Urdu Novels , Tania Tahir Revenge Best Novel یہ عشق کی تلاش ہے

Tania Tahir Revenge Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#25

Tania Tahir Revenge Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#25

 

Tania Tahir Revenge Novel 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

 

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #25

 

وہ کچھ دیر اسکے سینے سے لگی رہی عالم بھی خاموش کھڑا رہا ۔۔۔ ائرہ کو اچھا لگا اسکے سینے سے یوں ہی لگا رہنا

وہ شاکڈ میں تھا شاید کیونکہ انداز میں نرمی اور محبت تو نام کی بھی نہیں تھی ۔۔۔

ائرہ نے خود ہی اسکے سینے سے سر ہٹایا ۔۔۔۔

اور اسکے ہاتھ سے کافی کا مگ لے لیا جس میں ابھی ادھوری کافی تھی ۔۔۔۔

وہ مسکرا دی ۔۔۔ عالم اسے دیکھ رہا تھا مگر بول کچھ نہیں رہا تھا روکا بھی نہیں تھا

ایک بات پوچھوں” وہ کافی بناتی بولی ۔۔

عالم پھر بھی کچھ نہیں بولا ۔۔

ائرہ مسکرا دی اور خود ہی اس سے سوال کرنے لگی ۔۔۔

آپ جانتے ہیں اروش کو کیا کیا پسند تھا ” اسنے اسکیطرف دیکھا ۔۔ عالم جیسے ہوش میں ا گیا ۔۔۔۔

اسنے ائرہ کے ہاتھ سے کپ لے لیا انداز چھیننے والا تھا اور کافی بھی بن چکی تھی

کیا ہوا نہیں معلوم کیا ” وہ باہر نکل رہا تھا پیچھے سے ائرہ کے بولنے پر رک گیا ۔۔۔

مڑ کر گھور کر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

ائرہ مسکرا دی عالم کو اسکی مسکراہٹ زہر سے بھی زیادہ بری لگی ۔۔۔

مجھے چائنیز بہت پسند ہے ” وہ جلدی سے بول گئ عالم جبکہ بنا جواب دیے باہر نکل گیا ۔۔۔

ائرہ پیچھے سے کھل کر مسکرائ تھی ۔۔۔

خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی

اسنے بلکل اسکیطرح اپنے لیے بھی کافی بنا لی ۔۔۔ حالانکہ وہ چائے پیتی تھی مگرا ب تو دل کرتا تھا جو وہ کرے بلکل ویسا ہی سب کچھ کرے تبھی اسنے کافی بنائ اور تھوڑا سا سیپ لیا ۔۔ عجیب کڑواس سی بھر گئ مگر اسنے تھوکی نہیں وہ یوں ہی بمشکل پیتی ۔۔۔ اپنے روم میں چلی گئ ۔۔ایک نظر عالم کے کمرے کو بھی دیکھا تھا ۔۔جو بند تھا ۔۔

ایک سرد سانس کھینچ کر اسنے اپنے روم کا دروازہ بھی بند کر لیا

روم میں آئ تو ۔۔۔ ایکدم میسج کی بلنک ہوئ ۔۔ اتنا عرصہ ہو گیا تھا اسے کسی نے کال یہ میسیج نہیں کیا تھا ہر وقت فون کمرے میں پڑا رہتا تھا ۔۔۔

اسنے سیل فون دیکھا ۔۔۔

ایک نمبر سے میسیج تھا اور مسیج پڑھ کرا یکدم اسکی چیخ نکلی تھی ا ور اسنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا

روم کا دروازہ لوکڈ کر کے سونا ” میسیج تھا اور یہ میسیج سو فیصد عالم کی طرف سے تھا کیونکہ حمائل اور صیام کا نمبر تو اسکے پا س سیو تھا ۔۔

وہ خوشی سے بیڈ پر اچھلنے لگی

دروازہ دیکھا جو لاکڈ نہیں تھا اسنے جلدی سے اسکا حکم مانا اور دروازہ لاکڈ کر لیا ۔۔۔۔

