Tania Tahir Novels 2022

Tania Tahir Novels 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#20

Tania Tahir Novels 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#20

Tania Tahir Novels 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #20

 

 

ایک پل کے لیے حمائل حیران رہ گئ وہ ایسی لڑکی تھی نہیں کے زرا زرا سی باتوں پر روے اسے لگا تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ کر کے آئے گی مگر اسے اتنا کمزور دیکھ کر وہ حیران رہ گئ اسنے ائرہ کا چہرہ اوپر کیا آئرہ کو کچھ شرمندگی ہوئ سوری میں ایسے ہی آ گئ اسنے کہا اور باہر نکلنے لگی ۔۔۔۔

 

صیام کچھ نہیں بولا تھا حمائل نے پلٹ کر صیام کو دیکھا اور صیام نے اسے اسکے پیچھے جانے کا اشارہ کیا ۔۔

 

حمائل سر ہلا کر باہر چلی گئ ائرہ اوپر اسکے روم میں جا رہی تھی وہاں حال روم میں کوئ نہیں تھا ۔

 

وہ بھی اسکے پیچھے ہو لی

 

ائرہ کمرے میں آئی دل تھا کہ بس رونے کا۔۔۔ ایسے جیسے ویران ہو گیا ہو حمائل سمجھہ سکتی تھی کہ وہ کس کنڈیشن میں ہے شاید اسکے ساتھ بہت برا ہوا ہے وہ روم میں آ کر بیٹھ گئ اور ائرہ کا چہرہ دیکھا ۔۔۔

 

جو بلکل مرجھایا ہوا تھا مگر اس مرجھائے ہوئے چہرے میں بھی وہ بے حد دلکش جازب نظر اور سیدھی زبان میں خوبصورت لگ رہی تھی

 

تم مت رو ہو جاتا ہے بعض اوقات زندگی میں وہ سب کچھ جس کا ہم اندازا نہیں لگا سکتے کہ کیا کرنا ہے” وہ اسے سمجھانے لگی ائرہ نفی کرنے لگی ۔

 

تم عالم کو جانتی ہو ” وہ ایکدم اسکے قریب ہوئ حمائل حیران رہ گئ آنسو صاف کر کے کیسے وہ ایکدم اسکے نزدیک آئ تھی

 

ہاں بچپن سے شاید وہ صیام کے بیسٹ فرینڈ ہیں اور میرے بڑے بھائ کیطرح ہمیشہ انھوں نے میری سپورٹ کی ہے ” وہ مسکرائ

کیا وہ کسی کو پسند کرتا ہے ” وہ سوال کرنے لگی ۔۔

 

ہاں اروش پسند بہت چھوٹا لفظ ہے وہ اور میں گویا بیقوقت اس عشق کی تپش میں جھلستے تھے فرق بس اتنا تھا کہ مجھے میری مانگی دعا مل گئ جبکہ انھیں وہ تو بن مراد رہ گئے ۔۔۔

 

بہت زیادتیاں ہوئ ہیں انکے ساتھ ۔۔۔ اور اروش کی وفات نے تو انھیں توڑ کر رکھ دیا ۔۔۔

حمائل خاموش ہوئ ائرہ کی۔ل سرخ ہوتی آنکھوں کو حیرانگی سے دیکھا ۔۔

تم ٹھیک ہو “اسنے اسکے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

 

نہیں “وہ اسکا ہاتھ تھام کر رو دی ۔۔۔

میں میں سمجھہ نہیں پا رہی میرے ساتھ کیا ہو گیا یے حمائل ۔۔۔۔” وہ اپنی حالت کو خود سمجھہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔

 

تم پریشان نہ ہو ۔۔کچھ نہیِ ہوتا اب سب ٹھیک ہو جاو گے” وہ بولی ۔۔

میں ٹھیک نہیں ہوں یار مجھے اروش اروش کا نام سن کر دم گھٹ رہا ہے “

کیوں ” حمائل جو سمجھہ رہی تھی اس سے ایکدم اسکا دل دھڑکا تھا

 

ائرہ خاموش رہ گئ۔۔۔

کہنے قابل کچھ بھی نہیں رہی تھی

 

دوسری طرف حمائل بھی دنگ رہ گئ ۔۔۔

 

وہ ادھورے انسان ہیں نفرتوں میں پلے بڑھے ہیں وہ تمھیں کچھ نہیں دے سکتے ” حمائل کی بات پر اسنے نفی میں سر ہلایا

 

نہیں سب ٹھیک بھی تو ہو سکتا ہے ” وہ اس سے بولی ۔۔۔

 

ائرہ” حمائل کو اسکے سسکنے سے اپنا آپ یاد آیا ۔۔۔

اور اگے بڑھ کر اسنے اسے گلےسے لگا لیا ۔۔

ائرہ اپنے انسوں کی وجہ خود نہیں جانتی تھی ۔۔

یوں ہی اسکے سینے سے لگی سسکتی رہی

اسفند شاہ رات کے پھیر اسکے پورشن میں آ گئے انھوں نے چور نظروں سے دیکھا وہ ڈرنک پی رہا تھا اب بھی سب کچھ اسکے ہاتھ میں تھا ۔۔۔

 

مطلب سب کچھ اسکے نام تھا اوراب ان سب کا یہ ارادہ بنا تھا کہ زیادہ دیر اسکے ساتھ رہنے سے انھیں نقصان ہو سکتا ہے تبھی وہ اب سب کچھ تیمور کے حق میں اتروانا چاہتے تھے

 

وہ اندرآ گئے عالم نے ان کی طرف دیکھا اور بنا ریسپونس دیے وہ ڈرنک کرنے میں مصروف رہا

وہ اسکے پاس آ کر بیٹھ گئے

 

کیسے ہو تم” کس لیے ائیں ہیں وہ پوچھنے لگا

کیوں تم میرے بیٹے ہو کیا میں تمھارے پاس نہیں آ سکتا ۔

 

بعض اوقات اپنے والوں سے بھی فاصلہ رکھنا چاہیے ” عالم نے ناگواری سے کہا ۔۔

اسفند شاہ ہنس دیے

اور اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے

 

چلو آج باپ بیٹا دونوں مل کر پیتے ہیں وہ بولے تو عالم نے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔

میں آپکو اپنا باپ کم گالی سمھجتا ہوں اسنے گلاس میں شراب ڈال کراسکیطرف بڑھایا ۔۔۔

اور اسفند شاہ ایکدم خاموش ہو گئے

 

اور پھر قہقہہ لگا کر ہنس پڑے

عجیب میرے بچے ہیں ۔۔ ویسے مجھے تمھاری ماں سے بہت محبت تھی ” عالم کے ہاتھ سے گلاس لے کر وہ بولے

عالم نے سر ہلایا

 

تو جلانے کا مقصد ” عالم نے شراب کا گھونٹ بھر کر ان کی طرف دیکھا ۔ ۔

انھوں نے بھی آہستگی سے گھونٹ بھرا اور مسکرا دیے

 

 درحقیقت میرا مزاج ایسا تھا مجھے رنگ برنگی پریاں بہت پسند تھیں ” وہ نہ جانے اتنے کھل کر ہر بات کا اظہار کیوں کر رہے تھے عالم بھی ہنس دیا ۔۔

 

تو اب کیوں چھوڑ دیا ” عالم نے پوچھا

 

کہاں چھوڑا ہے یار” اسفند شاہ پر نشہ چڑھنے لگا۔۔۔

 

یہ شراب ہی ایسی تھی بے حد مہنگے برینڈ کی وہ تو بہکنے لگے اور ہر بات کا اظہار کرتے چلے گئے

 

عالم انھیں تیسرا گلاس بھرتا دیکھ رہا تھا جو خاموشی سے پی رہے تھے بات ادھوری چھوڑ دی

 

گاؤں کی ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی زبردست ہے یہ تیمور بڑا پکا شکاری ہے ہراچھی لڑکی لے آتا ہے وہ جو لڑکی یہاں قید کی ہوئ تھی اسکے ساتھ” عالم نے ان کی طرف دیکھا نظروں میں بے حد سرد تاثر تھا اگر تم نہ آتے تو ضرور زبردست ہوتا

 

عالم مسکرا دیا یعنی میں آپ لوگوں کے بیچ میں آ گیا ” وہ لاپرواہی سے بولا

ہاں بس یی ہی ہے ” وہ بولے اور پوری بوتل اتنی دیر میں پی چکے تھے ۔۔۔ ۔

جبکہ عالم چپ چاپ انھیں دیکھ رہا تھا

 

اگر ایسا ہو آپکو اچانک پتہ چلے کہ شراب میں زہر ہے تو کیا کریں گے “

 

عالم نے سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔

اسفند شاہ نے پل بھر کو اسکو دیکھا اور پھر ہنس دیے

 

نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے”انھوں نے جیسے حلق میں پھنسا گھونٹ کسی احساس کے تحت اندر اترا کہ شاید ویسا کچھ نہیں جیسا وہ کہہ رہے ہے اب باری ہنسنے کی عالم کی تھی

 

آپکو ایسا کیوں لگا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خیر یہ جلنے کی تکلیف سے کم تکلیف دہ ہے “وہ بولا

 

اور سکون سے دیکھنے لگا جنھیں کھانسی کا بری طرح دورا پڑا تھا کہ کھانسنے لگے تھے

 

اسکی بات سنتے ہی اپنے گلے میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے تھے عالم انھیں سکون سے دیکھنے لگا اسفند شاہ کی پشت پر چھپے پیپرز پر نگاہ گئ جس پر اسے نشے میں بھکتا دیکھ وہ سائین کراتے اور یہاں سے چلے جاتے اس آسان کھیل ہی کھیل میں بازی پلٹ گئ تھی انھیں تکلیف ہو رہی تھی

 

فکر نہیں کریں مرے گے نہیں مگر ہاں مرنے کی دعا ضرور کریں گے

 

جس کا شاندار زائقہ آپکو بھا گیا ہے وہ ضرور آپکے ہوش ٹھکانے لگا دے گا مطلب دنیا میں ہی جھنم کی نظارے “مسکراہٹ سمٹ گئ تھی ایک زہریلی نظر انکے تڑپتے مدد کے لیے دیکھتے وجود پر ماری

 

کتنا خوف آتا ہے نہ جب آپکو یہ پتہ ہو کہ اب آپکو جلا دیا جائے گا اور آپ پھر بھی چپ چاپ وہیں رہتے ہیں جب کہ آپکو اپنی اولاد سے محبت کتنی ہوتی ہے کچھ والدین کو کہ انھیں بچا کر خود جل جاتے ہیں!”وہ پسینے سے شرابور تڑپتے انکے وجود کو دیکھتا پاس بیٹھ گیا

 

وہ پتے کیطرح کانپ رہے تھے جسم جھٹکے کھا رہا تھا مگر وہ کچھ بولنے کی ہمت خود میں نہیں پاتے تھے

 

جبکہ عالم انکے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا

اور بعض ماں باپ اپنی اولاد سے معصوم جانوں کا خون کرا دیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ عالم کی جان بستی تھی اس میں ” وہ دھڑا اور فولادی گرفت میں اسکی گردن جکڑ کر اس طاقت سے دبائ کے مچھلی کیطرح تڑپ اٹھے وہ اپنا آپ اس سے چھوڑانے کے لیے محنت کر رہے تھے

مگر بے سود انکے ہاتھوں میں ہمت نہیں تھی انھیں اپنی موت صاف دیکھائ دے رہی تھی آنکھوں سے لاتعداد آنسو نکل کر روانی سے انکے گالوں پر بہہنے لگے جبکہ عالم نے انکو دور جھٹک دیا

میں نہیں چاہتا تو مارے. ۔۔

 

تو موت کی بھیگ مانگے گا بس “وہ بولا اور اسفند شاہ کے تڑپتے وجود کو گھسیٹتے ہوئے وہ اپنے پورشن سے باہر لے آیا اور اسنے انکو حویلی کے کوڑے کی جگہ پر پھینک دیا

 

اب تیری اپنی اولاد تجھے کب دیکھتی ہے معلوم نہیں ہو سکتا ہے اس زہر کی تکلیف سہتے سہتے تو اسی گندگی پر مر جائے اور ہو سکتا ہے کہ کوئ تجھے بچا لے مگر یہ تکلیف تجھے دونوں صورتوں میں جینے نہیں دے گی

 

جس نے سب سے پہلے تیری زبان چھین کر تجھے مفلوج کر دیا یے تیرے دماغ میں صرف دو لوگ چلیں گے میری ماں بے قصور ماں اور اروش.

 

اروش میری اروش “وہ اٹھا کر انکے سر پر اینٹ مار گیا انکو پہلے ہی لگ رہا تھا جسم کو کسی نے کاٹ دیا ہے کوئ آہستگی سے انکے جسم کے ٹکڑے کر رہا ہے اور ایک ایک زخم میں نمک بھر رہا ہے جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے اینٹ اسنے ان کے سر پر ماری تو وہ ہوش ہی کھو گئے عالم نہیں چاہتا تھا کہ وہ انکھیں بند کریں اسکا بس نہیں چلا انکے وجود کے ٹکڑوں کوکسی باز کو کھلا دے

 

نفرت سے دیکھتا رہا اور تھوک کر وہ وہاں سے ہٹ گیا اسفند شاہ کا ہنکار آج کوڑے کے ڈھیر پر پڑا تھا انکا غرور آج گندگی میں پڑ ا تھا وہ جو زمیں والوں ہر زمیں تنگ کر چکے تھے

 

آج انکو زمین کے حصے میں گندگی نجاست ملی تھی عالم شاہ چلتا ہوا اپنے وپورشن میں آ گیا

 

اور اس بوتل کو اٹھا کر اسنے بہا دیا جبکہ بوتل توڑ کر اتنی دور مکرم سے پھینکوا دی کہ کسی انسان تو کیا جانور کو بھی اس زہر تک رسائی نہ ملے ۔۔

وہ آج اپنی ماں کا بدلہ لے چکا تھا ۔۔

 

اسے لگا اسکے کندھوں پرسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہے

 

وہ اب زیادہ نہیں توڑی ہی سہی سکون کی نسانس تو لے گا عرصے سے اسپر اسکی سانسیں بھی حرام ہو چکیں تھی روز زمیر کی عدالت میں مجرم بن کر کھڑا ہوتا تھا اور آج اسے رہائی ملی تھی زمیر کی عدالت سے اسفند شاہ اب شاید کسی کو یاد بھی نہ رہتا

 

اسے زندہ اسی لیے چھوڑ دیا تھا اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھتا وہ اور یہ تو شروعات تھی اگے اگے ۔۔۔جو ہونا تھا شاید اس کا انداز کوئ نہ لگا پاتا نہ ہی تیمور شاہ جو مظلوموں کو پامال کرتا تھا

 

اور اتنا نیچ انسان تھا اسفند شاہ ۔۔۔۔ اسکی باتیں یاد کرکے نفرت سے اسکے سامنے صوفے کو دیکھا اور مکرم کو حکم دیا اس صوفے کو ہی جلا دے وہ ایک لمہے کے لیے نہیں چاہتا تھا

 

کہ اسکے ارد گرد کوئ ایسی چیز ہو جس پر وہ ناپاک انسان بیٹھتا

اگلے دن ائرہ کو بخارچڑھ گیا سب ہی اسکے لیے پریشان ہو گئے

اماں تو کچھ زیادہ ہی ہسنتی کھیلتی بچی کو نظر لگ گئ وہ صیام سے بولیں جو کہ اب بہتر محسوس کر رہا تھا

 

اور اسنے حمائل کی جانب دیکھا جو اپنی نگاہ اسپر سے پھیر گئ تھی صیام جاننا چاہتا تھا یہ نظریں کیوں چرا رہی ہیں ایسا کیا ہوا ہے اماں آرام کی غرض سے کچھ دیر بعد اٹھ کر اندرچلی گئ تو صیام کو موقع مل گیا

کیا ہوا ہے”

 

کیوں مجھ سے نظریں چرا رہی ہو ” وہ سوال کرنے لگا

ایسا تو کچھ نہیں حمائل نے کہہ

تبھی علینہ آ گئ صیام وہ تمھارا دوست عالم کو کیا ہوا اب تمھاری طبعیت خیریت پوچھنے نہیں آیا کرے گا ” علینہ کے سوال پر صیام نے اسکی جانب دیکھا

تم واپس کیوں نہیں جا رہی

 

تمہیں کیا مسلہ ہے میں اپنے تایا کہ گھر ہوں جتنا تم سے پوچھا ہے وہ بتاو ” علینہ نے بدتمیزی سے کہا

تو صیام کو سخت غصہ آیا چور نظروں سے حمائل کو دیکھا جو ایک ٹیک صیام کو دیکھ رہی تھی

علینہ جواب کی منتظر تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تبھی علینہ پاوں پٹخ کر وہاں سے چلی

گئ

حمائل کچھ نہیں بولی البتہ صیام کافی شرمندہ تھا ہی تھی اسکی چوائس آج اسے خود نظر آ گیا تھا فرق

جی آپ کچھ پوچھ رہے تھے” حمائل نے ہی اسکے لیے آسانی پیدا کی

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کیا مسلہ ہے ائرہ کے ساتھ”

کچھ بھی نہیں ” حمائل نے چھپایا

بتاو مجھے”

صیام نے زور دیا

وہ دراصل مجھے ایسا لگتا ہے وہ عالم بھائ کو پسند کرنے لگی ہے” حمائل ایسے بولی جسیے یہ خطا اسکی ہو

وٹ عالم کو آئرہ

کیا وہ اس کے بارے میں سب جانتی ہے ” صیام بولا

وہ اسی بات پر کل سے ہلکان ہو رہی ہے “

مگر عالم میں ایسا کچھ نہیں عالم اسکو کچھ نہیں دے

سکتا

آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں زرا سوچ کر تو دیکھیں

عالم بھائ کی زندگی بھی بدل جائے گی ” حمائل نے زور دیا وہ اسکا دوست تھا کچھ کرسکتا تھا

میں جانتا ہوں عالم کو وہ کبھی اسکی طرف توجہ نہیں دے گا یہ لڑکی کس چکر میں پڑ گئ

صیام بولا تو حمائل خاموش ہو گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Continued……

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published.