Web Special Novel, Rude Heroine Novel,

Rude Heroine Novel | QAID JUNOON Ep#7

Rude Heroine Novel Urdu novel Qaid junoon by Faiza Sheikh… Novelsnagri.com is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

 


قید جنون

قسط نمبر سات

از قلم فائزہ شیخ

باجی تو اپن لوگ کے ساتھ زیادتی کرتا ہے ہمیشہ۔۔۔۔ محنت اپن لوگ سب کرتا ہے اور تو اکیلی سارہ منافع لے لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

گیارہ سالہ بلال نے منہ بنا کر کہا جیسے اپنے سامنے بیٹھے وجود سے بہت اکتایا ہو۔۔۔۔۔

ابے اوئے یہ جو تیرے ہاتھ میں پیسہ ہے نا یہ ابھی اپن نے اپنی گنہگار آنکھوں سے باجی کو دیکھا ہے تجھے دیتے ہوئے۔۔۔۔۔پھر بھی باجی پر الزام لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دس سالہ حسن نے فوراً بلال کی تردید کرتے ہوئے کہا جس پر بلال نے باجی کے چمچے کو گھورا جو ہر وقت اس پر نظریں گاڑھے بیٹھا رہتا تھا ۔۔۔۔۔۔

ارے واہ۔۔۔۔ میرے شہزادے تیری ان گنہگار آنکھوں کو بابدولت سلام پیش کرتی ہوں۔۔۔۔

یہ لے تو دس روپیے اور لے لے ۔۔

اورررررررر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بالی سب کو سب کے حصے کا دیتی ہوں میں زیادہ شانہ(ہوشیار) بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔نہیں تو بستی میں سب کے سامنے تیرے کو مرغا بنا کر چکر لگوانے میں مارے کو دو منٹ سے زیادہ وقت نہ لگے گا ۔۔۔۔۔۔

سترہ سالہ لڑکی جو اس وقت گلابی پٹیالہ شلوار کے اوپر کالے رنگ کی شارٹ کرتی پہنے، گلے میں مفلر لیے۔۔۔۔۔۔۔۔لمبے بالوں کو تیل میں نچوڑ کر چٹیا بنائے ۔۔۔۔مگن انداز میں پتھر پر بیٹھے سب کو سب کے پیسے تقسیم کر کے ہاتھ میں موجود پیسے کو گننے میں مصروف تھی

مسلسل بلال کی چک چک سے تنگ آکر کچھ کہتی اس سے پہلے حسن کے اس کے حق میں بولنے پر صدقے واری ہوتی بلال کی طرف رخ کرتے اسکو چماٹ لگاتے ڈپٹا۔۔۔۔۔۔۔۔

ارےےےے باجی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔ ماں قسم ۔۔۔۔۔ پچھلی بات کی کٹائی کو یاد کرتے ابھی تک اپن کے درد سے `آہیں نکلے ہیں۔۔۔۔

بالی نے پچھلی دفع کی مار کو یاد کرتے جھرجھری لیتے کہا۔۔۔۔۔۔۔

ابے چل نکل ادھر سے ۔۔۔۔۔۔ دہی ہوئے دماغ کی لسی بنا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

پتھر سے اٹھتی جارہانہ انداز میں اس کی طرف بڑھی جس پر وہ اپنی باجی کے تیور دیکھ کر فورا بھاگ نکلا کجا کہ وہ اپنی باجی کے ان تیوروں سے بخوبی واقف تھا۔۔۔

اور اس وقت وہ مار کھانے کا بالکل ارادہ نہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

بھاگ گیا ٹکلہ ، کہیں کا ۔۔۔۔۔

حسن نے اسکو جاتے دیکھ کر کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے دوبارہ سے اپنے سابقہ میں مشغول ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کراچی کی ایک کچی سی بستی کا منظر تھا جہاں کے لوگ امیری سے تو واقف ہی نہ تھے ۔۔۔۔ انہیں میں ایک” ماورا حسن” بھی تھی۔۔۔اسکی ماں اس کو پیدا کرتے ہی اللّٰہ کی رحمت میں چلی گئی۔۔۔۔۔جبکہ باپ کو رات و رات پڑنے والے دل کے دورے نے مزید سانس نہ لینے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسے میں وہ چودہ سال کی عمر میں اپنے پیٹ کی خاطر چوری کرنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے پہل تو وہ اس کام کو کرنے میں گھبراتی تھی ۔۔۔ لیکن اب سترہ سال کی ہونے پر وہ بلا جھجک چوری کرتی تھی ۔۔

اور اب تک وہ ایک گینگ بھی بنا چکی تھی جو کہ دس ، بارہ سالہ پانچ بچوں پر مشتمل تھا جن میں بلال عرف بالی ، حسن ، داؤد ، اویس اور طلحہ تھے۔۔۔۔۔ جن میں بلال کے علاوہ کسی کے سر پر ماں باپ کا سایہ نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ چھوٹی موٹی چوریاں کرتے اپنے پیٹ پالتے تھے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہ تھا ۔۔۔۔۔

وہ بیڈ پر اوندھا پڑا سو رہا تھا۔سلکی بال بے ترتیبی سے اسکے ماتھے پر پڑے اسکی وجاہت کا پتہ دے رہے تھے۔ اچانک موبائل کی چنگارتی آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا۔۔۔

جسکی آواز سن کر اس کے مغرور نقوش میں ایک تناؤ پیدا ہوا۔۔۔۔ پہلے پہل تو موبائل کی آواز کو اگنور کرتا رہا مگر دوسری طرف بھی کوئی ڈھیٹ قسم کا انسان تھا۔۔۔ جس پر اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھاتے کان سے لگایا آنکھیں ہنوز بند تھیں۔۔۔۔۔۔

زمیل مرتضی سپیکنگ۔۔۔۔۔۔۔

خمار آلود نیند سے بھری آواز میں کہا گیا۔۔۔۔۔

زمیل مرتضی سپیکنگ کا لگتا۔۔۔۔ اگلا بندہ تو جیسے جانتا ہی نہیں ہے کہ کس کو کال کی ہے۔۔۔۔ جو توں ہر بار بتاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

اگلی جانب سے آنے والی آواز سے اسکی نیند بھک سے اڑی۔۔۔۔۔۔

بک کم ، کام بول۔۔۔۔۔۔

ماتھے پر بل نمودار کرتے کہا کہ اگلے بندے کی فضول گوئی برداشت کرنے کا کوئی دل نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

زمی تو سو رہا ہے کیا ابھی تک ۔۔۔۔۔

میں لوکیشن سینڈ کرتا ہوں تو پہنچ ابھی جلدی۔۔۔۔۔۔۔

دوسری جانب سے بنے کچھ سنے فون بند کر دیا گیا۔۔۔۔

گدھا میری نیند کا دشمن ہے یہ ۔۔۔۔۔

خود سے بڑبڑاتے موبائل سائیڈ پر رکھتے بیڈ سے اٹھتے واشروم کا رخ کیا کجا کہ اس کو وہاں جانے تھا نہیں تو اس بلا نے یہاں نازل ہو جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

” تُو میّسر ہے، تو ہر شے میّسر مجھ کو،

بِن تیرے اِس دنیا کی اوقات کیا ہے! “

میاؤں ،، تمہیں پتہ ہے میں نہ بان سے ناراض ہوں ۔۔۔۔۔۔بہت زیادہ والی۔۔۔۔۔۔۔کل ان کو میں نے بولا مجھے ایک اسائمنٹ بنا دیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں خود بناؤ ۔۔۔۔۔۔

وہ بلیک اینڈ گولڈن رنگ کے سوٹ میں ملبوس گود میں سنہرے رنگ کی بلی کو اپنے شوہر محترم کو شکایتیں لگانے میں مصروف خود بھی ایک سنہری پری لگ رہی تھی ۔۔۔۔

میاؤں ں ں۔۔۔۔۔۔۔

میاؤں نے آواز نکالتے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ درست ہے۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ بالکل اب میں نے ان سے بات بالکل ہی نہیں کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ٹھینگہ دکھاؤں گی انہیں۔۔۔۔۔

ہاتھ کا انگوٹھا دکھاتے میاؤں کو کہا۔۔۔۔ ۔

ارے میری چندہ۔۔۔۔۔ تو بان سے ناراض ہے کیا؟

زمیل جو آبان کے دیے گئے ایڈریس جو کہ ایک ہوٹل کا تھا وہاں جا رہا تھا لیکن گارڈن سے گزرے انشراح کی باتیں سن کر اس نے آبان کو دل میں سو صلواتیں سنائیں جو اس کی بہن کو ناراض کر کے ہوٹل میں اس کو کھانے کے لیے بلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

انشراح جو کہ اپنی بلی کے ساتھ مصروف تھی زمیل کی آواز پر چونکی لیکن اس کے پوچھے جانے والے سوال پر آنکھوں میں آنسوں لاتے اس بات پر سر ہلایا۔۔۔۔۔۔جس پر اسے آبان ہر غصہ جبکہ اپنی بہن کی معصومیت پر بہت پیار آیا ۔۔۔۔

اچھا تم رو نہیں ،،، تم میرے ساتھ ہوٹل چلو۔۔۔ بان بھی وہاں ہو گا ۔۔۔۔۔۔

اس نے انشراح کے آنسوؤں صاف کرتے ساتھ آنے کی آفر کی ۔۔۔۔

اوکےےےے۔۔۔۔۔۔ لیکن بھائی میں ناراض ہوں ان سے۔۔۔۔۔۔

وہ جو زمیل کی بات مانتے اٹھنے لگی تھی ۔۔۔لیکن اپنی ناراضگی کا یاد آتے واپس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

اووو تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔

زمیل کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔ ماؤں ں میاؤں۔۔۔۔۔۔

نشا یہ تمہاری میاؤں شاہد کوئی مشورہ دے رہی ہے ۔۔۔۔۔

زمیل نے بلی کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔ یہ ایک خوبصورت سنہرے رنگ کی آسٹریلین بلی تھی جو زمیل نے انشراح کو تحفے میں دی تھی ۔۔۔۔۔اور انشراح کے مطابق وہ دونوں ایک دوسرے کی ساری باتیں سمجھ سکتی تھیں۔۔

اووو شکریہ میری پیاری میاؤں ۔۔۔۔۔

چلیں بھیا میں بھی چلتی ہوں ۔۔۔۔۔۔

بلی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے زمیل سے کہا۔۔۔۔۔۔

لیکن ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ تم ناراض ہو ۔۔۔۔۔

زمیل اس کے اچانک ماننے پر حیران ہوا اور اپنی حیرانگی کو زبان دیتے کہا ۔۔۔۔۔۔

اف او بھیا ۔۔۔۔۔ میں بان سے ناراض ہوں لیکن میاؤں نے مجھے کہا کہ میں آپ کے ساتھ جاؤ اور ان سے بات نہ کروں ۔ ۔۔ ۔اور مجھے میاؤں کی بات ٹھیک لگی ہے

زمیل کو میاؤں کی بات دہراتے معصومیت سے کہا جس پر زمیل نے اس کا ماتھا چوما اور اب دونوں بہن ، بھائیوں کا رخ ہوٹل کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔

مرتضی صاحب اور زیب النساء بیگم کی دو اولادیں تھیں

بڑا بیٹا ‘زمیل مرتضی” جو کہ اپنی پڑھائی مکمل کرتے اپنے بابا کا بزنس چلا رہا تھا۔۔۔

چھ فٹ سے نکلتا قد ، سرخ و سپید رنگت ،خوبصورت کالی گہری آنکھیں ، آنکھوں کے ہی ہم رنگ سلکی بال، ہلکی ہلکی شیو ،،، وہ ایک گبرو اور خوبصورت پچیس سالہ نوجوان تھا ۔۔۔

چھوٹی بیٹی ” انشراح مرتضی’

جو ہو بہو اپنے بھائی جیسی خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔

کالی گہری آنکھیں ان پر گول چشمے کا پہرہ، بھرے بھرے ہونٹ،، ملائی جیسی سرخ و سپید رنگت، اس کو دیکھ کر ایک حور کا گمان ہوتا تھا۔۔۔۔۔

کالج کے لاسٹ ائیر میں تھی ۔۔۔۔ انیس سال کی ہونے کے باوجود وہ بہت حساس طبیعت کی مالک تھی۔۔۔۔ اگر اسکو معصومیت کا پیکر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔

مرتضی صاحب کا شمار ان امیر کبیر ہستیوں میں ہوتا تھا جن کے پاس دولت کی ریل پیل تھی۔۔۔۔۔

یہ سب کراچی کی ایک کالونی میں موجود ایک خوبصورت پیلس میں قیام پذیر تھے۔۔۔۔

جسکے باہر “مرتضی پیلس” بڑے سے الفاظ میں کنندہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔

 

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Read Rude Heroine Novel, with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.