا گئ ۔۔۔

ہلکا سا بلنکیٹ اسکے چہرے پر سے ہٹایا ۔۔

روشن چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔ جبکہ تھوڑا سا چھونے پر معلوم ہوا کہ وہ بے حد گرم ہو رہا ہے یعنی بخار کی شدت کافی بڑھی ہوئی ہے ۔۔۔

وہ پریشان سی ہو گئ ۔۔۔۔ حمائل باہر آئ ۔۔

صیام خان ہسپتال نہیں گئے”بے چینی سے ملازموں سے پوچھا ۔۔۔

جی نہیں چھوٹی بی بی”ایک ملازم نے جواب دیا ۔۔۔

یہ کیسی ضد ہوئ “اسنے سوچا ۔۔۔ آپ اکبری کو بلا دیں مگر احتیاط رکھیے گا آواز پیدا نہ ہو ” اسنے کہا تو ملازم وہاں سے اکبری کو لینے چلا گیا جبکہ ۔۔۔ حمائل انگلیاں چٹخاتی بے تابی سے اکبری کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔

جی بی بی”وہ شاید خود بھی سو چکی تھی ۔۔۔

تبھی نیندوں میں لگی ۔۔ اکبری مجھے ۔۔۔ ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لا دو ۔۔۔۔”اور یہاں ہی رہنا مجھے کسی اور چیز کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے ” حمائل نے کہا تو اکبری سر ہلا کر چلی گئ ۔۔۔

پلیز آپ میں سے کوئ ۔۔۔۔ بخار کی دوا لے آئے گا ” اسنے کہا ۔۔۔ تو  ایک ملازم دوڑ کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔ حمائل اب اکبری کی منتظر تھی اور جلد ہی اکبری بھی ا گئ ۔۔۔

اکبری ۔۔ چائے بنا دو۔۔اور اسکے ساتھ کوئ تھوڑا ہلکی سی خوارک مطلب سلائس ۔۔” کہتے ساتھ وہ دبے پاؤں کمرے میں آئ ۔۔۔

اور اسے اندازا ہو گیا ۔۔ تھا بخار کی شدت کی وجہ سے وہ نیم بے ہوشی میں ہے ۔۔۔

مگر اسے بخار چڑھاکیوں تھا وہ سمھجہ نہیں سکی ۔۔۔ اسکا جواب تو باہر کھڑے لوگ ہی دے سکتے تھے ۔۔۔

وہ اسکا بستر دیکھنے لگی ۔۔۔

شیٹ ساری بکھری ہوئی تھی جبکہ وہ تکیوں پر مدہوش پڑا تھا ۔۔

اسکا دل سا بھر آیا ۔۔ بھلے وہ کتنی ہی اس سے نفرت کر لیتا مگر حمائل خان کے لیے وہ سب کچھ تھا اسکی زندگی اسکا وقت اسکا خواب سب کچھ ۔۔۔



 اور وہ آرام سے احتیاط سے اسکے بستر پر آئ ۔۔۔ باؤل ایک طرف رکھا اور اسکے ماتھے پر پٹی رکھی ۔۔ تو وہ زرا الجھ سا گیا ۔۔ بے زاری سے سر پٹخا ۔۔۔ تو حمائل نے اسکے چہرے کو تھام لیا ۔۔۔

دوسری طرف صیام کی مزاحمت بھی رک گئ ۔۔ اور اس طرح حمائل کافی دیر اسکے سر پر پٹی رکھتی رہی ۔۔۔

اسنےا نکھ نہیں کھولیں تھی نہ ہی اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئ تو ۔۔ وہ باہر آئ ۔۔۔

ملازم سے دوالی اور اکبری سے ٹرے لے کر وہ اندر ا گئ ۔۔

اسنے پہلے نیند میں ہی صیام کو ۔۔ سلائس کھلایا ۔۔ جو ۔۔۔اسنے کچھ تردد سے کھا لیا ۔۔۔ اور دوائ تو اسے ہوش میں پلانی تھی نے ۔۔۔ اسنے ۔۔۔ اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔

مگر وہ تو بہت بھاری تھا ۔۔صیام اٹھیں”وہ مدھم لہجے میں بولی ۔۔ صیام نے زرا سی آنکھ کھول کر اسے مکمل خود پر جھکا دیکھا ۔۔۔