اور اسنے اسکا نمبر سیو کیا ۔۔۔۔

ہزبینڈ کے نام سے کتنا اچھا احساس تھا ۔۔۔ خوشی سے جھوم سی گئ تھی وہ

۔

اب اسے بابا کی بھی یاد آئ تھی ۔۔ وہ کیا سوچتے ہوں گے وہ جانتی تھی باسم اور بابا اس سے ناراض ہوں گے مگر وہ سب کو منا لے گی پہلے عالم کو منا لے ۔۔

یہ سوچ کر وہ ۔۔ بیڈ پر ایکدم گیری ۔۔ نیند تھی اب خوشی کے مارے نہیں آنی تھی ۔۔

مگر اسنے تکیوں کو بانہوں میں دبایا اور ۔جیسے عالم کو تصور میں لا کر گڈ نائیٹ کہا تو شرم سی ا گئ ۔۔اور جلدی سے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔

دیر سے ہی سہی مگر نیند ا۔ گئ تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح تیمور وہاج اور سارہ اور انکی ماں وہ سب ان سب سے پہلے اٹھ چکے تھے ۔۔۔

ملازموں سے پتہ چلا تھا اب سمیل بہت کم ہو گئ ہے تو وہ حویلی ا سکتے ہیں مگر ۔۔۔ وہ سب اب ڈرے ہوئے تھے ۔۔۔۔

تبھی وہ وہیں رہ رہے تھے ۔۔

سب خاموشیاں ے ناشتہ کر رہے تھے کہ احرہ فریش سی ۔۔۔ اپنے پرانے حلیے میں جینز شرٹ میں آکر ٹیبل پر بیٹھ گئ ۔۔

تیمور کو کھا جانے والی نظروں سے اسنے دیکھا تھا ۔۔۔

جو اسی کیطرف دیکھ رہا تھا وہ لگ ہی ایسی آفت رہی تھی کہ نگاہ ہٹتی ہی نہ ۔۔۔

ائرہ حق سے عالم کی کرسی پر بیٹھ گئ۔۔

اور ناشتہ کرنے لگی

صیام اور حمائل بھی ا گئے

۔

صیام نے آئرہ کو دیکھا بس اسے برا لگا وہ اسی ڈریسنگ کر کے تیمور وہاج جو نظروں میں ہی اتنی حوس رکھتے ہیں کہ کھا جائیں ۔۔۔ انکے سامنے بیٹھی تھی

مگر وہ کچھ بولا نہیں چپ چاپ سب ناشتہ کرنے لگے

عالم کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے نیچے اترا ۔۔۔

اسکی نگاہ سیدھا۔ ۔۔ائرہ سے جا ٹکرائی ۔۔۔

جس کا حلیہ ۔۔۔ نا قابل قبول ۔۔ تھا ۔۔ اسکے لیے تو بہت زیادہ کیونکہ وہ عورت کو ااس قسم کے لباس میں پسند نہیں کرتا تھا ۔۔ جبکہ اروش بھی ایسے کپڑے نہیں پہنتی تھی ۔

عالم نے جھک کر ائرہ کو دیکھا ۔۔ ائرہ کا تو لقمہ وہیں اٹک گیا ۔۔۔

ایک ہاتھ ٹیبل پر رکھے ۔۔ وہ جھک کر اسے دیکھ رہا تھا نظریں ایسے تھیں کہ نظروں سے ہی چیر دیتا

ائرہ نے حلق میں تھوک نگلا اور معصومیت سے اسکیطرف دیکھا

میں اٹھ جاتی ہوں ” اسے لگا وہ اسکی کرسی پر بیٹھی ہے تبھی عالم نے ایسا رویہ دیا

اسے سب کے سامنے شرمندگی ہوی تھی ۔۔۔

عالم نے اسکی شرمندگی کو نوٹس نہیں لیا ۔۔

کپڑوں کی کمی ہے تمھارے پاس ” وہ سوال کرنے لگا ائرہ کا دھیان اب اپنے لباس پر گیا شارٹ شرٹ ۔۔۔ جس کے بازو بھی سلیو لیس تھے جبکہ نیچے جینز

وہ عالم کو دیکھنے لگی وہ تو ایسے ہی کپڑے پہنتی تھی ۔

اپنا حلیہ درست کرو ” وہ سختی سے بولا ۔۔

ان سب کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ اٹھی ۔۔۔

ج۔۔جی” ائرہ نے بنااحتجاج کے کہا اور اٹھ گئ ۔۔۔۔

عالم البتہ کھڑا رہا وہ کھڑا ہو کر ہی ناشتہ کرنے لگا

بیٹھ جاؤ ” صیام بولا

تھنکیو فری ہو تو میرے ساتھ چلو مجھے ضروری کام ہے” عالم نے کہا ۔ تو صیام نے سر ہلایا ۔۔۔۔

ائرہ دس منٹ بعد قمیض شلوار میں باہر نکلی سر جھکا ہوا تھا چہرہ سرخ سا تھا ۔۔ سب اسے طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔

عالم نے اسکے کپڑوں کو زرا نارمل انداز میں دیکھا وہ دوسری طرف سے حمائل کے پاس بیٹھنے لگی ۔۔

مگر عالم کی پکار پر رک گئ ۔

جہاں پہلے بیٹھی تھی وہیں بیٹھو” وہ حکم دینے لگا ۔۔۔

ائرہ نے ایکدم سب کیطرف دیکھا تھا

سب کے چہرے اتر سے گئے ۔۔ خاص کر تیمور کا جو انجوئے کر رہا تھا کچھ دیر پہلے اب سر جھکا چکا تھا وہ ۔۔۔ سکون دہ چال چلتی اسکے پاس اسکی چئیر پر ا بیٹھی عالم کچھ نہیں بولا تھا اسنے جوس کا گلاس منہ سے لگایا اور آدھا چھوڑ کر وہ مکرم اور صیام کے ساتھ باہر نکل گیا جبکہ ائرہ نے وہ آدھا جوس کا گلاس اٹھا کر لوبوں سے لگا لیا

حمائل ہنس دی تھی

پاگل ہو تم تو ” اسنے سر نفی میں ہلایا

بس اچانک پاگل سی ہو گئ ہوں ” وہ بولی جیسے خود بھی نہ جانتی ہو اس سب کی وجہ ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم۔زمینوں سے واپسی پر خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا آج وہ سب کچھ بیچ آیا تھا ۔۔اپنی ساری زمینیں اسنے ۔۔۔ بیچ دیں تھیں

خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا اور صیام بھی خاموش بیٹھا تھا اچانک اسنے گاڑی روک دی ۔۔۔

صیام نے اسکیطرف دیکھا وہ جیسے ضبط سا کر رہا تھا ۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا صیام اس سے پہلے کچھ بولتا وہ باہر نکل چکا تھا ۔۔۔

صیام بھی دروازہ کھول کر باہر ا گیا

اسنے گاڑی قبرستان کے سامنے روکی تھی

صیام سب سمھجہ گیا تھا وہ اندر داخل ہوا

۔۔اور سیدھا ۔۔ دو قبروں۔ کی جانب بڑھا جو کہ ۔۔۔۔ پھولوں سے ڈھکی ہوئیں تھیں

وہ پہلے اپنی ماں کی قبر کے پاس جا کر بیٹھا گیا ۔۔۔

تادیر وہ اس قبر کو گھورتا رہا آنکھیں سرخ تھیں مگر ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلا نہیں تھا ۔۔۔ اسنے گھیرہ سانس بھرا اور رخ اروش کی قبر کیطرف کر لیا

اور صیام کی آنکھوں میں بھی جیسے آنسو۔ آگئے مکرم تو پہلے ہی اسکی حالت پر بے چین ہو جایا کرتا تھا

۔

وہ اسکی قبر کی مٹی مٹھی میں بھرتا لبوں سے لگا لیا

ہاں یہ واحد انسان تھی دنیا میں جس کو اسنے ۔۔ سانس کے ساتھ چاہا تھا ۔۔ اور آج وہ مٹی تلے تھی ۔۔

اصل تکلیف تو اسکے مرنے کی تھی کیسے اسے مار دیا

کیسے وہ اسکی حفاظت نہیں کر سکا وہ پیچھے ہی پیچھے یہاں سے ہمیشہ چلے جانے کے لیے سب سمیٹ رہا تھا

کہ وہ نا قبروں پر دوبارہ نہیں آئے گا ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو متواتر گیر رہے تھے ۔۔

عالم” صیام نے اسکا بازو پکڑا

دیکھو ۔۔۔۔ ایسابھی کسی کے ساتھ ہوتا ہے ” عالم سرخ نظروں سے جیسے اس سے سوال کر رہا تھا ۔۔

ایسا کیوں صیام میرے ساتھ کیوں ۔۔۔ میں مجھے کوئ خوشی کیوں نہیں ملی ” وہ مٹھیاں بھینچتا بول رہا تھا

بس ایک شخص ہی تو مانگا تھا وہ تو مل سکتا تھا نہ ۔۔۔

وہ بھی آج منوں مٹی تلے دبا سو رہا ہے ۔۔۔۔

ایک ایک پل کے لیے بھی اسکی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نہیں دیکھی ۔۔۔ کیوں ہوا ایساوہ زندہ رہ سکتی تھی وہ میری بھی تو ہو سکتی تھی” وہ ضبط کر رہا تھا مگر چہرہ سرخ پڑتا جا رہا تھا ایک مظبوط مرد کی آنکھ سے آنسوں کا متواتر نکلنا کسی کو بھی بے سب کر سکتا تھا

صیام نے اسکو اٹھایا تو نہ جانے کیسے وہ آج بکھر گیا صیام کے سینےسے ایکدم لگتا وہ رو پڑا

ہاں وہ رو پڑا تھا

۔۔۔ صیام سمھجہ نہیں سکا کن لفظوں میں اسے دھلاسہ دے کون سے لفظ لائے جو اسکے زخم بھر دیں اور اچانک اسے ایکدم خیال آیا ۔۔۔ اسے ایک ہی شخص ٹوٹ کر چاہ سکتا تھا اسکے اندر کی ساری تشنگی ایک ہی۔شخص مٹا سکتا تھا اور وہ آئرہ تھی وہ بہتر کو دیکھ رہا تھا جو اسکے ہاتھ سے نکل گیا تھا

اور جو بہترین اسے ملا تھا اسکی جانب اسکی توجہ نہیں تھی

چلو” صیام اسے وہاں سے لے کر نکالا اور باہر نکلتے ہی ایک بار پھر سے وہ اپنے کھول میں سمٹ گیا

صیام اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر عالم کچھ نہیں بولا ۔۔

اور یوں ہی خاموشی سے وہ واپسی گھر لوٹ آئے ۔۔۔

گھر کا منظر ویسا ہی تھا

وہ سب لون میں بیٹھے خوشگپیاں کر رہے تھے کتنے بے حس لوگ تھے ۔۔ کل ہی انکا باپ مرا تھا آج وہ سب خوشیاں منا رہے تھے چائے پی جا رہی تھی شام کی ہوا کا لطف لیا جا رہا تھا

عالم تو انکیطرف دیکھے بنا اندر چلا گیا

اندر ائرہ اور حمائل بیٹھیں باتیں کر رہی۔ تھیں

عالم تیزی سے سیڑھیاں چڑھا تھا ۔۔۔۔

ائرہ ایکدم اٹھی

اسکی سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں سے چھپی نہیں تھیں۔

صیام کی جانب اسنے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔

اروش کی قبر پر گیا تھا وہ ۔۔۔

ائرہ میں تم سے بس اتنا کھوں گا اسکے پاس آنے کا انتظار مت کرنا

وہ کبھی تمھاری طرف چل کر نہیں آئے گا اسکے پاؤں میں اروش کے نام کی بیڑیاں باندھیں ہیں جو دن با دن سخت سے سخت تر ہوتی جا رہیں ہیں ۔۔۔۔ تمھیں ہی اسکے پاس جا کر اسے ان بیڑیوں سے آزاد کرنا ہو گا

” وہ کیا سمھجانا چاہ رہا تھا

ائرہ سمھجہ رہی تھی۔

ائرہ کا چہرہ سرخ سا تھا

اور میں اور حمائل واپس لوٹنے کا سوچ رہے

ہیں ۔۔۔ کیونکہ اماں بھی تنہا ہیں ” وہ بولا

پلیز ابھی مت جاؤ تم دونوں ” ائرہ پریشان سی ہوئ

وہ تو یہاں پاگل ہو جاتی

صیام کچھ کہتا کہ حمائل نےا سکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا

ابھی کچھ دن رک جاتے ہیں ” وہ بولی اور صیام نے سر ہلا دیا

مگر زیادہ نہیں ” صیام کہ کر خود بھی روم میں چلا گیا

بہت سنجیدہ لگ رہے ہیں میں دیکھتی ہوں انکو ” حمائل زرا پریشان سی بولی تھی

اور اندر روم میں چلی گئ جبکہ ائرہ نے اوپر کمرے کیطرف دیکھا

دروازہ اسکے دل کیطرح سختی سے بند تھا ۔۔۔

مگر وہ اس دروازے کو کھلوانا چاہتی تھی ۔۔۔

کیسے

وہ اوپر ا گئ ۔۔۔۔

کیا اس روم کی کوئ چابی ہو گی

وہ سوچنے لگی ۔۔۔

اور پھر اسے خیال آیا اس نمبر کی چابی اسنے ڈیوائڈر میں دیکھی تھی وہ اچانک نیچے بھاگی ۔۔۔۔

اور کچن میں آ۔ گئ وہاں سے چابی نکال کر مٹھی میں بھری

انجام کا علم نہیں تھا اسے مگر ۔۔۔ وہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے لیے تیار تھی

وہ دوبارہ آئ روم کے سامنے ا ور چابی سے دروازہ کھولا تو دروازہ ایکدم کلک سے کھل گیا ۔۔۔۔

اسنے تھوڑ ا سا دروازہ کھول کر اندر دیکھا ۔۔

روم خالی تھا روم میں کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ اندر ا گئ ۔۔۔ اور دروازہ بند کر دیا

تیز شاور کے گیرنے کی آواز آرہی تھی اسکا دل زور سے دھڑکنے لگا

بس پانی کی آواز سے ہی نہ جانے اسے یہاں دیکھ کر وہ کیا ری اکشن دے شاید اسکے منہ پر تھپڑ مار دے ۔۔ یہ اسے دھکے دے کر باہر نکال دے

یہ پھر کچھ اور

اس کمرے میں چارو جانب اروش تھی وہ ۔۔۔اروش کی ایک تصویر کے نزدیک گئ

آزاد کر دو اسکو ” اسنے بھیگی پلکوں سے اس تصویر کو چھوا ۔۔

پلیز آزاد کر دو ” وہ پھرسے بولی تبھی واشروم کا دروازہ کھلا

اور عالم باہر نکل آیا ۔۔۔ وہ ٹراؤزر شرٹ میں تھا ۔۔۔۔

سامنے ائرہ کو دیکھ کر ۔۔۔

وہ ایک دم چونک گیا جبکہ ا ئرہ اسکی سرخ۔۔۔ پھولی پھولی آنکھوں کو دیکھنے لگی جیسے وہ شاور لیتے میں رویا ہو

 

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Tania Tahir Revenge Novel 2022 , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *