Tania Tahir Novels 2022

Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#17

Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#17

 

Romantic Novel 2022, Novel 2022, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode #17

حمائل اور صیام کی شادی کو ایک ہفتہ گزرچکا تھا۔۔۔

اور یہ ایک ہفتہ دونوں کے بیچ کئ فاصلوں کو مٹا چکا تھا ۔۔۔ صیام کی تلخی خوش مزاجی میں بدلتی جا رہی تھی جبکہ حمائل کو احساس ہونے لگا تھا کہ اسکے صبر کا پھل اسکو مل رہا ہے ۔۔۔۔

 

وہ خوش رہنے لگی ۔۔ تھی چچا چچی بھی جا چکے تھے سوائے علینہ کے یہ سب نظارے دیکھنے کے باوجود وہ یہاں سے نہیں گئ تھی ۔۔۔

 

علینہ پیچ و تاب کھاتی رہتی تھی ۔۔۔ ان دونوں کو دیکھ کر ۔۔خاص کر جب صیام خود اسے آنکھ کے اشارے سے کمرے میں آنے کا کہتا تھا اور وہ زرا جھجھک کر شرما سی جاتی تب علینہ نفرت سے دونوں کیطرف دیکھتی صیام نے اسے بیوقوف بنایا تھا جب اسے حمائل پسند تھی تو اسکو کیوں اس طرح بیوقوف بنایا علینہ کے اندر اب غصہ بدلے پراتر آیا تھا ۔۔۔ اور وہ کسی دن کی تلاش میں تھی جب حمائل کا گلا گھونٹ کر مار دے تب صیام کو پتہ چلے گا کہ وعدے وعید اس سے کر کے اب اسپر وہ دو کوڑی کی لڑکی کو اہمیت دے رہا تھا ۔

 

ائرہ کا کافی دل یہاں لگ گیا تھا مگر اب ڈیڈ اور باسم کے غصہ کرنے پر اسنے بالآخر جانے کا سوچا حمائل اداس سی ہو گئ وہ جب سے حویلی میں آئ تھی حویلی میں رونق لگی رہتی تھی ۔۔۔ اور ہر کسی کے سامنے وہ حمائل کو ڈیفینس کرتی تھی یہاں تک کے صیام سے بھی لڑ پڑتی تھی ۔۔

 

حمائل اسکے ہونے سے کافی خوش تھی مگراب اسکے جانے کا سن کر وہ اداس ہو چکی تھی ائرہ جبکہ ہنس رہی تھی اور اسے سمھجا رہی تھی کہ ایک نہ ایک دن تو اسنے جانا ہی ہے مگر جو وقت اسنے اسکے ساتھ گزارا ہے وہ ہمیشہ یاد رکھے گی ۔۔

 

جبکہ حمائل کچھ نہ سمھجہ کر ہی رونے لگی ۔۔۔

ائرہ نے اسے گلےسے لگایا ۔۔۔۔ اور صیام جو اسی طرف آ رہا تھا ہی منظر دیکھ چکا تھا ۔۔

 

دوسری کی چیزوں پر قبضہ جمانے میں ماہر لگتی ہو “ائرہ کو طنز بھری نظروں سے دیکھتا وہ بولا ۔۔۔۔

اور تم اپنی ہی چیز پر نظر نہ رکھنے والے اندھے ۔۔ ” ائرہ نے مزے سے کہا اور حمائل کے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔۔

 

صیام نے سنجیدگی سے اس منہ پھٹ کو دیکھا تھا ۔

 

میں اس دن سے پریشان ہوں جس دن تمھاری قسمت میں کوئ مرد آئے گا ۔۔اوراسے غلطی سے تم سے محبت بھی ہو گی ” صیام نے سر جھٹکا اور حمائل کو گھیرا گویا جتایا ہو رونا بند کرو ۔۔۔۔

 

رئیلی سوچ لو تمھارا کوئ قریبی ہی نہ پھنس جائے” وہ قہقہہ لگا اٹھی جبکہ صیام نے اسکی طرف دیکھا ۔۔

کاش میرا قریبی میرے قریب ہوتا ۔۔۔۔ “

 

اسنے دل میں سوچ اور سر جھٹکا ۔۔

جاتے جاتے ایک نصحیت لیتی جاؤ منہ کم کھولا کرو ۔۔۔۔ اتنی منہ پھٹ ہو ۔۔۔ کسی نے چماٹ مار دیا تو ۔۔پشتاو گی”

 

شکل دیکھو اپنی اور باتیں دیکھو چماٹ مارنے والا ۔۔۔ ایک بلیک بیلٹ سے زندہ نہیں بچے گا ” ائرہ نے خون خار نظروں سے اسے تپ کر دیکھا بلاوجہ اسے جلا رہا تھا کھڑا کھڑا ۔۔

 

صیام کے لب اسکے چیڑنے پر مسکرائے جبکہ حمائل کے بھی ۔۔۔۔

مرد تو مرد ہوتا ہے اب سامنے بلیک بیلٹ ہو یا یلو بیلٹ” وہ اپنی کہی بات سے مزہ لینے لگا ۔۔

حمائل اس کی تقریر پر تم ہی تالیاں بجا دو ۔۔۔”ائرہ نے گھور کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔ تو صیام کھل کر ہنسا۔۔۔۔

وہ انسان تو پھنسے گا جس سے تم محبت کرو گی ” صیام نے ۔۔۔ حمائل کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔

حمائل ایکدم گھبرا اٹھی ۔۔۔۔ یہ اچانک افتاد تھی ۔۔۔۔۔

مجھے محبت وحبت پر یقین نہیں ۔۔۔۔۔ یہ سب چونچلے ہیں من چلوں کے” اسنے بیگ کو زیپ لگائ اور سر اٹھایا وہ دونوں ساتھ کھڑے اچھے لگ رہے تھے ائرہ مسکرا دی ۔۔۔

مجھے تو یقین آنے لگا ہے” صیام نے حمائل پر گھیری نظر ڈالی ۔۔۔ وہ جیسے بدل گیا تھا حمائل پریشان سے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔

آنا بھی چاہیے تمھیں تو ” ائرہ نے ہنس کر بیگ اتارا ۔۔

دیکھو میں تمھیں اس گھر سے دفع ہونے میں مدد کر دیتا ہوں ” صیام نے اسکا بیگ پکڑا اور جاتےجاتے بھی ۔۔۔۔اسکو جلا گیا ۔۔ ائرہ کا بس نہیں چلا بیگ اٹھا کر اسکے سر میں مار دے جبکہ صیام نے بیگ اٹھایا اور مسکراہٹ روکتا باہر نکلا روم سے ۔۔ حمائل ائرہ کے گلے لگ گئ ۔۔ صیام نے حمائل کی پشت گھوری ۔۔۔۔

آئرہ بھی اسکے گلے لگی

یار سیریسلی ۔۔۔ یہ آدمی دنیا کا بکواس ترین آدمی ہے تمھاری قسمت پر افسوس ہے مجھے” ائرہ اونچی آواز میں بولی ۔۔۔۔

جھوٹی خوش قسمت ہے تمھاری دوست ” صیام کہاں باز آنے والا تھا ۔۔

آہ کیا قسمت ہے چوہا ملا ہے” ائرہ نے اس سے بیگ کھینچا اور خود اتارنے لگی ۔۔۔

تم مجھے صیام خان کو چوہا کہہ رہی ہو ” وہ غصے سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔

اب لگی اتنی دیر سے میرا خون جلا رہے تھے ” ائرہ نے دانت نکال کر دیکھا اور ۔۔۔ نیچے اتر گئ ۔۔

تمھیں تو میں بتاتا ہوں جو اتنا اسکے گلے چمٹ رہی تھی ” حمائل کا ہاتھ کھینچ کر وہ تینوں نیچے اترے ۔۔حمائل تو اپنے رونے میں مشغول تھی ۔۔۔ جبکہ ائرہ وہاں کھڑے سب لوگوں سے ملی علینہ سے بھی ملی جبکہ لبوں پر مسکان تھی جو علینہ کو طنزیہ ہی لگی ۔۔۔

وہ جلدی سے ائرہ سے دور ہو گئ ۔۔۔ اسکے انداز میں سخت نفرت تھی ۔۔ایسے تو وہ ان لوگوں کی جان چھوڑنے والی نہیں تھی ۔۔

اماں سے مل کراسے بہت اچھا احساس ہوا۔۔ کیونکہ وہ ایک شفیق خاتون تھیں ۔۔۔

تبھی وہ انکے گلےسے اچھے سے لگی رہی اور وہ بھی اسے پیار کرتی رہیں

وہ ان سے الگ ہوئ ۔۔

دوبارہ بھی آنا بیٹا ۔۔۔” اماں نے کہا تو اسنے سر ہلایا اور حمائل کے گلے لگی ۔۔۔

حمائل پھرسے رونے لگی۔

عجیب روندھو لڑکی ہے” آئرہ نے صیام کی جانب دیکھا ۔۔

ایسی ویسی” دونوں پہلی بار کسی بات پر متفق ہوئے تھے ۔۔

حمائل نے ناراضگی سے دیکھا جبکہ ائرہ ہنسنے لگی ۔

چلو اب خوش خوش ہو جاؤ ۔۔ اوکے میں جلد دوبارہ آؤ گی” آئرہ نے کہا اور صیام کیطرف دیکھا ۔۔۔

دل تو نہیں ہے دوبارہ تمھاری شکل دیکھنے کا مگر تم سے دوبارہ ملوں گی ضرور ” ائرہ نے کہا ۔۔

سیم ٹو یو ” صیام نے بھی لاپرواہی سے کہا ۔۔اور ائرہ اپنا بیگ اٹھاتی گارڈ کیطرف چلی گئ ۔۔ جو باہر اسکا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔

اسکی گاڑی کچے پکے راستوں سے ہوتی ۔۔ بڑی تیزی سے آگے جا رہی تھی جبکہ اسنے کانوں میں ائیر فون لگائے ہوئے تھے اور آنکھیں بند کیے وہ باسم کو سوچتی وہئ میوزک سن رہی تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی باسم کس قدر خفا ہو گا اس سے اور کوئ بعید نہیں مارنے بھی دوڑے مگر اسے یہ بھی پتہ تھا وہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے اور انھیں چیزوں کا وہ فائدہ اٹھاتی تھی

جبکہ ۔۔۔ ائرہ بس اسے ایک دوست کی حیثیت دیتی تھیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔

مگر باسم کی فیلینگز کی قدر بھی تھی اسے ۔۔اوراسنے سوچا ہوا تھا۔۔۔ اسے تو کسی سے محبت ہوئی نہیں تو شادی باسم سے ہی کر لے گی ۔۔ وہ جو اسکے سارے نخرے اٹھا کر بھی نہیں تھکتا اور رہی محبت تو ضروری نہیں زندگی میں ہر انسان کو کسی سے محبت ہو کچھ لوگ بنا محبت کے بھی تو زندگی گزار لیتے ہیں اور وہ ان میں سے ایک تھی ۔۔۔۔

 

اور شاید کبھی آگے جا کر اسے باسم سے محبت ہو ہی جاتی ۔۔۔

وہ انھیں سوچوں میں گم تھی کہ ۔۔۔ اچانک گاڑی رک گئ ۔۔

 

اسنے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ۔۔ کافی سارے لوگ انکی گاڑی کے گرد تھے گھبرا کراسنے ائیر فون ہٹائے کانوں پر سے ۔۔ اور جلدی سے دروازہ کھولنا چاہا ۔۔

 

میڈیم دروازہ مت کھولیں ” ڈرائیور بولا مگر وہ کسی سے ڈرتی نہیں تھی وہ گاڑی سے باہر نکلی تو ۔۔ ان لوگوں نے اسکو جکڑ لیا جیسے اسے ہی پکڑنے آئے ہوں ۔۔۔ائرہ نے بھڑک کر ۔۔ان سے مقابلہ کیا مگر وہ تو سیلاب کیطرح آدمی نکل نکل کر آرہے تھے وہ جتنی ہمت تھی کرتی رہی تھی مقابلہ کیونکہ وہ بلیک بیلٹ تھی ۔۔۔۔

مگر تعداد بڑھتی دیکھ اسکے ہاتھ کانپے ۔۔ اسنے ڈرائیور کو دیکھا جو اسکو بچانے کے چہروں میں خونم خون ہو گیا تھا اور ان آدمیوں نے اسکو جکڑ لیا اسی لاپرواہی کے سبب ۔۔

اسنے اچانک سامنے دیکھا گاڑی آ رکی اوراس گاڑی میں سے تیمور باہر نکلا ۔۔۔

ائرہ نے دانت پیس کراسکو دیکھا ۔۔۔

اسکے وہم و گمان میں بھی یہ انسان نہیں تھا ۔۔۔

یہ کیا گھٹیا حرکت ہے “

بڑی آگ ہے تم میں” تیمورمسکرایا اور اسکے گال کو چھونا چاہا ۔۔۔۔۔

 بزدل ان آدمیوں سے مجھے پکڑو آ کر شیر ہو رہے ہو ۔۔ کہو انھیں چھوڑیں مجھے” وہ چلائ ۔۔

جبکہ تیمور کا قہقہہ نکلا ۔۔۔۔

گاڑی میں پٹخو اسکو “وہ بولا کڑک لہجے میں اور ان آدمیوں نے اسکی بات مان لی ۔۔اور چیختی چلاتی ائرہ کو اٹھا کر گاڑی میں پٹخ دیا ۔۔۔

ائرہ نے باہر نکلنا چاہتا مگر گاڑی کو لوک لگا دیا گیا ۔۔۔

ائرہ کی آواز ساؤنڈ پروف گاڑی سے نکل نہ سکی اور اچانک ہی اسکے منہ پر ایک رومال رکھ دیا گیا جس سے ۔۔۔ اسکا دماغ سن ہوا اور وہ غنودگی میں چلی گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہو گئ تھی ۔۔۔۔ مگر ائرہ اب تک نہیں پہنچی تھی نہ ہی اسکا نمبر لگ رہا تھا اور نہ ہی ڈرائیور کا اب باسم سمیت ائرہ کے والد بھی پریشان ہو اٹھے تھے انھوں نے بالآخر صیام کو کال ملائ

وہ ڈیرے پر تھا ۔۔۔۔ تبھی مکرم اسکے پاس بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔۔

مکرم کے چہرے سے ۔۔پھٹنے والی خوشی کو صیام نے حیرانگی سے دیکھا ۔۔

کیا ہوا ایسے خوش ہو تم تو بھئ جیسے عالم آ گیا ہو ” صیام نے مسکرا کر سر جھٹکا ۔۔۔

جی خان سائیں آ گئے ۔۔۔ وہ وہ دیکھیں انہی گاڑی اندر آ رہی ہے” مکرم بول نہیں تقریبا چیخ رہا تھا ۔۔ دوسری طرف صیام کا حال بھی مکرم سے کم نہیں تھا وہ وہیں سب چھوڑ کر باہر بھاگا تھا ۔۔۔۔

عالم کی گاڑی روکی اور وہ ۔۔۔۔ باہر نکلا ۔۔۔۔ تو صیام کو لگا کہ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا ۔۔۔

جبکہ عالم کی مسکراہٹ نے تو جیسے ۔۔۔۔ اسکو اور بھی حیران کر کے رکھ دیا وہ بھاگ کر اسکے سینےسے لگا تھا ۔۔

کہاں چلا گیا تھا سالے تو ۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تجھے ۔۔۔ بتا کر تو جاتا کہاں گیا تھا ۔۔۔” صیام اسکے کندھے پر مکے برساتا بولا ۔۔۔

جبکہ عالم ہنس پڑا ۔۔۔۔

صیام کو اسکی ہنسی میں عجیب سی بات لگی ۔۔۔

مجھے جاری شادی کی خبر ملی تو سوچا اپنے مصروفیات میں سے تم پر احسان کرنے کچھ دن آ ہی جاؤں” وہ اسکا شانہ تھپتھپا کر بولا ۔۔۔

بلکل سپاٹ انداز مسکراہٹ بھی۔ ۔۔۔ عارضی سے لگ رہی تھی ۔۔

بہت مہربانی اس احسان کے لیے ۔۔۔۔ چلو حویلی چلتے ہیں_ صیام نے جلدی سے کہا ۔۔ جبکہ غلام نے مکرم جو دیکھا ۔۔ جو رو دینے کے لیے تیار تھا ۔۔ وہ ہنسا اور مکرم کے شانے پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔ جبکہ

صیام یہ منظر دیکھ کر پیچھے ہوا اور اپنا سامان لینے اندر چلا گیا ۔۔

ٹھیک ہو ” وہ ایسے پوچھ رہا تھا ۔

آپکی بہت یاد آئ سائیں ” مکرم رونے لگا ۔۔۔

مرد بنو مرد” عالم ہنس کر کہتا ۔۔۔ آگے بڑھ گیا جبکہ مکرم جلدی سے اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔ عالم کی چال میں بھی لاپرواہی تھی ۔۔۔

جبکہ صیام بھی آگے پیچھے ہو لیا گاڑی کو وہیں چھوڑ کر وہ لوگ ۔۔ پیدل ہی ۔۔ حویلی کیطرف چل دیے ۔۔ راستے میں ۔۔۔۔ صیام نے باتوں کا ڈھیر لگا دیا سوال پر سوال کرنے لگا جس کا وہ کوئ جواب نہیں دے

رہا تھا تم نے حمائل سے شادی کی ہے یہ کسی اور سے “عالم کے سوال پر صیام نے اسکو دیکھا ۔۔

افکورس حمائل سے ہی کی ہے” صیام بولا ۔۔۔۔

کیوں” عالم ہسننے لگا ۔۔۔۔

سمھجو محبت کا کیڑا مجھے بھی کاٹ گیا ” صیام ہنسا عالم نے سر ہلایا ۔۔اور اسکے بعد کچھ نہیں بولا۔۔۔

صیام کے نمبر پر اچانک کال آنے لگی ان نون نمبر تھا تبھی اسنے اٹھانا ضروری نہیں سمھجے اور عالم کے آنے کی خوشی میں اسنے سیل یوں ہی رکھ دیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ کی آنکھ کھلی تو ۔۔ چاروطرف اندھیرہ تھا ۔ جبکہ اسنے ہلنا چاہا تو خود کو رسیوں میں جکڑا پایا ۔۔ مگر اسے دیکھائ دے رہا تھا یہ میرر وال کے اس پار بیابان سا باغ تھا شاید کبھی یہاں ایک خوبصورت باغ تھا اسے عجیب وحشت اور خوف سا آیا اس جگہ سے ۔۔اسنے چلانا چاہا مگر منہ پر ٹیپ لگنے کے باعث چلا نہیں سکی وہ رگڑتی رگڑتی ۔۔۔ اس میرر کے نزدیک آ گئ جہاں سے وہ خوفناک باغ دیکھ رہا تھا اسنے دروازہ دونوں ہاتھوں سے بجایا ۔۔۔۔

 

مگر جلد اسے احساس ہوا یہ ساؤنڈ پروف ہے ۔۔

آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے جبکہ غصہ ایسا تھا کہ وہ ۔۔ابھی سب کو کھا جاتی ۔۔۔۔

 

مگر اس وقت بے بسی ہی بے بسی تھی وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ۔۔

وہ اسی میرر سے سر ٹکا کر بیٹھ گئ ۔۔ باسم اور بابا کی شدید یاد آ رہی تھی کسی کو پتہ بھی نہیں چلا ہو گا ۔۔ کہ وہ کڈنیپ ہو چکی ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوری حویلی میں چہل پہل بڑھ گئ تھی عالم عالم تھا چاروں طرف حمائل نے خصوصی کھانا بنایا تھا اماں تو اسپر فدا ہوئے جا رہیں تھیں۔ ۔۔۔ جبکہ عالم ریزرو ہی تھا سب سے ۔۔ بس بس میرا پیٹ اب بھر گیا ہے ۔۔” عالم نے عاجز آ کر حمائل وک روکا ۔۔۔

شاہ بھائ آپ پہلے جسیے اب نہیں دیکھتے تبھی آپکو اچھے سے کھانا چاہیے ” حمائل اس سے پہلی بار بولی تھی ۔۔۔

عالم مسکرا دیا ۔۔۔۔

اچھا بس اتنا ہی” اسنے اسے روکا ۔۔۔

بیٹا شادی پر آتے ۔۔۔” اماں نے کہا ۔۔۔

جی آنٹی” عالم کے جواب پراماں صیام کو دیکھنے لگی جس نے آنکھوں سے روکا کہ یہ سوال نہ کریں۔۔

جبکہ ایکطرف بیٹھی علینہ اپنا سانس روکے عالم ہو دیکھ رہی تھی ۔۔

جبکہ عالم کا رتی بھی دھیان اسپر نہیں تھا ۔۔ صیام

اس سے بات چیت کر رہا تھا ۔۔۔۔

حمائل بھی بیچ بیچ میں بول لیتی ۔۔

یہ لڑکی تو کافی بدل گئ ہے” عالم نے سنجیدگی سے حمائل کو دیکھا اور ۔۔ مسکرا دیا۔ ۔۔ بلکہ حمائل شرما گئ ۔۔

میری توجہ کا اثر ہے”

صیام نے فخر سے کہا ۔۔۔۔

کافی جلدی اثر ہو گیا “

عالم ہنس دیا ۔۔۔۔

علینہ کو لگا اسکی ہونے سے ۔۔جیسے ہر چیز خوبصورت ہو گئ ہو ۔۔۔ البتہ صیام بھی اسکی شخصیت کے آگے دھندلا سا لگ رہا تھا وہ ایک ٹک عالم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلا دن لگ گیا ۔۔۔ مگر ائرہ کی کوئ خیر خبر نہیں ملی اور اسی لیے ۔۔ باسم اور ڈیڈ خود حویلی کے لیے نکل پڑے ۔۔ جبکہ ۔۔۔۔

صیام کو اسکے خاص ملازم نے جلدی سے اٹھایا ۔۔۔

صیام نے کہاں اٹھنا تھا ۔۔ حمائل نے دروازہ بجنے پراسکا دھیان دروازے کیطرف کرایا ۔۔

یار رہنے دو مت جاؤ ۔۔ لیٹی رہو ” وہ اسکو اپنی بانہوں میں قید کرتا بولا ۔۔

حمائل کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔

اٹھ جائیں ہو سکتا ہے شاہ بھائ ہوں ” وہ بولی تو صیام کی آنکھیں پٹ سے کھلیں ۔۔

ویسے انمینرڈ تو نہیں ہے وہ ” وہ شرٹ ڈالتا ۔۔۔ بولا ۔۔۔جبکہ ۔۔۔ حمائل نے خود کو اچھے سے ڈھانپ لیا۔۔۔

خان معافی چاہتا ہوں مداخلت پر مگر ۔۔ جی ایک خونم خون آدمی ملا ہے شہر والے راستے سے ۔۔۔ لوگوں کو اسے حویلی لے آئے ہیں

 

اسنے بتایا ۔۔صیام کے ماتھے پر بل ڈلے ۔۔اسنے سر ہلایا دروازہ بند کیا اور جلدی سے واشروم میں چلا گیا ۔۔حمائل بھی اسکے باہر آنے تک سب ٹھیک کر چکی تھی

 

سب ٹھیک ہے نہ” وہ پوچھنے لگی ۔۔ “

معلوم نہیں” صیام نے کہا اور باہر نکل گیا ۔۔ حمائل بھی خیر کی دعا کرتی فریش ہونے چلی گئ ۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام نےا س آدمی کو دیکھا اس کا چہرہ بری طرح پیٹا گیا تھا تبھی چہرے پر خون تھا ۔۔

کون ہے یہ آدمی” صیام پہچان نہیں سکا ۔۔

عالم بھی وہیں آ گیا ۔۔ ٹراؤزر شرٹ میں ۔۔ بے پناہ وجاہت اور سنجیدگی سمیت ۔۔

زندہ ہے” اسنے پوچھا

ہاں آہستہ چل رہی ہیں سانسیں جاؤ اسے ہسپتال لے جاؤ ۔۔ہوش میں آنے تک بتا دے گا کون ہے” صیام نے حکم دیا تو ۔۔۔۔ اس کے آدمی اس آدمی کو وہاں سے اٹھا کر لے گئے ۔۔

جبکہ عالم اور صیام اس سے پہلے اندر جاتے کے حویلی کے اندر گاڑی آ رکی ۔۔۔۔

ان میں سے باسم اور ائرہ کے والد کو اترتا دیکھ صیام وہیں رک گیا ۔۔۔۔

باسم کو تو ایک بار ہی دیکھا تھا اسنے ۔۔

عالم بھی رک گیا وجہ صیام کا رکنا تھا ۔۔۔

وہ جلدی سے صیام کے نزدیک آئے ۔۔

ائرہ آئ نہیں تو ہم نے سوچا ہم اس لڑکی کو لینے خود ہی لینے آ جائیں ۔۔ضدی بھی ہے کافی وہ تو ” اسکے والد پھیکا سا ہنس کر بولے ۔۔۔

تو ایکدم ۔۔۔ صیام کے دماغ کو جیسے کرنٹ لگا تھا ۔۔

اور اس آدمی کی شکل کی شناخت بھی ہو گئ ۔۔وہ سر تھام گیا ۔۔۔

کیا ہوا بیٹا “ائرہ کے والد اسکے پریشان ہونے پر ایکدم پوچھنے لگے ۔۔۔

انکل ائرہ تو کل صبح ہی چلی گئ تھی یہاں سے ۔۔”صیام کے کہنے کی دیر تھی کہ ۔۔ وہ دل تھام گئے ۔

کیا کہہ رہے ہو یہ تم وہ تو وہاں نہیں آئ پھر کہاں گئ ۔۔ “

رک جاؤ ” اچانک صیام نے ان آدمیوں کو روکا ۔۔

اور اس آدمی وہ جس کو انھوں نے اٹھا رکھا تھا نزدیک لانے کا کہا

عالم یہ تماشہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

کیا یہ ہے ائرہ کا ڈرائیور ” صیام نے پوچھا ۔۔

ہے یہ ندیم ہی ہے مگر اسکی یہ حالت کس نے کی” باسم اب غصے سے بولا ۔۔۔

صیام کے ماتھے پر کئ تفخر کی لکیریں تھیں اسکے وہم وگمان میں بھی اسی کسی حرکت کی امید نہیں تھی ۔

آپ لوگ اندر آ جائیں ” صیام نے وہاں سے اندر جانا مناسب سمجھا ۔

میری بیٹی کہاں ہے” وہ ایکدم چلائے ۔۔۔ جبکہ عالم گھیری سانس بھر کر اندر چلا گیا ۔۔صیام انھیں زبردستی اندر لے آیا جبکہ باسم نے بھی کہا کیونکہ ۔۔ غلط تو کچھ وہ چکا تھا ۔۔۔ مگر وہ باپ تھے اسطرح سکون میں کیسے آ سکتے تھے ۔۔۔۔

تم سچ بتاؤ کیا ائرہ یہاں سے چلی گئ تھی “

افکورس وہ یہاں سے صبح ہی نکل گئ تھی” صیام نے اپنی بات پر زور دیا ۔۔حمائل اماں اور علینہ بھی باہر آ گئیں ۔۔

علینہ تو ائرہ کے غائب ہونے پر ۔۔ جیسے ٹھنڈی ہو گئ جبکہ حمائل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔

وہاں سب متفکر تھے سوائے عالم کے جو سکون سے کافی کا کپ پی رہا تھا سب کو دیکھتے ہوئے جیسے اسے ان باتوں سے کسی کے گم ہو جانے سے کسی کے کھو جانے سے کوئ فرق نہ پڑتا ہو ۔۔وہ بھی تو انھیں جیسی گلیوں میں اپنا آپ کھو چکا تھا اب کسی کے کھو جانے یہ گم ہو جانے سے کیا فرق پڑتا تھا ۔۔۔

اسکے انداز میں بے رحمی سفاکی لاپرواہی کا اکثر تھا وہ سب ۔۔ ایک دوسرے پر چیخ بھی رہے تھے پریشان بھی تھے جبکہ عالم ایک پل کو مسکرایا ۔۔اور اپنا سیل فون نکال کر ۔۔۔ چیک کرنے لگا ۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

2 thoughts on “Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#17”

Leave a Comment

Your email address will not be published.