Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Tania Tahir Novels 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#21

Tania Tahir Novels 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#21

Tania Tahir Novels 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #21

 

 

دو دن گزر گئے تھے مگر اسفند شاہ کا کوئ آتا پتہ نہیں تھا ۔۔وہاج اور تیمور دونوں نے اسے بہت تلاشنہ چاہا مگر
انھیں کہیں بھی اسفند شاہ نہیں ملے اور وہ دونوں حویلی میں داخل ہوئے انکی ماں انھیں دیکھنے لگی اوران دونوں نے سر نفی میں ہلا دیا
مجھے لگ رہا ہے ڈیڈ واپس امریکہ چلے گئے ہیں عالم سے ڈر کر” سارہ بولی جبکہ مسکرائی بھی
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ ” تیمور نے سر نفی میں ہلایا
کیا عالم نے تو کچھ نہیں کردیا” وہاج نے تیمور کو دیکھا
نہیں اب تک تو اسنے کچھ نہیں کیا وہ ۔۔ تو اپنے پورشن میں ہوتا ہے ” تیمور نے کہا کیونکہ وہ اسے ابزرو کر رہا تھا ۔۔۔ اور اب تک اسے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا ۔
اسنے کہا ۔۔۔اور وہ خاموش ہو گئے سب ۔۔
اچھا ٹھیک ہے جہاں ہوں گے خود آ جائیں گے ” سارہ نے کہا اور اٹھ گئ
یہ کل رات تم کس لڑکے کے ساتھ تھی ” تیمور کو اچانک یاد آیا کہ ۔ اسنے سارہ کو ۔۔ کسی لڑکے کے فلیٹ میں جاتے دیکھا تھا
تم کون ہوتے ہوتم مجھ سے یہ پوچھنے والے” سارہ ہتھے سے اکھڑی
میں اس گھر کا مالک ہوں اور سیدھی طرح سنو میری بات ۔۔۔ اس کی شادی کریں ۔۔۔ مما ” وہ بولا ۔۔
سن لو اسکو ۔۔ روز کمرے میں نئ لڑکی لے کر پڑا ہوتا ہے ۔۔
کسی نے کچھ کہا اسکو”
چپ ہو جاؤ ۔۔۔بکواس بند کرو تم سب اپنی باپ کو ڈھونڈو
نہ جانے کہاں غائب ہو گئے ہیں” انکی ماں نے کہا
میں تو اب نہیں ڈھونڈو گا میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے دو دن اپنی زندگی کے قیمتی میں نے دے دیے ہیں اب مزید نہیں ” وہاج کہتا اٹھ گیا ۔۔۔
جبکہ تیمور نے نفی میں سر ہلایا
دیکھ لو اس کو” انکی ماں غصے سے بھڑکی
جبکہ تیمور اٹھا اور انکو گھورنے لگا
اسکی شادی کریں یہ جو راتیں لگا رہی ہے دوسروں کے ساتھ کوئ ۔۔کیس بن گیا تو
۔ میں جان سے مار دوں گا اسکو ” وہ بولا اور کمرے میں چلا گیا ۔۔
جبکہ انکی ماں حیران رہ گئ اسکی دھمکی پر سارہ نے ۔۔ سر جھٹکا اوراٹھ گئ جبکہ اسکواپنے شوہر کی فکر تھی اچانک سامنے سے عالم آتا دیکھائی دیا توسارہ رک گئ ۔
عالم ایسا تھا کہ وہ بس اسے دیکھتی رہی اسکے ساتھ بھی کچھ وقت بتانے کا دل کیا
عالم انکے پاس سے گزر گیا جبکہ وہ ماں بیٹی دیکھتی رہیں ۔۔
عالم کا رخ دادا کے کمرے کیطرف تھا ۔۔۔
سارہ جلدی سے ۔۔۔ اپنا حلیہ درست کرتی اسکے پیچھے بھاگی تھی اسنے دروازہ کھولا ۔۔ جبکہ دروازہ لوک تھا ۔۔۔
وہ جیسے ہی پیچھے مڑا سارہ مسکرا کر کھڑی تھی ۔
یہ بند کیوں ہے ۔۔۔۔ ” اسنے سوال کیا ۔
وہ دادا زرا تنگ بہت کرتے تھے تبھی تیمور نے بند کر دیا دروازہ ” اسنے سکون سے کہا
۔
عالم ان لوگوں کی بے حسی پر ۔۔ جیسے حیران نہ ہو سکا ۔۔
دروازہ کھولو ” وہ سرد نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔
سارہ نے جلدی سے پاس لٹکی چابی اٹھا کر دروازہ کھول دیا وہ اندر داخل ہوا توبہت بدبو تھی۔۔۔
اتنی کہ اسنے ناک پرہاتھ رکھ لیا ۔۔
گندگی سے بھرا ہوا بستر ۔۔اور اس پستر پر ۔۔۔ دادا کی اپاہج لاش ۔۔ وہ ساکت نظروں سے دیکھ رہا تھا یہاں تک کے انکے چہرے کا ماس بھی ختم ہوچکا تھا ۔۔
ہڈیوں سے چیپکا ہوا ماس بے حد خوفناک دیکھ رہا تھا ۔۔
ایکدم سارہ چیخنے چلانے لگی ۔۔
جبکہ عالم یوں ہی کھڑا رہا ۔۔
سارہ نے چیخ چیخ کر سب کو اکٹھا کر لیا ۔۔
تیمور نے دیکھا ۔۔
چلو آسانی خود ہی کرلی اپنے لیے” اسنے کہا ۔۔
اور عالم کی جانب دیکھا ۔۔۔
جو چپ چاپ کھڑا تھا ۔۔۔
اور بس چند منٹوں بعد وہ واپس پلٹ گیا
اب اس بڈھے کی تدفین بھی ہمیں ہی کرنی یے” وہ غصےسے ملازموں کو پکارنے لگا ۔
اٹھاؤ اس بدبو کے ڈھیر کو اور پھیکوا دو کہیں” اسنے کہا اور منہ پر ہاتھ رکھتا چلا گیا ۔۔
پورے گھر میں عجیب بدبو پھیل گئ تھی کہ سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا سب حویلی سے باہر آ گئے ۔۔
حیران کن بات تھی یہ بدبو عالم کے وپرشن میں نہیں تھی حالانکہ تمام کھڑکیاں حویلی کی کھول دی گئیں تھیں کہ یہ بدبو نکل جائے ۔۔اور عالم کے پورشن میں ایسا کچھ نہیں تھا وہ ۔۔ سب حیران ہو گئے
۔
یہاں تک کہ پورچ میں بھی انسے سانس لینا مشکل ہو گیا ۔
دادا کی لاش کو باہر لے جایا گیا تو وہ لوگ تھک ہار کر عالم کے پورشن میں آ گئے ۔۔۔۔
یہاں بدبو کا نام و نشان نہیں تھا آرام سے سانس لینے لگا ۔۔
سبحان شاہ ۔۔۔۔ بھی سوکھ کر کانٹا سے ہو چکے تھے جبکہ انکی بیوی بھی جسیے برسوں سے کچھ کھایا نہ ہو ۔۔
مکرم ان سب کو یہاں دیکھ کر ۔۔ آنکھیں نکال کران تک پہنچا ۔۔
کیوں رش لگایا ہوا ہے تم نے یہاں” مکرم بولا ۔۔۔۔
وہاں بہت سمیل ہے جبکہ حیرت کی بات ہے ۔۔ یہاں کوئ سمیل نہیں توہم عالم کے پاس کچھ دن رہ لیں گے” سارہ نے بے تابی سے کہا اور۔۔۔ اندر جانے لگی ۔۔
عالم صاحب ۔۔ کو کسی بھی بے وجہ کے مہمان کی آمد پسند نہیں تو بہتر ہے تم سب لوگ وہیں چلے جاؤ اور یہ بدبو لاش کی نہیں تم سب کے گناہوں کی ہے” وہ تیمور کی آنکھوں میں دیکھتا بولا ۔۔
شاید تو بھول گیا ہو کیسے پیٹا تھا ” تیمور نے بھڑک کر کہا ۔
اب تیرے ہاتھ مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہزاروں بار سوچیں گے” اسنے کہا ۔۔ تو تیمور نے دانت پیسے۔ ۔
نکلو یہاں سےسارے” مکرم چیخا اور ۔۔ ابھی وہ بحث کرتے ۔۔۔ کہ مکرم رک گیا ۔۔
ان کے پیچھے حمائل صیام اور ائرہ ۔۔ کو دیکھ کر وہ یوں ہی رک گیا ۔۔۔۔
صیام صاحب آئیں آئیں نہ میں عالم صاحب کو بتاتا ہوں ” وہ اندر بھاگا ۔۔ کانچ کا دروازہ کھول کر تیمور وہاج دونوں اہرہ کے ۔۔شعلہ بار حسن پر نظریں گاڑھ کر رہ گئے
جبکہ انکا سامان ملازم اندر رکھ رہے تھے ۔۔
لگتا ہے رہنے آ گئے ہو ” تیمور نے نظریں ائرہ پر جمائے رکھتے پوچھا وہ خون کے گھونٹ بھرنے لگی کیونکہ صیام نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ کوئ ایسی ویسی حرکت نہیں کرے گی ۔۔۔
صیام نے کوئ جواب نہیں دیا اور حمائل اور ائرہ کو لے کر اندر جانے لگا ۔۔
صاحب آ جائیں۔ ” مکرم کے کہنے پر وہ تینوں اندر چلے گئے ۔۔
ہم کیوں نہیں جا سکتے” سارہ تلملائ دونوں بھائیوں کی نظریں ائرہ پر محسوس کر کے غصے سے پھٹنے کو تھی وہ ۔۔ جبکہ اسے لگتا تھا ۔۔کہ اس سے زیادہ کوئ خوبصورت نہیں جبکہ یہ اسکا وہم ہی تھا اس میں ذرا بھی معصومیت نہیں تھی
اور کچھ دیروہ لوگ یوں ہی کھڑے رہے کہ مکرم جلتا بھنتا باہر آیا ۔۔
صاحب کہہ رہے ہیں تم سب لوگ اپنا سامان لے کر آ جاؤ ” اسنے پیغام پہنچایا اور ۔۔ وہاں سے ۔۔ چلا گیا ۔۔
وہ باہر کھڑے سب لوگ حیران رہ گئے ۔
واؤ ” سارہ چلائ اور بدبو کی فکر کیے بنا اپنا سامان لینے بھاگی میک اپ کپڑے ۔۔ اسے اب عالم کے ساتھ رہنا تھا ۔۔
تو اچھا دیکھنا تھا
وہاج اور تیمور نئ لڑکی کے چکر میں ۔۔۔چلے گئے جبکہ انکی ماں کو یہ جگہ کافی پسند آئ تھی ۔۔سبحان اورانکی بیوی کے پاس ویسے بھی کچھ نہیں تھا وہ اندر آ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم نے سب کے لیے کھانا بنوایا تھق اروش کی تصویر دیکھ کر سب ۔۔۔۔ پل بھر کو رک گئے تھے
تیمور جیسے ٹیز ہونے لگا اس تصویر سے جیسے اروش اسے گھور رہی ہو ۔۔ اسنے بہت اگنور کیا مگر عجیب ٹیز کرتی تصویر تھی ۔۔۔
جو دیوار میں ہی نصب تھی وہ کہاں ہٹوا سکتا تھا ۔۔
وہ سب کافی خوش تھے ۔۔ صیام
حمائل اور ائرہ اپنے اپنے کمروں میں ریسٹ کر رہے تھے جبکہ عالم بھی اپنے کمرے میں تھا ۔۔وہ سب لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔ خوش گپیوں میں مصروف تھے
باپ غائب ہو گیا ہےان میں سے کسی کو بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔
رات ہوئ تو ۔۔ ائرہ اپنے کمرے سے نکلی وہ خوش تھی وہ یہاں ایک بار پھر سے اسکو دیکھ سکتی تھی آنکھوں میں چمک سی در آئ تھی وہ ۔۔۔ ٹراؤزر شرٹ یلو کلر کا پہنے بنا دوپٹہ لیے باہر آئ۔۔۔ تو ۔۔ بے حد حسین لگ رہی تھی حمائل بھی تبھی نکلی وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
صیام سو رہے تھے میں نے سوچا ۔۔ کھانے میں کچھ بنا لیا جائے ۔۔
میں بناؤ ۔۔” ائرہ نے جلدی سے کہا
تمھیں بنانا آتا ہے” حمائل بولی تو ۔۔ائرہ نے جوش سے سر ہلایا اور دونوں کچن میں آ گئ ۔۔۔
ائرہ نے چاہت سے اسکے لیے کھانا بنایا تھا ویسے شاہ کو کھانے میں کیا پسند ہوگا ٫ ۔۔ ” وہ پوچھنے لگی جبکہ حمائل ہنس دی میں بھی اسی طرح پاگل تھی ۔۔
مجھے نہیں پتہ حمائل یہ سب کیا ہے مگر مجھے لگتا ہے اب مجھے یہاں کے علاؤہ کہیں سکون نہیں ملے گا ۔۔۔۔
اور بابا کو کہہ آئ ہوں ۔۔۔ اگر وہ میرا نہ ہوا تو ۔۔ ائرہ کو کسی کا بھی کر دیجیے گا ۔۔۔” اسکی آنکھیں بھیگیں ۔۔
تم بہت اچھی ہو اور خوبصورت ایسی کہ سب ٹھر کر دیکھیں مجھے یقین ہے ہم جس مقصد پر آئیں ہیں وہ ضرور پورا ہو گا ۔۔” حمائل نے اسے تسلی دی تو وہ روتے میں مسکرا دی ۔۔
اور دونوں نے کھانا بنا لیا ملازمہ بھی کھانا بنا چکی تھی
کیا وہ کھائیں گے ” وہ اسکی جانب دیکھنے لگی
ہاں نہ ضرور ” اسنے کہا ۔ اور ائرہ مطمئین ہو گئ
ملازمہ نے سب کے لیے کھانا علیحدہ بنا لیا تھا ۔۔۔
وہ دونوں نکلی تو سب نے انکی طرف دیکھا ان دونوں کی توجہ بلکل بھی ان لوگوں کی طرف نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ سب حال میں بیٹھے تھے ۔۔
تیمور نے گھیری نظروں سے ائرہ کو دیکھا ۔۔ مگر عالم کا عجیب سا ڈر تھا خیر اب شاید وہ سب بھول گیا تھا تبھی اتنا اچھا بن رہا تھا ورنہ عالم محبت اور نفرت دونوں دیکھانے میں ماہر تھا ۔۔۔
تبھی تیمور مطمئین تھا ۔۔۔۔
بھائ کیا چیز ہے ” وہاج نے سانس کھینچا۔
ایسی بھی کوئ چیز نہیں ” سارہ نے غصے سے کہا ۔
ہاں تمھاری شکل کوئ دیکھتا نہیں نہ اسی لیے جل رہی ہو “وہاج بولا ۔۔
سارہ نے دونوں کو گھور کر دیکھا مگر ماں کے روکنے پر رک گئ ۔۔
جاؤ اپنا میکپ ٹھیک کر کے آؤ ” اسکی ماں نے کہا تو وہ ۔۔۔
جلدی سے میک اپ ٹھیک کرنے بھاگی
۔ کیونکہ ملازمہ پہلے ہی بتا چکی تھی عالم کے بنا کھانا نہیں کھایا جائے گا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم ٹیبل پر بیٹھا تھا ساری ڈائنیگ آج بھری ہوئ تھی ۔۔ اسکے ایک طرف صیام تھا دوسری طرف حمائل جبکہ ایک چئیر پر ۔۔۔ ائرہ بیٹھی تھی تو ۔۔ دوسری طرف سارہ اور اس طرح سب بیٹھے تھے ۔۔
عالم نے کسی کیطرف نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
ائرہ دم سادھے بنا پلک جھپکاۓ اسے دیکھ رہی تھی جبکہ ۔۔۔ سارہ لالچی نظروں سے ۔۔ اسنے کھانے کے ڈھکن کھول کر کھانا دیکھا ۔۔
ائرہ بے تاب تھی وہ اسکے خوشبو اڑاتے کھانے کو چھوئے گا
۔۔ عالم نے سب کچھ دیکھا اور مکرم کی جانب دیکھا ۔۔
جو پیچھے کھڑا تھا ۔۔
مجھے فروٹس لا دو ” وہ بولا اور ۔۔ ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔۔۔۔
ائرہ کا دل جیسے ۔۔ تہہ میں گر گیا
عالم بھائ آپ یہ کھائیں نہ ” حمائل نے اسکی جانب پلیٹ کی ۔۔صیام نے بھی فورس کیا ۔۔
تھینکس ۔۔۔ مگر فلحال میرا موڈ نہیں میں فروٹس لوں گا ” عالم نے کہا اور۔۔۔ حمائل زیادہ زور نہیں دے سکی ۔۔
سب کھانا کھا رہے تھے کھانا بہت مزے دار تھا ائرہ نے جو بنایا تھا وہ تو سارا ختم ہو گیا ائرہ نے ایک لقمہ بھی نہیں توڑا تھا وہ فروٹس کھا کر اٹھ گیا ۔۔۔
کبھی ہمارے ساتھ بھی بیٹھو بیٹا “یہ تیمور کی ماں تھی جو سوچ چکی تھیں بیٹی کے لیے عالم کو۔۔
حیرت انگیز طور پر عالم جا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
ائرہ کی نظروں میں لاتعداد آنسو بھرے تھے وہ سمجھہ نہیں پاتی تھیں اسکے سامنے اتنی کمزور کیسے ہو جاتی تھی ۔۔
عالم نے ایل سی ڈی کھول لی ۔۔
اور چپ چاپ دیکھنے لگا

کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔۔ اسکوپکارنے کی ۔۔
کچھ دیر سب یوں ہی بیٹھے رہے کھانے کے بعد ۔۔۔۔ اور پھر صیما نے عالم کو پکارہ
مجھے تم سے بات کرنی ہے ” عالم نے سر ہلایا اور سٹڈی میں چلا گیا ۔
ائرہ اور حمائل بھی اٹھ گئ سارہ کو اپنا میک اپ بے کار لگا اسے مزید خوبصورت دیکھنا چاہیے وہ بھی چلی گئ تیمور ائرہ کو پھانسنے کے طریقے سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے تم سے خاص بات کرنی ہے ” وہ بولا ۔۔۔
ہاں بولو ” بنا تاثر کے وہ بولا۔۔۔۔
یہ تمھیں کیا ہو گیا ہے تم اپنی گود میں ان لوگوں کو کیوں پال رہے ہو ” صیام زرا بھڑک کرکہنے لگا ۔۔۔۔
عالم نے اسکی جانب دیکھا لبوں پر مسکراہٹ ابھری ۔۔
تمھیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔ میں کس لیے پال رہا ہوں انھیں ” عالم نے آئ برو اچکائ
صیام نہ سمجھی سے اسکو دیکھنے لگا
تم مت سمجھو کچھ بس دیکھو ” عالم مطمئین تھا ۔۔۔۔
تم کیا کرنے والے ہو ” صیام اسکے نزدیک آیا
اب تک جو بھی کیا کبھی تمھیں بتایا ہے”
مگر میں اب جاننا چاہتا ہوں” وہ بولا
۔۔
صبر کرو جاننے کی ضرورت نہیں تم آنکھوں سے دیکھو گے” وہ خطرناک نظروں سے اسکو دیکھتا ۔۔۔ رہا ۔۔۔
صیام نے سر جھٹکا
تم نے کیا خاص بات کرنی تھی” عالم نے پوچھا ۔۔۔
میں تمھیں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔اور تم بنا غصہ کیے سب سنو گے” صیام نے کہا تو عالم نے ایک نظر دیکھ کر سر ہلا دیا
ائرہ”
مجھے اس نام سے متعلق کچھ نہیں سننا ”
عالم سرد مہری سے بولا
نہیں تمھیں میری بات سننی ہے اور تم نے کہا ہے تم بنا غصہ کیے سنو گے ” وہ بولا ۔۔۔ تو عالم نے ضبط سے اسکی طرف دیکھا
ہر بار مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے تم” وہ غصے سے اسکودیکھنے لگا
تمھاری زندگی بدل جائے گی میں جانتا ہوں تم جانتے ہو اس لڑکی کی بے بس آنکھوں کو جو پہلی نظر میں اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار چکی ہے”
شیٹ آپ صیام ” وہ بھڑکا
میری زندگی میں صرف اروش ہے اور کوئ نہیں ” اسنے واضح لفظوں میں کہا
اروش مر چکی ہے” صیام نے حقیقت بتائ
عالم سرخ چہرے سے اسکو دیکھنے لگا
اور اچانک اسکا گریبان جکڑ لیا

 

یہ یہ دیکھ رہے ہو ۔۔ یہاں ہے وہ ۔۔۔ یہاں زندہ ہے وہ ۔۔۔اور ۔۔۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے میں اسے اپنی موت تک کیسے زندہ رکھو گا ” وہ اسکا گریبان جھٹک کر کہہ کر ۔۔مڑگیا ۔
صیام جانتا تھا یہ مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔۔۔ اسے اس بات پر قائل کرنا

 

Continued……

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

 

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.