اور ہاتھوں پر زور دے کر وہ تھوڑا سا اٹھا ۔۔

پانی کا گلاس ۔حمائل نے لبوں سے لگا دیا تھا ۔۔ جبکہ ۔۔ صیام نے دوائ کھا لی اور ایکدم پھر سے گیر گیا ۔۔۔

حمائل نے گھبرا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔

میرا سر ” وہ بے چینی سے بولا ۔۔

میں دبا دیتی ہوں ” حمائل نے جلدی سے اسکا

سر دبانا شروع کر دیا جبکہ ۔۔صیام بے چینی سے اسکا دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ گیا ۔۔۔

اسکا ٹھنڈا ہاتھ اسکے جھلستے وجود پر مرحم کی مانند تھا ۔۔حمائل جیسے تھم سی گئی ۔۔۔۔

مگر ویسے ہی بیٹھی رہی حالانکہ وہ بے سکون تھی ۔۔۔ مگر اسنے اپنی پوزیشن نہیں بدلی ۔۔اور وہ اسکا سر دباتی رہی ۔۔۔

یاد نہیں کب تک ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح صیام کی آنکھ کھلی تو حیرت کا شدید جھٹکا سا لگا ۔۔۔

وہ یعنی صیام خان حمائل خان کے بازؤں میں تھا ۔۔۔ اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ ۔۔۔ اسکے وجود میں پناہ تلاش رہا تھا ۔۔۔

جبکہ حمائل کا سر اسکے سر پر تھا ۔۔ اور ہاتھ شانے پر اور وہ گھیری نیند میں تھی ۔۔

صیام چاہ کر بھی بدسلوکی نہیں کر سکا ۔۔۔ وہ اس سے احتیاط سے الگ  ہوا ۔۔ جبکہ وہ ۔۔ اب بھی سو رہی تھی ۔۔

اسکی گردن میں درد سا ہوا ۔۔۔

تو جس کے نازک بازوؤں پر وہ سو رہا تھا اسکے بازؤں میں کتنا درد ہو گا ۔۔۔

مگر وہ یہاں آئ ہی کیوں تھی”صیام نے اسکو گھور کر دیکھا ۔۔۔ اور اپنے بستر سے اٹھا ۔۔۔ اور واشروم میں چلا گیا ۔۔۔

بیس پچیس منٹ بعد جب وہ باہر آیا ۔۔ تو اسپر دوبارہ نگاہ گئ ۔۔ وہ اب بھی اسی پوزیشن میں تھی ۔۔

صیام نے گھیری سانس بھری اور اسکے منہ پر کمبل ڈال دیا نہ اسپر نگاہ اٹھے گی نہ وہ بار بار اسکو دیکھے گا ۔۔۔۔

وہ تیار ہوا ۔۔۔ اور ابھی وہ باہر نکلتا کہ

۔۔ اس نے آخری نگاہ ۔۔ حمائل پر ڈالی ۔۔۔

وہ جیسے کسمسائ تھی اور ایکدم کمبل اسکے منہ پر سے ہٹا ۔۔ صیام کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ٹھر گئ ۔۔۔

باہر جانے کا ارادہ ملتوی کر کے وہ بازؤں باندھ کر اب اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ جو اٹھ بیٹھی تھی ۔۔

اسکے چہرے پر بلا کی شرمندگی تھی ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف صیام کے چہرے پر طنزیہ مسکان حمائل کی حالت ایسی تھی گویا زمین میں گڑھ جائے ۔۔۔

تو اس بات کا مطلب کیا سمجھو میں ” صیام نے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔

آپکی طبعیت خراب تھی ” حمائل نے عزر پیش کیا ۔۔

میں نے تمھیں بلایا تھا ” اسنے آئ برو آچکا کر پوچھا ۔۔ حمائل شرمندہ سی ہو گئ ۔۔۔۔

سر جھکائے بیٹھی رہی ۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسو سے بھر ائے ۔۔

مجھے ایسا لگ رہا ہے حمائل ۔۔۔ تم سے مزید مجھ سے دوری برداشت نہیں ہو رہی ” وہ مسکرا کر بولا جیسے اسکا مزاق اڑانا چاہ رہا ہو ۔۔

