Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Romantic Revenge Story | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#15

Romantic Revenge Story | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Novel 2022

 Romantic Revenge Story , Novel 2022, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

Web Site: Novelsnagri.com

 

Category : Web special novel 

 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

 

Written by: Tania Tahir

 

#15__قسط

اس وقت میرا موڈ نہیں ہے ۔۔ بات کرنے کا تم جاؤ “صیام نے کہا ۔۔اور ہاتھ میں سے گھڑی اور والٹ

کفلنگز نکال کر ۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔۔۔

صیام تم ایسا کیوں کر رہے ہو ” علینہ نے اسکے بازو کو پکڑا اور اسکے بازو کے ساتھ لگ گئ ۔۔۔

علینہ” صیام نے غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔

میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں “

وہ بولا اور اسکے پاس سے ہٹ گیا ۔۔

یار ہو کیا گیا ہے ۔۔۔۔ تم اتنا دور دور کیوں رہنے لگ گئے ہو ۔۔کل تمھاری بارات ہے ۔۔۔اور تم سوچ بھی نہیں سکتے مجھ پر کیا گزر رہی ہے ” وہ رونے لگی ۔۔۔۔

جبکہ صیام نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔

یار تم اسطرح کی لڑکی تو بلکل نہیں ہو ٹیک اٹ ایزی” وہ اس وقت کسی اور طرف سوچ رہا تھا تبھی علینہ کو کہا ۔۔اور بستر پر بیٹھ گیا ۔۔

علینہ کو اسکا رویہ بہت برا لگا تبھی وہ ۔۔ کچھ دیر اسکے پاس کھڑی ہو کر وہاں سے نکل آئ جبکہ صیام اسکے باہر نکلتے ہی ۔۔۔ پیچھے بیڈ پر گیر گیا ۔۔۔۔

اسکے دماغ میں پہلی بار علینہ کے سامنے ہونے کے باوجود صرف حمائل تھی وہ خود بھی خود پر حیران ہی تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حمائل اور ائرہ کا آپس میں کافی اچھا تعلق ہو گیا تھا ۔۔۔ سارا وقت وہ اسکے ساتھ تھی۔۔ وہ اسکے پاس سے کہیں نہیں گئ تھی ۔۔

آج کے دن حمائل کو مکمل طور پر اسکا بن جانا تھا ۔۔۔

ائرہ کے والد نے اسے کچھ دیر کے لیے بلا لیا تو ۔۔۔حمائل وہاں تنہا رہ گئ کمرے میں وہ شادی کے لباس کو دیکھنے لگی ۔۔ جو ضرورت سے زیادہ بولڈ تھا ۔۔۔

اسنے شاور لے لیا تھا۔۔دل میں عجیب بے ترتیبی سی تھی ۔۔

پیچھلی رات جب وہ اسکے پاس آیا تھا ۔۔۔۔ اور اسکا استحقاق جتانا حمائل دل کی دھڑکنوں کو بہت قریب سے سن رہی تھی کنفیوز سی ہوتی ۔۔ابھی وہ ۔۔۔ ڈریسنگ کیطرف جاتی ہی کہ ۔۔۔ دروازہ کھلا

اسکی دروازے کیطرف سے پشت تھی اسے لگا ائرہ ہو گی ۔۔۔تبھی اسنے کوئ خاص ریسپونس نہیں دیا۔۔

تم تو جلدی آ گئ ۔۔” اسنے کہا مگر پیچھے سے آواز نہیں آئ البتہ اسے محسوس ضرور ہو رہا تھا کوئ قریب آ رہا ہے ۔۔۔

اور جیسے ہی بھاری ہاتھ اسکی کمر سے گزرتا آگے آیا ۔۔۔

وہ تھم گئ۔۔۔

یہ لمس بلکل بھی صیام کا نہیں تھا ۔۔۔ تڑپ کر وہ چیختی دورہوئ تو ارسلان اس کیطرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے ساری زندگی افسوس رہے گا ۔۔ کہ صیام کا تم سے شادی کرنا مجبوری ہے

مگر کچھ نہیں ہوتا سوچ رہا ہوں جب صیام علینہ سے شادی کرے گا تو۔۔تمھیں ڈیورس دے دے ۔۔تو میں تم سے شادی کر لوں گا ” وہ مسکراتا ہوا اسکے نزدیک ایا ۔۔اور اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرنا چاہا

