Web Special Novel, Rude Heroine based Novel,

Rude Heroine story | QAID JUNOON|Ep_06

Rude Heroine story, urdu novel Qaid junoon by Faiza|2022
 Sheikh… Novelsnagri.com is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

Web Special Novel, Rude Heroine story, Urdu Novels,

قید جنون

قسط نمبر چھ

از قلم فائزہ شیخ

جب کہ ہاشم صاحب کو کہ حرم بیگم کے پیچھے ہی ا رہے تھے اُن کی الفاظ پر سب کا سامنے شرمندہ ہو گئے تھے حرم بیگم کے اس اندازِ گفتگو پر ہاشم صاحب کی والدہ چونک کر رہ گئی تھیں،،کہ آخر کہاں ان کی تربیت میں کمی آئی کہ آج اُن کی بہو کہ الفاظ استعمال کر رہی ہے،،جبکہ حرم بیگم کہ گھر والے ہونک بنے معاجرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے،،یہ سب کیا ہے ہاشم؟؟

کیا ہم نے آپ کی یہ تربیت کی تھی جو آپ آج ہمیں ہمارے بھائی کے سامنے شرمندہ کر چکے ہیں،،ان سے کیا پوچھ رہی ہیں پھوپھو ماں اصل سچ تو ہم آپ کو بتاتے ہیں،،کل یہ کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے نظر انداز کرے خود کپڑے بدل کر،،اپنی اس ناجائز محبت سے،،چٹاخ۔۔باقی الفاظ حرم بیگم کہ منہ میں رہ گئے تھے کیوں کہ ہاشم صاحب اپنا ضبط کھو بیٹھے تھے اور حرم بیگم پر سب کے سامنے ہاتھ اٹھایا جس پر ہاشم صاحب کی والدہ آگ بگولہ ہوتیں،،ہاشم صاحب کو کالر سے پکڑ کر کھینچتی ان کا چہرہ تھپڑوں سے کندن کی مانند سرخ کرچکی تھیں،، آپ ہماری اولاد ہو ہی نہیں سکتے ہاشم ،،کیوں کہ میری اولاد کو میں نے عورت کی عزت کرنا سکھائ ہے،،چلیے جائیں

یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کچھ برا کر جاؤں،،ہاشم صاحب نے سرخ آگ اگلتی آنکھیں اٹھا کر کر حرم بیگم کو گھورا جیسے ابھی جلا کر راکھ کردیں گے،،جی ماں،،یہ الفاظ کہ کر ہاشم صاحب گھر سے باہر نکل گئے اور ان کی یہ خاموشی طوفان سے پہلے آنے والے خاموشی کے مانند تھی،،

میری بیٹی میں بہت شرمندہ ہوں،،مجھے اگر ذرا بھی علم ہوتا کہ ہاشم کسی اور کہ ساتھ تعلقات میں ہے،، تو میں کبھی بھی بھائی صاحب کو اس رشتے کے لیے فورس نا کرتی،،مجھے معاف کردیں بھائی صاحب میں اس معاملے سے لاعلم تھی،، ہاشم صاحب کی والدہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہوئے حرم بیگم اور ان کے والد سے معافی مانگ رہی تھیں،، ہممم پر اب میں مزید اپنی بیٹی کو یہاں نہیں رہنے دینا چاہتا،،

حرم بیگم کے والد نے اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا اور بردبارنہ انداز میں کہا جس پر ہاشم صاحب کی والدہ نے ان سے اپیل کی کہ وہ حرم بیگم کو ان کے پاس کی رہنے دیں،،جی بابا آپ نے کہا تھا نا کہ اس رشتے کو کبھی ٹوٹنے نہیں دینا،،بابا میں آپ کی بات کا مان رکھوں گی ہمیشہ مرتے دم تک،،حرم بیگم نے نم لہجے میں اپنے والد کو حوصلہ دیا جس پر ان کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں،، بیٹیاں کتنی نازک سی ہوتی ہیں نا لیکن جب بیاہ جائیں تو وہ نازک سی بیٹی سخت جان بن جاتی ہے،،

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

صبح کی پر نور نظارے روح کو معطر کر رہے تھے ۔۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک دلفریب منظر پیش کر رہی تھی ایسے میں ایک تقریباً انیس بیس سال کی لڑکی اپنے ہاتھ میں موجود خرگوش سے سرگوشی میں کوئی بات کر رہی تھی ۔۔۔ ایسے جیسے کہ وہ خرگوش گویا ایک انسان ہو ۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے سوفی۔۔۔ میں آج ایک خوبصورت تصویر بنانے میں کامیاب ہوگی پر بابا کو وہ تصویر پسند نہیں آئی۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر سے باہر کی دنیا بہت ظلم ہے ۔۔۔ کیا ایسا ہی ہے سوفی۔۔۔ چلو چھوڑو ۔۔۔آو میں تمہیں بھی وہ تصویر دیکھاؤں ۔۔۔

خرگوش کو اس نے اپنے آج کا کارنامہ بتایا جس پر خرگوش نے بھی اپنے کان کھڑے کئے ہوئے تھا۔۔۔

عینا بیٹا کدھر ہو ۔۔۔۔

تو یہ ہے عینا جس کی زندگی میں صرف اس کے بابا اور معصوم جانور ہی ہیں ۔۔۔

اس نے اپنی گزری ہوئی زندگی میں کبھی بھی اپنے بابا کے علاؤہ کسی انسان کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

عینا کے بابا یعنی شجاعت حسین نے ہمیشہ اس کو گھر سے باہر کی دنیا سے دور رکھا تھا اور خدا جانے اس کے پیچھے کیا وجہ تھی۔۔۔



°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

زاویان بیٹا اٹھ جاؤ ۔۔۔۔ تمہارے بابا تمہیں بلا رہے ہیں ۔۔۔ انہیں تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔

بیگم شائستہ نے اپنے بیٹے کو اٹھانے کی کوشش کی جو کے مردوں سے شرط لگا کر سویا ہوا تھا ۔۔۔

جی ماما بس پانچ منٹ ۔۔۔

زاویان نے شائستہ بیگم کو جواب دیا اور دوبارہ نیند کی وادیوں میں گم ہوگیا۔۔۔۔

بیٹا جی بعد میں مجھے مت کہنا کہ آپ کے بابا نے آپ کو زبردستی اٹھایا ہے ۔۔۔۔

شائستہ بیگم نے جلال صاحب کو اس کے کمرے میں آتے ہوے دیکھا تو مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔

کچھ دیر بعد زوایان کو یوں محسوس ہوا کہ مکمل خاموشی ہوگی ہے ۔۔۔ لیکن اچانک ہی ٹھنڈا یخ پانی کی بالٹی زاویان پر انڈیلی گی ۔۔۔

ماما سیلاب ۔۔۔ سیلاب آگیا ۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔

زوایان جو ٹھنڈا پانی گرنے پر چلاتے ہوئے اپنی ماما کو آوازیں لگا رہا تھا ۔۔۔۔ قہقہے کی آواز سن کر خاموش ہوا۔۔۔ اور منظر کچھ یوں تھا کہ بالٹی جلال صاحب کے ہاتھ میں تھی اور دونوں میاں بیوی کے قہقہے گونج رہے تھے۔۔۔۔

ماما یہ ناانصافی ہے ۔۔۔

زاویان نے دوہائی دی تھی ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

عائشہ ۔۔۔ عائشہ کدھر ہو یار ۔۔۔۔

ساحل نے اپنی بیوی کو کمرے میں سے پکارا تھا۔۔۔۔ جو کہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔

جی بولیں ۔۔۔

عائشہ نے ہڑبڑی میں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔ لیکن جیسے ہی ساحل کو شرٹ لیس دیکھا تو اس کا چہرہ شرم کے مارے گلاب کے مانند سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔۔ اور اس کی یہی ادا ساحل کو گھائل کر دیتی ہے ۔۔۔

وہ مجھے تیار تو کر دوں پلیز ۔

ساحل نے ہر بار کی طرح عائشہ کو تنگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ پر ساحل میں نے تو آپ کی ہر چیز نکال کر رہی ہے ۔۔۔

ہاں تو پہنا بھی دو نا۔۔۔

عائشہ جو سرخ ہو رہی تھی ساحل کی بات پر حیرانگی سے اسے بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔۔

یار ایسے نا دیکھو مجھے پھر خود پر کنٹرول نہیں رہے گا۔۔۔

ساحل کی بات پر عائشہ کی کان کی لو تک سرخ ہوگی۔۔۔۔

یہ لیں بازو آگے کریں ۔۔

عائشہ نے ساحل کو شرٹ کا بازو پہنایا اور شرم وحیاء سے کندن بنتے چہرے کے ساتھ شرٹ کے بٹن بند کرنا شروع کر دیے۔۔۔ جب ساحل نے عائشہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے مزید قریب کرلیا تھا ۔۔۔

💗میرے تن سے مہکتی ہے تیری خوشبو

💞اسے اپنی سانسوں سے مٹاوں کیسے

ساحل نے سرگوشی بھرے انداز میں عائشہ کی کان کی لو چومتے ہوئے کہا جس پر عائشہ کے جسم میں سنسنی سے دوڑی ۔۔۔۔

میری جان ۔۔۔ ابھی بھی اتنا شرماتی ہو ۔۔۔ جب کہ تمہیں پتا ہے کہ تمہارا شرمانہ مجھے مزید تمہارا گرویدہ بنا دیتا ہے ۔۔۔

ساحل نے عائشہ کو اپنے سینے سے لگایا اور عائشہ کی کمر کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔

عائشہ کے بٹن بند کرتے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے ۔۔۔اگر تو ساحل نے اس کے گرد اپنا حصار نا بندا ہوتا تو یقیناً وہ گر جاتی ۔۔۔ ساحل کی معنی خیز باتیں اس کی دل کی دھڑکن تیز کر رہی تھی۔۔۔۔

میری جان کانپ کیوں رہی ہو؟؟؟

ساحل نے عائشہ سے سوال کیا جس کا جواب اسے معلوم تھا لیکن پھر بھی اسے عائشہ کو تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے ۔۔۔

س۔س۔ساحل آپ ایسی باتیں مت کیا کریں نا ۔۔۔ مجھے عجیب سا لگتا ہے یہ سب۔۔۔

عائشہ نے ساحل کے نام کا جنازہ نکال کر اپنی بات مکمل کی۔۔۔۔ جس پر ساحل کے سارے موڈ کا بیڑہ غرق ہوگیا تھا ۔۔۔

یار عائشہ میرے نام تو مت توڑا کرو۔۔ اچھا چلو یہ بتاؤ آج میری جان نے کیا بنایا ہے ناشتے میں ۔۔۔

ساحل نے عائشہ کا کھانے کی طرف دھیان دیتے ہوئے کہا۔۔۔

جی جو آپ روزانہ کھاتے ہیں وہی بنایا ہے ۔۔۔

عائشہ نے آئستہ آواز میں جواب دیا ۔۔

چلو پھر آؤ کھانے کے میز پر چلتے ہیں ۔۔۔

ساحل نے عائشہ کا نازک ہاتھ اپنے مظبوط ہاتھوں میں قید کرتے ہوے کہا اور وہ دونوں نیچے کی طرف چل دیے۔۔۔

میری دھڑکن تم کو چاھے ۔۔۔۔

میرا دل بن جانا تم ۔۔۔۔۔

کبھی روٹھ جو جائےدل تو ۔۔۔۔

سینے سے لگانا تم ۔۔۔۔

مجھے اپنا بنا کے رکھنا ۔۔۔۔

اپنوں کی طرح ہر دم ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یہ منظر ہے ایک اندھیرے میں ڈوبے ہوئے فلیٹ کا ہے ۔۔۔۔ جہاں یوں معلوم پڑتا تھا کہ کوئی صدیوں سے نا رہا ہو۔۔۔ پر جیسے کی فلیٹ میں موجود کمرے میں سے ایک وجود نے نکل کر بلب روشن کیا تو پورا فلیٹ روشنی میں نہا گیا۔۔۔۔

موبائل فون کی مسلسل چیختی آواز پر اس وجود نے بےزاری سے فون اٹھایا اور کان سے لگایا ۔۔۔

ہاں بول ۔۔۔

سر میجر سلمان تاثیر نے کل شام 5:30 وہاکینٹ کے بنگلے میں میٹنگ مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔۔۔

ہممم۔۔۔ سہی ہے کل پوری ٹیم وہاں موجود ہونی چاہیے ۔۔۔ اور میں کسی قسم کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔۔

جی۔جی۔ سر میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔

ہممم ۔۔ گڈ۔۔۔

فون میں موجود شخص کی بات سن کر فلیٹ میں موجود وجود نے تیز لہجے میں کہا۔۔۔ جس پر اس شخص نے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔

جیسے ہی کال ختم ہوئی فون کی سکرین پر موجود تصویر دیکھ کر اس وجود کے چہرے میں مسکراہٹ آئ ۔۔۔

بےبی ڈول بہت جلد تمہیں اپنے پاس قید کرلوں گا پوری دنیا سے دور ۔۔۔ ابھی جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو ۔۔۔ بعد میں میرے پاس ہی آنا ہے ۔۔۔

شاہ زین نے قہقہا لگا کر کہا ہے ۔۔۔

بہت مصروف لمحوں میں

میں اپنی ذات کے اندر

اکیلی رات کے اندر

بہت مصروف رہتی ہوں۔

کتابوں کے ذخیروں میں

میں لفظوں کے جزیروں میں

بہت مصروف رہتی ہوں۔

میں اس چہروں کے جنگل میں

اس سنسان سے تھل میں

بہت مصروف رہتی ہوں۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے

مجھے تم یاد آتے ہو

اور اتنا یاد آتے ہو

کہ

“آنکھیں بھیگ جاتی ہیں”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آنا سی او نہیں آیا ۔۔۔

راستہ نا دیکھ لایا ۔۔۔

ساتھ تیرا ہے بہتیرا ۔۔۔

سپیکر سے آتی گانے کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی جب کہ کمرے میں موجود لڑکی گانے کی آواز پر جھوم رہی تھی ۔۔۔

جب اس کی ماں کمرے میں داخل ہوئیں اور کمرے کا حلیہ دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگایا ۔۔۔۔ کمرے کا نقشہ یوں معلوم پڑتا تھا جیسے جنگ عظیم اول پیش آئی ہو۔۔۔ پھر ایمان بیگم نے سپیکر کا بٹن بند کیا اور اسوہ کی کلاس لینا شروع کر دی ۔۔۔

کوئی تم میں شرم حیا ہے یا نہیں ۔۔۔ ماں کو تو تم لوگوں نے نوکر سمجھا ہوا ہے ۔۔۔ ہر وقت کمرہ گندہ ۔۔۔ کبھی صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور یہ سپیکر پر گانے کس خوشی میں لگاے ہیں ۔۔۔ کسی کی بارات جا رہی ہے کیا۔۔۔

ایمان بیگم بولنا شروع ہوئی تو پھر پورے دن کی کسر نکالی۔۔۔ جس پر اسوہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی اور ساحر نے دروازے سے جھانکتے ہوئے شیطانی ہسی نکالی۔۔۔ جس پر اسوہ کلس کر رہ گئی ۔۔۔

ماما آپ ساحر کو تو کچھ نہیں کہتی ہیں اس کو بھی تو کہیں کہ وہ کمرہ وغیرہ صاف رکھا کریں ۔۔۔ آپ ہمیشہ مجھے ڈانٹتی ہیں ۔۔۔

بچے میں آپ کو اس وجہ سے کہتی ہوں کیوں کہ آپ تو میری پیاری بیٹی ہو نا ۔۔۔ ابھی جا کر میں ساحر کی کلاس لیتی ہوں ۔۔۔

اسوہ نے آنکھوں میں آنسوں لیے ایمان بیگم سے شکوہ کیا ۔۔۔ جس پر وہ تڑپ کر اس کی طرف داری کرنے لگی تھی۔۔۔ اور دروازے پر کھڑا ساحر اسوہ کی اداکاری پر حیرت میں مبتلا ہوگیا تھا ۔۔۔

میرا اس میں کیا قصور ہے ۔۔۔ موٹی میرے اوپر الزام لگا رہی ہو ۔۔ ماما آپ کو پتا ہے کل یہ اپنی دوستوں کے ساتھ پارٹی کے لیے گی تھی اور اس نے سٹوری بھی لگائی تھی۔۔۔میں ابھی آپ کو دیکھاتا ہوں۔۔۔

ساحر نے اسوہ کی بات پر بلبلا کر کہا اور ساتھ ہی ثبوت لینے یعنی اپنا موبائل لینے اپنے کمرے میں گیا۔۔۔اور دوسری طرف سے اسوہ نے سٹوری ہی ڈلیٹ کر دی تھی۔۔۔

ایمان بیگم دونوں بچوں کی باتوں پر غش کھا کر رہ گئی تھی۔۔۔ کیوں کہ دونوں ہی چلتی پھرتی فلم تھے ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ڈاکٹر دعا ۔۔۔ ایک کیس آیا ہے پیشنٹ کا بہت زیادہ خون بہ رہا ہے ۔۔ ڈاکٹر عمر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہیں ۔۔۔ اور انہیں اپنے گھر سے آتے ہوئے بھی کافی وقت لگ سکتا ہے ۔۔۔ اس لیے میم آپ کو یہ کیس ہینڈل کرنے کا کہا گیا ہے ۔۔۔

نرس نے مریض کی حالت اور باقی صورت حال سے آگاہ کیا جس پر کرسی پر بیھٹی لڑکی جس کا نام دعا فاطمہ تھا اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔

جی آپ مجھے پہلے بھی کہ سکتی تھی سسٹر۔۔۔ آئیں دیکھائیں کہاں ہے مریض ۔۔

اس کو اس ہسپتال میں آے ایک ہفتہ ہوا تھا لیکن وہ کسی سے بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی جو کہ اس کی طبیعت کا حصہ ہے ۔۔۔ جس وجہ سے اس کو سب مغرور طبیعت کا سمجھتے ہیں ۔۔۔۔ اب اس میں اس کا کیا قصور تھا جو وہ سب یہ سمجھتے تھے۔۔۔

خیر دعا نے فوراً ایمرجنسی میں موجود مریض کا علاج کرنا شروع کیا ۔۔۔ دراصل اس مریض کی عمر کہیں چالیس کے برابر کی معلوم پڑتی تھی اور وہ سیڑھیوں سے گرا تھا

جس وجہ سے سر پر گہری چوٹ آئی تھی لیکن چوٹ سر کے اس حصے میں آئی تھی جو بہت نازک تھا اس لیے یہ کیس تشویش ناک تھا ۔۔۔۔

آپ ان کے وارثوں کو بلائیں ۔۔۔

کیس کافی پیچیدہ ہے اور ہمیں اس وجہ سے آپریشن کرنا پڑے گا ورنہ خون نہ رکنے کی وجہ سے مریض کی جان بھی جاسکتی ہے ۔۔۔اور جنتا جلدی ہو سکے ان کے لیے خون کا بندوست کریں۔۔ کیوں کہ خون بہت زیادہ بہ چکا ہے ۔۔۔

دعا نے مریض کے وارثوں کو یہ بات سمجھائی جس پر وہ راضی ہوگئے تھے ۔۔۔جس کے بعد مریض کو آپریشن تھیٹر میں داخل کیا گیا ۔۔۔

آخر کار ایک گھنٹے کے بعد آپریشن تھیٹر کی سبز بتی چلی اور دعا باہر آئ ۔۔۔

ڈاکٹر میرے میاں ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔

جی جی وہ ٹھیک ہیں اور آپریشن کامیاب ہوگیا ہے ۔۔۔

اس کی بات پر میریض کے ساتھ اے لوگ اس کو دعاؤں سے نوازنے لگے جس کو وہ مسکرا کر وصول کرنے لگی ۔۔۔

جب کہ پیچھے موجود نرس دعا کی مسکراہٹ کو جج کرنے لگ پڑی تھیں۔۔۔۔

دراصل انسان سوچتا ہے کہ وہ ہی سہی سوچ رکھتا ہے اور کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔

کچھ ان کی وفاؤں نے لوٹا

کچھ ان کی عنایت مار گئی ۔۔۔۔

ہم راز محبت کہ نہ سکے

چپ رہنے کی عادت مار گئی ۔۔۔۔

دل نے بہت مجبور کیا

ملنے بھی لاکھوں بار گئے ۔۔۔۔

جی بھر کے انہیں نا دیکھ سکے

آنکھوں کی شرافت مار گئی ۔۔۔۔

وہ کون ہے جن کو جینے کا

پیغام محبت دیتی ہے ۔۔۔

ہم کو تو زمانے میں اے دل

بے درد محبت مار گئی ۔۔۔۔

دعا نے کرب سے اپنی آنکھیں مچ لی تھی ۔۔۔ وہ مزید اپنے بارے میں غلط خیالات نہیں سن پاتی تھی پر کیا کر سکتی تھی وہ ۔۔۔کیوں کہ دنیا کا سب سے بڑا روگ کہ کیا کہیں گے لوگ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ماما میرا ناشتہ دے دیں۔۔۔

زاویان نے سیڑھیاں اترتے ہوئے ۔۔۔ شائستہ بیگم کو کہا اور ساتھ ہی سربراہی کرسی پر موجود اپنے والد صاحب کو گھور کر دیکھا جو اس کی صبح کی میٹھی نیند خراب کر چکے تھے۔۔۔

لیکن ظاہر ایسے کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔

آپ سے تو میں بدلہ لے کر رہوں گا۔۔۔ آپ بھی یاد رکھیں گے کہ آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں میں

زاویان نے شیطانی مسکراہٹ دبائ۔۔۔ اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ شائستہ بیگم نے کچن کی کھڑکی سے ڈائنگ ہال میں جھانکا اور اب انہیں معلوم تھا کہ ان کا شہزادہ کوئی کارنامہ انجام دے گا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جاری۔۔۔

بابا مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے،،عینا نے ناشتے کہ ٹیبل پر موجود اپنے والد کو مخاطب کیا،، جی عینا بچے میری لاڈو نے کیا پوچھنا ہے ،،علی صاحب نے نہایت نرمی سے عینا کی بات پر ردعمل ظاہر کیا،،بابا میری ماما کدھر ہیں اور ہم باقی انسانوں سے دور کیوں رہتے ہیں،،عینا نے اپنی معصومیت سے بھرپور بڑی بڑی آنکھوں کو بڑا کرتے ہوے اپنے والد سے سوال کیا جس وہ ایک لمحے کے لیے گم سم ہوگئے،،

اب کیا جواب دیتے وہ اس معصومیت کے پیکر کو جو اس دنیا کے طور طریقوں سے ناواقف تھی،،عینا بیٹا ناشتہ کرنے کے بعد دروازہ لگا لینا،،میں آفس جا رہا ہوں،،عینا کی بات کو نظر انداز کرتے وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے وہ کمرے سے اپنا سامان لے کر دروازے سے باہر گیراج میں موجود گاڑی کو سٹارٹ کرکے زن سے بھاگا لے گے تھے،،

اور پیچھے عینا ہر بار طرح کے رویے کی عادی ہونے کی وجہ سے خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگی تھی،،خرگوش اچھلتے ہوے عینا کے قریب پہنچا اور اُس کے فراک پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا،،چلتے ہیں سوفی باہر روکو ذرہ بس یہ تھوڑا سا کام رہ گیا ہے،،

عینا نے کہا تو خرگوش باہر کی جانب بھاگ گیا اب عینا کو معلوم تھا کہ سوفی ناراض ہوگی ہے جس پر عینا سب کام سمیت کر سوفی کے پیچھے پیچھے باہر کی جانب گی جہاں ایک بلی سوفی کے گھر میں گھسی ہوئی تھی،،معلوم پڑتا تھا جیسے وہ سردی کی وجہ سے خرگوش کے گھر میں حرارت حاصل نے کے لیے داخل ہوئی تھی،،

عینا نے جیسے ہی بلی کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو اول تو بلی نے ڈر کے مارے عینا کو پنجا مارنے کی ترکیب لگائی لیکن پھر عینا کے پیار سے بلانے پر وہ بلی بہل گی اور عینا کے ہاتھ چڑھ گی،،کیا ہوا ہے مانو بلی کو سردی لگ رہی ہے کیا،،عینا نے بلی کی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے کہا،،

اچانک عینا کو اپنے اوپر کسی کی گہری آنکھوں کی تپش محسوس ہوئی لیکن اس احساس کو اپنا وہم سمجھتے ہوے وہ بلی کو اٹھاے اندر کی جانب بڑھ گئی،،جبکہ دور ایک شخص اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا،،جس سے عینا بےخبر تھی۔۔

فاصــــــلوں سے اگر مـــــــکراہٹ لوٹ آئے تمہــــــاری 💔💔

تو تمہـــــیں حق ہــے , کہ تـــم دوریاں بـــنـا لو ہـــم سے

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

عائشہ اور ساحل جیسے ہی ڈائنگ ہال میں داخل ہوے تو ساحل کے والدین یغنی سالار صاحب اور روبینہ بیگم کو ناشتہ کے میز پر کسی بات پر مباحثہ کرتے ہوتے دیکھا،،کیا ہوا ماما بابا کس بات پر یہ گول میز کانفرنس منعقد ہوئی ہے کہیں ماما آپ کو بابا کی سگریٹ نوشی کے بارے میں علم تو نہیں ہوگیا،،میں تو کتنے دنوں سے انہیں سمجھا رہا تھا لیکن یہ میری بات سمجھ ہی نہیں رہے تھے،،

ساحل نے جیسے ہی دیکھا کہ ماحول تھوڑا گرم ہے تو ساتھ ہی اپنے والد صاحب کی نا کی گئی غلطی کے بارے میں اپنی والدہ کو بتانا شروع کر دیا،،جس کو سن کر سالار صاحب کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا جب کہ روبینہ بیگم کو مزید غصہ چڑھا،،جس کا اظہار انہوں نے برتن کو پوری قوت سے ٹیبل پر پٹختے ہوے کیا تھا ۔۔۔

بس میں تو شروع دن سے ہی انہیں اس عادت سے دور رہے کا کہتی ہوں اور یہ ہیں کہ مجال ہے جو میری بات مان لیں،،اللہ جانے کون سی غلطی تھی میری جو یہ ہیں کہ میری بات ہی نہیں مانتے،،ہاے میں کدھر جاؤں،،روبینہ بیگم اب کہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پیٹنا شروع کر دیا جو کہ غالباً ہر دوسرے ہفتے ہوتا تھا جبکہ فساد کی جڑ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے ساحل صاحب ہی ہوتے تھے،،

ماما آپ پریشان نا ہوں میں ہوں نا،، میں اور عائشہ آپ کے ساتھ ہیں،،ساحل نے اپنے نا نظر آنے والے آنسوں کو پونچھا اور روبینہ بیگم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے حوصلہ رکھنے کا کہا،،

بیگم آپ میری بات تو سنیں،، روبینہ بیگم اندر کی جانب بڑھ گئی جبکہ سالار صاحب اپنی بیگم کو منانے کے لیے جتن کرنے لگ گئے،،جبکہ پیچھے ساحل کا قہقہہ پورے گھر میں گونج اٹھا تھا،،بس بھی کیا کریں ساحل کیوں بابا کو تنگ کر رہے ہیں،،بس جانم مزہ ہی بہت آتا ہے مجھے۔۔



میری حصار سے نکلے تو رائگانی میں اٹک گئے

چند ستارے تھے جو میری مدار سے بھٹک گئے

🥀🖤

Read Rude Heroine story, with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.