میں سچ کہہ رہی ہوں ” اسنے یقین دلانا چاہا ۔۔۔

آہ “وہ ہنسا طنزیہ ۔۔

اور میں نے مان لیا  اب اٹھو اور یہاں سے ۔۔۔ نکلو ۔۔ اور کوشش کرنا ۔۔ مجھ سے دور ہی رہو ۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ تمھاری نرم بانہوں کے ہار میرے لیے نہیں ہیں ۔۔ ایک یتیم لڑکی جس کے بارے میں ایک لفظ میں نہیں جانتا اسکے ماں باپ کون ہیں ۔۔۔ وہ کہاں سے آئے ۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے میں اس سے رشتے بناؤ گا ۔۔۔ رئیلی” وہ ہنسا ۔۔۔۔

پہلے شناخت ڈھونڈو حمائل  ۔۔۔ کہ تمھارے آگئے خان بھی میری بدولت لگا ہے

۔ کس کی بیٹی ہو تم باپ کون ہے تمھارا ۔۔۔۔ چلو یہ ہی بتا دو مجھے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ تم کچھ نہیں جانتی ۔۔ میری شکل پر مر مٹنے کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہے دنیا میں ۔۔۔۔۔ جس کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے ۔۔۔۔ تو اس خواب سے نکل آؤ کہ کبھی نہ کبھی تم میری بیوی کی جگہ لے لو گی ۔۔۔ اگر میں تمھارے کبھی قریب بھی آیا ۔۔۔ تو یہ میرے لیے بے حد عام بات ہو گی ۔۔۔۔

کہ میں ایک بے ضرر لڑکی کی قربت میں رات گزار چکا ہوں ۔۔۔۔

مگر میری بیوی ۔۔۔۔ میری بیوی ہو گئ ۔۔

اسکی عزت یہ حویلی دیکھے گئ ۔۔

اور تم حمائل ۔۔۔ تم میری بیوی نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔ تم صرف میری ماں کی وجہ سے ۔۔ میرے لیے صرف مجبوری ہو ۔۔۔ مجھے لگتا عزت دار لوگوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے میری یہ سب گفتگو ۔۔اگر پھر بھی ۔۔ تمھارا نفس میرے قریب آنے سے تمھیں نہ روکے ۔۔۔تو ۔۔۔ پھر ا جانا

میں تمھاری خواہش پوری کر دوں اسکے ۔۔۔ بعد تم ہمیشہ کے لیے دفع ہو جانامیری نظروں سے۔۔ کیوں کہ ۔۔ میری اولاد ایک انجان خون سے نہیں ہو  گی ۔۔۔ حمائل ۔۔۔” ایک اجک لفظ تیر کیطرح وجود میں پیوست ہو گیا تھا ۔۔۔۔

وہ پتھر بنی بیٹھی تھی ۔۔۔ صیام جانے لگا ۔۔ تو رکا ۔۔۔

سنو ۔۔ یہ شیٹ بدل دینا ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ اور بلنکیٹ بھی ۔۔۔۔”ناگواری سے کہہ کر وہاں سے ۔۔۔۔  باہر نکل گیا ۔۔۔۔ حمائل ایسے تھم گئ جیسے اب آگے یہ پیچھے کچھ بھی نہیں ہو ۔۔

گالوں پر سے آنسو ۔۔۔۔ ٹپ ٹپ برسنے لگے ۔۔۔ مگر اسکے چہرے پر کوئ تاثر نہیں آیا ۔۔۔

وہ جلدی سے ۔۔ اس بیڈ پر سے اٹھی ۔۔۔ صیام خان اسے بہت دور لے آیا ۔۔۔ تھا جہاں سے وہ نکل کر آئ تھی ۔۔۔

وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔ میرا گندا وجود انکے لیے نہیں ہے ۔۔ یہ یہ شیٹ میں نے خراب دی ۔۔۔۔

اکبری۔۔۔۔ اکبری “

وہ سسکتے ہوئے پکارنے لگی ۔۔۔۔۔

اکبری” وہ چلائ ۔۔۔۔

کوئ میری کیوں نہیں سن رہا ۔۔۔۔”زمین پر بیٹھے ۔۔۔ وہ اس وقت ۔۔ پاگل سی لگ رہی تھی بکھرے بال دوپٹے کا ہوش نہیں ۔۔۔۔

وہ زمین کو گھورنے لگی۔۔۔۔۔

کچھ دیر یوں ہی بیٹھی ۔۔۔ وہ ایکدم اٹھی اور جلدی سے بیڈ پر سے ۔۔ شیٹ اور بلنکیٹ اتار دیا ۔۔۔۔۔

میرےگندے وجود نے سب گنداکر دیا “وہ اپنا ماتھاپیٹنے لگی ۔۔۔۔

اسنے ساری الماریاں کھولیں اور ۔۔ بیڈ شیٹ چینج کی اور اسکا کمبل بھی رکھا نیا ۔۔

اور شیٹ اور بلنکیٹ اتار کر وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے نکلی تھی۔۔۔

ملازموں نے اسکو حیرت سے دیکھا ۔۔۔

اس لڑکی کے سر پر سے انھوں نے کبھی دوپٹہ اترا ہوا نہیں دیکھا تھا اور وہ ۔۔اس وقت ایسی لگ رہی تھی جیسے لٹ گئ ہو ۔۔

وہ بھاگتی ہوئی ۔۔اپنے کمرے میں  آئ ۔۔۔

اماں کے پورشن میں جا بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔۔

وہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئ ۔۔۔ ا

اور ٹیریس پر چلی گئ ۔۔ اکبری نے ۔۔ اماں کو دوائیاں دی انھیں دل کا مرض تھا ۔۔اور حمآئل کی حالت دیکھ کر ایکدم پریشان ہو گئ ۔۔۔ وہ جلدی سے پلٹی ۔۔



اری اکبری حمائل کو بھی اٹھا کتنی دیر ہو گئ ۔۔۔

او میری جان “صیام کو دیکھ کر وہ بولیں ۔۔۔ اکبری نے صیام کو ایک نظر دیکھا جو ماں کے کھلے بازو میں سما گیا تھا ۔۔۔

آپکی طبعیت ٹھیک ہے ” اسنے انکے ہاتھ چومے ہاں ٹھیک ہے بس حمائل کی فکر ہو رہی ہے۔۔۔ بتایا ہی نہیں اسنے ڈاکٹر کیا کہتا ہے بیٹا کوئ پریشانی کی بات تو نہیں “وہ پوچھنے لگی ۔

اماں کیا پریشانی کی بات ہو گی ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولا ۔۔

سب ٹھیک ہے بس آپ فکر مت لیا کریں ” وہ بولا اور انکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔

بیٹا بہت حساس ہے نہ حمائل تبھی کہتی ہوں اسکا زیادہ خیال رکھا کرو “وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولیں ۔۔

جی اماں “اسنے کہا ۔۔۔

ایک بات بتاؤ صیام ” انھوں نے اسکی جانب دیکھا صیام بھی انکو دیکھنے لگا ۔۔۔

تم رخصتی کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہے ” انھوں نے کہا اور صیام نے گھیرہ سانس بھرا وہ اس سوال سے تو ملنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔

اماں زمینوں کے اتنے بکھڑے ہیں ۔۔۔ کہ کیا کروں ۔۔۔ کچھ سمھجہ نہیں آتا ۔۔۔۔ کہاں سے سنبھالوں سب۔

اور کل اطلاع ملی تھی چچا کی فیملی بھی ا رہی ہے ۔۔ اور رخصتی کا کیا ہے ۔۔۔۔ ہو جائے گی ” وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔

بیٹا مجھے پوتا پوتی چاہیے ۔۔۔ اس گھر میں خوشی کی چہچہاہٹ چاہیے ۔۔ میں کچھ نہیں جانتی صیام بس مجھے پوتا پوتی کا مرنے سے پہلے منہ دیکھا دو ” وہ بولیں ۔۔۔ صیام ایکدم انکا ہاتھ تھام گیا ۔۔

اللہ آپکو میری زندگی بھی دے دے ۔۔ اور یہ بھی کوئ خواہش ہے بس اتنی سی ۔۔ آپکے ہوتا پوتی کا ڈھیر لگا دوں بتا دیں ” وہ شرارتی لہجے میں بولا تو وہ منہ پر دوپٹہ رکھ کر ہنس پڑیں۔۔ چل بدتمیز ماں سے شرم نہیں آتی تجھے” وہ ڈپٹنے لگی ۔۔

جبکہ صیام بھی ہنس دیا ۔۔۔۔

انکی ہنسی نے سکون دیا تھا ۔۔

مگر میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ دھوم دھام سے رخصتی کر ۔۔اور پھر۔۔”

اچھا اچھا ۔۔۔” اسنے انکے ہاتھ چومے پھر سے ۔۔۔۔

سوچتے ہیں اس بارےمیں ” وہ بولا ۔۔

سوچنا نہیں عمل کرنا ہے ” وہ بولیں تو صیام نے سر ہلا دیا ۔۔اور پھر انھیں زمینوں کے بارے میں سب بتانے لگا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھوٹی بی بی یہ کیا کر رہیں ہیں “

اکبری ہٹ جاؤ ۔۔ دیکھو یہ گندا ہو گیا ہے اور یہ اتنا گندا ہے کہ ۔۔۔ اسکو دھویا نہیں جائے گا ۔۔ اس کو جلا دیتے ہیں۔ ۔۔” حمائل اکبری کو بتانے لگی اکبری ایکدم منہ پر دوپٹہ رکھ کر رو دی ۔۔

آج اسے حمائل وہ دس سال کی حمائل لگی جو اس حویلی میں آئ تھی ۔۔۔۔

جو ایسی ہی باتیں کرتی تھی ایسے ہی بے چارگی سے دیکھتی تھی ۔۔

بی بی یہ صاف ہے”اکبری روتے ہوئے اسے روکنے لگی ۔۔۔

دیکھو ۔۔ اکبری یہ صاف نہیں ہے اس میں میں لیٹٹی ہوں میرا وجود ۔۔ میرا گندا وجود ۔۔۔ خراب کر چکا ہے اکبری یہ سب۔۔۔ تم تم مجھے۔۔ میں سکینہ سے ماچیس کا کہا ۔۔ ا گئ “وہ سکینہ کو دیکھ کر دوڑی اسکے پاس اور ماچیس لے لی ۔۔

چھوٹی بی بی خدا کے واسطے ہوش کریں “اکبری اسکی حالت سے کانپ سی گئ تھی ۔۔۔۔جبکہ حمائل نے کچھ نہیں دیکھا ۔۔

لمبے بالوں کی چٹیا آگے آئ ہوئ تھی ۔۔۔ سیاہ لباس میں وہ غم کو خود میں دبانے کی کوشش کرتی دیوانی سی لگ رہی تھی ۔۔۔

بالوں کی لٹیں چہرے پر بکھریں تھیں ۔۔۔

بی بی چھوڑ دیں میں پھیکوا دوں گی اسکو “اکبری نے کہا ۔۔۔

جبکہ حمائل نے ۔۔۔ اس بلنکیٹ اور شیٹ میں آگ لگا دی ۔۔۔

ہائے آگ ” سکینہ کے منہ سے نکالا ۔۔۔ حمائل وہیں زمین پر ڈھیر ہو گئ ۔۔۔۔

بیٹھی ہوئی ۔۔۔ غور سے اس آگ کو دیکھنے لگی ۔۔۔ اکبری نے سکینہ کو گھورا ۔۔۔

بڑی بی بی کو پتہ چل جائے گا منہ بند کراپنا  اور پانی ڈال اسپر ” اسنے ڈپٹ کر کہا ۔۔

اور اکبری حمائل کے پاس ا گئ ۔۔ بی بی اٹھیں ۔۔۔”وہ کہنے لگی مگر حمائل نہیں اٹھ سکی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام اماں کے پاس سے اٹھا اور باہر جانے لگا۔۔۔ کہ سب ملازموں میں ہل۔چل دیکھ کر وہ ۔۔۔ ناگواری سے اس طرف ا گیا ۔۔۔

کیا معاملہ ہے سب اوپر کیوں بھاگ رہے ہو ” وہ سختی سے پوچھنے لگا ۔۔

خان جی ۔۔ آگ آگ لگ گئ ہے اوپر ” وہ بھکلائ ہوئ سی بولی ۔۔۔ صیام نے ٹیرس پر دیکھا وہاں سے دھواں بھی نکل رہا تھا وہ دوڑ کر اوپر آیا ۔۔۔۔

