Romantic hero based urdu Novel ,QAID jUNOON by Faiza Sheikh

Rude Heroine Urdu Novels, قید جنون by Faiza Sheikh Epi #4

Rude Heroine Urdu Novels, قید جنون by Faiza Sheikh Epi #4

ہماری کوشش ہے کہ بہترین سے بہترین ناولز کو سائیٹ پر شائع کیا جائے۔ اگر آپ کوئی اُردو ناول پڑھنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی نیچے دئیے گئے اڈریس پر میل کیجئے۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کی فرمائش کو پورا کیا جائے۔ اگر آپ اپنے اُردو ناول ہماری ویب سائٹ پر شائع کرنا چاہتے ہیں تو دئیےگئے اڈریس پر ہمیں میل کریں۔ شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Web Special Novel, Rude Heroine Urdu Novels,

 

قید جنون

قسط نمبر چار

از قلم فائزہ شیخ

 

اسے نفرت سے دیکھتی وہ سر جھٹک کر اپنا چہرہ پھیر کع دیوار کی طرف کر لیتی ہے سپاٹ نظروں سے سامنے دیکھتی وہ اپنی دنیا میں گم ازراق کو وہ ایک پری لگی تھی

 

ایک حسین جادوگرنی جو اپنے طلسم میں کسی کو بھی جکڑتی اسے پاگل بنا سکتی تھی جو کسی اور دنیا سے راستہ بھٹک کر ان کی دنیا میں آئی تھی

 

اسے دیکھنے میں گم ازراق کسی اور ہی دنیا میں چلا گیاازراق نے بے خودی میں اپنا ہاتھ بڑھاتے اس کے چہرے کی ملائمت کو محسوس کرنا چاہا تھا پر ہوش تو اسے تب آیا جب شمائل کا نازک ہاتھ اس کے چہرے کی زینت بنا

 

اس کے چہرے پہ پڑنے والے تھپڑ سے ازراق کا چہرہ دوسری سمت جھک گیا تھا شمائل خود شاک کی حالت میں کبھی ازراق کے سرخ چہرے کو دیکھتی تو کبھی اپنے ہاتھ کو ازراق کو اس قدر شدید ردعمل کی امید قطعا نہیں تھی شمائل سے پہلے تو اس کا دماغ ماوف ہو گیا کہ آخر ہوا کیا ہے

 

لیکن جونہی سمجھ آئی وہ غصے سے سرخ آنکھوں سے اسے جیسے جلا دینے کے در پر تھا آنکھوں سے چھلکتی سرخی کسی کو بھی خاک کردینے کو کافی تھی جس کا غرور توڑنے کے لیے اسے اتنے پاپڑ بیلنے پڑے آج وہی اس کے منہ پہ تھپڑ مار رہی تھی

 

جسے آج تک کسی نے ہاتھ تک نا لگایا تھا ازراق کا ازلی غصہ عود آیا تھا وہ اب کسی صورت شمائل ہاشم خان کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا محض اسے ہاتھ لگانے پر اس قدر شدید ری ایکشن نے ازراق کو مشتعل کر دیا تھا

 

آخر وہ محرم تھا کیسے ۔۔۔ کیسے اس پر ہاتھ اٹھا سکتی تھی ازراق تیش کے عالم میں اس کی جانب بڑھا اور اسے دونوں بازوں سے تھامتا پیچھے کی جانب دھکیلنے لگا شمائل کو اس کی انگلیاں اپنے بازوں میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں

درد کی شدت سے اس کے آنسو بہنے لگے شمائل قدم با قدم پیچھے لیتی اس کی پشت سختی سے دیوار سے جا لگیدرد کی ایک لہر اس کی کمر میں ہوتی پورا جسم سن کر گئی دیوار سے ٹکرانے پر وہاں نصب چھوٹا سا کیل اسے زخمی کر گیا

 

لیکن وہ اس تکلیف کو ضبط کر جاتی ہے کیونکہ یہ تکلیف اس درد کے آگے کچھ نہیں تھی جس کو زندگی بھر اسے جھیلنا تھا یہ تو بس شروعات تھی درد ضبط کرنے کے چکر میں شمائل کی آنکھیں بے تحاشا لال ہو گئیں تھیں

 

اس کے بازوں کو سختی سے پکڑے وہ جیسے اپنے حواسوں میں نہیں تھا ورنہ اپنے ہاتھ پر لگنے والا خون ضرور دیکھ پاتا ازراق اسے بازوں سے جکڑے اپنی گرم دہکتی سانسوں سے اس کا چہرہ جھلسا رہا تھا

شمائل دم سادھت اس کی دہکتی آگ جیسی تپش خود پر محسوس کرتی اپنی پلکیں بے ساختہ جھکا گئی

 

ازراق کی پکڑ اس پر سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی وہ اس اذیت دینے کی ہر حد پار کرنے کے در پہ تھا

کہ اسکی نظر شمائل کے بھینچے ہوئے ہونٹوں پہ پڑی دانتوں میں ہونٹوں کو بھینچے وہ انکھیں میچے کھڑی بغیر ڈوپٹے کے سامنے اس کا نازک کمسن سراپا سامنے کھڑے وجود کا سانس سینے میں اٹکا گئی تھی

 

اسے شدت سے اپنے اردگرد اکسیجن کی کمی محسوس ہوئی گہرے گہرے سانس لیتا اس سے نظر ہٹانے کی کوشش کرتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کو پرسکون کرنے لگا

 

جس میں وہ ناکام رہا جھٹکے سے اس کی کمر میں بازو ڈالتے اس کا چہرہ اپنے برابر کرتا ٹھوڈی سے پکڑ کر اونچا کرتا اچانک سے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا۔۔۔۔۔۔

 

شمائل جس کا دماغ پہلے ہی نکاح کو قبول نا کر پایا تھاا زراق کی اس حرکت پہ پھر سے تاریکی میں جانے لگا تھا

دماغ و دل میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے جس شخص سے نفرت کا پر چار کرتی آئی تھی

اسے خود کے اس قدر قریب محسوس کرتی کہ اس کی گرم سانسیں خود میں اترتی محسوس ہورہی تھیں شمائل کا دل کیا خود کو آگ لگالے ۔۔۔

 

وہ بھر پور مزاحمت کا اظہار کرتی اسے خود سے دور کرنے کے جتن کرنے لگی اپنے نازک ہاتھوں کے مکے بناتی اسے مارنے لگی پر وہ بے حس بنانا جانے کتنے برسوں کی تڑپ مٹا رہا تھاازراق مکمل اس کے لمس میں کھویا ہوا تھا پر خود پہ بوجھ محسوس ہوتے وہ ہڑبڑا کر رہ جاتا ہے

 

“اسی کی کمی رہ گئی تھی نا جانے یہ مجھے آگے کیسے برداشت کرے گی ضد تو بن چکی ہے عشق نا بنے ورنہ اس ضدی کے عشق کا سامنا کرنا دوبھر ہو جائے گا اس کے لیے”

 

خود سے بڑ بڑاتا ازراق اس کی حالت کو یکسر فراموش کیے وہ آگے کے پلان بنا رہا تھا کہ اسے زمین بوس ہوتا دیکھ وہ فورا سے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیتا ہے شمائل کو باہوں میں اٹھائے

 

وہ فورا سے بیڈ کی سمت بڑھتا اسے وہاں لٹا کر کمرے سے چلا جاتا ہے وہ خود سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی جذبات بدل رہے تھے جو کہ اس کے لیے ایک خطرے سے کم نہیں تھے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہاشم صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے اپنی ماضی میں گم تھے جہاں کئی خوشگوار یادیں بسی تھیں لیکن ایک حادثے نے سب بدل دیا ان کا خوبصورت سا آشیانہ بکھر کر رہ گیا تھا ماضی کی یادوں میں کھوے وہ سامنے لگی

 

اپنی بیوی کی تصویر کو دیکھتے ہیں تو دلکشی سے مسکرا پڑتے ہیں تصویر کے پاس جاتے وہ اس پہ ہاتھ پھیرتے ہیں گویا محسوس کرنا چاہتے ہوں کہ وہ ان کے پاس ہیں

“ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا جانم! اب تو ہم سے خفا نہیں ہیں نا آپ واپس آ جائیں آپ کو اپنے شام کی یاد نہیں آتی کیا آپ کا شام آپ کو بہت یاد کرتا ہے آ جائیں نا۔۔۔ “

 

ان کی تصویر سے باتیں کرتے وہ ایک بے بس شخص لگ رہے تھے جو اپنی بیوی کو بچا نہیں پاے اور اب پچھتاوے کی آگ میں گھر گئے تھے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مسلسل بجتے آلارم کی آواز سے شمائل کی آنکھ کھل گئی تھی سر میں اٹھتی ٹیسوں نے اسے سر پکڑنے پہ مجبور کر دیا تھا

ہاتھ مار کر اسے نیچے گراتی گھٹنوں میں سر دیے بازوں ٹانگوں کے گرد باندھے اپنی زندگی کے تلخ ایام کو گننے لگ گئی جن میں خوشیاں چند گنتی کی تھی جس کا اس کے بابا سے کوئی تعلق نہیں تھا

 

اپنی بے لگام سوچوں کو لگام ڈالتی وہ فریش ہونے کے لیے باتھ روم میں کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد وہ کمرے سے بالکل ایک منفرد لباس میں نکلی سپاٹ تاثرات چہرے پہ سجاے…

 

وہ ولا سے باہر نکلے لگتی ہے کہ ہاشم خان اسے پیچھے سے اسے آواز دیتے ہیں جسے وہ نظرانداز کرتی ولا سے نکلتی چلی جاتی ہے

 

پیچھے ہاشم خان اس کا یہ باغی انداز دیکھ کر مٹھیان بھینجتے صوفے پہ ڈھ گئے ابھی انھیں بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مین دروازے سےازراق اندر آتا دیکھائی دیا

 

ہاشم خان کو صوفے پہ ایسے گرتے دیکھ وہ فورا ان کے پاس آیا اور انھیں سہارا دیکھ کر بیٹھایا۔۔۔۔

 

“چھوٹے بابا آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا ہے آپ نے میڈیسن نہیں لی کیا آپ کا بلڈ پریشر پھر سے ہائی ہو گیا ہے کیا “

ایک ہی سانس میں ڈھیروں سوال کرتے وہ انھیں مسکرانے پہ مجبور کر گیا تھا

 

“میں ٹھیک ہوں زار بیٹا بس شمائل کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہوں بہت ضدی ہے وہ جب تک اپنی بات نا۔ منوا لے چین سے نا خود بیٹھے گی اور نا ہمیں چین لینے دے گی”

پریشانی سے کہتے وہ اس کے سامنے خود کا مسئلہ بیان کر گئے تھے

“چھوٹے بابا آپ کو کب سے اس کی فکر ہونے لگی؟ “

 

عام سے لہجے میں کہتے وہ انھیں بہت کچھ باور کروا گیا تھا بات تلخ تھی لیکن سچ تھی جس سے وہ نظریں چراتے بزنس کے متعلق باتیں کرنے لگ گئے زارق بھی سر جھٹکتا ان سے بزنس کی باتیں کرتا آنے والی ڈیل کے متعلق بتانے لگ گیا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہاشم خان کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی اسے کوئی دکھ نا ہوا اس وقت وہ ایک سنسان جگہ پہ زمین پہ لیٹی آسمان کی طرف اپنی سرد و سپاٹ آنکھوں سے دیکھتی نجانے کیا تلاش کرنے میں مصروف تھی

 

 

روز تعارف ہوتا ہے کسی سچائی سے۔۔۔۔۔۔۔۔  روز ایک شخص میرے دل سے اتر جاتا ہے۔۔۔۔۔

 

تنہائی کو دوست بنانا کوئی اتنا آسان نہیں ہے یہ دنیا میں موجود کچھ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تنہائی سے دوستی کرنے پہ مجبور کر دیتے ہیں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خود کو کمپوز کرتی وہ زمین سے اٹھتی واپس گاڑی میں جا بیٹھی کسی ریسورنٹ کے آگے ناشتہ کرنے کے لیے گاڑی کو شہر کی طرف لے جاتی ہے ناشتے سے فارغ ہو کر جونہی باہر نکلتی ہے

 

تو وہاں زارق کو ایک لڑکی کے ساتھ اندر آتے دیکھ وہ تمسخرانہ مسکراہٹ لیے اس کے پاس سے گزرتی لڑکی کر دھکا دیتی اپنی گاڑی کی طرف چلے جاتی ہے

زارق اس کی اس حرکت پہ غصہ ضبط کرتا رہ جاتا ہے وہ لڑکی ہر بار اس کا ضبط آزماتی تھی..

 

جاری ہے۔۔

 

Read Rude Heroine  Urdu Novels with Romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our  Facebook page. Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.