Web Special Novel, Rude Heroine,

Rude Heroine, قید جنون by Faiza Sheikh Epi#4(part2)

Rude Heroine, Urdu Novels, قید جنون  by Faiza Sheikh Epi #4 (part2)

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔

Web Special Novel, New Most Romantic Novel, Rude Heroine,

قید جنون 

قسط نمبر چار (حصہ دوم) 

از قلم فائزہ شیخ 

اس کے چہرے پہ پڑنے والے تھپڑ سے ازراق کا  چہرہ دوسری سمت جھک گیا تھا شمائل خود شاک کی حالت میں کبھی ازراق کے سرخ چہرے کو دیکھتی تو کبھی اپنے ہاتھ کو

ازراق کو اس قدر شدید ردعمل کی امید قطعا نہیں تھی شمائل سے پہلے تو اس کا دماغ ماوف ہو گیا کہ آخر ہوا کیا ہے

لیکن جونہی سمجھ آئی وہ غصے سے سرخ آنکھوں سے  اسے جیسے جلا دینے کے در پر تھا آنکھوں سے چھلکتی سرخی کسی کو بھی خاک کردینے کو کافی تھی جس کا غرور توڑنے کے لیے اسے اتنے پاپڑ بیلنے پڑے آج وہی اس کے منہ پہ تھپڑ مار رہی تھی

جسے آج تک کسی نے ہاتھ تک نا لگایا تھا ازراق کا ازلی غصہ عود آیا تھا وہ اب کسی صورت شمائل ہاشم خان کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا

محض اسے ہاتھ لگانے پر اس قدر شدید ری ایکشن نے ازراق کو مشتعل کر دیا تھا آخر وہ محرم تھا کیسے ۔۔۔ کیسے اس پر ہاتھ اٹھا سکتی تھی ازراق تیش کے عالم میں اس کی جانب بڑھا

اور اسے دونوں بازوں سے تھامتا پیچھے کی جانب دھکیلنے لگا شمائل کو اس کی انگلیاں اپنے بازوں میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں درد کی شدت سے اس کے آنسو بہنے لگے شمائل قدم با قدم پیچھے لیتی اس کی پشت سختی سے دیوار سے جا لگی.

 درد کی ایک لہر اس کی کمر میں ہوتی پورا جسم سن کر گئی  دیوار سے ٹکرانے پر وہاں نصب چھوٹا سا   کیل اسے زخمی کر گیا

 

لیکن وہ اس تکلیف کو ضبط کر جاتی ہے کیونکہ یہ تکلیف اس درد کے آگے کچھ نہیں تھی جس کو زندگی بھر اسے جھیلنا تھا یہ تو بس شروعات تھی درد ضبط کرنے کے چکر میں شمائل کی آنکھیں بے تحاشا لال ہو گئیں تھیں

اس کے بازوں کو سختی سے پکڑے وہ جیسے اپنے حواسوں میں نہیں تھا ورنہ اپنے ہاتھ پر لگنے  والا خون ضرور دیکھ پاتا

ازراق اسے بازوں سے جکڑے اپنی گرم دہکتی سانسوں سے اس کا چہرہ جھلسا رہا تھا شمائل دم سادھت اس کی دہکتی آگ جیسی تپش خود پر محسوس کرتی اپنی پلکیں بے ساختہ جھکا گئی  ازراق کی پکڑ اس پر سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی

وہ اس اذیت دینے کی ہر حد پار کرنے کے در پہ تھا کہ اسکی نظر شمائل کے بھینچے ہوئے ہونٹوں پہ پڑی دانتوں میں ہونٹوں کو بھینچے وہ انکھیں میچے کھڑی بغیر ڈوپٹے کے سامنے اس کا نازک کمسن سراپا سامنے کھڑے وجود کا سانس سینے میں اٹکا گئی تھی

اسے شدت سے  اپنے اردگرد اکسیجن کی کمی محسوس ہوئی گہرے گہرے سانس لیتا اس سے نظر ہٹانے کی کوشش کرتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کو پرسکون کرنے لگا