اور ٹیرس پر دھواں دیکھ کر کچھ حیران ساہوا ۔۔اس دھوئیں میں اسے زمین پر ڈھیر حمائل کا وجود دیکھا جسے اکبری اٹھانا چاہ رہی تھی  اسکی بیڈ شیٹ اور بلنکیٹ میں آگ لگی تھی ۔۔۔

وہ دھواں ہاتھوں سے دور کرتا ۔۔۔ آگے آیا ۔۔

کیا ہو رہا ہے یہ ۔۔۔” وہ دھاڑا ۔۔۔

ملازموں نے شیٹ پر بھر بھر کے بالٹیاں ڈالیں ۔۔ آگ ۔۔ بھجنے لگی ۔۔ اور جو زرا سی رہ گئ اسپر صیام نے اپنا جوتا رکھ دیا ۔۔

وہ حمائل کو زمین پر بیٹھا دیکھنے لگا ۔۔ جو ۔۔ اس شیٹ کو بیٹھی گھور رہی تھی ۔۔

جاؤ تم لوگ “صیام ایکدم چلایا ۔۔

غصے سے اسکا دماغ گھوم گیا تھا یہ سب دیکھ ملازم سارے اسکی ایک آواز پر ہی بھاگ گئے جبکہ حمائل کو اپنی ہوش نہیں تھی آنے والے کا کیا اثر لیتی ۔۔۔



صیام نے تپ کر اسے اوپر اٹھایا ایک بازو سے وہ کچی ڈال کیطرح کھڑی ہو گئ ۔۔ جو جھول رہی ہو ۔۔ جیسے کبھی بھی ٹوٹ کر گیر جائے گی ۔۔

یہ سب کیا تماشہ ہے چاہ کیا رہی ہو تم ” وہ چلایا ۔۔۔ حمائل اسکی آنکھوں میں بے تاثر نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔اور جیسے پھر اسے کچھ یاد ا گیا ۔۔

آپ آپ دور ہو جائیں آپ گندے ہو جائیں گے آپ دور جائیں مجھ سے میں آہکو گندا کر دوں گی ۔۔۔” وہ ہزیانی کیفیت میں چلائ ۔۔۔

صیام کی آنکھیں پھیلیں تھیں اسکا یہ عمل دیکھ کر حمائل ” بے ساختہ منہ سے نکلا ۔۔۔ جبکہ حمائل۔ایکدم اسکے منہ پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔۔

میرا نام مت لیں ۔۔ آپکی زبان گندی ہو جائے گی ۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ پر میرے نام کا بھی اثر ہو ۔۔۔۔ میں اب کبھی آپکے سامنے نہیں او صیام ۔۔۔۔ میرا گندا وجود آج کے بعد کبھی نہیں ملے گا آپکو ” وہ اسے آہستہ آہستہ بتانے لگی ۔۔ اسکے خشک لبوں سے بالوں کی لٹیں چیپک گئیں تھیں ۔۔ بال بکھر گئے تھے ۔۔۔

وہ تو حمائل لگ ہی نہیں رہی تھی ۔۔

ہوش میں آؤ ” صیام نے اسکو جھنجھوڑا جبکہ حمائل نے روتے ہوئے اس سے اپنا وجود چھڑایا اور اسکے ہاتھ صاف کرنے لگی ۔۔۔

صیام کو سمھجہ نہیں آیا کہ اسکی باتوں کا اتنا اثر وہ کیسے لے گئ ۔۔ اسنے حمائل کو دور جھٹکا ۔۔ عجیب وحشت سی ہونے لگی تھی اور وہ سے اترتا چل آگیا جبکہ اسکے جاتے ہی اکبری بھاگ کر حمائل کے پاس آئ تھی ۔۔ جو لہرا کر زمین بوس ہوئ تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم شاہ نے اسکے بعد اروش کو نہیں دیکھا ۔۔۔ وہ جیسے پاگل سا ہو رہا تھا ۔ ان سب لوگوں نے اروش کو چھپا لیا تھا حویلی کے دروازے بند کر لیے تھے سارے ملازم ۔۔ نکال دیا تھے ۔۔۔۔

اور یہ بات عالم کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی تھی ۔۔۔۔

جب اس سے مزید برداشت نہ ہوا تو اسنے جو کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا تھا مکرم کے اکسانے پر شراب پی لی جو اسے ضرورت سے زیادہ چڑھ گئ ۔۔۔۔

