Revenge | Urdu Novel 2022

Tania Tahir Revenge Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#22

Tania Tahir Revenge Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#22

 

Tania Tahir Revenge Novel 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

 

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #22

عالم” وہ پھر بھی اسے روکنے کے لیے آگے بڑھا اور اسنے اسکا ہاتھ پکڑا

اگر تو تم اس کام کے لیے اسے یہاں لائے ہو تو یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔ کیونکہ تمھیں میرے پاس سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔۔۔۔ میں وہ خالی کھنڈر ہو جس کو کوئ آباد نہیں کرسکتا ۔۔۔۔

اور کیسے ہو جاؤں آباد میں ۔۔جب ہرطرف قصور میرا ہے۔۔۔ تمھیں لگتا ہے میں شوق سے سب کو اکٹھا کیے بیٹھا ہوں ۔۔ شوق سے اس گھر میں بیٹھا ہوں ۔۔۔

 

مجھ پر عذاب کیطرح مسلط ہیں یہ لوگ یہ گھر یہ جگہ ۔۔۔ میرا دل پھٹتا ہے جب وہ تصویر چیختی ہے میری طرف دیکھتی ہے ان نظروں سے ۔۔۔ جیسے مدد طلب ہوں ۔۔۔

 

میں نے اتنی بڑی چوک کیسے کر دی صیام کیسے اب تک مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئ کہ مجھ سے یہ چوک کیسے ہو گئ ۔۔۔۔

 

کتنی عجیب بات ہے اتنی لاپرواہی کی میں نے ارے مجھے تو ایک لمہے کے لیے اسے وہاں نہیں چھوڑنا چاہیے تھا پھر مجھے کیسے یقین آ گیا کہ وہ اسے کوئ نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔ اس سانپ کی اولاد جو اپنی بیوی کو جلا گیا تھا ۔۔۔۔ اس سانپ کی اولاد ہے تیمور ۔۔۔۔ یہ میں کیسے بھول گیا ۔۔۔۔

 

وہ دھاڑا جبکہ صیام نے اسکو پکڑا اسکی حالت غیر ہو رہی تھی۔۔

 

تم نے مجھے یہاں بھیج کر دوبارہ سے اس اذیت سے اضافہ کر دیا صیام صرف تمھاری وجہ سے میں یہاں آیا ان لوگوں کا منہ دیکھا جن کی شکلیں زندگی میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

 

اور تم مجھ سے ڈیمانڈ نہ کرو۔۔۔ تم سب جانتے ہو عالم صرف اروش کا ہے اور عالم سب کی خواہشیں پوری کرنے کے لیے نہیں ہے خاموشی نے میرے اندر جس قدر زہربھرا ہے وہ سارا میں نہیں چاہتا کسی پر اتاروں ” وہ چپ ہو گیا ۔۔۔۔

 

ٹھیک ہے تم پینیک مت کرو ہم کل چلے جائیں گے یہاں سے ” صیام بولا ۔۔۔

نہیں تم یہیں رہو ۔۔۔۔ جب تک تیمور اپنی آخری سانسیں لیتا ہے ” عالم نے کہا اور سر جھٹک دیا ۔۔۔۔

اسفند شاہ کہاں ہے” صیام کو گویا یاد آیا ۔۔۔

 

کل مل لینا وہ اپنے ٹھکانے پر ہے ” عالم نے کہا توصیام نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔

تم نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا ۔”

 

صیام کو یاد آیا ۔۔

مجھے اچھا نہیں لگا کچھ تبھی میں نے فروٹس کھا لیے ۔۔

 

عالم نے لاپرواہی سے کہا ۔۔

حالانکہ کھانا بہت مزے دار تھا ” وہ بولا ۔

ہوسکتا ہے ” عالم نے کہا ور سٹڈی سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

 

اور جیسے ہی باہر نکلا سیدھی نظر سرخ آنکھیں اور حسن کا شہکار چہرہ لیے کھڑی ائرہ پرگئ ۔۔۔۔ اسے بلکل فرق نہیں پڑتا تھا کوئ روئے ہنسے یہ جیے یہ مرے ۔۔ اسے صرف انتقام لینا تھا اور یہاں پر ہی سب ختم کر کے وہ یہ جگہ چھوڑ کر چلا جاتا ۔۔۔۔

اور اس لڑکی میں اسے بلکل دلچسپی نہیں تھی ۔۔

 

صیام نے ائرہ کو دیکھا اسے آج سے پہلے زندگی میں اتنا دکھ محسوس نہیں ہوا تھا ۔۔۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھا ائرہ کو وہاں سے پکڑا اور آگے لے کر چلا گیا جبکہ ۔۔۔ ائرہ پلٹ پلٹ کر ۔۔۔۔ بہتی آنکھوں سےعالم کو دیکھ رہی تھی

