Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Tania Tahir | Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#18

Tania Tahir | Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#18

 

Tania Tahir written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

 

 

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode #18

 

ایک دن اسی بھاگ دوڑ میں گزر گیا تھا ۔۔۔ چارو طرف ائرہ کی ڈھونڈ تھی جبکہ ائرہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔۔

اور اس بات سے ۔۔۔۔ باسم کا اشتعال جبکہ ا ئرہ کے والد کی خراب ہوتی طبعیت سے جیسے سب پریشان رہ گئے تھے اوپر سے صیام ۔۔ کمرے میں جاتا ۔۔ تو وہاں حمائل اسپر کسی بھی قسم کی توجہ دیے بنا رونے میں اور دعائیں مانگنے میں مصروف ملتی اور اسکا دوست یہ سارے نظارے تک رہا تھا مگر ایک لمہے کے لیے بھی اسنے اپنی خدمات فراہم نہیں کیں تھیں ۔۔۔۔

بلآخر صیام پھٹ ہی پڑا ۔۔

اتنے سخت دل مت بنو لڑکی کا معملہ ہے۔

عالم ۔۔۔۔۔۔ وہاں بیٹھے بیٹھے غائب ہو گئ۔۔۔ ڈرائیور کو ہوش نہیں ا رہا اسکے سر پر اتنی بھاری چیز ماری گئ ہے ۔۔۔اور تم دیکھ رہے ہو میں کس قدر مشکل میں ہوں مگر ایک پل کو بھی تم یہ نہیں سوچ رہے کہ تم میرے لیے ہی کچھ کر لو ۔۔۔

“صیام نے اسکی شکل دیکھی جو موبائل میں ایسے مصروف تھا جیسے۔۔ابھی خزانہ نکال لے گا۔۔

میں نے کیا مدد کرنی ہے تمھاری میں جانتا تک نہیں جس انسان کو ۔۔۔ نہ ہی میں نے کبھی دیکھا اس شخص کے بارے میں میں تمھاری کیا مدد کر سکتا ہوں تم ڈھونڈ رہے ہو مل جاتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اس لڑکے کو اور بڈھے کو گھر سے باہر پھیکوا دینا۔۔ تمھارا مسلہ نہیں اس لڑکی کا غائب ہونا ” وہ لاپرواہی سے بولتا ۔۔۔۔ ایک نظر بھی اسکیطرف دیکھنے کو تیار نہیں تھا ۔۔

صیام اس سے پہلے کچھ بولتا کہ ۔۔۔ مکرم دوڑتا ہوا آیا جبکہ باسم بھی وہاں۔ آچکا تھا ۔۔ سائیں میرا شک درست نکلا ۔۔۔ سائیں آئرہ بی بی کو تیمور نے اٹھوایا ہے ۔۔۔۔ ” مکرم پھولتی سانسوں میں بولا

جبکہ صیام ایکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ عالم نے ایک نظر بس ۔۔۔ مکرم کو دیکھا اور دوبارہ موبائل میں مصروف ہو گیا ۔۔جبکہ باسم نے نہ سمھجی سے ان سب کو دیکھا ۔۔

کون ہے یہ تیمور اور اسنے کیوں اٹھوا لیا ۔۔۔ائرہ کو ۔۔” باسم ان تینوں کو دیکھ رہا تھا ایک تو اسطرح لاپرواہ تھا۔

گویا ۔۔۔۔ اس وقت طوفان بھی ا جائیں وہ تب بھی یوں ہی شانت بیٹھا رہے گا ۔۔۔۔۔۔

اس (گالی) کی ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔ ” صیام بھڑکا اور اپنی گن لوڈ کی ۔۔۔۔۔

چلو مکرم میرے ساتھ ” صیام نے عالم کی بے حسی پر اب غصے سے لعنت بھیج دی ۔۔۔

جبکہ باسم بھی انکے ساتھ ہونا چاہتا تھا مگر مکرم رک گیا ۔۔۔۔۔۔

سائیں ۔۔۔۔ اس دشمن کے وار بھڑتے جا رہے ہیں سائیں کچھ کریں ” مکرم بولا ۔۔۔

جاؤ مکرم ۔۔۔ صیام کے ساتھ” تحکم بھرا لہجہ ضرور تھا مگر ۔۔۔۔ بات جو اسنے کہی ۔۔۔۔ اسپر وہاں کھڑے لوگوں کا خون جھلس گیا ۔۔۔۔۔

اسے پرواہ بھی نہیں تھی ۔۔

مکرم اس کی منت مت کرو ۔۔۔۔ یہ تو یہ بزدل ہو گیا ہے ۔۔۔ یہ تیمور کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔ مگر تیمور صیام خان کو جانتا نہیں ۔۔۔ عالم شاہ جن کی نسلیں برباد نہیں کر سکا ۔۔۔ انکا کام تمام صیام خان کرے گا۔۔۔۔

” وہ غصے اور ناگواری سے کہہ کر وہاں سے نکلا باسم یہ معملات سمھجہ نہیں پایا تھا مگر ائرہ کے لیے اسے صیام کے پیچھے بھاگنا پڑا ۔۔ مکرم چند پل عالم کو یوں ہی دیکھتا رہا ۔۔اور اسکے بعد وہ بھی جیسے شکستہ سا وہاں سے ہٹ گیا ۔۔۔۔

وہ تینوں جا چکے تھے ۔۔۔۔ عالم شاہ نے ۔۔ سیل فون نیچے پھینک دیا ۔۔۔۔

جبکہ اس راستے کو دیکھنے لگا جہاں سے وہ گزرے تھا ۔۔۔۔

دل کی حالت ایسی تھی ۔۔ کہ ۔۔۔۔ چیر دیا جائے ۔۔۔۔

اگر کوئ اسے سمجھتا تو ۔۔۔اسکے لیے واپس لوٹنا ۔۔۔ کیا قیامت سے کم تھا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ درحقیقت وہ نہیں یہ دنیا بے رحم تھی ۔۔۔۔۔۔

اسنے سر جھٹکا ۔۔۔۔ اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

وہ واپس لوٹ جانے کے لیے ۔۔ حویلی کی جانب چل دیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن بعد ائرہ نے کسی وجود کو اپنے سامنے دیکھا تھا ۔۔۔۔ اور وہ تیمور شاہ تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اب کیسامحسوس کر رہی ہو بلبل پنجرے میں قید ہو کر ” وہ ہنسا اور ائرہ کے چہرے پر ہاتھ رکھا ۔۔اسے پہلے وہ اپنی نیچ حرکتوں پر اترتا ائرہ نے وہ ہاتھ جھٹک دیا ۔۔ جبکہ تیمور نے بنا برا منائے دوبارہ اپنا ہاتھ ائرہ کے گال پر رکھا۔۔۔۔

اور اسکی انگلیوں کی حرکت سے آئرہ کو محسوس ہو رہا تھا ۔۔جیسے اسکے وجود پر بچھو چل پڑا ہو۔۔۔

وہ بے بسی سے ۔۔۔ یہ سب برادشت کر رہی تھی اگر اسکے ہاتھ کھلے ہوتے یہ منہ پر پٹی نہ ہوتی تو وہ۔۔اج تیمور شاہ کا قیمہ بنا ڈالتی ۔۔۔۔تیمور شاہ اپنی اوقات سے بھر ہوا تو وہ پھڑپھڑا گئ جبکہ تیمور کا قہقہ بلند ہوا ۔۔۔۔

تمھیں یہاں بچانے کوئ نہیں آئے گا ۔۔ جان من ” وہ بولا اور اٹھ گیا ۔۔۔۔ ارد گرددیکھنے لگا یہ جگہ عالم شاہ کی تھی جسے وہ برباد کر چکا تھا ۔۔

وہ بلا جواز قہقہے لگانے لگا۔۔ ائرہ اس پاگل انسان کو دیکھ رہی تھی جس نے ۔۔ کوئ کام کی چیزاٹھا کر۔۔۔۔

اسکو زمین پر زور سے مار دیا ۔۔۔اس گھر کی ایک ایک شے وہ توڑ دینا چاہتا تھا یہ جگہ بیان کر کے اسنے واضح کیا تھا ۔۔تیمور شاہ کیا ہے بلکہ ۔۔۔ پورا گاؤں جیسے۔۔۔سوکھ گیا تھا۔۔ جیسے پورے گاؤں میں ہریالی تازگی ختم ہو گئ تھی تیمور شاہ ایسا انسان تھا۔۔۔