شاید اسکو دیکھ لینے کے بعدصبر ختم ہو گیا تھا ۔۔۔

اب وہ اسے اپنے پاس چاہیے تھےا پنے نزدیک چاہیے تھی جسے وہ لوگ چھپا رہے تھے ۔۔۔وہ اپنے پورشن سے نکلا ۔۔۔اور بندوق کو سٹارٹ کیا ۔۔۔

حویلی کے سامنے ا کر سامنے بنا کچھ دیکھے فائرنگ شروع کر دی ۔۔۔ حویلی کے سارے کانچ کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ اندر سے چیخوں کی آواز آنے لگی ۔۔

وہ پوری بولٹ خالی کر چکا تھا ۔۔۔۔۔اسنے مکرم کی گن کھینچی اور بند دروازے پر دھواں دھار فائرنگ کیا کی ۔۔۔۔

کہ دروازے کا لوک ٹوٹ گیا ۔۔اسنے دروازے پر ٹھوکر ماری ۔۔۔۔وہ سب لاونج میں کھڑے تھے ۔۔۔۔ عالم شاہ اندر داخل ہوا ۔۔۔۔اور سب کو سرخ نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔

تیمور کے پیچھے چھپی اروش کو دیکھ کر ۔۔۔ اسنے بندوق وہیں پھینک دی ۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ اپنی کیفیت سے ۔۔۔۔ سلگتا ۔۔۔ آگے بڑھا اور جہانزیب شاہ کے کمرے میں بند ہو گیا ۔۔

مکرم نے سب پر طنزیہ نگاہ اٹھائ ۔۔

بس ۔۔ اتنی ہی حفاظت کر سکتے تھے تم لوگ اپنی” اسنے طنز کیا اور سب ملازموں کو دوبارہ سے ۔۔۔۔ حویلی کے اندر بلا لیا ۔۔۔

اسفند شاہ یہ سب دیکھ کر جہانزیب شاہ کے کمرے میں ا گئے وہ آج ۔۔ اس سے بات کرنا چاہتے تھے ۔۔ وہ تھا کون اور چاہتا کیا تھا کیوں ان سب کو زلیل کر کے رکھا ہو اتھا ۔۔۔۔

وہ جیسے ہی اندر آئے تو عالم شاہ کو بیڈ کے پاس زمین پر بیٹھے دیکھا ۔۔۔

وہ جہانزیب شاہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اسفند شاہ اسکے پاس آئے ۔۔۔

کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ ۔۔ کیوں کر رہے ہو یہ حرکتیں ” اسفند شاہ اسکا گریبان جکڑتے دھاڑے ۔۔ عالم انکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔

آنکھوں میں نفرت ۔۔۔ کا ایک طوفان ا سمایا ۔۔۔۔۔

اروش چاہیے”وہ سنجیدگی  سے بولا ۔۔۔

وہ میرے بیٹے کی بیوی ہے سمجھا ” اسفند شاہ نے بھڑک کر کہا ۔۔۔مگر مجھے وہی چاہیے ” عالم نے بنا کسی ری اکشن کے انھیں زیچ کرنے کی ٹھان لی ۔۔۔۔۔۔



مگر وہ تجھے کبھی نہیں ملے گی ” اسفند شاہ بولے جبکہ عالم نے کھینچ کر اسکے منہ پر مکہ مارا دیا اور ایکدم اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

عالم شاہ ۔۔۔۔۔کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔ ” وہ انگلی اٹھا کر بولا ۔۔ جبکہ اسفندشاہ کو لگا ۔۔۔ انکا جبڑا ٹوٹ گیا ہو ۔۔

اروش صرف عالم کی ہے وہ پیداہی عالم۔کے لیے ہوئ تھی یہ بات کان کھول کر سن لو ” وہ چلایا ۔۔۔

اور ان سب کے بیچ سے گزر کر ۔۔۔۔ وہ اپنے پورشن میں ا گیا ۔۔۔

شاید شراب کے نشے میں اسے اندازا نہیں ہو سکا وہ کسی کے دل میں اپنے لیے کتنا خوف بھر آیا ہے

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read online urdu novels, Revenge Urdu Novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.