Revenge | Urdu Novel 2022

Revenge | Urdu Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Last Episode

Revenge | Urdu Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Last Episode

 

Revenge | Urdu Novel 2022 | Tania Tahir Novels |

all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Last Episode

 

عالم کے منہ سے یہ ساری باتیں سننا کسی معجزے سے کم نہیں تھا 

کافی ہو سکتی ہے نہ تمھاری محبت ہم دونوں کے لیے ۔۔۔ میں میں بہت ادھورا شخص ہوں ۔۔۔۔ اور مجھے واقعی محبت کرنی نہیں آتی ۔۔۔ 

نہ شاید ٹھیک سے میں اروش سے محبت کر سکا تبھی وہ میرے ساتھ نہیں ۔۔۔۔مگر تمھاری محبت میں اتنی تاثیر تھی کہ عالم شاہ نے تمھیں چھوا اروش کو نہیں ۔۔۔ 

عالم شاہ کی بیوی تم بنی اروش نہیں ۔۔۔۔ 

میں تمھیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا نہ اپنے غم میں کسی کو شریک کرنا چاہتا تھا مگر تم پھر بھی ہو گئ ۔۔۔۔ 

تمھاری محبت میں مجھ سے زیادہ طاقت اور سچائ تھی ائرہ تبھی تم جیت گئ ۔۔۔۔۔ 

تم واقعی جیت گئ 

تمھارا ساتھ چاہیے مجھے ۔۔۔ اتنا تو کر ہی سکتی ہو کہ ساری زندگی کے لیے عالم کو سنبھال لو

مجھ میں ہمت نہیں کہ میں کسی کو سنبھالو ۔۔۔۔ بس میں نے عالم کو تمھارے حوالے کر دیا ۔۔ 

اب نئے سرے سے اس کی کانٹ چھانٹ تم کرو گی ۔۔۔۔ 

بس ایک ایک ۔۔۔ تکلیف ہے ۔۔۔۔ وہ یہ ہے کہ میں محبت نہیں کر سکتا تم سے کبھی ۔۔۔۔ ” ائرہ کی آنکھوں میں جہاں واضح بڑے بڑے آنسو تھے وہیں عالم کی آنکھوں میں بھی آج بھیگا پن تھا 

بس ۔۔۔ بس یہ نہیں کر سکتا تم کبھی مانگنا بھی مت ۔۔۔ 

باقی جو تم جیسے کہو گی ویسے کروں گا ۔۔۔ 

میں محبت نہیں دے سکتا تمھیں ۔۔۔ 

تھوک دے گا میرا ضمیر ہی مجھ پر ۔۔۔ اگر تم سے محبت کر بیٹھا اور کبھی ہو بھی گئ تو اظہار نہیں کر سکوں گا 

۔۔۔خود سے نظریں ملانے قابل نہیں رہو گا ۔۔ 

مگر مجھے یقین ہے تمھاری محبت کافی ہو گی ہم دونوں کے لیے اتنی وسعت ہے نہ تمھاری محبت میں کہ میں اس میں سما جاؤ” وہ بولتا جا رہا تھا ۔۔۔۔ ائرہ سنتی جا رہی تھی 

 اور اروش” اسکے لبوں سے بے ساختہ نکلا ۔۔۔ 

عالم نے ایک تکلیف دہ سانس اندر اتاری

 اسکا ذکر کبھی نہیں کروں گا ۔۔ ” وہ ہار کر بولا ۔۔۔ آنکھوں میں آنسوں تیر گئے ۔۔ ائرہ نے اسکا چہرہ پکڑ لیا ۔۔اور سر نفی میں ہلا دیا 

نہیں اسکا ذکر صرف مجھ سے کرنا ۔۔۔۔ جب جب آپ اسکا ذکر مجھ سے کریں گے میری محبت میں وسعت پائیں گے ” وہ بولی ۔۔ عالم نے اسے سینے میں جکڑ لیا ۔۔۔ اور اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر وہ ایکدم رو دیا ۔۔

یہ دوسرا شخص تھا جس کے آگے وہ رویا تھا ۔۔ ائرہ بھی رو پڑی ۔۔۔ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔۔۔ 

باسم جو یہ منظر دیکھ رہا تھا اپنے آنسو صاف کرکے وہ وہاں سے ہٹ گیا ۔۔۔۔۔ 

شاید ائرہ عالم کے لیے ہی بنی تھی ۔۔ 

وہ آسمان کی جانب دیکھ کر مسکرا دیا 

۔۔۔ 

ائرہ اسے بچوں کیطرح سمیٹ رہی تھی وہ شاید آخری بار بہت رونا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ 

وہ اسے خود میں جکڑے ہوئے تھا ائرہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی رہی ۔۔۔۔۔ 

عالم کچھ دیر بعد سنبھل کر اس سے دور ہوا ۔۔۔۔ 

اور ائرہ نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔ 

اسکے ہاتھ تھام لیے ۔۔ 

عالم نے بھی اسکیطرف دیکھا ۔۔۔ 

اور ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔۔۔

اب مجھے ان آنکھوں میں عالم دکھ رہا ہے ” وہ اسکی گھیری آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔۔

ائرہ ہنس دی ۔۔۔۔ 

یہ تو آپکو ساری زندگی دیکھے گا ۔۔۔۔” وہ بولی ۔۔۔ 

عالم سر ہلا گیا ۔۔۔۔ 

کچھ کھائیں گے وہ پوچھنے لگی ۔۔۔ 

تمھارا برگر” وہ بولا اور اس سے دور ہوا ۔۔ 

ائرہ کے چہرے پر قوس قزح کے رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔ 

عالم” اسنے اسکو پکارہ عالم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ 

یہ نشان ” وہ پریشانی سے بولی ۔۔۔ 

آئ پرومیس یہ تمھارے چہرے پر نہیں رہیں گے ہاتھوں پر بھی ۔۔۔ نہیں 

ہم کل کی فلائٹ سے امریکہ جائیں گے اوکے ڈونٹ وری” وہ اسکا دوسرا گال تھپتھپا کر بولا ۔۔ 

ائرہ نے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔۔ 

عالم کیرم کی گوٹیوں کو ہاتھ میں پکڑے نہ جانے کس سوچ میں تھا ۔۔۔۔ 

ہم امریکہ ہی شفٹ ہو جائیں گے” وہ کچھ دیر بعد بولا ۔۔۔۔ 

ائرہ نے اسکیطرف دیکھا ۔۔ 

وہ کیوں ” وہ بولی ۔۔ 

میں حویلی نہیں جانا چاہتا ” اسنے کہا ۔۔

ائرہ خاموش ہوگئ ۔۔ شاید وہ۔۔۔ اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا ماضی سے ۔۔۔۔ 

اوکے” ائرہ تو ہر حال میں اسکے ساتھ تھی اسکے حامی بھرتے ہی ۔۔ عالم مسکرا دیا ۔۔

تبھی اندر سے ائرہ کے بابا بھی آ گئے بیٹی کو مسکراتے دیکھ وہ بھی مسکرا دیے اسکے سر پر ہاتھ رکھا 

کھانے کا کوئ انتظام نہیں ہے کیا ۔۔۔” وہ بولے ۔۔ 

تو ائرہ نے سر ہلایا ۔۔ 

میں ابھی بناتی ہوں ” وہ جوش میں اٹھی ۔۔ 

نہیں رہنے دو باہر سے منگا لیتے ہیں یہ گرم ہیٹ تمھیں ایریٹیٹ کرے گی ” وہ ائرہ کی جانب دیکھ کر بولا 

ائرہ کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ کبھی وہ اسکا خیال رکھے گا ۔۔اسکی فکر کرے گا ۔۔۔ 

اسکے بابا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا ۔۔ 

ٹھیک کہہ رہا ہے عالم مجھے دیکھو دھیان ہی نہیں رہا میری بیٹی اتنی پیاری ہے یہ زخم بھی اچھے لگ رہے ہیں ” وہ شرارت سے بولے 

۔ 

بس کریں بابا اتنے برے لگ رہے ہیں ” وہ اداس ہوگئ۔۔۔۔ 

ٹھیک کہہ رہے ہیں انکل ” عالم کی بات پر ائرہ نے زرا شرمگی پلکیں اسکی جانب اٹھائ ۔۔۔۔ 

اسکے لبوں پر مدھم مسکان تھی جبکہ آنکھوں میں ایک ٹھراو۔۔

مگر مجھے ہٹوانے ہیں یہ نشان ۔” وہ بولی ۔۔۔ 

میں ٹکٹس بک کرا چکا ہوں کچھ دیر میں مکرم آنے ولا ہو گا ہماری کل صبح کی ہی فلائٹ ہے ” وہ تفصیل سے بتانے لگا ۔۔ 

مگر بیٹا کچھ دن تو ٹھرتے” وہ بولے ۔۔۔ 

تو عالم نے ایک نظر ائرہ کی جانب دیکھا پھر انکیطرف دیکھا ۔۔۔۔ 

میں چاہتا ہوں انکل جتنی جلدی ہو سکے ائرہ کے چہرے سے یہ نشان ہٹ جائیں تاکہ اسے کچھ ماضی یاد نہ آئے ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔ 

انھوں نے بھی سر ہلا دیا بات مانتے ہوئے 

کچھ دیر ماحول میں خاموشی رہی اور اسکے بعد ایکدم باسم کی آواز ابھری 

گائز کھانا آ گیا ہے ” وہ ان سب کے سامنے میکڈونلڈز کے بکس رکھتا بولا ۔۔۔ 

اوہ تھنکیو یار ” ائرہ نے پورے دانتوں کی نمائش کی جبکہ نگاہ ایکدم عالم سے جا ملی جو سنجیدگی سے ایک ائری برو آچکا چکا تھا ۔۔۔ 

ائرہ کا دل بلو اچھلا ۔۔۔ وہ باسم سے جیلس ہو رہا تھا ۔۔۔ 

کتنے مزے کی بات تھی کیوں نہ وہ اسے مزید جیلس کرے ۔۔وہ جوش میں آ گئ اور ۔۔اسی تیزی سے ۔۔۔ اس پر سے نگاہ پھیر لی جیسے کچھ سمجھہ ہی نہ ہو اسکی آنکھوں کا مفہوم سمجھا ہی نہ ہو ۔۔۔ 

باسم اسکی جانب دیکھ کر مسکرایا ۔۔اور اسی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ عالم سامنے صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ باسم اور ائرہ ایک ساتھ اور انکل دوسری طرف ۔۔۔

عالم نے پہلو بدلا 

ائرہ کا دل کیا باسم کو داد دے ۔۔۔ اس سرد چٹان میں چلو کسی نہ کسی وجہ سے حرکت تو ہوئ ائرہ کے نام کی ۔۔۔

ائرہ باسم کے ساتھ پیچھلی باتیں یاد کرنے لگی ۔۔۔۔

وہ بار بار اسکے شانے پر ہاتھ مارتی ۔۔۔ 

اسکے ساتھ قہقہہ لگاتی باسم اسکے بال کھینچتا ۔۔اسکی ناک کو لاڈ سے دباتا ۔۔۔۔ 

جبکہ انکل نے مسکرا کر رخ عالم کیطرف کر لیا کچھ سیاسی موضوع پر گفتگو ہوئ ۔۔۔ 

مگر اسکی توجہ باسم اور ائرہ پرہی تھی ائرہ چور نظروں سے اسکی جانب دیکھتی رہی جو ہر تھوڑی دیر بعد پوزیشن چینج کرتا ۔۔۔ 

یہ خلش تھی زندگی کی کہ وہ اسے محبت نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔ 

مگر ائرہ اسے زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی اسے یقین تھا ۔۔۔۔ 

تبھی اسنے اسی حرکات شروع کر دیں تھیں جو دلچسپ بھی تھیں اور پر مزہ بھی 

محفل دیر تک لگی رہی کیونکہ کل صبح عالم کو صیام سے بھی ملنا تھا اسکے بعد انکی فلائٹ تھی اسی بیچ مکرم بھی آ گیا تھا عالم شاہ کو پرسکون دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوا تھا ۔۔۔۔ 

اسکی ٹکٹس اسکے ہاتھ میں دے دیں تھیں ۔۔۔ 

محفل ختم ہوئ تو ۔۔۔ باسم ائرہ کی جانب دیکھنے لگا ۔۔ 

یعنی آج کے بعد تم مجھے نظر نہیں آؤ گی۔ ” وہ بولا ۔۔ 

عالم نے حیرانگی سے اسکا لہجہ نوٹ کیا 

آؤں گی بھئی تمھاری شادی پر ۔۔۔ جلدی سے کوئ لڑکی پسند کرکے شادی کر لینا ” وہ آنکھ دباتی بولی ۔۔۔ 

عالم پانی کا گلاس جو اسکے ہاتھ میں تھا زور سے کانچ کی ٹیبل پر پٹخ کر اٹھ کر چلا گیا ۔۔ ائرہ نے ہنسی دبا کر یہ منظر دیکھا اور پھر باسم کو

 میں جانتا ہوں عالم کو جلانے کے لیے یہ سب کر رہی ہو ” باسم پھیکا سا ہنسا ۔۔۔ 

ائرہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا 

تم ہمیشہ سے میرے دوست تھے اور رہو گے ۔۔۔۔ 

سمجھے اور ہماری دوستی میں کبھی عالم بھی نہیں آئے گا جو مقام میرے دل میں تمھارے لیے ہے اس جگہ پر کوئ نہیں آ سکتا اور نہ اس جگہ تک جو عالم کے لیے ہے تم دونوں الگ الگ پوزیشن رکھتے ہو ۔۔ پلیز شادی کر لینا میں جلد لوٹ آؤ گی ” وہ بولی ۔۔

بڑی بڑی باتیں کر رہی ہو ” باسم ہنسا 

سمجھدار ہو گئیں ہوں ” اسنے آنکھ ماری 

اب جا کر اسے بھی دیکھو جسے جلا چکی ہو ” باسم اٹھا ۔۔۔۔ 

ہائے یہ تو ارمان ہی رہے ہمارا کبھی وہ بھی جلتے ۔۔۔ کسی سے ۔۔۔۔” ائرہ نے سانس کھینچی 

باسم ہنستا ہوا اسکے بال بگاڑ کر وہاں سے چلا گیا انکل تو پہلے ہی جا چکے تھے ۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے ایک خالی ہال میں نظر دوڑائ 

دل میں عجیب گدگدی سی ہوئ ۔۔۔۔

یہ وقت اسکی زندگی کا بہترین وقت تھا جب عالم اسکا تھا ۔۔۔

اسکے قدم کمرے کی جانب اٹھ رہے تھے اور ہر قدم پر وہ ۔۔۔۔ 

مطمئن سی ہوتی ۔۔۔ شاداں تھیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ روم میں داخل وہی تو عالم بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔ 

کچھ عجیب تو لگا اسکو اپنے کمرے میں دیکھ کر گھبراہٹ بھی ہوئ مگر ان سب جزبوں سے زیادہ اچھا یہ تھا کہ وہ بہت خوش تھی اسطرح اسے اپنے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر ۔۔۔۔ 

مجھے لگا آپ سو جائیں گے ” ائرہ نے بات شروع کی ۔۔۔۔ 

کیوں ابھی تم نے مزید باتیں کرنی تھیں اپنے باسم سے ” عالم نے چیڑ کر کہا ۔۔ ائرہ کا دل گدگدا اٹھ تیر نشانے پر لگا تھا ۔ 

اپنے تو صرف آپ ہیں میرے ” وہ اسکے نزدیک آئ اور پیار سے اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔ 

لگ تو نہیں رہا تھا میں اپنا ہو۔۔۔ یہ وہ باسم ” وہ گھور کر ائرہ کو دیکھنے لگا ۔۔۔

اوہو وہ تو میرا دوست ہے ۔۔۔ اچھے والا ” وہ پاس ہی بیٹھ گئ ۔۔۔۔ کہ عالم کا حرکت کرتا گٹھنا بار بار اسکی ٹانگ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔ 

دل میں عجب شور سا مچ گیا ۔۔۔۔ 

وہ اٹھ کر بیٹھا تو ائرہ کو اپنا اپ اسکے سامنے بہت چھوٹا سا لگا ۔۔۔وہ بلکل اسکے ساتھ بیٹھا تھا چھایا ہوا لگ رہا تھا اور اسکے ہونے سے تو ائرہ کا ہر منظر بھرپور تھا ۔۔۔۔ 

ائرہ انگلیاں چٹخانے لگی درحقیقت وہ کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔۔ 

عالم یہ سب نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

عالم کی فیلنگز ائرہ سے قدرے مختلف تھی ۔۔۔۔ 

ہمیشہ اسنے اسطرح اپنے سامنے گھبراتے ہوئے صرف اروش کو تصور کیا تھا ۔۔ 

مگر وہ شرم سے گھبرائ نہیں البتہ اس سے ڈرتی ضرور تھی

اور آج حقیقت کیا تھی بلکل ہی مختلف 

وہ اسکے سلکی ڈھلک کر چہرے پر آئے بالوں کو اپنی پور سے ۔۔۔ اسکے چہرے سے ہٹاتا ۔۔ سوچ رہا تھا 

جبکہ احمئرہ کے وجود میں سنسنی سی مچ رہی تھی۔۔۔ 

عالم شاہ کے سامنے بیٹھی 

لڑکی ۔۔۔ ہر بار اسکی قربت کھینچ لیتی تھی۔۔۔ 

شاید اسکی قسمت میں عالم تھا ۔۔۔ اسی لیے۔۔ عالم نے سوچتے ہوئے اسکا چہرہ تھام لیا ۔۔۔ 

اگر کوئ اسکی چاہت جانتا تو ۔۔وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ 

مگر اس لڑکی کے جزبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ 

اسنے اسکے چہرے پر نرمی سے جھکتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔ 

عالم شاہ کی لیے یہ قربت اچانک دلچسپ ہونے لگی جو صرف ائرہ کے لیے اس کیطرف بڑھا تھا اچانک اسکے اپنے جزبات بھی اسکے طلب گار ہوئے یہ سب قدرتی تھا ۔۔۔ 

وہ اسکی طرف بڑھا تھا اسکے لیے مگر اپنے جزبات کے بھنچال کو سنبھال نہیں سکا اور جب شدت عالم شاہ میں اٹھی تو یہ شدت ائرہ سے برداشت نہ ہوئ ۔۔۔ 

چہرے پر سرخی پھیل گئ دل دھڑک اٹھا ۔۔۔ عالم نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا ۔۔۔۔

وہ اس تیزی پر کچھ پریشان سی ہوئ ۔۔۔۔ 

جبکہ خود وہ پیچھے بیڈ پر گیرہ تھا ۔۔۔۔ 

ائر کے لیے یہ لمہے واقعی قیمتی تھی ۔۔۔وہ اسے اپنی قربت بخش رہا تھا ۔۔۔۔ عالم نے ہاتھ بڑھا کر کمرے میں چلتا واحد نائٹ بلب بھی بند کر دیا 

شاید وہ ۔۔۔ خود کو خود بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ 

ائرہ نے اس بات کو محسوس کیا مگر عالم کی کاروائیوں نے اسکے اوسان بہت تیزی سے خطا کیے ۔۔ 

عالم” وہ بے چینی سے پکار اٹھی جبکہ بنا جواب سوال کے ائرہ کو اسکا مظبوط ہاتھ اپنے منہ پر دھرا محسوس ہوا جیسے وہ اسکے سارے لفظوں کو ہاتھ کی ہتھیلی کے نیچے دبا دیا ۔۔۔۔ہو 

ائرہ اسکے لمس کو جا بجا محسوس کر رہی تھی گردن سے ہوتا وہ کان کے نزدیک جھکا 

کیا ہوا ۔۔۔ محبت میں یہ سب تو سہنا پڑتا ہے ” وہ بولا ائرہ کو اسکا لہجہ واضح مسکراتا محسوس ہوا ۔۔ وہ جواب نہیں دے سکی حیا کے مارے اور اسنے ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کر لیں جبکہ اس سے پہلے اندھیرے میں جیسے وہ کچھ تلاش کر رہی تھی ۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ پہلے ہی جلدی سے اٹھ گئ یہ اسکے بابا کا گھر تھا عالم کا نہیں جلدی سے اٹھ کر فریش ہو کر عالم کو یوں ہی سوتا ۔۔۔۔ مسکرا کر دیکھ کر وہ باہر آ گئ 

اسکا اسکے گھر ہونا ۔۔ معجزہ تھا جو پورا ہو گیا تھا وہ خوش تھی بے حد خوش ۔۔ 

وہ لون میں آئ بابا وہیں تھے موجود ۔۔۔ 

وہ انکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔ 

وہ اس سے باتیں کرتے رہے اور اچانک ائرہ نے انکا ہاتھ پکڑ لیا 

آپ نے مجھے معاف کر دیا نہ ” وہ اپنی کئ گئ ضد اور حرکات پر بہت شرمندہ تھی اور باپ سے ضد لگانے اور نافرمانی کرنے کا انجام بھی سہہ چکی تھی وہ مسکرا دیے ۔۔۔ 

ہاں میں تم سے بہت غصہ تھا ناراض بھی بے چین بھی ۔۔ 

مگر اب نہیں ہوں ۔۔ ماں باپ شاید اولاد کے لیے عزت رکھتے ہیں دل میں ۔۔۔ ” وہ پیار سے بولے ائرہ نے جھک کر انکے ہاتھ چوم لیے 

آئندہ آپکو میری طرف سے شکایت نہیں ملے گی ” وہ بھیگی آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگی ۔۔ 

وہ مسکرا دیے ۔۔۔۔ 

عالم بھی ایکدم وہاں آ گیا ۔۔۔ 

ائرہ اس سے نگاہ ہی نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔ 

بیٹا ناشتہ لگوا دیتا ہوں” انکل ایکدم اٹھ کر بولے ۔ 

نہیں تھنکیو انکل ہم بس اب جانے لگے ہیں ۔۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔۔ 

تو ائرہ اٹھی ۔۔۔۔

مسکرا کر وہ سب ایک دوسرے سے ملے ۔۔۔۔ 

تبھی باسم بھی آ گیا مجھے مکرم سے پتا لگ گیا تھا تم لوگوں کی فلائٹ جلدی ہے ” وہ آیا اور بولا ۔۔۔ 

ائرہ مسکرائ اور عالم بھی مسکرا دیا ۔۔۔ 

سب کی دعاؤں میں وہ دونوں اس گھر سے رخصت ہو گئے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام باپ بننے والا تھا ۔۔۔ عالم نے اسے مبارک باد دی جبکہ ائرہ تو شرماتی حمائل کو کھینچ کر دوسرے روم میں لے گی 

۔۔ جبکہ صیام اور عالم پیچھے رہ گئے 

عالم کا مسکراتا چہرہ اچانک سنجیدہ ہو گیا 

صیام نے غور سے اسے دیکھا ۔۔۔۔ 

یعنی تو زبردستی کا رشتہ نبھا رہے ہو ” وہ بولا ۔۔۔

نہیں ایسا نہیں ہے ۔۔۔ بس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں ” وہ بولا ۔۔۔۔ 

آنکھوں میں اب بھی عکس کسی اور کا تھا ۔۔۔۔ 

تم اسطرح نہیں کر سکتے عالم اسطرح اس لڑکی کے حق مرتے ہیں ” صیام کو غصہ آیا ۔۔۔۔ 

عالم نے اسکی جانب دیکھا 

مگر جواب نہیں دیا 

تم کوشش کرو تم بھول جاؤ گے ” اسے اچانک ترس آیا تھا عالم پر 

یہ تو ائرہ پر ڈیپینڈ کرتا ہے ” عالم نے سر جھٹک کر کہا 

نہیں تم پر کرتا ہے کہ تم بھولنا چاہتے ہو بھی یہ نہیں” 

اور میں کبھی بھول نہیں سکتا ” اسنے جیسے حتمی بات کی اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ 

صیام اسے دیکھتا رہا 

میں بہت خوش ہوں تمھارے لیے” عالم نے مسکرا کر کہا 

مجھے بھی خوش ہونے کا موقع دو ” صیام بولا تو عالم ۔۔۔ ہنس پڑا ۔۔۔۔ 

دونوں بغل گیر ہوئے ۔۔۔ 

ائرہ حمائل کے ساتھ باہرکھڑی یہ سب سن چکی تھی اندرآ گئ اسکے چہرے پر عجب رنگ تھے 

وہاں بھی سب سے مل کر وہ فلائٹ کے لیے نکل گئے ۔۔۔۔ 

پورے راستے وہ خاموش تھی عالم کو اس سے خاموشی کی امید نہیں تھی ۔۔۔ 

یہاں تک کےوہ جہاز میں سوار ہو گئے ۔۔۔۔ 

کیا تمھیں میرے ساتھ اس سفر میں دلچسپی نہیں ” وہ اچانک خود ہی بولا ۔۔۔ 

ائرہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ کبھی بیگانہ کبھی اپنا لگتا تھا کہتا تھا بھولے گا نہیں اروش کو پھر بھی ائرہ کا ساتھ چاہیے تھا ۔۔۔۔

کتنا ظالم تھا نہ وہ 

دل میں کچھ رکھے بیٹھا تھا اور دیکھاتا کچھ تھا مگر وہ بے ایمان نہیں تھا اسنے پہلے ہی بتا دیا تھا وہ اسے محبت نہیں دے سکتا 

جب محبت نہیں دے سکتا تو ۔۔۔ کیسے وہ دل میں اسے جگہ دے گا ۔۔۔ ہاں بس زندگی میں جگہ دی تھی اب ائرہ کی محبت تھی ۔۔ خود کو اور اسکو کیسے باندھے رکھتی ۔۔ 

اچانک وہ آگے بڑھی اور عالم کے گال پر نرم لمس چھوڑا ۔۔۔ 

عالم تو اس حرکت پر دنگ رہ گیا ۔۔۔ 

ائرہ اسکے فیس ایکسپریشن پر اپنی ہنسی دبانے لگی ۔۔۔ 

عالم نے ارد گرد دیکھا سب اپنی سیٹس پر تھے اپنی مصروفیت میں انپر نگاہ کسی کی نہیں تھی ۔۔۔ 

میں آپ میں انٹرسٹ نہیں ہوں گی تو کس میں لوں گی ” وہ پوچھنے لگی آنکھوں کو دو لمہوں میں بدل لیا ۔۔ 

میں اسکا جواب کیسے دوں تمھیں ” عالم اس لمس پر ہی اٹکا ہوا تھا 

بھول جائیں” ائرہ نے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔۔ 

جبکہ عالم نے اسکی کلائی سختی سے جکڑ لی ۔۔۔۔ 

میں بلکل شرم نہیں کھاتا ۔۔۔ کچھ بھی کرنے میں ” وہ اسکے چہرے پر جھکنے لگا تھا 

عالم عالم پلیز سب دیکھیں گے نوٹس کر لیں ” عالم دور ہوا ۔۔ ائرہ کی سانسیں بھال ہوئیں 

۔۔ 

جاتے ساتھ ہی اسکا بدلا لو گا یاد رکھنا ” وہ بولا ۔۔۔۔ 

ائرہ نے معصومیت سے ۔۔۔ آنکھیں جھپکیں 

ڈرامے نہ کرو ” 

کتنے بدتمیز ہیں آپ ۔۔۔” وہ گھورنے لگی ۔۔۔ 

تمھارا لڑنے کا ارادہ ہے ” 

عالم نے عاجز آ کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔ 

میں کیوں لڑوں گی ۔۔۔آل ٹائم سڑو کی ڈیوٹی آپکی ہے ” وہ اسکا بازو تھامے اسپر سر رکھ گئ 

اسکے کلون کی خوشبو ائرہ کی ناک کے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔ 

عالم کچھ نہیں بولا ۔۔ 

عالم یہ کیا نئ شروعات ہے ” اچانک وہ بولی ۔۔۔ 

مگر دیکھا نہیں اسکی آنکھوں میں 

اسکی آنکھوں میں انکار نہیں دیکھنا چاہتی تھی پھر سے اقرار سننا چاہتی تھی 

ہاں یہ نئ شروعات ہے ” وہ اسکے بال سہلاتا بولا ۔۔ 

ائرہ نے آنکھیں موند لیں۔ 

جبکہ عالم نے گھیرہ سانس بھرا 

شاید ” وہ خود سے بولا 

کسی عشق کی تلاش ہے ” اسکا دل دھڑکا 

۔۔ 

میں دوبارہ نہیں آؤ گا اروش ۔۔ تمھارے قدموں سے بندھ کر ۔۔۔ میں زیادتی نہیں کرنا چاہتا کسی کے ساتھ ” یہ آخری فقرے تھے جو اسنے آنکھیں مندنے سے پہلے بولے تھے 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

 

To Download Last Episode PDF click at Red Arrow 

Revenge | Urdu Novel 2022

 

Revenge | Urdu Novel 2022 | Tania Tahir Novels, Romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and Afsany that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our Facebook page for more content Novelsnagrhttp://Novelsnagr ebook

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *