Urdu Novels , Tania Tahir Revenge Best Novel یہ عشق کی تلاش ہے

Tania Tahir Best Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#26

Tania Tahir Best Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#26

 

Tania Tahir Best Novel 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

 

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #26

عالم اسکی جانب دیکھتا رہا یہاں تک کے ائرہ کو لگا ۔۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگیں ہیں اور اسکے گردن کی رگیں پھول کر باہر کو نکل آئیں ہیں جیسے وہ کڑے ضبط میں ہو ۔۔۔۔

پیشانی کی چھوٹی چھوٹی رگوں نے بھی اسکے ضبط کا ثبوت دیا اور وہ بھی پھول گئیں ۔۔۔

ائرہ اسکے نزدیک آ رہی تھی ۔۔۔

عالم نے اپنی آنکھوں پر ضرور سے ہاتھ پھیرہ

یہاں کیوں آئ ہو” وہ سختی سے پوچھنے لگا

مگر ائرہ اسکے غصے کو نہیں دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں چھپے اس شکوے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جو اسے زندگی سے تھا۔۔

جو اس ادھوری زندگی سے تھا ۔۔

ائرہ نے بس اس شکوے کو دیکھا

چلی جاؤ یہاں سے ۔۔” وہ اسے دھکیل کر دھاڑا تھا پوری طاقت سے ۔۔جیسے ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے ہوں ۔۔ جیسے مزید وہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا ۔۔۔

ائرہ دو قدم اسکے دھکیلنے سے دور ہوئ تھی۔۔۔اور ۔۔۔ بنا روکے پھر سے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئ

وہ کسیے بتاتی اگر دل کھول کر دیکھانے کی چیز ہوتی تو وہ اسکے سامنے اپنا دل رکھ دیتی اور کہتی عالم ۔۔ اتنی محبت ہے تم سے ۔۔ دیکھو کیسے تڑپ اٹھا ہے تمھاری ان آنکھوں کو دیکھ کر

مگر اسنے عالم شاہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا

عالم سمجھہ نہیں سکا وہ اس لڑکی کے آگے کس لیے بکھر رہا ہے

اسکی آنکھوں سے آنسو گالوں پر کیوں پھیل رہے ہیں وہ تو ۔۔ خود کے خول میں بند تھا یہ کیسے ۔۔ بے ضبط سا ہو گیا وہ کیسے ۔۔۔

وہ خود پر قابو نہیں رکھ پا رہا ۔۔۔

ائرہ کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔۔۔۔

اسنے عالم کے گال پر سے آنسوں صاف کیے

ایم فائن جیسٹ لیو “وہ اسکے ہاتھ ہٹاتا بولا ۔۔۔۔۔

اتنا شکوہ ہے زندگی سے کہ آنکھیں چھلک رہی ہیں ” آئرہ کے الفاظ عالم کے اعصابوں پر پڑے تھے ۔۔۔

اسنے ائرہ کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔

وہ ضبط کر رہا تھا ۔۔اسنے لبوں کو سختی سے بھینچ لیا تھا ۔۔۔۔۔

اتنا شکوہ مت رکھیں عالم ۔۔اللہ نے آپکو اور بھی بہت کچھ دیا ہے ” وہ بولی دوبارہ چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا ۔

کیا ” وہ اسکے ہاتھ پرے دھکیل کر دھاڑا

کیا دیا ہے مجھے ۔۔ بتاؤ مجھے ۔۔۔۔ تم بتا دو ۔۔ چلو ۔۔۔۔ جو میں نے مانگا جو میں نے چاہا مجھے کیا ملا ۔۔۔بس یہ زندگی شان شوکت کے سوامیرے پاس ہے کیا ۔۔۔

کون سا رشتہ کون سا احساس جو ۔۔۔۔ مجھے پکارے۔۔۔۔ کیا میرے پاس اروش ہے ” وہ اسے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا ۔۔۔ جبکہ ائرہ کا دل کئ ٹکروں میں تقسیم ہوا مگر وہ سنبھال گئ ۔۔۔۔۔

اسکی زندگی اتنی ہی تھی۔۔۔” آئرہ نے پھر سے اسکی آنکھیں صاف کیں

نہیں ۔۔۔ نہیں تھی اسکی زندگی اتنی ایک بار۔۔۔ بس ایک بار اتنی محبت کے بدلے میں بس ایک بار تو وہ محبت سے دیکھتی ۔۔۔۔۔

اتنا بس اتنا اوقت تودیتی زندگی میں ساری زندگی اسی ایک محبت بھری نگاہ کے سہارے کاٹ دیتا مگر۔۔ نہیں۔ ۔۔ مجھے وہ نگاہ بھی نہیں ملی

مجھ پر رحم نہیں آتا کیا ۔۔۔ کیا میں انسان نہیں لگتا ۔۔۔۔

نہ ماں میری باپ کو میں نے خود مار دیا ۔۔۔۔۔ بہن بھائ ۔۔۔ میرے دشمن ہیں میں نے اپنے دادا کو مار دیا

چچا کو اپاہج کر دیا ۔۔

اتنی نفرت اتنی نفرت۔ ۔۔ دی مجھے کہ میں نے سب ختم کر دیا ۔۔۔کیونکہ یہ سب نفرتیں تھیں بس ایک شخص مانگا تھا ائرہ می

جھے وہ مل جاتی تو میں یہ سب ان سب کو دے دیتا میں اف نہ کرتا۔۔ مگر نہیں مجھے کچھ نہیں ملا زندگی میں میرے لیے کوئ تھا ہی نہیں ” وہ سرخ نظروں سے بھیگے لہجے میں اپنے دل کو اسکے سامنے کھول گیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اسے کیا کہتی کہ نظر اٹھا کر تو دیکھو ۔۔۔۔۔ میں ہوں ۔۔ اللہ نے تمھارے نصیب میں مجھے لکھنا تھا ۔۔ مجھے ملنا تھا تم پر حق

اور میں تم سے اتنی محبت کرتی ہوں کہ دن رات تم میری آنکھوں میں محبت کے سوا کچھ نہیں دیکھو گے

مگر وہ بول نہیں سکی ۔۔ عالم اسے دھکیل کر ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

میرے وجود میں اذیت ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دل ایک دن اس بوجھ تلے دب جائے گا ۔۔۔۔

اسنے مجھے ایک بار تو پکارہ ہو گا ۔۔ ایک بار تو سوچا ہو گا عالم عالم کہاں ہے ۔۔۔

ہو سکتا ہے اسے یہ خیال ایک پل کے لیے آیا ہو کہ عالم اسے بچا لے گا ۔۔۔۔۔

مگر نہیں عالم۔۔ سکون کی نیند سوتا رہا میں ۔۔ میں کیسے زندہ تک ابھی تک یہ سمجھ نہیں آتا ۔۔۔ اسکی پریشانی پر تو۔ ۔ دل دھڑک اٹھتا تھا ۔۔اور وہ دنیا سے چلی گئ ۔۔ عالم زندہ ہے۔۔

اتنی سخت جان ہے عالم کی اتنی” اسکا لہجہ بھیگ گیا لفظ ٹوٹ سے گئے

وہ کس تکلیف میں تھا اسکی آنکھ سے نکلتا بار بار آنسو یہ واضح کر رہا تھا ۔۔۔۔

ائرہ اچانک اسکے پاس آئ ۔۔۔اور اسنے عالم جو اس سے تو بہت بڑا تھا اسکو سمیٹ لیا اپنے بازؤں میں ۔۔۔۔

اور عالم بکھر گیا ۔۔۔

اسکے سینے میں چہرہ چھپائے وہ رو پڑا ۔۔

ائرہ کی بے چینی دیکھنے لائق تھی ۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ نہیں بولی اسکی تکلیف پر سسک سسک جا رہی تھی ۔۔۔

ہو لفظوں میں کیسے بتاتی عالم ۔۔ تمھاری تکلیف پر میں بھی مر جاؤں گی ۔۔ منہ پر چپ کا قفل ڈالے وہ ۔۔۔۔

اسکو سینے سے لگائے ہوئے تھی ۔۔

عالم نے اپنا چہرہ نہیں اٹھایا ۔۔۔۔

دل ہار کر وہ رویا تھا ۔۔۔۔۔

شاید اس لیے کہ یہاں سے جانے کے بعد وہ اس گھر میں کبھی نہیں آئے گا ۔۔ایک دن یہ حویلی بند ہو جائے گی اور ایک قیمتی جان اس حویلی میں بند ہو جائے گی ۔۔

کیوں سوچ رہے ہیں آپ ایسا ۔” ائرہ نے اسکے ہٹنے پر اسکے آنسو صاف کیے ۔۔

میں یہاں سے چلا جاؤں گا ۔۔۔۔ سوچ کر دم گھٹتا ہے ۔۔اروش یہاں تنہا رہ جائے گی ۔۔۔ وہ اکیلی ہو جائے گی مگر میں کیسے روکوں اسکے لیے بھی کیسے روکوں میں ۔۔۔

میرا ان سب کو دیکھ کر۔۔۔۔ روز مرنے کو دل کرتا ہے کہ اسکا قاتل زندہ ہے میں اسے عبرت ناک موت نہیں دے سکا ” وہ سر جھکائے بولا تھا ۔۔ بھول گیا تھا کون سامنے ہے جس سے حال دل بیان کر رہا ہے ۔۔

ائرہ نے اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسکی ہتھیلی کھول کی اپنے آنسوں کو حلق میں ہی اتار لیا تھا ۔۔۔ وہ اسکے بے حد نزدیک بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

عالم بھی اپنی کھلی ہتھیلی دیکھ رہا تھا جبکہ ائرہ اسکی ہتھیلی پر انگلی چلانے لگی ۔۔۔۔۔

کیا ضرورت ہے یہ سب برداشت کرنے کی ۔۔۔۔ تیمور کو ایسی موت دیں گے یہ گاؤں اس

گاؤں کی ہر لڑکی جو عزت اس کے ہاتھوں گنوا چکی ہے ۔۔۔۔

ہر عورت جس کی عزت کو اسنے پامال کیا ۔۔۔

آپ ان سب کے محافظ ہیں اللہ کیطرف سے ۔۔۔ آپ اسے ایسی موت دیں ۔۔ کہ عورت کی عزت کی قدر ۔۔۔۔ اپنی آخری سانس تک یاد رکھے ۔۔۔۔۔

اور اروش تنہا نہیں ہے ۔۔۔ میں اور آپ ہیں نہ ۔۔اس حویلی اس گاؤں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔

ہم اروش کے پاس ہی رہیں گے وہ اکیلی نہیں ہے ۔۔۔

آپکی ماں بھی اکیلی نہیں ہے عالم ۔۔۔۔۔ ہم رہیں گے انکے پاس ہم یہاں سے نہیں جائیں گے ۔۔۔ یہاں سے دور سکون نہیں ملے گا ۔۔۔ دیکھیں یہاں ہر جگہ تو اروش ہے ۔۔۔۔

آپکی آنکھوں میں آپکے کمرے میں آپکے آنسوں میں آپکے لہجے میں آپکی پکار میں اروش ہی تو ہے ۔۔۔ وہ تو زندہ ہے ۔۔۔

مر تو کوئ اور رہا ہے ۔۔” وہ اسکی ہتھیلی پر اچانک اپنا لمس چھوڑ گئ ۔۔ عالم سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

آپ جب تک زندہ ہے اروش زندہ رہے گی ۔۔۔ اروش

نے آپکو نہیں اپنے رب کو پکارہ ہو گا ۔۔۔۔

انسان کے پاس سب سے پہلے اسکا رب ہوتا ہے ۔۔۔۔

ہر تکلیف ہر مشکل میں سب سے پہلا خیال اسکے رب کا آتا ہے ۔۔۔ اور یقین مانیے اسپر جو ظلم ہوا اسکے رب نے اسے پھولوں کیطرح اپنے پاس بلایا ہو گا ۔۔

کیونکہ آپکی محبت کچھ بھی نہیں جو اسکا رب اسکو پیدا کرنے والا اس سے محبت کرتا ہے ۔۔ وہ بہت مہربان ہے ۔۔ اور جو آپ شکوہ کرتے ہیں اپنی زندگی پر غور تو کریں ۔۔ کبھی اسنے آپکو بھوکا سلایا۔۔۔۔۔

کبھی تن پر میلا کپڑا پہنایا ۔۔

کبھی ان بازؤں کی طاقت میں کمی محسوس کی آپ نے ۔۔۔

کبھی آپ نے اپنی ماں کا بدلا اپنے باپ سے لیتے سوچا کہ اللہ کیوں نہ لے ۔۔۔۔

کیونکہ ۔۔ اللہ نے آپکو ایک مقصد کے تحت بھیجا ۔۔۔ اور وہ مقصد یہ برائ ۔۔ ختم کرنا ہے ۔۔۔۔

مانتی ہوں میری محبت آپکی نظر میں ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ ایک کاغذ کے ٹکڑے کیطرح ہے ۔۔ جس کی حیثیت نہیں ہوتی ۔۔ اگر وہ کھو جائے تو اسے ڈھونڈا نہیں جاتا ۔۔۔۔

وہ پھٹ جائے ۔۔۔۔ تو تکلیف نہیں ہوتی ۔۔۔۔

مگر اللہ نے آپکو ۔۔۔۔۔۔ دیا ہے وہ شخص جو آپکی آنکھ سے نکلے آنسو پر تڑپ اٹھے ۔۔۔

مگر آپ مان نہیں رہے ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا عالم ۔۔۔۔

محبت ہے ملے نہ ملے ۔۔۔۔

محبوب کو محبت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے ۔۔

میری محبت میں جبر نہیں ۔۔۔ میں تو آپکی محبت سے بھی بے پناہ محبت کرنے لگی ہوں ۔۔۔مگر آپ رویا مت کریں ۔۔۔ اور یہاں سے جانے کے بارے میں مت سوچیں ۔۔۔

یہ گاؤں آپکا ہے یہاں کتنے لوگ آس لگائے بیٹھیں ہیں اس انصاف کے لیے کتنی ماؤں کی آنکھیں آپ پر لگی ہیں ۔۔۔۔۔

ان سب کا حق ہے آپ پر ۔۔۔ یہ گاؤں یہاں کے لوگ آپ کے ہیں ۔۔۔۔ خوشیوں کو تلاش کر لینا چاہیے ہار مان جانا ۔۔۔۔

بزدلی ہے ۔۔” وہ بہت پیار سے اسے سمجھا رہی تھی جبکہ وہ اسکا ایک ایک لفظ سر جھکائے سن رہا تھا

یعنی عالم شاہ ۔۔ ائرہ خان کی باتیں ۔۔ سر جھکائے سن رہا تھا کہنے کے لیے اسکے پاس لفظ بھی نہیں تھا بہت کچھ تھا جو آج ۔۔ اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔۔

لگتا ہے کچھ کھایا نہیں آپ نے ۔۔ میں آپکے لیے کچھ لاتی ہوں ” اسنے کہا اور عالم کے پاس سے اٹھی ۔۔

اس سے پہلے وہ آگے جاتی عالم کے ہاتھ میں اسکی کلائی آ گئ ۔۔

ائرہ کا وجود عجیب لہر کے زیر اثر سنسنا اٹھا ۔۔۔

اسنے مڑ کر عالم کی جانب دیکھا ۔۔۔

کہیں مت جاؤ ” یہ لفظ ۔۔ یہ الفاظ ۔۔۔۔

یہ لفظ وہ شاکڈ رہ گئ اسنے کبھی خواب میں بھی یہ الفاظ جو بس چند ہی تھے نہیں سوچے تھے عالم اسے کہے گا ۔۔۔

ائرہ کا ہاتھ اسکی ہتھیلی میں کانپ اٹھا ۔۔۔۔

عالم نے ایک جھٹکے سے اسکی کلائی کھینچی ۔۔ ائرہ دوبارہ اسی جگہ پر بیٹھ گئ ۔۔

میں ۔۔آپ کچھ کھا لیں گے تو بہتر محسوس کریں گے” ائرہ نے ۔۔۔اسکی آنکھوں سے گھبراتے ہوئے کہا ۔۔۔

