Romantic hero based,

Romantic hero based | QAID JUNOON Epi#5

Romantic hero based, urdu novel Qaid junoon by Faiza Sheikh… Novelsnagri.com is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

Romantic hero based, Urdu Novel ,QAID jUNOON by Faiza Sheikh
Romantic hero based, Urdu Novel, QAID JUNOON by Faiza Sheikh ,love story based

Romantic hero based, Urdu Novel, QAID JUNOON by Faiza Sheikh 

‍قید جنون 

قسط نمبر پانچ 

از قلم فائزہ شیخ 

مجھے تمھارے ساتھ کہیں نہیں جانا شمائل غصے سے آتش جوالہ بنی ازراق کو گھور تی ہوئی بولی لیکن شمائل یہی وقت ہے گھومنے پھرنے کا.. میں یہ بات لکھ کر دے سکتا ہوں کہ یہ ٹور تمھارے لیے ورڈ بیسٹ ٹوور ہو گاارزاق نے غصہ قابو کرتے رسانیت سے سمجھانا چاہا تھالیکن شمائل بھی انتہا کی ضد کی تھی میں اک بار کہہ دیا کہ میں نہیں جانا…

پھر بھی اگر اپ بار بار کہے گے تو اپنا وقت ضائع کرے گیں شوق سے کریں شمائل کا بار بار انکار ارزاق کو غصہ دلا گیا تھا تمہیں پیار کی زبان سمجھ ہی نہیں آتی مسز ازراق ہنی مون پر تو اب تمھارے اچھے بھی جاۓ گے

میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم کیسے نہیں جاتی وہ  ارزاق کو اچھا خاصا غصہ دلا چکی تھی ارزق غصے سے بولتا باہر نکل چکا تھا

 

شمائل بیٹا مرد کی ضد بہت بری ہوتی ہے اسے جتنا غصہ دلایا جائے گا اتنا عورت کے لیے خطرناک ہو گاآپ اس کی بات مان لولیکن باباپلیز میرے پیاری بیٹی ہو نہ اپنے بابا کا کہا نہیں مانو گی

 

ٹھیک ہے بابا لیکن صرف آپ کے کہنے پر ورنہ اس کی مجھے رتی بھر پرواہ نہیں

ہاہا میری بچے شوہر کو ایسا نہیں کہتے اور پھر جلتے کڑتے شمائل اپنی پیکنگ کر چکی تھی

 

غصے میں اس نے ارزاق سے یہ تک نہ پوچھا تھاکہ جانا کس کنٹری ہے وہ بہت آرام سے لون نے کپڑے رکھ چکی تھی ارزاق بھی خاموشی سے اسے پیکنگ کرتا دیکھ ریا تھا لیکن شمائل کو بتانا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا

 

⭐⭐

ایر پورٹ پر بھی شمائل خاموش تھی جبکہ ازرااق کی شوخیاں عروج پر تھی اگر کبھی شمائل کی نظر اازراق پر پڑھ ہی جاتی تو وہ پہلے سے اسے دیکھ رہا ہوتا وہ جلدی سے نظریں چرا جاتی تھی

دیکھ کر مجھے جو تم دیکھتے نہیں

یارا ایسی بے رخی ہوںں  سہی تو نہیں

رات دن اسے مانگا تھا دعاؤں میں…

دیکھو غور سے کہیں میں وہی تو نہیں

میں وہ رنگ ہوں جو چڑھ کے کبھی چھوٹے نہ تمہیں پیار سے پیار ہونے لگے گا میرے ساتھ شامیں بتا کر تو دیکھو…

ارزاق نے شوخی سے گنگنایا تھا

شمائل نے آنکھیں چرائ تھی تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو

شمائل تو اس سر پھرے کی شوخیاں دیکھ کر حیران تھی لیکن وہ سنجیدہ فیس کے ساتھ اپنی سیٹ کے  ساتھ سر لگاتے آنکھیں بند کر چکی تھی تھوڑی دیر میں وہ نیند میں گھم ہو چکی تھی

ارزاق نے بہت پیار سے اس کا سر اپنے سینے پر رکھتے اسے اپنی بانہوں میں قید کر لیا تھا

شمائل اٹھو جلدی سے ہم پہنچ چکے ہیں شمائل نے مندی مندی آنکھیں کھول کر ارزاق کو دیکھا

خود کو اسکی بانہوں میں قید دیکھ کر جلدی سے پیچھے ہوئ تھی ہاہاہا پورا رستہ میرے اس سینے کو تکیہ بناتے ائ کو میڈم اور اب ایدے دعر بھاگ رہی ہو جیسے میں کوئ کروانا کی بیماری ہوں

اییر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اک سرد ہوا کا جھونکا اسے کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا

سامنے بورڈ پر سٹی لندن لکھا دیکھ کر وہ حیران تھی ارزاق نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ لوگ لندن جا رہے ہیں میں تو سارے لون کے کپڑے لے کر آئ ہوں وہ اچھی خاصی پریشان ہو چکی تھی

ارزاق اسے پریشان دیکھ کر مست ہو رہا تھا اب آۓ گا مزہ جب بیگم ٹھنڈ سے بچتی مجھ میں پناہ ڈھونڈے گی ہوٹل میں آل ریڈی ہنی مون  روم بک تھا  ارزاق نے جیسے  کیز مانگی تھی

ریسیپشن پر کھڑی لڑکی نے اک بوکے دیتے انہیں وش کیا تھا تھنیکس ارزاق سمائل پاس کرتا کیز لے کر آگے برھ گیا تھا شمائل تو ٹھنڈ سے کانپتی جلدی سے اس کی جانب بڑھی تھی وہ لوگ جیسے لیفٹ میں داخل ہوئے تھے شمائل نے جلدی اے ہاتھوں کو رب کرتے خود کو حرارت پہچانی چاہی تھی

ٹھنڈ ضرورت سے زیادہ تھی اب تو ارزاق کی مستی بھی ختم کو رہی تھی سے فکر تھی کہ کہیں شمائل بیمار نہ لو جائے اس نے جلدی نے جلدی سے شمائل کو اپنی جانب کھنچتے اپنی بانہوں میں قید کیا تھا

شمائل نے بھی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے جلدی سے اس کے گرد بازو ھائل کیے تھے ارزاق کھولے دل سے مسکرایا تھاتبھی لفٹ رکی تھی اور کچھ انگریز لڑکیاں اندر داخل ہوئی تھی

Love birds wao

شمائل نے جلدی سے پیچھے ہونا چاہا تھا لیکم ارزاق کی پکڑ مضبوط تھی

اس کا فلور آتے ہی وہ دونوں جلدی سے روم میں داخل ہوئے تھی شمائل تو جاتے ہی کمبل میں گھس چکی تھی ارزاق بھی تکا ہوا تھا اس لیے جلدی سے ہیٹر آن کرتے بستر میں گھسا تھا

اس نے کمبل میں داخل ہوتے ہی شمائل نے غورنا چاہا لیکن دیکھو سردی بہت ہے یہی ہمارے حق میں بہتر ہے اور تمھارے حق میں تو زیادہ بہتر ہے کہ چپ کر کہ سو جاو ورنہ نیرے اندر کا ہاشمی جھاگ گیا نہ تو تم منہ چھپاتی پھرو گی شمائل جلدی سے بستر میں گھستی منہ تک کمبل لے چکی تھی

ہاہاہا ڈرپوک چوزی

ارزاق میں بتا رہی ہوں جب تک مجھے گرم کپڑے نہیں لا کر دو گے میں باہر نہیں نکلنے والی ارے ارزاق کی جان ٹنشن کس بات کی ہے ہم ویسے بھی ہنی مون ہر آۓ ہیں باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے

ائ ہیٹ یو ائ ہیٹ یو بلکل اچھے نہیں ہو تم اس نے ارزاق کے سینے پر ہاتھ مارتے بولا تھااشھا چلو ایسا کرو اپنے سوٹ پر میرا یہ لانگ کوٹ پہن لوپہلے شاپنگ کر لے گے اس کے بعد گھوم پھر لے گے اوکے ٹھیک ہے

 

وہ لقگ جیسے ہوٹل سے نکلے ارزاق کو لگا کوئی انہیں فولو کر رہا ہے لیکن اپنا وہم

سمجھتے وہ شاپنگ مال کی جانب بڑھ گیا تھا

یہ دیکھو یہ کیسا رہا گا

وہ اک اک ڈریس شمائل کے ساتھ لگا کہ دیکھ رہا تھاتبھی سامنے اک بہت پیارا سا  دیکھتے ارزاق اس کی جانب بڑا تھا

کسی نے بہت جلدی سے شمائل کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے پاس چینج روم میں بند کر دیا تھا

شمائل یہ دیکھو وہ کورٹ کو پیچھے کرتا بولا تھا لیکن شمائل ہوتی تو بولتی شمائل یار کہا گئ نیچے گرے کپڑے اسے بہت کچھ سمجھا گۓ تھے

او شٹ میری اک پل کی عفلت شمائل کو مشکل میں ڈال گئ وہ جلدی سے مال سے باہر نکلا تھا

اس کڈنیپر نے ارزاق کو باہر جاتا دیکھ شمائل کو اپنے بندوں کی مدد سے گاڑی تک لے جانا چاہا تھا

پارکنگ ایریا میں اس سے پہلے کہ وہ لوگ شمائل کو گاڑی میں ڈالتے  کسی  نقاب پوش  نے اک تھپڑ کڈنیپر کے منہ پر مارتے شمائل کو اپنی جانب کھینچا تھا

 

شمائل کے گرد اپنی بازو بھاندھتے اس نے شمائل کو گھماتے ہوئے شمائل کے پاؤں اس کڈنیپرز کے منہ پر مارے تھےقہ سب اک ساتھ نیچے گرے تھے نقاب پوش نے شمائل کو گاڑی پر بٹھاتے ان کڈنیپرز کی اچھی درگت بنائ تھی

 پھر دھیرے سے شمائل کو بازوؤں میں اٹھاتے اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا اس نے شمائل کو گاڑی میں بٹھنے کا کہا تھا لیکن شمائل جلدی سے اس کے سینے سے لگی تھی ارزاق اپ میرے ارزاق ہیں نہ آپ ہی ہو سکتے ہیں جو ہر پل شمائل کی حفاظت کر سکتے

اپ کے ہوتے ہوئے کوئ شمائل کا بھال بھی بھانکا نہیں کر سکتا ہاہاہا جانِ من بہت جلدی نہیں مان گی آپ یہ باتآئ ایم سوری ارزاق ائ ایم ریلی سوریاو اچھا مجھے تو لگا تھا شاید

آج تم تھری میجک ورڈز بول دوں گی ادھر لائیں کان یہ لو جنابآئ ہیٹ یو

کہتے اس نے قہقہہ لگایا تھا یہ لیں میجک ورڈز اس نے کہتے دوڑ لگا دی تھی

وہ دونوں لندن کی سڑکوں پر بھاگتے دیوانے ہی لگے تھے

⭐⭐⭐

شمائل کا دل صاف ہوتے ہی اسے ارزاق کی خوبیاں بھی نظر آنے لگی تھی بس غصے کا تھوڑا تیز ہے باقی بندہ سیٹ ہےارزاق

ہمممممم اک بات تو بتاؤکیا مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو کس نے کہا میں تم سے محبت کرتا ہوں شمائل غصے سے واک آؤٹ کرنے لگی تھی جب اس نے شمائل کو کھنچتے اپنی گود میں بٹھایا تھا

جب ہاتھ دعا کو اٹھتے ہیں

الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں

بس دھیان تمھارا رہتا ہے

اور آنسو بہتے رہتے ہیں

تمھاری ہر دعا پوری اس کی منت کرتا ہوں

میں ایسی محبت کرتا ہوں

تم کسی محبت کرتے ہو

ہمیں ٹھندک راس نہیں آتی

ہمیں بارش سے ڈر لگتا ہے

لیکن جس دن سے معلوم ہوا

 یہ موسم تم کو بھاتا ہے

اب جب بھی ساون اتا ہے

میں بارش میں بھگتا رہتا ہوں

میں ایسی محبت کرتا ہوں

تم کسی محبت کرتی ہو

تم کسی محبت کرتی ہو

شمائل تو اس کے لفظوں میں کھو چکی تھی اتنا خوبصورت اظہار شاید ہی کبھی کسی نے کسی سے کیا ہو

ارزاق  ہمممم

 

اہ بہت اچھے ہیں اچھا اب تم سے محبت کرتا ہوں تو اچھا ہوںورنہ نجھ سے برا تو اس زمانے میں کوئی نہیں تھاہاہا نہیں اپ بہت اچھے ہیں میں جتنا بھی اچھا تم کبھی مجھ سے اظہار محبت نہیں کرو گیکرو گی نہ کب آپ دادا بن گۓ اور میں دادی وہ شرارت سے کہتی باہر بھاگی تھی

اوپسس میں تھک گئ پورا دن اا نے ارزاق کو خقب تنگ کیا تھا اس کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ کر کہ وہ واپس آئ تھی او بچہ تھک گیا اٹھو اور یہ پہن کر آو فوری ارزاق نے آنکھیں نکالتے اس کی جانب اک نائٹی بڑھائ تھی

نو نیور میں نے تبھی  کہہ دیا تھا کہ میں ایسا بے ہودہ لباس نہیں پہنوں گی تمھارے تو اچھے بھی پہنے گے اس نے جلدی سے شمائل کو شاور کے نیچے کھڑا کرتے شاور چلا دیا تھا

 

شمائل کہ چنجین عروج پر تھی شش محسوس کرو ان پلوں کو مجھے ان پلوں کو امر کرنے دو اخر کب تک ہم ان دوریوں میں رہے گےاس نے جذبات میں بہتے دھیرے سے شمایل کہ گردن پر اپنی لب رکھے تھے اس کی گردن پر جھکتا وہ شمائل کو سمٹنے پر مجبور کر رہا تھاار….

ارزاق  مجھے سردی لگ رہی ہے پلیز ارزاق نے دھیرے سے اس کی گردن سے. منہ نکالتے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا اسے بانہوں میں اٹھاتے وہ بیڈ پر لٹا چکا تھا

 شمائل مججے اجازت دے دو کہ اج تمھارے اتنے قریب آ جاؤ کہ یہ روحیں مل جائے اجازت ہے اس نے شمائل کہ آنکھوں میں دیکھتے اجازت مانگی تھی شمائل نے شرماتے اس کے سینے میں منہ چھپایا تھا

ارزق نے اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ الجھاتے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے تھے  دھیرے دھیرے  وہ گہرائیوں میں اترتا شمائل کوپاگل کر چکا تھا

لندن کی اس خوبصورت رات نے ان دونوں کو مکمل کر دیا تھا

⭐⭐

Romantic hero based, urdu Novel  Qaid junoon by faiza sheikh… Novelsnagri.com We add all the good types novels which you can search in Novelsnagri.com special novels these novels are available only on our web.

You can read and enjoy and don’t forget to comment about your precocious thought about novels If you are looking for any type of novel you can tell us novel name and writer name we will try to upload soon.

 

Novelsnagri.com avail you most romantic and beautiful novels. When we read read novels we can really feel good and for some time we relieve from our tension….

We should be thankfull for writers and Noevlsnagri for this opportunity.If anyone wants to publish her novel they can contact with us … our email is available in last of the page novelsnagri786@gmail.com

Read Romantic hero based, Urdu Novels with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our  Facebook page. Hope all of you enjoy it.

1 thought on “Romantic hero based | QAID JUNOON Epi#5”

Leave a Comment

Your email address will not be published.