حمائل کا چہرہ زرد پڑ گیا ۔۔۔

اسکا پردہ ختم ہو گیا تھا ۔۔۔

اسکا پردہ توڑ دیا تھا اس آدمی نے۔۔۔

حمائل خوف کے مارے ایک لفظ نہیں بول سکی اسکو لگ رہا تھا ابھی اسکا دل بند ہو جائے گا ۔۔۔

ارسلان اسکے نزدیک آ رہا تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ زرا سا بھی اسکو روک پاتی ۔۔۔ وہ زرد ہوئ کھڑی تھی ۔۔۔اور اچانک کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا ۔۔۔اور کوئ دندناتا ہوا اندر آیا ۔۔۔اور ارسلان کا گریبان پکڑ لیا۔۔

ارسلان نے گھبرا کر عالیان کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

نیچ آدمی ” علیان نے کھینچ کر مکہ ارسلان کے مارا ۔۔

ارسلان نے تپ کر اسکیطرف دیکھا ۔۔

تمھارا مسلہ ہے یہ جاؤ یہاں سے ” ارسلان نے اسے دھکا دیا ۔۔جبکہ عالیان نے اسکا منہ جکڑ لیا ۔۔

صیام نے تمھیں یہاں دیکھ لیا تو شاید تمھاری لاش جائے یہاں سے نکلو ادھر سے “اسنے کہا جبکہ ارسلان ہنسا

اسے بھلا کیا پرواہ اس کی “

ارسلان ” عالیان غرایا اور زبردستی کھینچ کھینچ کر اسے وہاں سے نکال کر لے گیا جبکہ حمائل دم سادے کھڑی تھی اس وقت بھی ارسلان کا لمس اسے اپنی کمر پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ ایکدم واشروم میں بھاگی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ روم میں آئ تو اسے زور زور سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ گھبرا کرحمائل تک پہنچی تو حمائل جیسے دیوانوں کیطرح ری اکٹ کر رہی تھی وہ بار بار خود پر پانی ڈال کر ہاتھوں سے صاف کر رہی تھی ۔۔۔

ائرہ نے حمائل کا ہاتھ پکڑا

کیا ہوا ہے” اسنے جلدی سے اسکو پکڑا ۔۔۔

حمائل کی آنکھیں لال سرخ تھیں جبکہ۔۔۔۔ ائرہ کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا ۔۔۔

حمائل” اسنے حمائل کو پکڑا ۔۔۔

مجھے اسنے چھوا ہے ۔۔ مجھے صیام کے علاؤہ کسی نے چھوا ہے” وہ بری طرح روتے ہوئے بولی۔۔۔۔

ائرہ کے دماغ پر ایکدم کلک ہوا ۔۔

کس نے ” وہ حیرانگی اور تشویش سے پوچھنے لگی ۔۔

ار۔۔۔ارسلان ” حمائل اپنا چہرہ چھانے گئ جبکہ ائرہ کے تو سر پر جا کر لگی ۔۔۔۔

وہ اٹھی اور روتی ہوئی حمائل کو وہاں سے اٹھایا ۔۔۔۔

حمائل لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے اٹھی ۔۔۔اور آئرہ نے اسے چئیر پر بیٹھایا ۔۔

سنبھالو خود کو ابھی کچھ دیر تک تمھیں تیار کرنے آ جائیں گے۔۔” ائرہ سنجیدگی سے بولی تھی حمائل کچھ نہیں بولی ۔۔

ائرہ کچھ دیر اسکے پاس کھڑی رہی ۔۔اور پھرغصے سے بھنتی ہوئی وہ وہاں سے باہر نکلی ۔۔۔۔

اور سیدھا وہ صیام کے پورشن میں آئ تھی ۔۔۔۔

اسکے روم کا دروازہ اسنے بنا کسی کے پوچھے کھولا ۔۔۔صیام بستر پر تھا وہ بنا جھجھک کھائے اندر آ گئ ۔۔۔

صیام نے ایک نظر اسکو دیکھا حیران ہوتا وہ اٹھ گیا ۔

تمھیں تمیز ہے ” وہ غصے سے بولا

تمھیں تمیز ہے کہ اس ارسلان کی اب تک ٹانگیں نہیں توڑ سکے تم ” وہ چلائ ۔۔۔

صیام چونکا ۔۔۔

کیا مطلب” صیام نے سوال کیا ۔۔

وہ گھٹیا انسان ۔۔ ارسلان حمائل کے پاس آیا تھا اور اسکے ساتھ بدتمیزی کر کے گیا ہے اور تم اسکے شوہر ہو اور تمھیں بلکل ہوش نہیں کہ تمھاری ہونے والی بیوی کو وہ کس ذہنی اذیت کا شکار کر رہا ہے” ایرہ بھڑکنے لگی ۔۔ صیام کا چہرہ ایکدم سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔

اور وہ ائرہ کو جواب دیے بنا وہاں سے نکلا ۔۔۔ ائرہ کو کچھ تسلی ہوئ کہ چلو کم از کم اسکو ہوش تو آیا۔۔ وہ فورا اسکے پیچھے نکلی تھی صیام کا رخ ارسلان کے کمرے کی جانب تھا ۔۔ جبکہ ۔۔۔ اسکے تیور بے حد خراب تھے صیام نے دروازے پر لات ماری ۔۔ اور دروازہ کھولا ۔۔۔

ارسلان اورعالیان اندر کھڑے تھے عالیان اسپر غصہ کر رہا تھا ۔۔۔

صیام ایکدم آگے بڑھا اور ارسلان کے منہ پر کھینچ کر ۔۔۔ مکہ مارا ۔۔

تیری جرت ۔۔۔ ” اسنے اوپر تل اسے کئ مکے مارے عالیان خود ہی پیچھے ہٹ گیا کیونکہ اسکے بھائ نے بے حد بہودہ حرکت کی تھی ۔۔

جبکہ صیام نے کچھ ہی دیر میں اسکا حلیہ بگاڑ دیا ۔۔۔

اسنے سیلفون نکال کر ۔۔۔ کال ملائ ۔۔۔

نہیں پولیس کو کال مت کرنا ” ارسلان کو نئ فکر لاحق ہوئی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ صیام نے اسکے منہ پر تھپڑ کھینچ کر مارا۔۔۔

تیری اوقات میں خود نکالوں گا ۔۔

مجھے کسی پولیس وولیس کی ضرورت نہیں” وہ دھاڑا ۔۔۔

اور اسکا گریبان پکڑ کر اسے کھینچ کر باہر نکالا ۔۔۔ باہر بہت سارے لوگ تھے یہاں تک کے چاچا چچی بھی ارسلان کو یوں گھسیٹ کر صیام کو لاتے دیکھ ۔۔ سب ایکدم الرٹ ہوئے ۔۔ چاچو نے تو غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔

یہ کیا کر رہے وہ تم میرے بیٹے کے ساتھ” چچا بولے تو صیام نے انکے آگے اسے پھینک دیا ۔۔۔

یہ تو اسکو ۔۔ یہاں سے غائب کر دو ورنہ اسکو میں ایسا غائب کروں گا کہ دوبارہ کسی کو شکل نہیں دیکھائے دے گی ” وہ چلایا۔۔

ائرہ نے حمائل کو ۔۔ نیچے ہونے والے معاملے کو دیکھنے پر فورس کیا تھا حمائل دروازے کی اووٹ میں سے ۔۔ نیچے اسکا چلانا اور غرانا دیکھ رہی تھی ….

کیسے وہ اسکے لیے بول رہا تھا ۔۔۔

کیا کیا ہے اسنے”چچی ارسلان کے پاس آئ اور اسکو اٹھایا جبکہ غصے سے ۔۔ صیام کو دیکھا ۔۔۔

اسکے ارمانوں کو میں اچھے سے ٹھنڈا کر دوں گا آج کے بعد میری بیوی کے پاس بھی پھٹکا تو یہ”وہ لات مارتا اسے بولا ۔۔جبکہ سب نے حیرانگی سے ارسلان کو دیکھا تو ارسلان شرمندہ سا رہ گیا جبکہ علینہ لفظ بیوی پر ٹھر گئ ۔۔۔

اور صیام کو حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔۔ جس کو رتی بھی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب گھر والوں نے جب ساری بات سن لی تو ارسلان پر تھو تھو ہونے لگی کہ کیسا تھا وہ اسکو تانے دیے گئے جبکہ ۔۔۔ باقی سب اسکے گھر والے بھی شرمندہ تھے ۔۔۔

اماں نے تو بیٹے کو پیار کیا کہ وہ حمائل کے لیے کتنا خیال اور پرواہ اپنے دل میں رکھتا تھا ۔۔۔۔۔

صیام جب کہ کسی سے نہیں بولا تھا ۔۔۔۔۔

یہاں تک کے سب نے چچا سے کہہ کر ارسلان کو واپس بھیجوا دیا تھا ۔۔۔

صیام کا موڈ بری طرح آف تھا کہ وہ اتنا لاپرواہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔ کہ اسےخبر ہی نہیں تھی کہ اسکے گھر میں اسی کی بیوی کو تحفظ نہیں مل رہا تھا۔۔۔

بارات کے لیے تیار ہوتے ہوئے وہ مسلسل ۔۔۔ بیڈ کو گھور رہا تھا کچھ لمہوں میں وہ اسکے لیے اس بیڈ پر منتظر بیٹھی ہوتی ۔۔۔

کیا اسکے دل میں حمائل کے لیے کوئ جزبات پیدا ہوئے تھے کیا ۔۔۔ وہ اس بات کو بھول سکتا تھا کہ وہ جانتا تک نہیں کہ وہ کس کی بیٹی ہے ۔۔۔اور کیا وہ اماں کی خواہش پوری کر سکے گا ۔۔۔

کیا ایسا ممکن تھا کہ وہ۔۔۔ اماں کی خواہش پوری کراتا اور اپنی نسل کو حمائل سے چلاتا ۔۔۔

یہ سب باتیں اسکے دماغ کو تھکا چکیں تھیں اسے ضرورت تھی عالم کی وہ اسے دل سے مس کر رہا تھا اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہاں ہوتا تو لازمی ۔۔۔ اسکے منہ پر دو چار مکے برسا کا ہوتا اور دس ہزار تانے دیتا کہ محبت کی قدر نہیں ۔۔۔

وہ سر جھٹک کر باہر نکلا تو اماں نے اسکے سر پر سے کئ پیسے وار دیے انکے چہرے کی خوشی نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا۔۔۔

جبکہ وہ اسے باہر لے ائیں حویلی ہی اتنی بڑی تھی کہ کسی دوسری جگہ انتظام کرنے کا سوچا ہی نہیں تبھی وہ وہاں سے باہر لون میں آ گیا یہاں ۔۔۔ عورتوں کا ہجوم تھا جو اسکواچک اچک کر دیکھ رہیں تھیں جبکہ وہ اماں کے ساتھ کھڑا تھا تصویریں کھینچی جا رہیں تھیں ۔۔اچانک اسے اپنے ہاتھ پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا تو اسنے مڑ کر دیکھا وہ علینہ تھی ۔۔سنج دہج چہرے سے کھڑی تھی اسنے گھیرہ سانس بھرا اچانک اسکے مزاجوں میں اتنی تبدیلی کیوں آ گئ تھی وہ سمھجہ نہیں سکا تھا ۔۔۔۔

اسنے علینہ کو کوئ بھی تسلی دیے بنا چہرہ موڑ لیا اور دوبارہ سامنے کی جانب متوجہ ہوا۔۔ عورتوں نے ۔۔۔ اسکو راستہ دیا وہ چلتا ہوا سٹیج پرآ گیا سب ہی جانتے تھے کہ دونوں کا نکاح ہوچکا ہے تبھی ۔۔۔ نکاح کی رسم تو ہونی نہیں تھی ۔۔۔ اسکا منہ میٹھا کرایا جا رہا تھا۔۔

تقریبا بیس سے پچیس منٹ تک وہ تنہا بیٹھا رہا اور عورتیں اسکے ہاتھ میں پیسے رکھتی گئیں جبکہ مرد الگ بیٹھے تھے اور جیسے ہی حمائل کے آنے کا شور اٹھا وہ وہاں سے اٹھ کر مردانے کیطرف آ گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسمان سے اتری کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔

ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی حور اتر آئی ہو وہ جس نے سرخ لباس پہن لیا وہ جس کے چہرے پر مدھم مسکراہٹ نے چارو جانب روشنیاں بکھیر دیں ہوں ۔۔۔

جیسے لون کی چمک بڑھ گئ ہو ۔۔عورتیں اسکی بلائیں لے رہیں تھیں جبکہ علینہ کو یہ منظر بلکل ہضم نہیں ہو رہا تھا وہ اسے زہر سے بھی زیادہ بری لگ رہی تھی جبکہ آئرہ ۔۔ آج وہ حمائل کو بھی پیچھے چھوڑ چکی تھی سفید لباس میں ۔۔ ناک میں صرف نتھ ڈالے وہ ۔۔ گولڈن بالوں کو سٹیٹ چھوڑے اپنے یاقوتی حسن سے وہاں موجود سب لوگوں کو حائل کر رہی تھی کہ قیصر کی نگاہیں اسپر ٹھر گئیں قیصر کی ہی نہیں بلکہ سب جو عورتوں کیطرف کھانا رکھوا رہے تھے سن ہوئے اسکودیکھنے لگے ۔۔

وہ مقناطیس کیطرح سب کو اپنی طرف جیسے کھینچ رہی تھی اور اور اسپر لاپرواہی غضب تھی ۔۔

وہ ہنس رہی تھی کھلکھلا رہی تھی قیصر سن سا ہو گیا آج سے پہلے اسے کوئ لڑکی اسطرح ساکت نہیں کر گئ تھی ۔۔۔

حمائل کو چھوڑتے ہوئے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

حمائل البتہ کانپ رہی تھی ۔۔۔

اسنے ائرہ کو غصےسے دیکھا۔۔۔۔

لو آج تو سب سے زیادہ تمھیں ہی تنگ کرنے کا دن ہے ” ائرہ نے ڈھٹائی سے کہا اماں ہنس دی ۔۔

آئندہ نے حمائل کا منہ میٹھا کرایا اور اسے بہت سارا پیار کیا ۔سب عورتیں اسکی شرارتوں پر مسکرا رہیں تھیں یہاں تک کے لڑکیاں بھی ۔۔ صرف علینہ ہی اسے حسد بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

اسے حمائل تو زہر ہی لگ رہی تھی اور اب ائرہ میں بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔۔

کھانا کھل گیا ۔۔۔ لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا ۔۔اور مزے کی بات یہ تھی کہ دولہا خود اپنی شادی کا کھانا کھلا رہا تھا لوگوں کو ۔۔ سب نے ہی اسے بیٹھنے کا کہا اسکے ہزاروں ملازم تھے مگر وہ سب مہمانوں کو خود اونر دے رہا تھا ۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد سب مرد بھی لیڈیز کیطرف آ گئے۔۔۔ کیونکہ اب دولہا آنے والا تھا ۔۔۔

صیام عالیان اور قیصر کے ساتھ ۔۔ لیڈیز کیطرف آ گیا ۔۔۔

دودہ پلائی کی رسم کے لیے ائرہ بلکل تیار کھڑی تھی

صیام بلکل اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا

حمائل گھبرا کرکچھ فاصلہ بنا گئ جسے صیام نے محسوس کیا ۔۔۔

سب عورتیں ایک دوسرے پر چڑھیں چاند سورج کی جوڑی دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔

جبکہ لڑکیاں بھی حمائل کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔

آئرہ نے صیام کے آگے دودھ کا گلاس کیا ۔۔

صیام نے آئرہ کو دیکھا وہ سنجیدہ تھی صیام نے بھی گلاس تھامنا چاہا مگر ائرہ ۔۔ جیسی چیز اسے زیچ کیے بنا بعض کیسے آتی ۔ اسنے فورا گلاس پیچھے کھینچ لیا ۔۔

جبکہ سب کے قہقہوں نےصیام کو غصہ دلا دیا اسنے تپ کر ائرہ کو دیکھا۔۔۔ کول ڈاؤن کول ڈاون ۔۔۔۔چلو خالی کرو اپنی جیب پانچ لاکھ روپے دو مجھے تبھی دودھ ملے گا”

صیام نے اسے گھور کر دیکھا۔۔

یہ گلاس دو سو کا بھی نہیں” وہ چیڑ کر بولا ۔۔۔

تو حمائل بھی دو سو کی نہیں ہے تم شرافت سے پیسے نکال رہے ہو یہ نہیں ویسے میں بلیک بیلٹ ہوں “ائرہ نے دانت نکالے۔

تم جان تو گئے ہو گے”وہ کچھ جھک کر بولی حمائل اسکی ساری بات سن رہی تھی ۔۔اسنے ترچھی نظروں سے ائرہ کو دیکھ کر رونا چاہا مگر ائرہ نے اگنور کر ریا۔۔۔۔۔۔

صیام نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

 

ہاں تمھارے جیسے جنگلی چیز سے امید ہے کہ تم بلیک بیلٹ ہو سکتی ہو مگر پانچ لاکھ اتنی تمھاری شکل نہیں” صیام نے ٹکا سا جواب دیا ۔۔۔

ائرہ نے ۔۔ بھڑک کر حمائل کو دیکھا۔۔ اپنے شوہر سے کہو مجھے پیسے دے ورنہ یہ گلاس اسپر انڈل دوں گی” ائرہ نے دھمکی دی صیام کو کہاں فرق پڑتا تھا جبکہ حمائل اور پریشان ہو گئ کوئ بعید نہیں تھی وہ کر جاتی۔۔

 

پلیز دے دیں نہ” حمائل نے کہا ۔۔ توسب ہنسنے لگے ۔۔ جبکہ وہ شرم سے لال ٹماٹر ہوگئ ۔۔سب ہی انکی نوک جھوک انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔ قیصر کی تو نگاہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

 

اور حمائل کے کہنے پر صیام نے پانچ لاکھ کا چیک نکال کر اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔ آئرہ تو بے حد خوش ہو گئ جبکہ ۔۔ سب نے تالیاں بجائ۔۔۔

 

یار سنو ۔۔۔۔ علینہ تم بھی تو صیام کی بہن ہو ڈھائ تم رکھ لینا “ائرہ نے جان بوجھ کر چٹکی کاٹی علینہ تلملا گئ جبکہ صیام نے بھی نفی میں سر ہلایا۔۔۔

 

مجھے ضرورت نہیں ۔۔۔”وہ تن فن کرتی وہاں سے چلی گئ جبکہ ایرہ نے شانے آچکا دیے ایسے گویا جانتی ہی نہ وہ ۔۔کہ کتنی بڑی تیلی لگائ تھی اسنے۔۔

 

کچھ دیرمزید شوخ شرارت ہونے کے بعد ۔۔اماں نے آئرہ سے حمائل کو اندر لے جانے کا کہا

تو ائرہ نے حمائل کو اٹھایا۔۔

 

جبکہ صیام وہاں سے اٹھ کر مردوں کیطرف چلا گیا۔۔

حمائل ائرہ کو لے کر ۔۔ اندر آ گئ ۔۔کچھ خواتین وہیں سے رخصت ہو گئ کچھ اب بھی موجود تھیں اماں تو تھک گئیں تھیں تبھی نیچے ہی بیٹھ گئیں جبکہ ائرہ حمائل کو صیام کے پورشن میں لے آئ ۔۔۔ جہاں اسنے اسے سجے ہوئے بیڈ پر بیٹھایا ائرہ تو حمائل کو مسلسل چھیڑ رہی تھی جبکہ حمائل صرف کانپ رہی تھی۔۔

اسکو آج سے پہلے اتنی گھبراہٹ کبھی محسوس نہیں ہوئ تھی جتنی اب ہو رہی تھی ۔۔۔

وہ غصے سے ائرہ کو دیکھ رہی تھی اسپر غصہ بھی کرنا چاہتی تھی مگر ۔۔ ایسا نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔

اچانک باہر شورسا اٹھا اور اسنے ائرہ کو دیکھا ۔۔

ائرہ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”وہ رو دینے کو ہوئ ۔۔

اس دن تونہ لگا میسنی گھنی تمھیں” ائرہ نے کہا تو حمائل سرخ پڑ گئ سر جھکا لیا ۔۔

ائرہ کا ہو اٹھا جبکہ باہر صیام کو پتہ چل گیا وہ چڑیل اندر ہے۔۔

فکر نہ کرو ریلکس رہو “وہ اسکے گال کو پیار سے چھوتی بولی۔

ابھی تمھارے دولہےکی تھوڑی اور جیب خالی کرنی ہے مجھے۔۔

ائرہ نے کہا اور باہر آ گئ دروازہ کھل کر وہ آرام سے کھڑی ہو گئ ۔۔

تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے”صیام بھڑکا ۔۔۔

دیکھو کیسے بھڑک رہا ہے دولہا”اسنے ساری لڑکیوں کے ساتھ اسکی بے عزتی کر ڈالی اور مزے سے ہنسنے لگی ۔۔۔

میری بدعا ہے تمھیں تمھارے سے چھ ہاتھ آگے دولہا ملے”صیام نے کڑے تیروں میں اسکو دیکھا ۔۔

ہم دیکھ لیں گے فلحال تم بتاؤ اندر جانے کا کتنا دو گے”

کیا بکواس ہے ابھی پانچ لاکھ کس لیے لیے ۔۔۔

اسلیے کیونکہ پانچ لاکھ اور بھی تو لینے تھے”وہ ہنسی ۔۔۔

بس بند کرو اپنی بتیسی اور سئایڈ پر ہو “صیام نے کہا ۔۔۔

درحقیقت وہ تھک بھی گیا تھا ۔

تبھی اندر جانا چاہتا تھا مگر اسکو سامنے سے کون ہٹاتا ۔۔۔

ائرہ نے ہتھیلی آگے کی۔۔

شاباش جلدی دو نکالو پیسے ” وہ بولی تو صیام اپنی تھکاوٹ کے باعث اسکے ہاتھ میں بلینک چیک دے گیا ۔۔۔

واا یار تم توکچھ زیادہ ہی عاشق ہو اسکے” ایرہ قہقہہ لگا کر سائیڈ پر ہو گی ۔۔

یہ وقت بھولوں گا نہیں دیکھ لینا ” وہ گھور کر بولا ۔۔ اور کھینچ کر دروازہ بند کر دیا ۔۔

بدتمیز “ائرہ نے گھور کر دیکھا

اور وہاں سے باقی سب کے ساتھ ہٹ گئ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام اندر آیا نظر حمائل پر گئ وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔

صیام نے شیروانی اتاری اور بیڈ پر پھینک دی جبکہ واشروم میں چلا گیا حمائل کا تو دم نکل چکا تھا ۔۔۔

وہ صیام کو دیکھ رہی تھی جس کی موجودگی سے ہی اسکے ہاتھ پاؤں کانپ اٹھے تھے ۔۔۔

صیام باہر آیا ۔۔۔اور حمائل کو دیکھا ۔۔ نظر اسکے کانپتے ہاتھوں پر پڑی ۔۔۔

اور وہ اسکے سامنے آ کر بیٹھ گیا ۔۔

حمائل کے لیے یہ لمہے جان لیوا تھے ۔۔۔۔

اسکا سر اور نظریں جھک چکیں تھیں ۔۔۔

صیام نے اسکی ٹھوڑی پکڑ کر سراونچا کیا

حمائل کی نظریں اب بھی نیچے تھیں

اسنے تمھیں چھوا بھی تھا” صیام کی کڑک آواز پر اسکا جسم کانپنے لگا ۔۔۔۔

وہ خاموش رہی صیام نے اپنی انگلیوں سے اسکے چہرے پر پکڑ مظبوط کی۔۔

اسنے تمھیں چھوا تھا یہ نہیں “وہ بھڑک کر پوچھنے لگا ۔۔

چ۔۔ چھوا تھا “حمائل بولی بھیگی پلکیں اوپر اٹھائیں وہ اب بھی اسے تکلیف دینے کا ارادہ رکھتا تھا کیوں آخر کیوں ۔۔۔

صیام نے ضبط سے اسکو دیکھا ۔۔

کہاں” سوال کیا ۔۔۔

حمائل نے حلق میں سانس اتارا۔۔۔۔

ک۔۔کمر پر ” وہ بتانے لگی ۔۔۔

 

صیام نے اسے کھینچ کرکھڑا کیا ۔۔

حمائل بھاری لہنگے کو سنبھالتی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

جبکہ صیام نے پیچھے سے اسکے لہنگے کے ہوق الگ کر دیے ۔۔۔

حمائل سن سی رہ گئ۔۔۔

جبکہ اسکا پین ہوا دوپٹہ ۔۔ کھینچ کر وہ اسے واشروم میں لے گیا۔۔

اپنے ہاتھ سے وہ اسکی کمر پر سے اس گھٹیا آدمی کا لمس ہٹانے لگا..

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

 

1 thought on “Romantic Revenge Story | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#15”

Leave a Comment

Your email address will not be published.