جس میں وہ ناکام رہا جھٹکے سے اس کی کمر میں بازو ڈالتے اس کا چہرہ اپنے برابر کرتا ٹھوڈی سے پکڑ کر اونچا کرتا اچانک سے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا۔۔۔۔۔۔

شمائل جس کا دماغ پہلے ہی نکاح کو قبول نا کر پایا تھاا زراق کی اس حرکت پہ پھر سے تاریکی میں جانے لگا تھا دماغ و دل میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے

جس شخص سے نفرت کا پر چار کرتی آئی تھی اسے خود کے اس قدر قریب محسوس کرتی کہ اس کی گرم سانسیں خود میں اترتی محسوس ہورہی تھیں شمائل کا دل کیا خود کو آگ لگالے۔۔۔

وہ بھر پور مزاحمت کا اظہار کرتی اسے خود سے دور کرنے کے جتن کرنے لگی اپنے نازک ہاتھوں کے مکے بناتی اسے مارنے لگی پر وہ بے حس بنانا جانے کتنے برسوں کی تڑپ مٹا رہا تھا

ازراق مکمل اس کے لمس میں کھویا ہوا تھا پر خود پہ بوجھ محسوس ہوتے وہ ہڑبڑا کر رہ جاتا ہے

“اسی کی کمی رہ گئی تھی نا جانے یہ مجھے آگے کیسے برداشت کرے گی ضد تو بن چکی ہے عشق نا بنے ورنہ اس ضدی کے عشق کا سامنا کرنا دوبھر ہو جائے گا اس کے لیے”

خود سے بڑ بڑاتا ازراق  اس کی حالت کو یکسر فراموش کیے وہ آگے کے پلان بنا رہا تھا کہ اسے زمین بوس ہوتا دیکھ وہ فورا سے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیتا ہے

شمائل کو باہوں  میں اٹھائے وہ فورا سے بیڈ کی سمت بڑھتا اسے وہاں لٹا کر کمرے سے چلا جاتا ہے

 

وہ خود سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی جذبات بدل رہے تھے جو کہ اس کے لیے ایک خطرے سے کم نہیں تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاشم صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے اپنی ماضی میں گم تھے جہاں کئی خوشگوار یادیں بسی تھیں لیکن ایک حادثے نے سب بدل دیا ان کا خوبصورت سا آشیانہ بکھر کر رہ گیا تھا

ماضی کی یادوں میں کھوے وہ سامنے لگی اپنی بیوی کی تصویر کو دیکھتے ہیں تو دلکشی سے مسکرا پڑتے ہیں تصویر کے پاس جاتے وہ اس پہ ہاتھ پھیرتے ہیں گویا محسوس کرنا چاہتے ہوں کہ وہ ان کے پاس ہیں

 

“ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا جانم! اب تو ہم سے خفا نہیں ہیں نا آپ واپس آ جائیں آپ کو اپنے شام کی یاد نہیں آتی کیا آپ کا شام آپ کو بہت یاد کرتا ہے آ جائیں نا۔۔۔ “

ان کی تصویر سے باتیں کرتے وہ ایک بے بس شخص لگ رہے تھے جو اپنی بیوی کو بچا نہیں پاے اور اب پچھتاوے کی آگ میں گھر گئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلسل بجتے آلارم کی آواز سے شمائل کی آنکھ کھل گئی تھی سر میں اٹھتی ٹیسوں نے اسے سر پکڑنے پہ  مجبور کر دیا تھا

ہاتھ مار کر اسے نیچے گراتی گھٹنوں میں سر دیے بازوں ٹانگوں کے گرد باندھے اپنی زندگی کے تلخ ایام کو گننے لگ گئی جن میں خوشیاں چند گنتی کی تھی جس کا  اس کے بابا سے کوئی تعلق نہیں تھا

اپنی بے لگام سوچوں کو لگام ڈالتی وہ فریش ہونے کے لیے باتھ روم میں کی طرف بڑھ گئی  تھوڑی دیر بعد وہ کمرے سے بالکل ایک منفرد لباس میں نکلی سپاٹ تاثرات چہرے پہ سجاے وہ ولا سے باہر نکلے لگتی ہے

کہ ہاشم خان اسے پیچھے سے اسے آواز دیتے ہیں جسے وہ نظرانداز کرتی ولا سے نکلتی چلی جاتی ہے

 

پیچھے ہاشم خان اس کا یہ باغی انداز دیکھ کر مٹھیان بھینجتے صوفے پہ ڈھ گئے ابھی انھیں بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مین دروازے سےازراق  اندر آتا دیکھائی دیا

ہاشم خان کو صوفے پہ ایسے گرتے دیکھ وہ فورا ان کے پاس آیا اور انھیں سہارا دیکھ کر بیٹھایا۔۔۔۔

“چھوٹے بابا آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا ہے آپ نے میڈیسن نہیں لی کیا آپ کا بلڈ پریشر پھر سے ہائی ہو گیا ہے کیا “

ایک ہی سانس میں ڈھیروں سوال کرتے وہ انھیں مسکرانے پہ مجبور کر گیا تھا

 

“میں ٹھیک ہوں زار بیٹا بس شمائل کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہوں بہت ضدی ہے وہ جب تک اپنی بات نا۔ منوا لے چین سے نا خود بیٹھے گی اور نا ہمیں چین لینے دے گی”

 

پریشانی سے کہتے وہ اس کے سامنے خود کا مسئلہ بیان کر گئے تھے

“چھوٹے بابا آپ کو کب سے اس کی فکر ہونے لگی؟ “

عام سے لہجے میں کہتے وہ انھیں بہت کچھ باور کروا گیا تھا بات تلخ تھی لیکن سچ تھی جس سے وہ نظریں چراتے بزنس کے متعلق باتیں کرنے لگ گئے زارق بھی سر جھٹکتا ان سے بزنس کی باتیں کرتا آنے والی ڈیل کے متعلق بتانے لگ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاشم خان کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی اسے کوئی دکھ نا ہوا اس وقت وہ ایک سنسان جگہ پہ زمین پہ لیٹی آسمان کی طرف اپنی سرد و سپاٹ آنکھوں سے دیکھتی نجانے کیا تلاش کرنے میں مصروف تھی

روز تعارف ہوتا ہے کسی سچائی سے۔۔۔۔۔۔۔۔

روز ایک شخص میرے دل سے اتر جاتا ہے۔۔۔۔۔

تنہائی کو دوست بنانا کوئی اتنا آسان نہیں ہے یہ دنیا میں موجود کچھ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تنہائی سے دوستی کرنے پہ مجبور کر دیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود کو کمپوز کرتی وہ زمین سے اٹھتی واپس گاڑی میں جا بیٹھی کسی ریسورنٹ کے آگے ناشتہ کرنے کے لیے گاڑی کو شہر کی طرف لے جاتی ہے ناشتے سے فارغ ہو کر جونہی باہر نکلتی ہے

تو وہاں زارق کو ایک لڑکی کے ساتھ اندر آتے دیکھ وہ تمسخرانہ مسکراہٹ لیے اس کے پاس سے گزرتی لڑکی کر دھکا دیتی اپنی گاڑی کی طرف چلے جاتی ہے زارق اس کی اس حرکت پہ غصہ ضبط کرتا رہ جاتا ہے

 

وہ لڑکی ہر بار اس کا ضبط آزماتی تھی شمائل ابھی ولا میں قدم رکھتی ہی ہے کہ ہاشم خان کو سامنے بیٹھا دیکھ کر بھی نظرانداز کرتی سیڑھیاں چڑھنے لگتی ہے کہ پیچھے سے اسے ہاشم خان کی غضب ناک آواز سنائی دیتی ہے

 

“شمائل! آپ میں اتنی ہمت آ گئی ہے کہ اپنے باپ کی آواز کو نظرانداز کیا آپ نے۔۔۔ “

ہاشم خان غصے سے اونچی آواز میں بولتے شمائل کو اپنا مقام بتانے کی کوشش کی لیکن اسے ہنوز سرد و سپاٹ نظروں سے خود کو گھورتے دیکھ وہ غصے سے کھول اٹھتے ہیں

 

“اپنی نظریں نیچے کریں ابھی اسی وقت آئندہ میرے سامنے آپ کی نظریں زمین پر ہوں نا کہ یوں باغی انداز ظاہر کرتی پھریں ۔۔۔۔۔ کیا آپ کو سمجھ نہیں آیا؟ “

ہاشم خان اسے نظریں جھکانے کا حکم دیتے ہیں گویا وہ کوئی گڑیا ہو جیسے چاہا توڑا جیسے چاہا جوڑا لیکن اسے نظریں نیچے نا کرتے دیکھ وہ دھاڑتے ہیں لیکن وہ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ان کی طرف دیکھتی ہے

“کٹ پتلی ہوں کیا”

 

ایک جملے میں ہی وہ انھیں آسمان سے زمین پر پٹھک چکی تھی وہ بے یقینی سے اسے دیکھتے جہاں تھے وہیں ساکت کھڑے رہ گئے

 

دھیمی چال چلتی وہ ان کی طرف آتی ہے اور ذرا سا سر ٹیڑھا کر کے تمسخرانہ مسکراہٹ لیے انھیں دیکھتی ہے

 

“میں شطرنج کا وہ مہرہ ہوں جو پوری بازی پلٹ سکتا ہے سہی کہا نا کیسا  ہو اگر آپ کی یہ نام نہاد بیٹی بھی آپ کی بیوی کے پاس چلی جائے”

 

وہ سرد و  سپاٹ لہجے میں انھیں کہتی ان کے چہرے پہ آنے والے اس تاثرات کو دیکھنے لگی

 

“لیکن میں بزدل نہیں۔۔۔۔ میرے ساتھ زیادتی کر کے آپ سب سکون سے بیٹھیں یہ ممکن نہیں اب ہو گا اصل کھیل جس میں بازی بھی میری ہو گی اور جیت بھی”

 

انھیں پیچھے حیران چھوڑے وہ زینے چڑھتی اپنے کمرے میں جا کر بند ہو جاتی ہے ہاشم خان جہاں کے تہاں رہ گئے ان کا دماغ شمائل کا یہ باغی انداز دیکھ سن ہو گیا تھا وہ زمین بوس ہو نے کو تھے

کہ انھوں نے دیوار کا سہارا لیتے خود کو گرنے سے بچایا  آنے والی تباہی کو سوچتے ہوئے ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ابھی وہ ابھی سوچوں میں گم تھے

کہ ان کو اپنے موبائل کی آواز سنائی دی ماوف ذہن کے ساتھ ادھر ادھر نظریں گھما کر ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ جیب خالی رکھا موبائل بج رہا ہے موبائل نکال کر نمبر کی پہچان کرنے کی کوشش کی

لیکن نمبر دیکھ کر وہ چونک اٹھے اور گھبرا گئے گھبراہٹ میں ماتھے پہ آیا پسینہ  ہاتھ سے صاف کرتے ارد گرد نظریں دوڑاتے تیزی سے اپنے کمرے میں بند ہو گئے

اجنبیت ایک راز ہے۔۔۔

اور راز ہمیشہ پرکشش لگتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمائل نے کمرے میں آتے ہی زور سے دروازہ بند کیا اور اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آج اس نے اپنے باپ کو اتنے بڑے الفاظ کہہ دیے

جن کا تصور کرتے ہوئے بھی عام انسان کی روح کانپ جائے گھٹنوں میں سر دیے وہ سرخ انکھوں سے زمین کو دیکھتی اپنی سوچوں میں مگن تھی کہ کسی نے باہر سے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گویا دروازے کو توڑنے کی ممکن کوشش کی ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازراق جو اپنی بزنس پارٹنر کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں میٹنگ کرنے آیا تھا سامنے سے شمائل کو سامنے دیکھ پہلے تو سٹپٹاتا ہے لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنے ساتھ آئی لڑکی کے ساتھ جڑ کے کھڑا ہو جاتا ہے

اس کی پوری کوشش تھی کہ وہ شمائل کو جیلس فیل کروا سکے لیکن اس کے چہرے پہ چھائی تمسخرانہ مسکراہٹ نے اسے اپنی بغلیں جھانکنے پہ مجبور کر دیا گویا کھلا اعلان ہو کہ تم سے یہی امید تھی پھر آگے شمائل کی کی حرکت دیکھ کر وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ جاتا ہے

میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی وہ آندھی طوفان بنا خان ولا میں داخل ہوتا ہے اور سیدھا شمائل کے کمرے کی طرف بڑھ جاتا ہے

زور زور سے شمائل کے کمرے کا دروازہ بجانے لگا گویا دروازہ توڑ دے گا تیور ایسے جیسے شمائل کی جان لینے کے در پہ تھا

شمائل اپنی سرخ آنکھیں زمین سے دروازے پہ ٹکا دیتی ہے اسے پورا یقین تھا یہ ہاشم خان نہیں ہیں لیکن کسی ملازم کا سوچتے وہ غصے سے کھولتی ہوئی دروازے کو جھٹکے سے کھولتی ہے

لیکن اپنے سامنے اپنے جانی دشمن اور زبردستی کے بنے شوہر کو دیکھ وہ دروازہ بند کرنے ہی لگتی ہے کہ زارق زور لگا کر دروازہ کھولتا اندر داخل ہو جاتا ہے اور رخ ہنوز اس کی طرف کیے وہ ہاتھ پیچھے جاتا

دروازے کو لاک کر چکا تھا اسے محبت سے خود کی طرف دیکھتے ہوئے وہ آگ بگولہ ہونے کو تھی کہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمائل کے دروازہ کھولتے ہی جونہی زارق کی نظر اس کی سرخ آنکھوں پہ پڑتی ہے اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے غصے کی جگہ اب نرمی نے لے لی تھی

وہ اسے دروازہ بند کرتے دیکھ فورا سے زور لگا کر اندر داخل ہوتا دروازہ بند کر چکا تھا اسے پھر سے غصے میں آتے دیکھ وہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتا اس کا چہرہ اپنے مقابل کر چکا تھا۔۔۔۔

 

“لٹل فیری! اب بس بھی کرو غصہ اب تو میں شوہر ہوں تمہارا بچپن کا دوست تھا تمہارا تمہیں شکر کرنا چاہیے کہ میں نے تمہیں ابھی تک کچھ نہیں کہا۔۔۔ “

 

اسے نرمی سے اپنے ساتھ لگاتا وہ پیار سمجھاتا ہے لیکن آخر میں شرارتی انداز میں کہتا اسے تپانے سے باز نہیں آیا تھا

 

شمائل کو لگا کہ اس کی ذات کا آج پھر مذاق بنا ہے اسے دھکا دے کر خود سے دور کرتی وہ اس کا منہ تھپڑوں سے لال کر چکی تھی۔۔۔۔۔

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود کی ذات کی اتنی بیعزتی برادشت سے باہر لگ رہی تھی روتے ہوئے اس کے چہرے پر تھپڑ مارتی وہ خود کا غصہ نکالنے کی پوری کوشش کرنے لگی

لیکن ناکام رہی زارق نے پہلے پہل تو برداشت کیا لیکن اس کے آنسو دیکھ کر وہ خود پہ ضبط کرتا اسے سینے سے لگا گیا تھا

 

“کیا میں اتنی بے مول اور حقیر ہوں جو مجھے میرے سگے باہ نے آج تک پیار نا کیا؟ کیا میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ مجھے مما پاس جانا ہے مجھے نہیں رہنا اس دنیا میں سب برے ہیں بہت دکھ دیتے ہیں”

اس کے سینے میں منہ دیے وہ بچوں کی طرح اونچا اونچا روتی اس کی شرٹ اپنی آنسووں سے گیلی کر چکی تھی زارق اس کی پیٹ رب کرتا گویا آج ہی اسے سارے آنسو بہانے کی اجازت دی ہو

شمائل کو اس وقت اپنی ضبط کا بندھن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا

:گرتے ہیں ہم سجدوں میں اپنی حسرتوں کی خاطر اقبال!!!