 

محبت آپکو اتنا کمزور کر دیتی ہے ۔۔وہ لڑکی کیا تھی۔۔۔۔

اور آج اس سے ایک لفظ۔ بھی بولا نہیں جاتا تھا ۔۔۔ اسے سمجھہ نہیں آتی تھی کیسے عالم کو کہے بھول جاؤ اروش کو کیسے ۔۔کہے

 

کہ سمجھو مجھے میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔اور ہر آئے دن اس محبت میں اضافہ ہو رہا ہے تم سمجھہ کیوں نہیں رہے

 

۔۔ جہاں تم محبت کا ستم سہہ رہے ہو اس جال میں پھنس کر مجھے بھی کیوں دے رہے ہو اب تو جان گئے ہو ۔۔ تو میری مشکل آسان کر دو مگر یہ سب کہنے کے لیے زبان کا ہلنا بہت ضروری تھا جبکہ ائرہ کی زبان عالم کے آگے کھولنے کا نام نہیں لیتی تھی ۔

صیام نے اسے کمرے میں چھوڑا۔

 

حمائل نے جلدی سے اسے پکڑا

مجھے لگتا ہے تمھیں یہاں سے چلا جانا چاہیے ائرہ سن تو سب کچھ چکی ہو تم”صیام سنجیدگی سے بولا ۔۔۔

 

نہیں تم نے وعدہ کیا تھا اسطرح مت توڑو میرے وعدے کو “میری آس ہو تم صیام ” ائرہ بولی بے بسی سے ۔۔۔ جبکہ صیام دانتوں تلےلب سختی سے دبا گیا

نہ وہ سمجھہ رہی تھی نہ عالم سمجھہ رہا تھا

 

وہ ایک خالی انسان ہے تمھیں کچھ نہیں ملے گا اس میں تم اپنا وقت ضائع مت کرو ” وہ بولا تو اسکی بات پر ائرہ چپ ہو گئ ۔۔

 

حمائل نے صیام کی جانب دیکھا

کیا میں بات کروں عالم بھائ سے ” اسنے کہا تو صیام کو اب غصہ آنے لگا ۔۔

 

چلو ٹھیک ہے کرلو سب اپنے شوق پورے” صیام غصے سے بھڑکتا باہر نکل گیا جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھتی رہ گئیں ۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب اکٹھے ہوئے۔۔

عالم اسی طرح سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔ جبکہ باقی سب بھی اسی طرح سوائے احمئرہ کے ۔۔اسے سخت بخار ہو چکا تھا حمائل نے اسے کچھ کھلانا چاہا مگر وہ نیم غنودگی میں تھی تبھی کچھ نہیں کھایا تو اسنے بھی بعد کے لیے سوچ کر باہر جانا مناسب سمجھا

 

تیمور تو اسے دیکھنے کا منتظر تھا اپنی حوس کو نظروں سے پوری کرنے کا مگر یہاں تو وہ آ ہی نہیں رہی تھی باہر خاموشی سے ناشتہ کیا گیا ۔۔۔ اور عالم نے تیمور کیطرف دیکھا ۔۔

 

تیمور کا لقمہ لے جاتا ہاتھ رک گیا..

زمینوں کو دیکھتے رہے ہو تم اس دوران” اسنے نارملی بات شروع کی جیسے ایک بھائ دوسرے سے کرتا ہو

 

تیمور نے لقمہ ویسے ہی چھوڑ دیا عالم اس سے ایسے بات کرے گا یہ تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا کبھی بھی ۔۔

 

وہ ایکدم خوشی محسوس کرنے لگا چلو یہ بھی اسکے حق میں تھا کہ وہ اس طرح دونوں ساتھ رہتے ۔۔ عالم تو زہین تھا ہی تو اچھا فائدے کی بات تھی جو زمین کھنڈرات بننے لگیں تھیں وہ دوبارہ آباد ہو جاتیں اور اسطرح اسکے پاس بھی پیسے آتے رہتے اسنے اپنا فائدہ سوچا

 

ہاں میں نے حفاظت کرنے کی پوری کوشش کی مگر نہ جانے کیسے فصلوں کا کیڑا لگ گیا۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ پوری کی پوری فصلیں برباد ہو گئیں ۔۔۔۔ اب تم ہی کچھ کرو ” وہ بولا تو عالم نے سر ہلایا ۔۔

 

تم نے دیکھایا نہیں پھر کسی کو وجہ کیا ہے ” عالم نے اسکی جانب دیکھا وہ سٹپٹا گیا نہ اسکے پاس اپنے گندے کاموں سے فرست تھی اسنے پورے گاؤں کو ویران کر دیا تھا یہ سب کر کر کے ۔۔۔۔

تیمور خاموش ہو گیا ۔۔۔

آج تم چلنا میرے ساتھ” عالم بولا تو تیمور سٹپٹایا ۔۔

 

 

میں میں کیسے تمھارے ساتھ میں کیا کرنے جاؤں گا میرا کیا کام ہے بھلا ۔۔۔ تمھاری زمینوں ہیں تم خود ہی دیکھو گے ” تیمور نے ہری جھنڈی دیکھائی عالم نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔

اور سر ہلا کر اٹھ گیا ۔۔۔۔

 

وہ فریش تھا مکرم سے گاڑی تیار کرنے کو کہا اور وہ زمینوں کے لیے نکل پڑا

کتنی محنت کی تھی ان زمینوں کے لیے اسنے ۔۔۔

جو آج کھنڈرات ہو رہیں تھیں

۔ اسنے ڈیلر سے سودہ کر لیا ۔۔ان زمینوں کو بیچنے کا

۔۔

اوروہ گاؤں کے لوگوں سے بھی ملا ۔۔

 

ہرگاؤں والے کی آنکھ اسکو دیکھ کر نم ہو گئ ۔۔کسیے وہ اچھے وقت بھول سکتے تھے جب سرداری عالم شاہ کی تھی اور اب بھی وہ چاہتا تو سرداری پرآ سکتا تھا مگر اب یہ ممکن نہیں تھا ہر کام کے لیے اس میں دل لگنا ضروری تھا اس گاؤں میں اورگاؤں کی گلیوں میں صرف اسے بے بس چیخیں سنائی دیتیں تھیں جو وہ سن نہیں سکا اسکا دل مزید کچھ سننے کا شوق بھی نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔

وہ شام تک گھر لوٹا ۔۔۔۔

 

تو سب گھر والے لون میں تھے اسکی لاشعوری نظر ۔۔نے ائرہ کو دیکھنا چاہا مگر وہ نہیں تھی دوسری طرف سے تیمور بھی نہیں تھا نہ جانے کیوں خطرے کی گھنٹیاں سی محسوس ہوئیں صیام اور حمائل تو جبکہ ادھر ہی بیٹھے تھے ۔۔۔

 

دونوں اس کو دیکھ رہے تھے جو اروش کو زندہ رکھنے کے لیے عالم نے دوبارہ اس گھر میں سجا دیا تھا ۔۔

 

عالم تیزی سے قدم بھرتا اندر آ گیا ۔۔اور اسنے ۔۔۔ ائرہ کے روم کیطرف دیکھا ۔۔۔۔

کمرے کی جانب وہ جاننا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔

 

مگر اسے اندرسے کچھ اچھا احساس نہیں تھا تبھی اسنے قدم اٹھا کر ائرہ کے کمرے کی جانب چلنا شروع کر دیا ۔۔۔

اسنے نب گھمائ تو دروازہ کھلا تھا ۔۔

 

 

لڑکی کو اتنی لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے ۔۔۔ جبکہ گھر میں بھوکے بھیڑیے سرعام پھیر رہے ہوں اسنے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا ۔۔۔ تو کمرہ خالی تھا ائرہ سو رہی تھی

صبح سے ہی سو رہی تھی وہ ” عالم نے سوچا اور اسپر نظر ڈال کر باہر نکلنے لگا ۔۔ کہ الماری کا دروازہ اسے کھلا نظر آیا ۔۔۔

 

یعنی اسکا شک بلکل درست تھا ۔۔۔

اچانک ماتھے کی نسیں تن گئیں اسکی اور اسنے ائرہ کے بیڈ کے پاس چئیر کھینچی اور چئیر کھینچ کر وہ ۔۔ بیٹھ گیا

 

دوسری طرف تیمور کا دم گھٹنے لگا تھا اس الماری میں بند ہو کر ۔۔۔۔۔

اسے لگ رہا تھا کہ اسکا سانس رک جائے گا اگر عالم نہ گیا تو۔۔۔۔

 

عالم چاہتا تو اسے ۔۔۔ باہر کھینچ کراسکی جان لے لیتا ۔۔۔ مگر وہ فلحال ایسا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ فلحال ایسا کچھ بھی کرنے سے اسکے کام میں مشکل آتی اور تیمور کو مزید دن زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔۔۔

 

اسنے پلٹ کر اسفند شاہ کو بھی نہیں دیکھا تھا کہ آیا وہ زندہ ہے یہ نہیں ۔۔۔

برحال آج اسکا ارادہ تھا مگر وقت نہیں ملا ۔۔ اور اسکے لیے اسفند شاہ اتنا بھی اہم نہیں تھا کہ ضروری وقت اسی کے لیے نکالتا ۔۔۔۔

 

وہ ائرہ کے پاس بیٹھا رہا اسکا چہرہ دیکھتا رہا بلاشبہ وہ بے حد حسین لڑکی تھی ۔۔ مگر اسکے لیے نہیں تبھی اسنے نظروں کا رخ بدل لیا اور آئرہ نے سر کو معمولی سی جنبش دے کر آنکھیں کھول لیں بخار سے اسکا سر کا درد اتنا تھا گویا ابھی سر پھٹ جائے گا ۔۔۔۔

اسکی نظرعالم پر گئ تو یہ سراسر اپنا خواب لگا ۔۔۔۔

 

کتنا حسین دلکش خواب تھا ۔۔ وہ سامنے بیٹھا تھا خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ائرہ نے نظروں کو ذرا بھی نہیں پھیرہ اگر وہ پھیر لیتی اور وہ غائب ہو جاتا ۔۔۔۔

 

عالم چاہتا تھا تیمور اپنی آخری سانس کو چھو کر لوٹے ۔۔۔ تبھی اسنے آئرہ سے بات کرنے کا سوچا

 

جب طبعیت خراب تھی تو ڈاکٹر پر جانا تھا ” اسکی بات سے آئرہ جیسے بھول ہی گئ اسے کوئی بخار بھی تھا ۔۔وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئ اور عالم کو گھورکر دیکھنے لگی اور جب اسے لگا یہ حقیقت ہے ۔۔تو چہرے پر مسکراہٹ کی حسین ترین مسکراہٹ پھیل گئ ۔۔۔

آپ میرے کمرے میں ” وہ الجھ کر پوچھنے لگی

دل تو بے حد خوش تھا

 

ہاں کیونکہ یہ میرا گھر ہے اور یہ کمرہ تمھارا نہیں ” عالم نے سپاٹ نظروں سے اسکو دیکھا

 

ائرہ کے دل کو کچھ ہوا

 

اگر آپ نے یہ نوازش کر ہی دی ہے کہ یہاں آ گئے ہیں ۔۔۔ تو ایسے بات مت کریں ” ائرہ زرا جھجھکتی بولی ۔۔

 

عالم نے نگاہ پھیر کرالماری کیطرف دیکھا

 

یہ الماری کیوں کھلی ہے اسے بند کرو اچھے سے ” وہ بولا ۔۔۔اور ائرہ کو حکم دیا جو بیمار تھی ائرہ کے قدموں کو جیسے پر لگ گئے

 

وہ اپنے جھولنے کی پرواہ کیے بنا پہنچی تھی ۔۔۔ الماری تک اور اسنے دروازہ جھٹکے سے بند کر دیا

 

تیمور کو پہلے ہی سانس نہیں آ رہا تھا پھر ان دونوں کی اتنی آرام دہ گفتگو اور سب سے اہم الماری کا بند ہو جانا اسے لگا ۔۔۔۔ کسی بھی وقت وہ مر جائے گا اگر اسنے اپنی آواز دبائے رکھی تو ۔۔۔

 

ائرہ بیڈ پر بیٹھ کر شوق سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

ایک سوال کروں آپ سے ” وہ بھول گئ تھی اس میں اٹھنے کی بھی ہمت نہیں تھی اب کہاں سے آئیں تھیں اس میں یہ ہمتیں.

 

عالم نے گویا اجازت دے دی تھی ۔۔ اپنی آنکھوں سے ۔۔اور یہ سب صرف اور صرف تیمور کو تکلیف دینے کے لیے ہو رہا تھا ورنہ کہاں وہ اس لڑکی کو منہ لگاتا ۔۔۔۔

 

آپکو اروش سے بہت محبت ہے ” وہ سر جھکائے جیسے ہارے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔

کل کی ہوئ محبت اور بچپن کی محبت مقابلہ نہیں کر سکتی ۔۔” اسنے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا ہو سکتا ہے کل کی آئ ہوئ محبت میں اپنے لیے دیوانگی جنون زیادہ ہو بانسبت اس محبت کے جو اپنے کسی سے کی جبکہ دوسرا تو آپ سے کرتا بھی نہیں تھا ” ائرہ بولی عالم کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔۔

 

ٹکے کی اوقات نہیں ہے کسی بھی محبت کی میری نظر میں “

کیوں ” اسکا لہجہہ بھیگا ۔۔

عالم نے جواب نہیں دیا ۔۔۔۔

 

 

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Tania Tahir Revenge Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *