Web Special Novel, Rude heroine based Urdu Novels ,

Rude heroine based Urdu Novels, Qaid-e-junoon by Faiza Sheikh Epi #2

Rude heroine based Urdu Novels Qaid-e-junoon by Faiza Sheikh Epi #2

ہماری کوشش ہے کہ بہترین سے بہترین ناولز کو سائیٹ پر شائع کیا جائے۔       اگر آپ کوئی اُردو ناول پڑھنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی نیچے دئیے گئے

اڈریس پر میل کیجئے۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کی فرمائش کو پورا کیا جائے۔ اگر آپ اپنے اُردو ناول ہماری ویب سائٹ پر شائع کرنا چاہتے ہیں تو دئیے گئے اڈریس پر ہمیں میل کریں۔ شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Web Special Novel, Rude heroine based Urdu Novels ,

My new master piece Rude heroine based Urdu Novels who wanna read this novel kaisi lgi apko shamail Hashim khan apny comments mein btayega zuror ye mere un readers k liye mera surprise hai jinhon ny mujhe bht support kiya thanks to all cute golo molo readers.

#Qaid-e-junoon 

#Writer Faiza Sheikh 

Episode #2

 

“میں کبھی اس سے شادی نہیں کرونگی شانزے میں بھاگ جاوں گی یہاں سے بابا نہیں سمجھ رہے اس شخص کا پلان ہے وہ مجھے ازیت دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے

یار۔۔۔۔ میں کیسے ایک ایسے شخس کی دسترس میں جاوں جس کا مقصد میرے وجود کی تسخیر ہے ا سکے علاوہ کچھ نہیں ۔۔۔۔ “شمائل اسے بتاتی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔۔

شانزے خود شمائل کی حالت سے پریشان تھی شماِئل ہاشم خان اگر اس قدر ازیت میں تھی تو ا سکے پیچھے کوئی بڑا ریزن تھا جسے وہ بتانے سے قاصر تھی

شانزے شمائل کی بیسٹ فرینڈ تھی دونوں نے سکول ۔ کالج میں ساتھ پڑھائی کی ۔۔۔ اور اب بھی ساتھ تھے

شمائل یار تم اس قدر کمزرو کیسے ہو سکتی ہو وہ شخص صرف تمہیں گرانا چاہتا ہے اور تم اس کا منصوبہ کامیاب کیسے ہونے دے سکتی ہو ۔۔۔ ہاں ۔۔۔

تمہیں پتاہے نا تم شمائل ہاشم خان ہو تم اس طرح کمزور پڑ نہیں سکتی جانتی ہو نا کہ جب تک تم ہار نہ مانو تمہیں کو ئی ہرا نہیں سکتا…

انکل کو نہیں معلوم اس شخص کا اصل چہرہ پر تم تو جانتی ہو ۔۔۔ تو ا سکا اصل چہرہ سامنے لے کر آ و نا کہ اس طرح خود ٹوٹ جاو

تمہاری زندگی کوئی مزاق نہیں جو اس جیسے مطلب پرست شخص کو سونپ دی جائے “شمائل کو بھی اس کی باتیں ٹھیک لگیں

وہ ایسے ہار نہیں مان سکتی تھی وہ کسی کے سامنے نا رونے والی لڑکی آج اس قدر بے بس تھی کہ بری طرح زار زار ہو رہی تھی شمائل نے دل میں عہد کیا کہ وہ کبھی اس شخص کو جیتنے نہیں دے گی چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔۔

شمائل جونہی ہوٹل روم میں داخل ہوئی وہ سامنے بڑے وثوق سے بیڈ پر براجمان تھا… شمائل کا تو مانو چہرہ لہو چھلکانے لگا تھا..

اسے دیکھ دل چاہا ایک ہی پل میں اس کے خوبصورت چہرے کو نوچ ڈالے جس پر وہ خوبصورت مسکان سجائے اسی کو نہارنے میں مصروف تھا

تمہیں نہیں لگتا ‘شمائل ہاشم خان ‘تم زیر ہورہی ہو میرے آگے ۔۔۔ میرے سامنے اپنے حسن پر مغرور سی شماِئل ہاشم خان مجھ پر تھوکنے والی لڑکی ۔۔۔

آج میرے در پر سوالی بن کر آئی ہو۔۔۔۔ہے نا مزے کی بات۔۔۔

وہ مسرورسے انداز میں ا سکے ارد گرد گھومتا معنی خیز انداز میں بولا

“ناٹ فئیر جناب آپ کب سے اتنے کم ظرف ہوگئے ایک لڑکی سے مات کے خوف کے ڈر نے آپ کو اس قدر مجبور کر دیا

کہ آپ اس طرح مجھے چھپ کر بلا رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ کہاں کی مردانگی ہے مسٹر۔۔۔۔۔”

شمائل کا انداز سراسر دل جلانے والا تھا ۔۔۔۔۔۔ اپنے کہے چند لفظوں سے وہ سامنے کھڑے شخص کے وجود کو خاکسار کر گئی ۔۔۔۔

وہ۔ایک ہی جھٹکے میں اسے کمر سے دبوچتے اسے خود سے قریب کر گیا ۔۔۔۔ غصے سے اس کی سانسیں قدرے پھول۔چکی تھیں . . پیشانی کی رگیں نمایاں تھیں

“تممممم تمہاری اتنی ہمت کہ میرے قریب آو ۔۔۔ جاہل انسان دور ہو مجھ سے میں تمہارا خون پی جاونگی ۔۔۔ چھوڑو مجھے

شماِئل مسلسل اپنا آپ اس سے آزاد کرانے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ وہ ڈھیٹ بنا اسے خود میں قید کیے جارہا تھا۔۔۔۔

“اوہ شمائل بے بی ۔۔۔ کیا ہوا میری قربت سے ڈر لگ رہا ہے دل پھڑپھڑارہاہے اپنی۔ہار دیکھ کر نو ۔۔۔ وے تم وہ واحد لڑکی بنو گی جو میرے جنون کی قید میں رہے گی۔۔۔۔

میرا قید جنون تمہاری سانس سانس پر قابض ہو گا……

تمہارے اندر پنپتے ہر جذبے کو میری آنچ دیتی نفرت کا سامنا کرنا ہوگا ۔۔۔۔ جتنا تم مجھ سے نفرت کرتی ہو۔۔۔۔ اس سے کئی زیادہ مجھے تمہیں اپنے سامنے جھکانے کاجنون ہے

شمائل اس کی جنونیت دیکھ ایک پل کو سہم سی گئی تھی اس کے دل و دماغ جھنجھنا اٹھے تھے اگلے ہی پل اسے دھکا دیکر خود سے دور گئی

چاہتے کیا ہو ۔۔۔ تم۔ہاں تمہیں ملے گا کیا مجھے اس طرح ازیت دیکر میں کبھی تمہیں انکرج نہیں کیا تمہیں منع کیا خود لے قریب آنے سے مگر تم باز نہیں آئے۔۔

ہر بار میرے راستے میں آتے ہو مجھے تکلیف دیتے ہو خود کو تم بڑے ترم خان سمجھتے ہو ۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے کہا ایک لڑکی کہ عزت کس قدر قیمتی ہوتی ہے پر تم نے ہر بار میری انا کو مجروح کیا میری عزت کو اپنے قدموں تلے روندا اور اب تم چاہتے ہو میں تمہارے ساتھ شادی کروں

کس حق سے ۔۔۔۔ تمہاری کوئی بہن نہیں۔اس لیے تمہیں احساس نہیں ۔۔۔ تم نے میرے بابا کو اپنی سائیڈ کیا . . یہ جانتے ہوئے کہ میں تم سے کس قدر نفرت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔

خبردار شمائل ہاشم خان جو اپنی زبان سے ایک لفظ بھی مزید نکالا

تمہارے اتنے ٹکڑے ہونگے کہ خود بھی نہیں پہنچان پاو گی ۔۔۔۔ میری زندگی میں تمہاری وہی اہمیت ہے جو کہ کال گرل کی ہوتی ہے تم بھی میرے لیے انہی کی طرح ہوں.

صرف میرے دل بہلاوے کا سامان سنا تم نے تمہاری یے جو اکڑ ہے نا میری ایک رات کی مار ہے اگلی صبح اپنا منہ چھپاتی پھرو گی سنا تم نے ۔۔۔۔

اس کے الفاظ شمائل کو کانٹوں پر گھسیٹ رہے تھے اس کی کاروائیاں سنتے ہی شمائل کو اپنا آپ اندیکھی آگ میں جھلستا ہوا محسوس ہورہا تھا اور اب تو وہ ۔۔۔ اس شخص سے چنگل سے خود کو کسی صورت نہیں بچا سکتی تھی۔

وہ جان گئی تھی کہ کس طرح اس چال باز شخص نے اس کے بابا کو بیوقوف بنایا ۔۔۔۔۔

میں تمہیں جیتے جی موت کا مزا چکھاوں گی یہ میرا تم سے نہیں خود سے وعدہ ہے تمہارے دیے گئے ہر زخم کو تمہیں سود سمیٹ نا لوٹایا تو میرا نام بھی شمائل یاشم خان نہیں

مجھے موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کرنا چاہتے ہو نا تم اب دیکھنا تمہارے ساتھ رہ کر تمہارے ہر دن کا میں نے جہنم نا بنایا تو ۔۔

بہت تڑپ ہے تمہیں میرے وجود کو پانے کی اسی وجود کی چاہ نے تمہارے اندر بیٹھے حیوان کو چکنا چور نا کیا تو میری نفرت تمہارے اس حیوانی روپ پر بھاری پڑے گی پچھتاو گے

اس گھڑی پر جب مجھے خود سے منسوب کرو گے زندگی بھر تمہیں معاف نہیں کروں گی شمائل اپنی آنکھوں میں آنسو لیے پختہ عظم کرتی ہوٹل روم سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔

یہ منظر ایک نہایت خوبصورت لاونج کا ہے جہاں ایک لڑکی چینختی ہوئی اپنے ہاتھ آئی ہر چیز زمین بوس کرتی جا رہی تھی اردگرد پھیلے ملازم اس کے غصے کو دیکھتے تھر تھر کانپ رہے تھے

“ہمت کیسے ہوئی ان سب کی میرا رشتہ جوڑنے کی وہ بھی اس شخص سے جس کی موجودگی مجھے سخت ناپسند ہے۔۔۔

میں زہر کھانا پسند کروں گی لیکن اس سے شادی ناممکن۔۔۔ ساری زندگی مجھے اذیت دینے کی کوشش کرتے کرتے مجھے مرنے تک کے لیے اکیلا چھوڑ دیا میں اس جیسے بے حس سے شادی کروں گی نا ممکن”

دھاڑتے ہوئے کہتی شیشے کے میز کو الٹ کر توڑ چکی تھی ہاشم خان جو ابھی گھر آئے تھے اپنی بیٹی کا اس طرح کا ردعمل دیکھ ان کا غصہ سوا نیزے پہ آ گیا تھا تیزی سے آگے بڑھتے شمائل کے منہ پہ ایک زوردار تھپڑ مار چکے تھے۔۔۔

شمائل کی سرخ و سفید رنگت جو غصے سے پہلے ہی سرخ تھی تھپڑ پڑنے سے اس کے جسم کا سارا خون گویا چہرے پہ سمٹ آیا ہو سرخ انکھوں سے اپنے باپ کو دیکھتی….

جنہوں نے آج تک سوائے کام کے اس سے کوئی بات تک نا کی تھی آج ہاتھ اٹھانے کی کثر پوری ہوتے دیکھ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پہ لاتی انھیں دیکھتی اپنے کمرے میں جا گھستی ہے

اسے جاتے دیکھ وہ گہرا سانس لیتے صوفے پہ ڈھہ جاتے ہیں اور ملازمہ سے یہ سب صاف کرنے کا کہتے ہیں انھیں اپنے کیے پہ شرمندگی تو ہوتی ہے پر وہ واضح نہیں کرتے اپنی شریک حیات کو یاد کرتے وہ اداسی سے مسکرا پڑتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خان مینشن میں صارب خان اپنی شریک حیات انجم کے ساتھ رہتے تھے اللہ نے انھیں دو نعمتوں سے نوازا تھا سب سے بڑے آئش خان اور دوسرے ہاشم خان تھے آئش خان کی شادی ان کی پسند سے ان کی خالہ زاد سے ہوئی جن کا نام حلیمہ تھا…

ان کے بطن سے اللہ نے انھیں ایک نعمت اور ایک رحمت سے نوازا تھا ازراق ان کا بڑا بیٹا تھا جس کے سات سال بعد عائشہ کی صورت اللہ نے اس کی ماں کی گود بھر دی ہاشم خان نے والدین کے فیصلے کو ترجیح دیتے ان کی پسند سے شادی کی…

جس سے اللہ نے انھیں رحمت سے نوازا گھر میں آئی پہلی رحمت سے صارب خان بہت خوش تھے اسی خوشی میں انھوں نے پورے گاوں کی دعوت کر ڈالی تھی

شمائل ایک سنہری آنکھوں والی خوبصورت سی شہزادی تھی سرخ و سفید رنگت اور گالوں پہ پڑتا ڈمپل اسے سب سے منفرد بناتا تھا…

اپنی بیٹی کی پیدائش پر ہاشم خان بہت خوش تھے لیکن ایک دن ان کی اسی بیٹی کی وجہ سے ان کی شریک حیات ہمیشہ کے لیے ان سے منہ موڑ گئیں تب سے ہاشم خان نے شمائل کی کبھی خبر نہیں لی…

بابا کا پیار نا ملنا اور ماں کا سایہ سر پہ نا ہونے کی وجہ سے دادا دادی نے اسے اپنی آغوش میں چھپا لیا..

اکلوتی پوتی ہونے کی وجہ سے صارب خان نے اسے ہر چیز دی ہر چیز سیکھائی اس نے خود کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے دادا کے ساتھ مل کر خود کو اتنی تکلیف دی اتنا لڑی کہ اب اپنے خول میں بند وہ ایک مضبوط مگر کھوکھلی لڑکی تھی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آآآآآآآآ۔۔۔۔۔۔ “

کمرے میں آتے ہی زور سے چینختی اپنے بستر پہ گر جاتی ہے تکیے میں منہ دہے لیٹی وہ آنسو بہانے کی ناکام سی کوشش کرنے لگتی ہے لیکن سفاکی اور حالات نے اسے یہ سب کرنے کی اجازت نا دی تھی

اجنبیت ایک “راز” ہے۔۔۔۔۔🖤

اور راز ہمیشہ “پرکشش” لگتے ہیں،،،🔥

ابھی وہ شاور لینے کے لیے اٹھنے ہی لگتی ہے کہ اسے اپنا کمرہ باہر سے بند ہوتا محسوس ہوا وہ فورا سے دروازے کے پاس جاتی ہے اپنے شک کی نفی کرنے کے لیے لیکن اس کا شک درست نکلتا ہے…

وہ اب اپنے ہی کمرے میں بند کر دی گئی ہے یہ دیکھ وہ غصے سے مکا دروازے پہ مارتی ہے اور کپڑوں سمیت شاور کے نیچے کھڑی ہو جاتی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاشم خان کے کہنے پہ شمائل کو کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے اب وہ باہر لاونج میں بیٹھے دیوار پہ لگی اپنی اور اپنی شریک حیات کی تصویر دیکھتے مسکرا رہے ہوتے ہیں..

کہ ابھی اچانک وہ دن یاد آتا ہے جس صبح انھوں نے شمائل کی تصویر دیوار پہ خوبصورت سی کر کے لگائی تھی..

اسی شام وہ زمین بوس ہوئی کرچیوں میں بٹی پڑی تھی یہ دیکھ وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے ملازم سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے……

کہ یہ سب شمائل میم نے کیا ہے اور آپ کے لیے پیغام ہے ان کا کہ دنیا دکھاوے کے لیے اب اسے بیٹی ماننے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

وہ منظر یاد کرتے وہ اداسی سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں زارق جو کہ اپنے چچا سے ملنے آیا تھا..

انھیں اداس دیکھ وہ فورا سے ان کے پاس آتا ہے اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انھیں اپنے ساتھ کا مکمل یقین دلاتا ہے جسے سنتے وہ پھیکا سا مسکرا پڑتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمائل کو کمرے میں بند ہوئے ایک دن گزر چکا تھا کہ ایک چٹ اسے دروازے کے نیچے سے موصول ہوتی ہے وہ اسے جلدی سے پکڑ کر کھولتی ہے لیکن اسے پڑھتے ہی اس کا چہرہ غصے اور اہانت سے اس حد تک سرخ ہو چکا تھا خط کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔۔

“میم جی! صاحب کے کہنے پہ آپ کو کمرے میں بند کیا گیا ہے اور آپ کا نکاح اسی جمعے زارق صاحب سے ہے.

ہمیں آپ کو یہ بتانے کا صاحب نے کہا ہے اپنی ضد چھوڑ کر صاحب کی بات مان لیں تاکہ بعد میں پریشانی نا ہو ورنہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ ان کو سختی پہ مجبور کر رہی ہیں”

شمائل کو لگا کہ اس کی ذات پہ کسی نے ایک داغ لگا دیا ہے کہ اس کے باپ نے اسے اس قابل بھی نا سمجھا اسے خود کہہ دیتا کیا وہ اتنی حقیر ہے ان کے سامنے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمائل نے لاکھ واویلا مچایا خود کو کئی بار زخمی کیا لیکن ہاشم خان کی بے حسی کا خول نا ٹوٹا وہ اپنی زبان کے پکے تھے شمائل جانتی تھی کہ ان کی برادری کے اب مرد مرتے مر جائیں گے لیکن اپنی زبان اور عزت کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے..

زارق نے بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے تیور ہی اتنے بگڑے ہوئے تھے کہ ہاشم صاحب دوبارہ اس پہ ہاتھ اٹھا چکے تھے۔۔۔۔

آنکھ پُر نم،عشق زم زم سانس مدھم وقت ہے کم_

وصال راحت ہجر ماتم ” رقیب قتل موت مرہم. 🖤

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر کار دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آ گیا جس دن اس کا نکاح ہوتا تھا شمالی نے پورا پلان بنایا تھا کہ پارلر جاتے ہی وہ وہاں سے بھاگ جائے گی لیکن ہاشم خان کو شمائل کے بارے میں سب پتا تھا اس لیے بیوٹیشن کو گھر بلایا گیا تھا..

اس کا ڈریس اس کے بیڈ پہ پڑا تھا سب مہمان نیچے آ چکے تھے دادا دادی بھی نیچے موجود تھے بیوٹیشن جونہی اس کا میک اپ کرنے کے لیے اس کی طرف جھکی شمائل نے اس کی گردن کی نس دبا دی..

وہ وہی سے لڑکھ کر اس کی گود میں گر گئی اسے اٹھا کر بیڈ پہ لٹاتے وہ کھڑکی کہ طرف گئی جو کہ آج خوش قسمتی سے کھلی تھی بیڈ پہ پڑے اس سوٹ کو دیکھے…

بغیر جونہی اس نے چھلانگ لگانے کے لیے ریلنگ پہ اپنا پیر رکھا پیچھے سے کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر اندر کی طرف دھکا دیا جس سے وہ بیڈ پہ جا گری اس نے جونہی سامنے والے کو باتیں سنانی چاہیں..

لیکن زارق کو کھڑا دیکھ وہ غصے سے پاگل ہوتی اس کے گریبان پکڑنے کے لیے آگے بڑھی تو اس نے اس ہاتھ پکڑ کر کمر سے لگائے اور اسے اپنے کندھے پہ کسی ہلکی چیز کی طرح اٹھائے نیچے آتے ہی اسے صوفے پہ پھینکا…

وہ ابھی کچھ بولنے ہی لگتی ہے کہ اپنے بابا کو اپنی طرف غصے سے گھورتے دیکھ چپ ہو جاتی ہے زارق مولوی صاحب کو نکاح شروع کرنے کا کہتا ہے

شمائل کے لاکھ احتجاج پہ بھی اس کو ہمیشہ کے لیے ایک نا پسندیدہ شخص سے جوڑ دیا جاتا ہے

جاری ہے۔۔

 

Read Rude heroine based Urdu Novels with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our  Facebook page. Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.