:اگر گرتے صرف عشق خدا میں…..تو آج کوئی حسرت ادھوری نہ رہتی!!!

آنسو بہانے کی اجازت دی ہو شمائل کو اس وقت اپنی ضبط کا بندھن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا

ماضی۔۔۔

ہاشم خان آج پھر اسی جگہ موجود تھا جہاں لڑکپن کی اس کچی عمر میں اپنا دل ہار بیٹھا تھا تیس سال کا وہ خوبرو نوجوان اپنے وقار اپنی عزت اپنی شان و شوکت کو مجروح کیے پھر سے اسی کمرے میں موجود تھا

 

کھڑکی کی طرف منہ کیے وہ آسمان کی  طرف دیکھتے دور خلا میں نا جانے کیا تلاش کرنے میں مگن تھے کہ اپنے پیچھے ایک شوخ اور معصومیت سے بھرپور آواز سن وہ مسکراتے ہوئے پلٹتے ہیں

 

“آپ آ گئے آپ کو کہا ہم نے آپ کا کتنا انتظار کیا شام “

وہ پہلے چہکتی ہوئی لیکن پھر خفگی سے کہتی انھیں دیکھنے لگی

“یہ کس طرح کا لباس پہنا ہے آپ نے ۔۔۔ “

ساری باتیں چھوڑ وہ ان کا لباس دیکھ منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں

“یہ لباس اماں نے دیا پہننے کو وہ کہتیں ہیں کہ اب میں ایسا ہی لباس پہنوں گی کیونکہ میں بڑی ہو گئی ہوں اسی لیے اور آپ میرے  ہیں اسی لیے بھی… “

وہ رسانیت سے پڑھے ہوئے سبق کی طرح انھیں بتانے لگی

 

بمشکل سینے کو ڈھانپنے جتنی چولی پہنے برہنہ پیٹ اور لہنگا پہنے سر کے بالوں کا جوڑا بنائے وہ ان کے سامنے کھڑیں ان کا امتحان لے رہیں تھیں

“آپ ہمارا امتحان لے رہیں ہیں آپ ہمیں برداشت نہیں کر پائیں گی آپ ابھی چھوٹی ہیں ان باتوں کو نہیں سمجھیں گی آئندہ ایسا لباس زیب تن مت کیجیے گا

جس میں آپ کو اپنا آپ عیاں کرنا پڑے آپ ایک ہیرہ ہیں اور ہیرہ ہر کوئی چھپا کر رکھتا ہے”

ان کے پاس آتے نرمی سے انھیں سمجھاتے وہ ان کی پیشانی پہ اپنا دھکتا لمس چھوڑ گئے تھے۔۔۔

 

انھیں اپنا ضبط آج ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا دھیمے سے ان کا چہرہ اوپر کیے وہ ان کی سانسوں کو اپنی باغی سانسوں سے ملا گئے تھے ہاشم نے ان کی کمر پر اپنی گرفت اتنی مضبوط کر دی تھی

انھیں درد ہونے لگ گیا تھا ہاشم خان کے سینے پہ مکے مارتے انھیں خود سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی

لیکن جوان جذبات اور سامنے کھڑی  محبت کو اس حلیے میں دیکھ ان کا ضبط ٹوٹ چکا تھاانھیں اسی حالت میں اٹھائے وہ بیڈ کی جانب بڑھ گئے

اپنی جانم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ وہ شرمندہ ہو گئے لیکن اب ہونی کو کون ٹال سکتا لائٹ اوف کرتے وہ ان پر جھکے اور جھکتے ہی چلے گئے۔۔۔۔

دور کھڑی قسمت ان کے اس ادھورے ملن کو دیکھ اداسی سے مسکرا اٹھتی ہے

*بس تھوڑا اور صبر پھر اللّٰہ کُن کہہ دے گا⁦❤️⁩*

*اور فیکون کا نظارہ تمہارے سارے غم دور کر دے گا 💓*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ہوتے ہی جب وہ گھر جاتے ہیں تو ایک نیا طوفان ان کا منتظر ہوتا ہے ان کا نکاح ان کی کزن سے طے ہو گیا تھا وہ خوب واویلا مچاتے ہیں لیکن ان کا نکاح ہو جاتا ہے

شادی کی رات وہ کمرے میں آتے ہیں لیکن اپنی محرم کو دیکھنے کی بجائے کپڑے تبدیل کرتے فورا سے کوٹھے میں چلے جاتے ہیں اور ساری رات اس کے پہلو میں گزار کر صبح لوٹ کر گھر آتے ہیں اور حرم بیگم کو ویسے ہی بیڈ پر بیٹھے دیکھ وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتے

انھیں جھٹکے سے اپنے بستر سے اٹھاتے ہیں ساری رات نا سونے اور ہاشم کا اپنی ذات کو اس طرح رد کرتے دیکھ وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتیں ان کا کالر پکڑ گئیں تھیں۔۔۔

“ہاشم خان! مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا تم کل کہاں تھے ساری رات یہ بتاو اگر تو کہیں اور منہ مار رہے ہو تو مجھ سے شادی کیوں کی”

 

غصے سے پھٹتی وہ آج انھیں ایک آتش فشاں لگیں تھیں جن کی زبان کبھی ان کے سامنے نا کھلی تھی آج انھیں ایسا بولتے دیکھ وہ پہلے پہل حیران ہوئے لیکن پھر ان کے ہاتھ جھٹک کر اپنے مقابل۔ کرتے وہ الفاظ کہہ گئے تھے جنھیں سننے کی سکت آج تک کسی عورت میں نا ہوتی

 

“ہاں جاتے ہیں ہم اپنی محبت کے پاس نہیں پسند ہمیں آپ جلد نکاح کریں گے ہم ان سے “

سکتے میں انھیں دیکھتی وہ بس اتنا ہی کہتیں ہیں کہ

“آپ نے ناجائز تعلق قائم کیا ہوا ہے”

“کیا ہے ہم نے تعلق قائم محبت ہیں وہ میری اور محبت اور جنگ میں سب جائز ہے”

فخر سے کہتے وہ انھیں بہت غلیظ لگے تھے

انھیں دھکا دے کر پیچھے گراتے وہ واشروم میں بند ہو گئیں تھیں انھیں اپنا آپ آج سے پہلے بے بس کبھی نا لگا تھا باپ نے کہا تھا کچھ بھی رشتہ نبھانا ہے ماں تھی نہیں اور شوہر ملا…..

وہ بھی کسی کی محبت میں گرفتار کپڑے تبدیل کرتے وہ ایک کالے رنگ کا سادہ سا سوٹ پہنے باہر نکلیں اور بغیر ہاشم کی طرف ایک نظر کیے نیچے کی جانب چل دیں

وہ جو ان کے انتظار میں باہر بیٹھے تھے انھیں سادہ لباس پہننے پہ ٹوکنے والے تھے

لیکن خود کے نظرانداز ہونے پر وہ ان کے پیچھے تیز قدموں سے نیچے آتے ہیں جہاں حرم کی فیملی اور اپنی فیملی کو بیٹھے دیکھ وہ روک جاتے ہیں

حرم کو جونہی اس کی ساس اتنے سادہ کپڑے میں حیران دیکھ ٹوکتی ہیں وہیں وہ طنزیہ ان کی طرف دیکھتی ہیں کہ اب گیم سٹارٹ اصل میں ہم من چاہی بیوی نہیں ایک ہی جملے میں کہتی وہ سب کو ساکت کر گئی تھی…

 

جاری ہے۔۔

 

Read Rude Heroine, Urdu Novels with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our  Facebook page. Hope all of you enjoy it.

2 thoughts on “Rude Heroine, قید جنون by Faiza Sheikh Epi#4(part2)”

Leave a Comment

Your email address will not be published.