Web Special Novel, Rude Heroine story, Urdu Novels,

Rude heroine based, قید جنون by Faiza Sheikh Epi #3

Rude heroine based, Urdu Novels Qaid-e-junoon by Faiza Sheikh Epi #3

ہماری کوشش ہے کہ بہترین سے بہترین ناولز کو سائیٹ پر شائع کیا جائے۔اگر آپ کوئی اُردو ناول پڑھنا

چاہتے ہیں تو برائے مہربانی نیچے دئیے گئے

 

Web Special Novel, New Most Romantic Novel, Rude heroine based,

 

قیدجنون

قسط نمبر 3#

از قلم فائزہ شیخ

 

نکاح ہو چکا تھس چاروں طرف مبارکباد کا شور سا تھا ان سب کے درمیان شمائل کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا جس شخص کی وہ شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی تھی آج ہمیشہ کے لیے خود کو اس کے نام کر بیٹھی تھی..

شمائل سرخ آنکھوں سے گھونگھٹ تلے اپنی بھنچی مٹھیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ تبھی ازراق کی نظر اس پر پڑی ازراق نے ایک تمسخرانہ مسکراہٹ شمائل ہاشم خان کی جانب اچھالی جیسے کچھ جتانا چاہ رہا ہو ۔۔

کہ جیت سکو تو جیت کہ دکھاو آج وہ سرشار تھا ۔۔۔ ازراق کو جنون تھا شمائل ہاشم خان کے غرور کو چکنا چور کرنے کا اور آج وہ کر چکا تھا۔۔۔۔

یہ سب اس نے کسی نفرت کے چلتے نہیں بلکہ اپنی ضد وجنون کے چلتے کیا۔۔۔ وہ شمائل ہاشم خان سے کیا چاہتا تھا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا..

پر کچھ ہی دنوں میں یہ لڑکی اسے اپنی انا کا مسلہ معلوم ہونےلگی تھی

شمائل ہاشم خان کی خوبصورتی نے جہاں اسے داد دینے پر مجبور کیا تھا وہیں اس کے انتہائی زہریلے لہجے اور کاٹ دار لفظوں نے اسے جنون کی حدود کو چھونے پر اکسایا تھا۔۔۔

جس کے چلتے آج وہ شمائل کو شمائل ہاشم خان سے شمائل ازراق بنا چکا تھا ۔۔۔۔ ہاشم صاحب نے بھی ازاراق کو گلے لگا کر مبارک باد دی ۔۔۔

شمائل کی برداشت بس یہیں تک تھی وہ کیسے دیکھتی اپنے باپ کو جو اپنی بے حسی دکھا کر اب اس کے دشمن اول کے ساتھ خوشیآن منا رہے تھے

اس نے تو ہمیشہ اپنے بابا کا مان رکھا تھا پر آج اس نکاح میں بندھ کر وہ بہت بری طرح ٹوٹ گئی تھی کیا اتنا آسان حدف تھی وہ ۔۔ جسے کوئی بھی حاصل کرلیتا ۔۔۔

میری عادت تھی اندھیروں میں اجالا کرتی

میرے اپنوں کو بہت بار سنبھالا کرتی

میری ماما نے مجھے یہ بھی تو سمجھایا تھا

بات جب حق ہو تو کیوں عزت پہ ڈالا کرتی

میرے بابا نے بڑھائی ہے اپنی شان اے دل

میں تو پھر بھی نہ کوئی حکم بھی ٹالا کرتی

آج محسوس ہوا کہ زندگی میں اے جان

میں وہ کردار رہی روز ہی ڈھالا کرتی

میں نے وہ قرض چکایا ہے اپنے بابا کا

جس پہ وہ ناز سے کہتے ہیں کہ یہ ہے بیٹی

 

فائزہ شیخ کی ڈائری سے

شمائل کے دل دے ہوق سی اٹھی تھی وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر اس ماحول سے بھاگنا چاہتی تھی کسی طرح کہ تبھی اسے بہت تیز چکر سے آئے اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر گرتی اس نے آخری منظر جو اپنی کھلتی بند آنکھون سے دیکھا

وہ ازراق کا چہرہ تھا جو اسے اپنے بہت قریب محسوس ہوا شمائل کے گرنے سے پہلے ہی ازراق اسے اپنے مضبوط بازوں میں تھام چکا تھا سب ہی بے حد پریشان سے ہو گئے تھے ۔۔۔

تبھی ہاشم صاحب جلدی سے بولے “ازراق آپ شمائل کو اس کے روم میں لیجاو میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں “

ازراق ان کی بات پر سر ہلاتا فورا اسے لیے کمرے کی جانب بھاگا شمائل کا بے سدھ وجود اس کے حواس جنجھوڑنے کے لیے کافی تھا

وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ شمائل کو اس طرح دیکھ کر اسے اچھا کیوں نہیں لگ رہا جب کہ وہ تو خود بھی یہی چاہتا تھا کہ اسے آخری حد تک اپنے مظالم کا نشانہ بنائے ۔۔۔۔۔

پھر ایک ہی لمحے میں اتنی بے چینی اسے خود پر جی بھر کے تاو آیا ۔۔ ازراق نے جلدی سے شماِئل کو بیڈپر لٹایا..

تو ا سکی نظر شمائل کے سوگوار حسن پر پڑی سرخ لہنگے میں گولڈن کامدار دوپٹے کے سنگ پور پور سجی وہ لڑکی اس کی ملکیت تھی۔۔۔

آج شمائل کو ازراق بڑے استحقاق سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ باہر کی دنیا دیکھ چکا تھا پر اس قدر کشش اسے آج تک کسی لڑکی. میں محسوس نہیں ہوئی تھی

 

وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب ہاشم خان ڈاکٹر کو ساتھ لیے اندر آئے ازراق انہیں دیکھتا شماِئل پر کمفرٹر درست کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

ڈاکٹر نے شمائل کا چیک اپ کیا اور دوائیں تجویز کیں شمائل کو بے حد بخار تھا اور دودن سے کچھ نا کھانے کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گئی تھی

ڈاکٹر نے انہیں شمائل کو سٹریس سے دور رکھنے کا مشورہ دیا ۔۔۔ اور چلے گئے ۔۔۔۔

بیٹی کی حالت اور مرجھایا کملایا سا چہرہ دیکھ ہاشم صاحب کو ایک پل کو ندامت نے آن گھیرا۔۔۔۔

پر اگلے ہی پل وہ خود پر بے حسی کا خول چڑھاتے باہر نکل گئے جانتے تھے جتنی دیر وہاں رکیں گے ضمیر کی ملامت نہیں تھمے گی ۔۔۔

وہ باپ تھے سب جانتے تھے اس فیصلے کے پیچھے چھپے راز کو وہ کبھی سامنے نہیں آنے دینا چاہتے تھے وہ سمجھ رہے تھے جس قدر اس فیصلے سے شمائل کو تکلیف ملی ہے آنے والے کل میں یہی فیصلہ اس کا سب سے مضبوط سہارا ہوگا ۔۔۔

برسوں پہلے دفن ہوئے راز کی گانٹھیں پھر سے کھلنے لگیں تھیں ۔۔۔ ہاشم خان جو دیکھ پا رہے تھے شمائل ان سب باتوں سے نا بلد تھی ۔۔ن نہیں سمجھ پارہی تھی

کونسی قیامت اس کے انتظار میں ہے اسی لیے ہاشم صاحب جلد از جلد اسے مضبوط ہاتھوں میں سونپنا چاہتے تھے ۔۔۔

اکثر زندگی میں ایسے حالاتوں سے سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں صرف ایک پہلو دکھائی دیتا ہے پر دوسرا پہلو دیکھنے کے لیے لوگوؑ کے پاس وہ بینائی موجود نہیں ہوتی..

جو اس پہلو کو نمایاں کر سکے وہ سمجھ رہے تھے کہ اس وقت شمائل کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے پر اسے آنے والے وقت کی ازیتوں سے بچانے کے لیے یہ کام کرنا ضروری تھا

ازراق انہیں ہر لحاظ سے اپنی بیٹی کے لیے مضبوط سائبان لگا تھا جو اس کے کڑے وقت میں اس کا ساتھی بن سکتا تھا اسے ہر سرد و گرم سے بچا سکتا تھا ازراق کی آنکھوں میں چھلکتے جنون نے ہی ان کا فیصلہ اس کے حق میں کرایا کیونکہ ہاشم خان کا ماننا تھا

“انسان تب نہیں جیتتا جب اسے خواہش ہوتی ہے بلکہ تب جیتتا ہے جب اسے پانے کا جنون ہوتا ہے کیونکہ جنون میں سرور ہوتا ہے “

 

،،شمائل انجیکشن کے زیر اثر سو گئی تھی پر ازراق نے ایک لمحے کے لیے بھی اس پر سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں…

وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں معلق کرتا بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ازراق کی آنکغوں سے جھلکتی آگ ایک ان کہی کہانی بیان کر رہی تھی جسے کوئی بھی سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔۔

ازراق نے اس کی پلکوں میں جنبش ہوتے دیکھ اٹھ کر کھڑکی کے پردے برابر کیے اور سگریٹ کو پیروں تلے مسلتا قدم با قدم شمائل کی جانب بڑھانے لگا

اپنے قریب بھاری قدموں کی آواز سنتے شمائل نے جونہی آنکھیں کھولیں پہلے تو وہ غائب دماغی سے اپنے روم کے چاروں اطراف دیکھتی شاید کچھ جاننا چاہ رہی تھی پر جیسے ہی نظر اپنے دائیں سائیڈ پر پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ازراق پر پڑی…

اس کو اپنے ساتھ ہوئی زیادتی یاد آنے لگی دل پھر سے لہو بہانے لگا تھا آنکھوں کو تو جیسے بہنے کا راستہ مل گیا تھا پر وہ اس شیطان صفت انسان کے سامنے روکر اپنی ناقدری نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔

جس طرح آج سامنے کھڑا شخص چند منٹ میں ہی اس کے تمام حقوق اپنے نام کروا گیا تھا تو ۔۔۔ ناجانے آگے کیا کرے ۔۔۔۔

یہی بات شمائل کو دہلا رہی تھی وہ کسی بھی قیمت پر خود کو اس رشتے پر آمادہ نہیں کر پارہی تھی شاید کر بھی لیتی اگر اس کی اصلیت سے نا واقف ہوتی

شمائل کچھ نا سوجھتے اپنا درد دل میں دبائے اپنے بازوؑ گھٹنوں کے گرد باندھے ان پر سر ٹکا گئی ۔۔۔۔ اس کے لبوں پر اس وقت جامد خاموشی تھی ۔۔۔۔

ازراق حیرانی سے اس چنڈال سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو ہر وقت جوالہ مکھی بنی رہتی تھی اور آج اس قدر خامو شی اسے کچھ ہضم نہیں ہورہی تھی کمرے کے معنی خیز ماحول میں ازراق کی سرد آواز نے شمائل کے جسم میں لرزش سی پیدا کی

 

“کیا ہوا ۔۔۔ بابا کی پری کو صدمہ لگا کیا۔۔سوری پر تم شاید میرے مجاز سے واقف نہیں ڈارلنگ ایک بار جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ صرف میری ہوتی ہے

مجھ سے منسوب کوئی چیز اگر کسی کی نظروں میں بھی آئے تو میں اسے توڑ دیتا ہوں ۔۔۔ اور تمممممم۔۔۔۔۔تو پھر میری اکلوتی بیوی ہو ۔۔۔۔ اپنا معیار یاد رکھنا۔۔۔۔”

شمائل اس کی باتوں پر جھٹکے سے سر اٹھائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔کیا مطلب تھا اس کی ان باتوں کا یعنی شمائل بھی اس کے لیے ایک ناکارہ سی چیز تھی جو اگر اس کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھ سکتی تھی

اس کا دل چاہا اپنے سامنے کھڑے اس دھوکے باز شخص کا منہ نوچ لے جو اپنے دوہرے چہرے سے اس کے باپ کو بیوقوف بنا کر اب اپنے حقوق و فرائض جتا رہا تھا ۔۔۔۔

کس قدر الگ روپ تھا جو وہ دکھتا تھا وہ کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔شمائل کی جگہ اس وقت کوئی اور لڑکی ہوتی تو اسکی شاندار پرسنیلیٹی اورخوبصورت نین نقوش سے ضرور دھوکہ کھا جاتی ۔۔

اس قدر خوبصورت مرد کا بھیانک چہرہ بھی ہو سکتا ہے آج شمائل کو یہ بات سمجھ آئی تھی

 

جاری ہے۔۔

 

Read Rude heroine based Urdu Novels with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our  Facebook page. Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.