عجیب طلب دیکھائ دی تھی ۔۔۔۔ اسکی سانسیں ۔۔۔

اکھڑنے لگی ۔۔۔۔

ہاں مجھے بہتر محسوس کرنا ہے ۔۔۔مجھے اپنی تھکاوٹ اتارنی ہے ” وہ واضح لفظوں میں اسکی آنکھوں میں دیکھتا پوچھ رہا تھا

ائرہ کے فرشوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ وہ ایسی بات اس سے کرے گا ۔۔ ائرہ کا سر جھکنے لگا ۔۔۔

عالم اسی کیطرف دیکھ۔ رہا تھا جیسے جواب کا منتظر ہو ۔۔۔

ائرہ اروش نہیں” اسکے وجود میں کسی اور اروش کو تلاش کرنا چاہتا تھا ۔۔

کیا وہ اسکی قربت میں اسے محسوس کرتا ۔۔ ائرہ مر ہی نہ جاتی ۔۔۔

تبھی وہ ڈبڈباتی نظروں سے اسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔

عالم بھی عالم نہیں ہے” وہ کہتا اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔۔۔

اسکی باتوں نے عالم کے دماغ کی تنی رگوں کو جیسے چین بخشا تھا ۔۔ شاید وہ چاہتا تھا کوئ کہے عالم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے ۔۔اور شاید عالم شاہ بھی نہیں جانتا تھا یہ باتیں ۔۔ ائرہ کہے گی ۔۔اور وہ کسی فرمانبردار بچے کیطرح مان جائے گا ۔۔

عالم کے ہاتھ کی حرارت سے اسکا دل بے ہنگم ہو گیا ۔۔

دھڑکنوں نے شور مچا دیا ۔۔

ائرہ بنا احتجاج کے بیٹھی تھی

اور کرتی بھی کیسے اور کیوں ۔۔

محبت میں احتجاج کیسا ۔۔ محبت میں تو اف بھی جائز نہیں ۔۔۔۔

عالم اسکے چہرے کے نزدیک آنے لگا ۔۔۔

جبکہ ایک ہاتھ سے دوپٹہ اسکے گلے سے کھینچ کر بیڈ پر پھینک دیا ۔۔۔۔

ائرہ کی نگاہیں اسکی انگلیوں کیطرف تھیں ۔۔۔

میری آنکھوں میں دیکھو ” وہ حکم دینے لگا ۔۔۔۔۔

ائرہ کے لیے اسکی آنکھوں میں دیکھنا مشکل تھا باخوبی جانتی تھی محبت ائرہ کے نام کی ایسا کوئ جزبہ عالم شاہ کے دل میں نہیں

وہ بس اسکی قربت سے شاید سکون محسوس کرنا چاہتا تھا ۔۔

شاید برسوں بعد کسی کے اوپر اپنی تھکاوٹ اتار دینا چاہتا تھا اور ایک بیوی کی حیثیت سے ۔۔ائرہ اسکو اسکا حق دینے کے لیے تیار ہو چکی تھی ۔۔۔ مگر ائرہ کے دل کے جزبات میں اسکی محبت جو چور چکی تھی وہ کوئ بدل نہیں سکتا تھا ۔۔

عالم شاہ نے اسی ہاتھ سے ۔۔ اسکے بالوں کا کیچر نکالا ۔۔۔ بال بکھر گئے ۔۔

عالم نے اسکے سر پر دباؤ دیا ۔۔اور خود اسکے چہرے پر جھکنے لگا ۔۔۔۔

جبکہ ائرہ پیچھے بستر پر جا گیری ۔۔

عالم شاہ بنا ہچکچائے ایک نظر اسکی ۔۔۔ آنکھوں کو دیکھ کر وہ اسکے چہرے پر لمس کی حرارت بکھیرنے لگا۔۔۔

رفتہ رفتہ اسکی شدتیں بڑھ رہی تھیں ائرہ مشکل میں پڑنے لگی ۔۔۔

ایکدم اسنے اس بے مروتی اس ظالم قربت پر تڑپ کر عالم پکارہ ۔۔

شاہ “:وہ بے ترتیبی سانسوں سے سسکی

جبکہ عالم شاہ نے اسکے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Tania Tahir Revenge Best Novel , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

 

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *