Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Romantic Story 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#16

Romantic Story 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir Novels | Ep#16

 Romantic Story 2022, Novel 2022, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

 

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode #16

 

حمائل کچھ لمہے تو اسکا یہ انداز سہتی رہی اور اسکے بعد اسکے ہاتھ جھٹک دیے وہ پوری طرح گیلی ہو چکی تھی صیام کو بھڑک کر دیکھا پہلی بار وہ خود میں اتنا غصہ محسوس کر سکتی تھی ۔

حمائل کچھ فاصلے پر کھڑے صیام کے نزدیک گئ اور سرخ نظروں سے اسکا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔۔

آپ اپنی دنیا میں اتنے مگن تھے کہ آپکو پتہ نہیں چلا میں کس اذیت میں ہوں اور آج جب آپ نے دیکھ لیا کہ مجھے کسی اور نے چھوا ہے تو آپ ایک بار پھر اپنا جنون مجھ پر نکالنے لگ گئے ہیں سمھجتے کیا ہیں آپ خود کو میری محبت کو آپ نے ذلیل کر کے رکھ دیا صیام مجھے بس اب آپ سے ڈر لگتا ہے

اور کچھ نہیں مجھے ڈر لگتا تھا اس رخصتی سے کہ آپ  میرے وجود کو حقیر کر دیں گے ۔۔۔ آپ کی نظریں مجھ سے ایک ہی سوال کریں گی اور وہ یہ کہ میں ہوں کون کس کی بیٹی ہوں مجھے خوف محسوس ہو رہا تھا اس رخصتی سے ۔۔

آپکے دیکھنے سے میرے دل میں موجود آپکے لیے محبت کب خوف میں بدل گئ ہے۔۔آپ کیطرف دیکھتی ہوں تو دل لرز جاتا ہے کہ نہ جانے یہ نظریں کیا سوچ رہی ہوں گی ۔۔

میں نے آپکو ہزار بار بتانے کی کوشش کی کہ ارسلان ۔۔۔ کیا ہے مگرآپ نے نہیں سنا آپ نے اسکو میرے ساتھ بھیج دیا ۔۔

کم از کم مجھ پر اتنا تو یقین رکھتے کہ ۔۔ میں حقیر ہوں ۔۔آپکے مقابلے میں کچھ نہیں تو ایک لڑکی تو ہوں جو اپنی عزت کسی ایسے مرد کے ساتھ محفوظ نہیں سمھجہ رہی ۔۔ تو کوئ وجہ تو ہو گئ آپ نے

مجھے اسکے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔

آپ نے جاننے کے باوجود اس گھر میں اسکا آنا بند نہیں کیا ۔۔۔

درحقیقت آپ غیرت مند نہیں ہیں” وہ اسے پیچھے دھکیلتی پھوٹ پھوٹ کر روتی ۔۔اپنے اندر موجود سارا غبار نکال رہی تھی ۔۔۔۔

مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا ” صیام ساکت نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ حمائل نے یہ آخری لفظ اسے کہے اور وہاں سے نکل گئ ۔۔

اور جیسے ہی صیام کو احساس ہوا کہ وہ کمرے سے بھی نکل رہی ہے وہ ایکدم باہر بھاگا اور باہر نکلتی حمائل کا ہاتھ جکڑا اور اسے پیچھے کھینچ کر دروازہ بند کر دیا ۔۔

پاگل ہو تم افسانہ بنانا چاہتی ہو میرا “

اب بھی اپنا ہی خیال ہے میرا نہیں ہے اور میرا ہو بھی کیسے میرے ہونے نہ ہونے سے فرق ہی کب پڑتا آپکو ” وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی ۔۔

انف کب سے تمھاری بکواس سن رہا ہوں ۔۔۔ تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ۔۔ تم بک بک کرتی رہو گی” وہ اسکا ہاتھ کھینچ کر کمرے کے بیچ میں اسکو دھکیلتا بولا ۔۔۔۔

حمائل نے آنسو صاف کیے اور اسکیطرف دیکھنے لگی ۔۔۔

دونوں چند لمہے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے وہ سرخ چہرے سے اسکودیکھ رہی تھی میکپ مٹا مٹا سا ہو گیا تھا ۔۔اور پھر حمائل اسکی نظروں سے دور ہو گئ ۔۔

وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئ صیام جبکہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر ۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ گیا کچھ ہی دیر میں وہ ہلکے پھلکے لباس میں باہر ائ ۔۔ اور واشروم میں چلی گئ ۔۔

واشروم سے منہ دھو کر نکلی تو وہ اب بھی وہاں بیٹھا تھا ۔۔۔ حمائل باہر نکل کر صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔

تم یہ فضول اٹیٹیوڈ دیکھانا بند کرو گی” وہ اسکے سر پہنچا ۔۔ جو صوفے پر لیٹنے لگی تھی ۔۔

صیام میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی میں اتنا جانتی ہوں کہ میں اس گھر میں اس دنیا میں ۔۔۔ تنہا ہوں ۔۔۔ اور تنہا ہی مر جاؤ گی ایک دن ۔۔آپ کا بھی مجھ سے عارضی رشتہ ہیں تو اسکو عارضی ہی رکھں گے ٫ وہ بنا ڈرے بولی آج صیام کے رویے نے اسے نئے سرے سے تکلیف دی تھی ۔۔ اسکے زخموں پر سب جان کر مرحم رکھنے کے بجائے وہ ۔۔ اسکو پھر سے یاد دلا کر اور اس طرح رویہ رکھ کر ۔۔۔ اسے مزید تکلیف دے چکا تھا ۔۔۔

اسکی آنکھیں بار بار بھیگ رہیں تھیں ۔۔۔

میں تم میں اور خود میں کچھ بھی عارضی نہیں رکھنا چاہتا ہم نے یہ رشتہ شروع کیا ہے اور ڈیفینیٹلی میں نے یہ رشتہ اماں کی مرضی سے بنایا ہے ۔۔۔ اور جو وہ چاہتی ہیں میں انھیں کی خواہش پوری کرنے چاہتا ہوں ہیں ۔۔ تو بہتر ہے ۔۔اپنے رویے کو درست کرو اور بیڈ پر جاو میں فریش ہو کرآ رہا ہوں۔”

صیام کیا میری کوئ زندگی نہیں ہے اماں مجھے آپ سے زیادہ عزیز ہیں ۔۔ مگر میں کیا کروں ۔۔ کیا آپکو نہیں لگتا میں جیتا جاگتا ایک انسان ہوں ۔۔ جس کو مسلسل آپ اپنے رویوں اور باتوں سے ٹیز کر رہے ہیں” وہ سسکنے لگی ۔۔۔

میں ایسا کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔ بہتر ہے جو کہا ہے تمھیں وہ کرو ۔۔”

میں آپکی کسی خواہش کو نہیں مانو گی جو آپکا دل کرتا ہے وہ کریں” وہ صاف لہجے میں کہہ گئ محبت نے عجیب ۔۔کھیل رباعیاتِ تھا وہ ۔۔ گھٹ گھٹ کر جینے لگی تھی ۔۔آخر کب تک وہ اسطرح جیتی ۔۔۔

صیام اسکی دلیری پر۔۔۔ حیران تھا اور اسے اندازا ہو گیا تھا کہ تین دن سے وہ آئرہ کے ساتھ تنہا ور یہ اسی کی دی ہوئی دلیری تھی ۔۔

اگر تمھیں یہ لگ رہا ہے ۔۔ کہ اس لڑکی کے ساتھ رہ کر مجھے تم ۔۔ ڈنڈے سے ہانکو گی تو وہم ہے تمھارا ” وہ بھڑکا ۔۔اور اسکے شانے تھام لیے سختی سے ۔۔۔۔

حمائل حلق میں سانس اترتی اسے گھورنے لگی ۔۔۔۔۔

صیام اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔

دل کی دنیا بدل رہی تھی۔۔۔ یہ بات اسکو کیسے بتاتا ۔۔ آنا اڑ رہی تھی ۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں میں تکلیف دیکھ کر۔ وہ جھکا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ یوں ہی صوفے پر بیٹھی تھی اور سامنے صیام کھڑا تھا ۔۔حمائل خود کو رونے سے باز رکھ رہی تھی ۔۔

صیام جھکا اور اسکی جلتی آنکھوں پر اپنا لمس چھوڑا نرم لمس نے۔۔۔۔ حمائل کو جیسے تپتی دھوپ سے ایکدم کھینچ کر ۔۔۔ باہر نکالا تھا ۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کر گئ جبکہ آنکھوں سے ۔۔ آنسو بہنے لگےلبوں سے سسکیاں نکلنے لگی ۔۔

آپ صرف مجھے اپنی اخواہش کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں” وہ بولی ۔۔صیام جو آنکھیں بند کیے اسکے نرم لمس میں گم تھا ۔۔ ایکدم آنکھیں کھول گیا ۔۔

دماغ خراب ہے تمھارا “بھڑکا اور اس سے دور ہوا ۔

اسکے علاؤہ تو اور کوئ حقیقت نہیں ۔۔۔۔کیونک ہہ بات تو میں باخوبی جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے “وہ جتا کر بولی ۔۔

اگر محبت کر لیتے تو اتنے سخت دل نہ ہوتے “اسنے کہا ۔۔اور اسکے پاس سے اٹھ گئ ۔۔

میں باہر جانا چاہتی ہوں “حمائل پھر دروازے کے پا س آگئی ۔۔

جبکہ صیام کی ہمت جواب دے گئ تھی اسنے۔۔ کمرے کی لائٹس پر ہاتھ مار کر بے حد غصے سے لائٹس بند ہیں ۔۔ حمائل نے گھبرا کر ۔۔ ادھر ادھر دیکھا تو کمرے میں زیرو بلب کی روشنی پھیل گئ ۔۔۔

حمائل اس خمار زدہ ماحول کو ابھی محسوس ہی کرتی کہ کسی کا ہاتھ اسکی کمر میں پھیلا اور اسکو اچکا کر صیام نے کندھے پر ڈال لیا ۔۔

صیام” وہ چیخی ۔۔

صیام چھوڑیں مجھے” اسنے نیچے اترنا چاہا مگر صیام نے اسے بیڈ پر لا کر پٹخا۔۔۔اور اندھیرے میں حمائل اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔

حمائل نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر صیام نے ۔۔اسکا پاؤں کھینچ کر اسے دوبارہ اسی پوزیشن میں گیرہ لیا اور اسکے دونوں احتجاج کرتے ہاتھوں کو اسنے ۔۔ ایک ہاتھ میں لے کر اسکے سر کے اوپر باندھ دیے ۔۔اور ۔۔ اسپر اچانک ہی حملہ آور ہو چکا تھا ۔۔ وہ ۔۔اسکو اپنے شدت سے بھرپور لمس سے خیر کرا رہا تھا ایسے متعارف کرا رہا تھا

 کہ اسکی محبت کا رنگ اسپر ۔ کیسے چڑھے گا ۔۔ کیسے ۔۔وہ ۔۔۔ اسکے لمس سے نکھرے گی ۔۔۔

حمائل کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل ترین تھا وہ بھی تب جب اسکے دل میں یہ احساس تھا کہ وہ محبت نہیں کرتا اس سے ۔۔۔۔

آج آپکو احساس ہو گیا کہ حمائل سے ہی آپکی نسل چلے گی” اسنے دانتوں میں لب دباتےاسکی شدت بھرےلمس کو سہتے۔۔۔ کہا ۔۔

صیام نے سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا ۔۔

ہاں میرے بچوں کی ماں تم ہی بنو گی ۔۔۔۔ کیوں کہ میں چاہتا ہوں میرے ۔۔ڈھیر سارے بچوں کو تم ہی پالو۔۔”

وہ اسکی شناسوں کو روکتا جیتا گیا۔

حمائل نے اس سے دور ہونا چاہا ۔۔۔

مجھے مزید بکواس نہیں چاہیے ۔۔ یہ تو میرا ساتھ دو ورنہ چپ رہو ” وہ سختی سے بولا ۔۔

حمائل چپ ہو گئ ۔۔آج بھی من مانی اسنے اپنی ہی کی تھی جلد ہی وہ اسکے حواسوں پر چڑھانے لگا اور۔۔ حمائل کو سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسے جانا تھا بابا نے کہا تھا کل ہی جانا ہے تبھی وہ ۔۔ صبح صبح نیند نہ آنے کے سبب ۔۔۔۔ ایسے ہی گاؤں میں گھومنے نکل پڑی ٹھیک سے صبح بھی نہیں نکلی تھی ۔۔ تیز ہوا سے اسے جھرجھری سے

آئ تو اسنے اپنے سلیولیس شولڈرز پر چادر ڈال لی اور وہ کھیتوں کیطرف آ گئ ۔۔

صبح کی کرنیں پہلی بار نکلتے دیکھیں تھیں ۔۔

وہ ان کرنوں کو دیکھنے میں مگن تھی ۔۔ کہ اچانک فائرنگ کی اوازپر بھلا کر وہ نیچے بیٹھ گئ ۔۔

اتنے خاموش پرسکون اور حسین ماحول میں یہ شور بہت برا لگا تھا ۔۔ وہ کمزور بلکل نہیں تھی اپنا دفاع کرنا جانتی تھی ۔۔ نہ ہی ان بندوقوں اور گولیوں سے ڈرتی تھی ۔۔۔تبھی چند لمہوں میں وہ اٹھ کھڑی ہوئی ادھر ادھر دیکھنے لگے ۔۔ کون تھا جس نے بندوق چلائ تھی یہاں دور دور تک کوئ نہیں تھا یعنی ارد گرد کوئ تھا جو اسے دیکھ رہا تھا ایک بار پھر گولیوں کہ آواز آئ ۔۔ تو وہ بنا ڈرے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔

اور اچانک ایک قہقہہ اٹھا اسنے قہقہے کے تعاقب میں دیکھا گھوڑے پر ایک مرد سوار تھا اور وہ ہنس رہا تھا ائرہ نے کچھ جھنجھلا کر اکسیطرف دیکھا یہ مداخلت پسند نہیں آئ تھی تبھی اسنے ۔۔۔۔ بنا ڈرے اور بے سرایت سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔

مجھے لگا ابھی تم یہاں سے بھاگ جاؤ گی ۔۔۔ ” تیمور جو شکار پراسطرف آیا تھا ایک لڑکی کو دیکھ کر وہیں رک گیا ۔۔ کیا حسین لڑکی تھی ایسی لڑکی شاید اسنے کہیں نہیں دیکھی تھی ۔۔۔ کہاں اروش جو اسکا حسن تھا ۔۔ حوروں جیس شفاف آنکھوں کو بے ایمان کر دینے والا ۔۔ لبوں کی لالی اور بالوں کے خم میں چھپی نزاکت وہ تو یوں ہی دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ اروش کے بعد گاؤں کی نہ جانے کتنی لڑکیوں سے دل بھالا لایا تھا کتنوں کی عزت تار تار کر دی تھی مگر ایسا دلکش حسن تو کہیں میسر نہیں آیا تھا کہ وہ ٹھر جاتا۔۔۔

 

نہ اروش کو دیکھ کر کبھی اسکو ایسا محسوس ہوا تھا ۔۔

مجھے لگا تم بھاگ جاؤ گی ” تیمور نے قس سے بات کرنے کا سوچا اور گھوڑے سے اترا ۔۔ ائرہ خاموش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کون ہو تم” اسنےسوال کیا تیمور ہنس دیا ۔۔

وہ سامنے آیا گاؤں ں کا سردار ” تیمور نے زرا فخر سے روعب ڈالنے والے انداز میں کہا کہ وہ اس سے ایمپریس ہو ۔۔ مگر ائرہ نے نگاہ پھیر لی ۔۔۔

شکل تو سرداروں والی نہیں لگ رہی ۔۔۔” وہ کہاں کسی سے ڈرتی تھی ۔۔۔۔ منہ پھٹ تو تھی ہی ۔۔ جواب دے دیا ۔۔تیمور نے سنجیدگی سے اسکو دیکھا۔

توکیا ہے میری شکل ” تیمور سختی سے پوچھنے لگا جبکہ وہ گھوڑے کے پاس

ائرہ سے تقریبا کچھ قدم دور کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

چوروں جیسی ” ائرہ نے اپنے گولڈن بالوں کو جھٹکا دیا اور اسکے نزدیک خود آ گئ ۔۔اسکی شال سرک گئ تھی دودھ کی مانند چمکتا شانہ تیمور کی نظروں میں آ گیا ۔۔۔۔

جیسے کسی رازکو دبائے بیٹھو ہو ۔۔” وہ اسکے بلکل نزدیک آ کر بولی ۔۔۔ اور طنزیہ ہنس دی ۔۔اور جانے لگی۔۔۔

تیمور نے اسکی کلائی جکڑ لی ۔۔

لڑکیوں کو اتنا بولڈ نہیں ہونا چاہیے ۔۔سخت زہر لگتی ہیں ” تیمور نے تجزیہ بتایا جبکہ کلائ پر گرفت سخت سے سخت تر تھی ۔۔

اسے شاید یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ائرہ بھی روئے گی چلائے گی اس سے بھیک مانگے گی ۔۔۔ اور وہ اسے بلیک میل کرے گا ۔۔ اور بھی بہت کچھ ۔۔۔

مگر وہ جانتا نہیں تھا وہ لڑکی نہیں افلاطون تھی۔۔۔

ائرہ نے اپنے ہاتھ پر اسکی سخت گرفت دیکھی اور اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔

ائرہ کی آنکھوں میں وہئ خوف نہیں تھا ۔۔

ہاتھ چھوڑومیرا ” دو ٹوک بولی ۔۔۔۔

نہ چھوڑوں تو ” وہ مسکرانے لگا خباثت سے پکڑئں ۔۔اب نیچ پن اتر آیا تھا وہ انگوٹھے سے اسکی کالی سہلانے لگا اور اچانک ۔۔۔ ائرہ نے دونوں ٹانگوں کو ہوا میں بلند کیا اور کھینچ کر اسکے منہ پر ماریں ۔۔۔

اور دوسری طرف سے ۔۔۔وہ۔۔ زمین پر آ کھڑی ہوئ ۔ تیمور دور جا پڑا جبکہ اسکے کراہنے کی آواز اٹھنے لگی ۔۔ائرہ مسکراتے ہاتھ جھاڑے ۔۔

بس اتنا ہی”وہ جھک کر اسے کو دیکھنے لگی ۔۔

مجھے لگا کوئ تگڑی چیزہو تم۔۔۔۔۔ زیادہ دیرلڑو گے۔۔ دیر بات سنو میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو رونا دھونا ڈالتی ہیں ۔۔۔۔ مرد کو مرد رہی رہنا چاہیے ۔۔۔۔ کتا نہیں بنانا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور تمھارے جیسے مرد ۔۔۔۔۔ صرف بھونکتے ہیں ۔۔۔۔ کاٹنا تو دور کی بات ۔۔۔۔۔ وہ تو ۔۔ دولمہے سامنے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ چلتی ہوں “مسکرا کر کہتی ۔۔۔ وہ وہاں سے۔۔۔۔ ہٹ گئ مگر اچانک اسے احساس ہوا یہ گھوڑا اسکا ہونا چاہیے تبھی وہ گھوڑے پر بیٹھی اور ۔۔ گھوڑے کی ٹاپ تیمور کو دورجاتی محسوس ہونے لگی ۔۔

وہ سے گالیاں بکنے لگا ۔۔

بہت بری طرح اسے چوٹ لگی تھی ۔۔ لگ رہا تھا اسکے ہاتھ ہی ہڈی وڈی نکل آئ ہے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھوڑے پر واپس حویلی آئ جبکہ وہاں حویلی میں اسکو ڈھونڈنے کے لیے سب مارے مارے پھر رہے تھےصیام ۔۔۔ فکر سے باہر چکر کاٹ رہا تھا اسنے اپنی جیپ منگائ تھی جانے کے لیے اور

جیسے۔۔ ہی وہ گھوڑے پر سوار اندر آئ صیام کی آنکھوں میں یک پل کے لیے حیرت چھا گئ ۔۔

وہ گھوڑے پر سے اتری اور سیاہ شال اپنے اوپر لپیٹ کر چلتی ہوئ اسکے نزدیک آ گئ ۔۔

نئ نویلی بیوی کو چھوڑ کر میرے انتظار میں کھڑے ہو یقین میرے ڈیڈ نے ہنگامہ مچایا ہوا ہے ” وہ پریشان دیکھنے لگی ۔۔

کہاں تھیں تم” صیام نے سختی سے پوچھا ۔۔

کلاس لگا کر آئ ہوں کسی کی” وہ مزے سے بولی ۔۔

کیا مطلب ۔۔ ” صیام اسکے ساتھ ساتھ اندر آیا ۔۔۔ دونوں میں جیسے اجنبیت جاتی رہی تھی ۔۔

او ہو کوئ مل گیا تھا لائن مارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ اسنے میرا ہاتھ پکڑا میں نے وہی ہاتھ توڑ دیا۔۔

شرط لگا لوں پلاسٹر لازمی چڑھے گا ” وہ آنکھ مار کر بولی صیام دانت کچکا گیا ۔۔

کون تھا وہ شکل یاد ہے ” صیام پریشانی سے پوچھنے لگا وہ اندر آ گئے تھے وہاں سب موجود تھے پریشان سے ۔۔ حمائل ایکدم اسکے گلے لگ گئ بابا بھی آگے بڑھے ۔

کہاں چلی گئ تھی تم ہم سب کتنا پریشان ہو گئے تھے ۔۔۔ “

اللہ اللہ ادھر ہی تھی بابا ۔۔۔ ریلکس ماریں ” وہ حمائل کو کہہ کر ۔۔ باپ کے پاس گئ ۔

ائرہ کیوں تم ایسی حرکتیں کرتی وہ ” وہ بولے غصے میں تھے ۔۔

یار اب میں نے کیا کیا ہے فریش ائیر کھانے گئ تھی اس میں بھی مسلہ ہے کوئ ۔۔۔ “صیام نے اسکیطرف دیکھا اسنے اس ماسے منع کیا تھا کہ بابا کے سامنے کوئ زکر نہ کرے ۔۔

صیام باہر نکل گیا اور سب کو کہا کہ چیک کرو کون تھا وہ کیوںلنکظ حویلی ولاںو سے بدتمیزی آج تک کسی کی جرت نہیں ہوئ تھی ۔۔۔

ائرہ نے سب کو اندر بھلا پھسلا لیا ۔۔

صیام اپنے ڈیرے پر آ گیا ۔۔۔ اور یہاں آتے ہی وہ کاموں میں لگ گیا ۔۔ جبکہ اسے محسوس ہو رہا تھا اماں پریشانی سے نکلے گی تو پہلے اسی کو ۔۔۔ سنائیں گی کہ شادی کی پہلی صبح کہاں گئے تھے ۔۔

اسکے دماغ میں حمائل کا خیال آ گیا ۔۔۔ گزشتہ شب کو یاد کر کے لبوں پر مسکان بکھر گئ ۔۔

صبح اٹھتے ساتھ اسکی پیشانی پر پیار کی مہر لگائ تھی اگر وہ ہوش میں ہوتی تو شاید اتنے میں ہی پہچان جاتی کہ صیام اسکیطرف کتنی تیزی سے مائل ہو رہا ہے مگر وہ نیندوں میں گم تھی کیونکہ اسنے سونے جو نہیں دیا تھا اسے ۔۔۔

وہ انھیں سوچوں میں مگن تھا کہ مکرم بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔

صیام باؤ وہ تیمور تھا ” صیام کے چہرے پر حیرت نفرت سب کچھ تھا ۔۔۔

صیام بھی حیرانگی سے ۔۔۔ مکرم کو دیکھنے لگا۔

وہ کم بخت یہاں کیسے آیا ” صیام بھڑکا ۔۔

نہیں معلوم مگر مجھے اسکے ارادے درست نہیں لگتے آج سے پہلے تو کوئ وہاں سے یہاں نہیں آیا ۔۔۔اور وہ بھی حویلی والوں میں سے ” مکرم نے کہا تو صیام نے سر ہلایا ۔۔۔

مورچوں پر بندوں کی تعداد بھڑاو ” وہ اپنے خاص آدمی سے بولا ۔۔

اور تم بھی زرا تیمور پر پوری توجہ رکھو ” صیام نے کہا تو مکرم سر ہلا کر پلٹ گیا ۔۔

یار کہاں چلا گیا ہے عالم یہ سب تیرے آنے سے ہی ٹھیک ہو گا نہ جانتا کیا چاہتا ہے یہ تیمور” صیام نے سوچا ۔۔اور دل میں علامہ سے مخاطب ہوتا ۔۔۔ وہ حویلی کوٹنے کے لیے ۔۔ گاڑی میں سوار ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حویلی واپس لوٹا تو اسکی بیوی کمرے میں نہیں تھی اسنے ارد گرد دیکھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی باہر دیکھا ۔۔وہ اسے باہر بھی نظر نہیں آئ ۔۔۔اور اسکے بعد ۔۔۔ اماں کے پورشن میں ۔۔ دو لڑکیوں کے ہنسنے کی آواز پر وہ اس طرف متوجہ ہوا ۔۔

ائرہ کی کسی بات پر وہ ہنس رہی تھی صیام نے اسے پہلی بار اسطرح ہنستے دیکھا تھا جبکہ آئرہ کسی کی نکل اتار رہی تھیں اور رفتہ رفتہ اسے احساس ہوا کہ آئرہ تو ۔۔اسکی نقل اتار رہی ہے وہ ۔۔ غصے سےاس تک پہنچا ۔۔

ائرہ ایکدم رک گئ ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔۔ ایسے کیوں شکل بنا لی جیسے تم نے واقعی صیام کو دیکھ لیا ہو ” حمائل نے ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔۔

صیام پیچھے” ائرہ نے اسکو بتانا چاہا ۔۔

میں ڈرتی ورتی نہیں ہوں ان سے تم مجھے ڈرانے کی کوشش مت کرو “حمائل نے سر جھٹکا ۔۔

واقعی” صیام سنجیدگی سے بولا اور وہیں حمائل کا دم خشک ہوا کل رات وہ شیرنی بن کر جو کچھ سنا چکی تھی صبح اٹھتے ہی وہ سب سوچ کر جو رات گزر چکا تھا اسے چھکے چھوٹ گئے تھے صیام کے لمس میں نفرت کے بجائے محبت پا کر وہ ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے ہواؤں میں ہو۔۔۔

جیسے محبت کی خوشبو نے اسے احساس دلا دیا ہو ۔۔۔اور جب اسنے اسکی پیشانی پر لب رکھے ۔۔۔۔ یہ سمھجہ کرکہ وہ سو رہی تھی تب حمائل کا دل کیا آنکھیں کھول دے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھے ۔۔ مگر وہ اٹھ کر چلا گیا تھا اور اب اسکے پیچھے کھڑا تھا اسنے بنا کچھ کہے سامنے دوڑ لگا دی ۔۔ اماں کے کمرے میں ۔۔ ائرہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ۔۔ ہنسی تو صیام کے لبوں پر بھی آ گئ تھی ۔۔

تم ہنسنا بند کرو ۔۔ کب جا رہی ہو یہ بتاؤ “

او بداخلاق بد تہذیب انسان “ائرہ نے آنکھیں نکالیں ۔۔

یہاں اپنی آواز کا روعب کسی اور پر جمانا خدا کرے تمھیں مجھ سے ایسا کام پڑے کہ گھٹنوں کے بل میرے پاس آؤ ” صیام کو جاتا دیکھ کر وہ تپ کر بولی ۔۔

آگیا وہ دن ہو گیا تمھارا سپنا پورا ” صیام طنزیہ ہنستا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

جبکہ آئرہ نے پیچھے سے اسکو موٹی موٹی گالیاں دے کر دل خوش کر لیا تھا ۔۔۔۔

وہ اماں کے کمرے میں مطمئین سی آ گئ ۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Story 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published.