تیمور شاہ نے گاؤں کے لوگوں کے لیے ہر چیز کی قیمت میں اتنا اضافہ کر دیا کہ اب تو لوگ فاقوں پر تار آئے تھے ۔۔

گاؤں کی لڑکیوں میں جو اسے پسند آتی وہ اٹھا کر اپنے ڈیرے پر لے جاتا یہ تو کسی کو مار دیتا یہ پھر اسے ماں باپ کو پیسے دے کر منہ بند کر دیتا ۔۔

تیمور شاہ فرعون بنتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ اسے دیکھ رہی تھی وہ ائرہ کے پاس پلٹا تو ہاتھ میں کانچ کا بڑا سارا ٹکڑا تھا ۔۔ دھیمی چال چلتا اسکے نزدیک ا کر بیٹھ گیا ۔۔

ائرہ سرک کر اس سے دور ہوئ وہ کانچ کے ٹکڑے کو دیکھ رہی تھی۔۔

انھیں ہاتھوں سے تم نے مجھے مارا تھا نہ ۔۔۔” تیمور خونخوار نظروں سے اسے گھورتا بولا ۔۔۔۔

ائرہ کو سمجھ آ گئ وہ سائیکو کیا کرنے والا ہے وہ پھڑپھڑانے لگی جبکہ تیمور نے اسکے بندھے ہاتھوں کو قہقہ لگا کر تھام لیا اور اسکے ہاتھ پر گھیرے نہیں مگر کئ جگہ کٹ ڈال دیے ۔۔

جس سے خون رسنے لگا ۔۔۔

تیمور شاہ نے وہ خون کی بوندیں تڑپتی ہوئی ائرہ کے منہ پر مل دیں ۔۔۔ جبکہ اب بھی سکون نہیں آیا تھا زمین کی مٹی بھی ائرہ کے منہ پر مل کر ۔۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہا تھا ۔۔ ائرہ کو رونا ا گیا ۔۔۔۔

اگر اگر اسکا ہاتھ کھل جاتا تو آج اس (گالی)کی لاش یہاں سے نکلتی ائرہ سوچ رہی تھی مگر ہاتھ ایسے بندھے تھے جیسے کبھی نہ کھلیں ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام مکرم باسم اس حویلی کے سامنے پہنچے سوکھے زرددرخت اور ۔۔ بے رنگ عمارت کو مکرم اور صیام حیرت سے جبکہ باسم ناگواری سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

عجیب وحشت تھی وہاں ۔۔۔ وہ اندر دروازہ کھول کر زبردستی پہنچے وہاں کھڑے گارڈز نے ۔۔۔ انپر حملہ کیا مگر ۔۔ انکےگارڈز نے اور ان تینوں نے انکا مقابلہ کیا ۔۔۔ اور اندر دوڑے۔۔۔۔ مگر ابھی وہ عمارت میں قدم رکھتے تیمور شاہ کو دیکھ کر ۔۔۔ صیام وہیں رک گیا ۔۔۔

کیا کرنے آیا ہے ” تیمور نے سنجیدگی سے پوچھا

ائرہ کہاں ہے” صیام چلایا ۔۔۔

تیمور گویا سمھجہ گیا ۔۔۔اور قہقہ لگا اٹھا ۔۔۔

اسے لینے آیا ہے۔۔۔” تیمور نے ایسے کہا کہ صیام کو اپنی بے عزتی کا احساس ہوا اور وہ ۔۔ تیمور پر ایکدم حملہ کرتا کہ تیمور کے گارڈز نے۔۔اسے پکڑ لیا ۔۔۔

مکرم اور باسم نے اسے چھڑانا چاہا مگر سیلاب کیطرح تیمور کے گارڈز ابل ابل کر نکل آئے ۔۔ کہ وہ جو۔۔ چند گارڈز لے کر گیا تھا ان سب کو بھی قابو میں کر لیا ۔۔

صیام نے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔۔اسکے پاس سے گن بھی نکال لی گئ تھی وہ نفرت سے تیمور کو دیکھنے لگا۔۔

اس کو اتنا مارنا کے ۔۔۔ اگلی بار اپنی لاتوں پر کہیں جا نہ پائے” اور پھیکوا دینا اس گند کو اسکے گاؤں” کہہ کر وہ اندر چلا گیا جبکہ تیمور کے گارڈز نے ۔۔۔ ان سب کا قیمہ بنا دیا مقابلے کے باوجود بھی وہ ۔۔ بری طرح لہو لہان ہوئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عالم بیگ ہاتھ میں لیے وہاں سے جانے کے لیے باہر نکلا کہ ۔۔۔ حمائل کے ایکدم سامنے ا جانے سے رک گیا ۔۔۔

اسکو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

اگر اس لڑکی کی جگہ میں ہوتی تب بھی آپ صیام کی مدد نہ کرتے اور اسی طرح لاپرواہی سے چلے جاتے “وہ آنکھوں میں کئ سوال بھرے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ لبوں سے جو وہ بولی عالم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔

اچھی بات ہے تم اسکی جگہ نہیں ہو ” عالم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔

اپنا اور صیام کا خیال رکھنا ” وہ بولا اور پاس سے گزرنے لگا ۔۔۔

آپ اسطرح نہیں کر سکتے صیام اکیلے ہیں ۔۔۔” حمائل پھر سے اسکے آگے ا گئ ۔۔۔

میں نے نہیں کہا تمھارے شوہر کو کسی بھی غیر کے لیے اپنے سینے میں اتنا دل رکھے اور ویسے تمھیں نظر رکھنی چاہیے وہ اس لڑکی کے لیے اتنا جزباتی کیوں ہوا ” وہ بولا ۔۔۔ تو حمائل نے نفی میں سر ہلایا ۔۔

وہ میری دوست ہے “وہ افسوس سے اسے دیکھنے لگی ۔۔

عالم چپ ہو گیا ۔۔۔۔

اور ایک نگاہ اسپر ڈال کر پھر سے وہاں سے جانے لگا کہ اچانک باہر سے چیخوں پکار کی آواز اٹھی ۔۔

وہ باہر کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔ ہال میں ۔۔ اماں بھی یہ چیخ و پکار سن کر ا گئیں ۔ ۔۔

خدا خیر کیا ہوا ہے ” وہ بولیں ۔۔ تو حمائل کے پیچھے باہر نکلی۔

باہر خون میں لت پت صیام کو دیکھ کر ۔۔ جہاں ۔۔۔ ملازم حونک ہوئے تھے وہیں حمائل کی چیخ نکلی تھی۔۔۔

جبکہ اماں دل تھام کر وہیں بیٹھتی چلیں گئیں ۔۔ کسی بھی ماں کے لیے بیٹے کو اس حالت میں دیکھنا کہاں گوارہ تھا ۔۔ عالم نے بیگ وہیں پھیکا اور وہ صیما کیطرف بھاگا اسکے پیچھے حمائل بھی بھاگ کر

صیام تک پہنچی جسے ۔۔۔ ندی کے پاس سے ملازم اٹھا لایا تھا ۔۔

صیام بے ہوش تھا جبکہ چہرہ خون سے بھرا ہو اتھا ۔۔

صیام” عالم نے اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا ۔۔

صیام کے وجود میں کوئ حرکت نہیں تھی ۔۔۔۔

اسنے اسکی نبض چیک کیں سستی سے چل رہیں تھیں ۔۔

حمائل بے اوسان رو رہی تھی ۔۔

صیام صیام آنکھیں کھولیں پلیز ” عالم نے بناکچھ دیکھے صیام کے لمبے چوڑے وجود کو اپنے بازو میں بھرا اور گاڑی کیطرف بھاگا اس وقت اسکی ٹریٹمنٹ سب کے آنسو۔ اور صدمے سے زیادہ قیمتی تھی ۔۔۔۔

حمائل وہیں رہ گئ ۔۔۔ جبکہ عالم صیام کو وہاں سے ۔۔ ہسپتال لے گیا ۔۔صیام کے ملازم گارڈز بھی عالم کے ساتھ تھے ۔۔ جبکہ ۔۔۔ ائرہ کی والد کی طبعیت اماں کیطرح یہ سب دیکھ کر اور بھی خراب ہو گئ ۔۔۔۔

حمائل نے باہر جانا چاہا مگر اماں کو دیکھ کر اسکے قدم نہیں اٹھ سکے ۔۔۔وہ جلدی سے اماں کے پاس گئ دوسری طرف انکل کو بھی سمبھالا ۔۔

میرا صیام ” اماں نے کہا ۔۔۔۔

جبکہ حمائل انکے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہسپتال کے کوریڈور میں عالم نے ایک ادھم اٹھا دیا تھا صیام کا خون مسلسل بہہ رہا تھا ۔۔ اسکو فوری ٹریٹمنٹ دی جا رہی تھی۔

اسکے زخموں کو فوری کور کیا گیا ۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے بری طرح اسکو مار کر پھینک دیا گیا ہو اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔۔

جبکہ عالم بے چینی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔تقریبا ڈیڈ گھنٹے کے انتظار کے بعد ڈاکٹر نے ۔۔۔ اسکے ٹھیک ہونے کی اطلاع دی ۔۔تو عالم نے اس سے ملنے کی بات کی۔ ڈاکٹرز نے ۔۔۔ ملنے کے لیے کہہ دیا ۔۔

عالم اندر داخل ہوا تو وہ سفید پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا ۔۔ جبکہ آنکھیں بند تھیں عالم۔نہیں جانتا تھا ۔۔۔

وہ ہوش میں ہے یہ نہیں ۔۔۔۔

عالم نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا وہاں اور گارڈز بھی تھے ۔۔ صیام ۔نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔۔

عالم اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ صیام کی آنکھوں میں شکواہ تھا صیام نے نگاہ پھیر لی ۔۔۔

تمھیں کیا ضرورت تھی وہاں جانے کی” عالم کی بات پر صیام کو جیسے ۔۔۔ آگ لگ گئ ۔۔۔

میرے جسم پر پہلے ہی بہت زخم ہیں مجھے باتوں کے زخم دینے کی ضرورت نہیں ہے تم جاؤ یہاں سے۔۔۔ میں مرو یہ زندہ رہو جو مجھے تمھاری ضرورت نہیں میں خود کر لوں گا ۔۔” وہ بولا ۔۔۔

اور اپنے ایک ملازم کیطرف دیکھا جو اندر آیا تھا ۔۔

اماں ٹھیک ہیں حمائل ۔۔” صیام پوچھنے لگا ۔۔۔۔

میں نے اطلاع دے دی ہے” جواب عالم نے دیا تو ۔صیام نے کوئ ردعمل نہیں دیا ۔۔۔۔

عالم چئیر گھسیٹ کر اسکے پاس بیٹھ گیا جبکہ صیام نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔

اسکے چہرے پرسکون نہیں تھا ۔۔ کیونکہ اسکو جس طرح مارا گیا ۔۔ الگ بات تھی ۔۔باسم۔اور مکرم کا وہ حشر بگاڑ چکے تھے ۔۔۔۔

اور صیام کو انکی فکر تھی ۔۔۔

کس نے کیا ہے یہ “عالم کی آواز پر صیام نےا نکھیں کھول کر اسکو دیکھا ۔۔۔۔۔

جس نے بھی کیا ہے ۔۔۔۔۔ تم سے مطلب نہیں ہونا چاہیے ” صیام بولا ۔۔۔

صیام مجھے ٹیز نہ کرو ” عالم کا ضبط جواب دے گیا ۔۔ سخت بے لچک لہجے میں وہ ۔۔۔ بیڈ پر مکہ مارتا بولا ا۔۔ صیام نے فکت اسکی جانب دیکھا بولاکچھ نہیں ۔۔۔

مجھے ائرہ باسم اور مکرم تینوں واپس چاہیے” صیام اسکی نظروں میں دیکھاتا بولا ۔۔۔۔۔

عالم جانتا تھا وہ اس سے یہ ہی ڈیمانڈ کرے گا ۔۔۔۔

عالم نے چہرہ موڑ لیا ۔۔۔۔

صیام۔نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔

جبکہ عالم۔کی گردن کی رگیں نفرت غصے سے تن گئیں تھیں ۔۔۔۔۔

ایسے گویا ۔۔۔۔ آگ سی اسے جلا رہی ہو اور وہ سامنے لیٹے شخص کی وجہ سے بے بس ہو ۔۔۔۔

مجھ سے اس سے زیادہ کچھ مت مانگنا ” انگلی اٹھا کر وہ اسکی پھٹی ہوئ شرٹ کا گریبان جکڑ کر بولا۔۔

اچانک صیام کا چہرہ پرسکون ہوا اور وہ ایکدم مسکرا دیا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے ” وہ بولا ۔۔۔اور عالم۔وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم گاڑی کا رخ موڑ کر آج ان راستوں پر چل رہا تھا جہاں دوبارہ جانے کا کبھی سوچانہیں تھا ۔۔ اپنے گاؤں میں جس گاؤں پر اسنے حکومت کی ۔۔ جس کے سربراہ بننے سے گاؤں والے اتنے خوش تھے ۔۔۔ کہ مٹھایاں بٹی ۔۔۔۔۔

جنھیں گاؤں کی گلیوں میں پھیر پھیر کر اروش سے محبت کی ۔۔۔۔ آج انھیں راستوں پر ۔۔دوبارہ چلنا ایک ازیت سے کم نہیں تھا اور اس ازیت سے دوبار اسے زبردستی گزارا جا رہا تھا ۔۔۔ وہ بچنا چاہتا تھا ۔۔ ان سب معملات سے دور رہنا چاہتا تھا ان لوگوں سے جنھوں نے اسکا سب کچھ چھین لیا۔۔

کوئ جزبہ اس میں باقی نہ چھوڑا آج ایک ان دیکھے شخص کے لیے دوبارہ سے نفرت بھر گئ تھی اسکے اندر ۔۔اور وہ ان دیکھا شخص ائرہ ۔۔ تھی ۔۔۔ جس سے عالم شاہ بنا دیکھے ہی اتنی نفرت محسوس کر سکتا تھا ۔۔۔

جو اسے یہاں گھسیٹ لائ تھی ۔۔حویلی کے آگے گاڑی روک کر وہ چند پل ساکت رہ گیا۔۔

ہری بھری حویلی سوکھی بنجر ویران لگ رہی تھی ۔۔۔۔

یہ تکلیف کا دوسرا باب تھا ۔۔۔۔۔

اسنے بنا کسی تکلف کے حویلی کے ادھ کھلے دروازے کو گاڑی دے ماری جس سے  دروازے کے دونوں پٹ وا ہو گئے۔

اور اسکی گاڑی نے اندر قدم رکھا تو تیمور کے ملازم ایکدم اس بنا اجازت کے اندر آنے والے شخص کیطرف بھڑے

گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی عالم نے ان سب کو دیکھا۔

جس میں اسکے بھی پرانے گارڈز تھے ۔۔ شامل مگر عالم کو دیکھ کر کسی میں جرت نہ ہو سکی کہ عالم کی گاڑی پر حملہ کریں یہ پھر علم کا وہ حشر کریں جو کہ ۔۔۔۔ انھوں نے صیام کا کیا تھا جو وہ باسم اور مکرم کا کر رہے تھے ۔۔

عالم۔نے بنا کسی پر توجہ دیے ۔۔۔ دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا ۔۔

اس حویلی میں اتے ہی کیا کیا نہیں اسکی آنکھوں کے گرد گھوم گیا تھا ۔۔

وہ ان سب پر نگاہ ڈالتا ۔۔۔ گاڑی سے ٹیک لگا کر۔ آنکھوں کو سیاہ گلاسز سے ڈھانپ کر ۔۔ وہ کھڑا ہو گیا۔۔۔۔

جاؤ تیمور کو بلاؤ ۔۔ کہو عالم آیا ہے ” اسنے کہا ۔۔۔ آواز میں جو روعب تھا دیکھنے لائق تھا چہرے پر سنجیدگی کی انتہا تھی ۔۔۔ ایک ملازم دوڑ کر اندر گیا وہ جانتا تھا اس وقت تیمور کس گنھونے کام میں مصروف تھا۔۔

اسفند شاہ نے اسے بھاگتے ہوئے تیمور کے پاس جاتے دیکھا تو ۔۔۔ ٹوکا ۔۔

وہ جی باہر عالم شاہ آیا ہے ” ملازم کی بات پر چائے پیتا کپ انکے ہاتھ سے چھٹا اور زمین بوس ہو گیا۔۔ وہ ایکدم باہر بھاگے ۔۔وہاج بھی انکے پیچھے بھاگا کیونکہ وہ بھی سن چکا تھا ۔۔

وہاج تیمور کو بتاؤ ٫ آسفند نے روک کر روکا تو وہاج سر ہلا کر ۔۔ پیچھے تیمور کے کمرے کیطرف بھاگا جبکہ اسفند شاہ عالم شاہ کے سامنے ا کھڑے ہوئے ۔۔اس کو دیکھ کرعالم۔شاہ ہے لہو میں انگارے سے جلا دیے تھے گویا کسی نے ۔۔۔

وہ حونک عالم کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ جبکہ عالم نے زرا بھی نوٹس نہیں لیا انکی آمد کا اسکا کام تیمور سے تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور دروازے کی مداخلت پر نفرت سے اس معصوم لڑکی سے دور ہوا۔ جو چلا رہی تھی ۔۔۔ اور تیمور کو اسکی چیخیں سکون دے رہیں تھی۔ ۔۔اسنے دروازہ کھولاوہاج کو دیکھا ۔۔

عالم آیا ہے” وہاج کہہ کر وہاں سے باہر چلا گیا جبکہ تیمور نےاپنا کرتا اٹھا کر بدن پر ڈالا اور

کمرے کو تالا لگا کر وہ وہاں سے ۔۔۔۔۔ باہر بھاگا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے ۔۔۔ سارا گھر عالم کے دیدار کو جمع ہو گیا ۔اور سارہ کو۔ یہ بات ماننی پڑی کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ ہینڈسم ہو چکا ہے ۔۔۔۔

تیمور عالم کو دیکھ رہا تھا ۔۔اور عالم کا تیمور کو دیکھنا محال تھا مگر ۔اسے یہ سب کچھ صیام کی وجہ سے کرناتھا ۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ۔۔

میرے آدمیوں کو کیوں پکڑا ہے ” عالم نے سوال کیا ۔۔

لہجے کے روعب سے تیمور جیسے جھاگ کیطرح بیٹھ گیا تھا مگر ہمت پکڑتا آگے آیا ۔۔

وہ میرے راستے میں ا رہے تھے ” اسنے سیدھی طرح جواب دیا ۔۔

میرے آدمیوں کو چھوڑ دو ” عالم نے بنا کسی لچک کے جواب دیا ۔۔۔ تیمور ایک پرسنٹ بھی اس جنگلی شیر کا شکار نہیں۔ بننا چاہتا تھا تبھی اسکی بات مان لی اور ملازم کو آرڈرز دیے باسم اور مکرم کو چھوڑنے کے ۔۔۔ جو کہ ان دونوں کو لینے کے لیے بھاگے ۔۔۔۔

عالم ان دونوں کا انتظار کرنے لگا بنا کچھ کہے جبکہ وہاں سب اسے ایسے دیکھ رہے تھے گویا ۔۔۔۔۔

وہ کوئ انوکھی شے ہو ۔۔۔۔

مکرم اور باسم کا حال بھی برا تھا مگر صیام جیسا نہیں ۔۔۔ تبھی وہ دونوں عالم تک اپنے قدموں سے پہنچے ۔۔۔

عالمم نے تیمور کو دوبارہ دیکھا ۔۔

لڑکی ” تیمور نے چونک کر دیکھا ۔۔

وہ تمھاری کچھ نہیں لگتی تو اسکو مانگنے کا حق تم نہیں رکھتے” تیمور نے صاف جواب دیا اس لڑکی کا نشہ توڑنا چاہتا تھا وہ جس کو کسی بھی وجہ سے مس نہیں کرنا تھا۔

میں نے کہا لڑکی ” عالم۔نے اپنی بات پر ویسے ہی زور دیا ۔۔

جب تمھارا اس لڑکی سے کوئ تعلق نہیں تو کیوں مانگ رہے وہ ” اب کہ اسفند شاہ بولے ۔۔

عالم نےا نکیطرف نہیں دیکھا وہ تو گد تھا ۔۔۔۔ جو غلطی سے اسکا باپ تھا ۔۔۔

اگر عالم اسکیطرف دیکھتا تو تا دیر اسے برداشت نہ کر پاتا ۔۔ سب کو دیکھ کر اسکے اندر غصے نفرت اور بدلے کی اگ نے ایک بار پھر سے جنم لیا ۔۔۔

مکرم یہ چابی پکڑو ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ میری گاڑی میرے پورچ میں پارک کر دو ” مکرم کی جانب چابی اچھال کر عالم ۔۔۔ وہاں سے اپنے وپرشن کیطرف بڑھا ۔۔ اور وہاں کھڑے سب لوگ حیران حونک رہ گئے جبکہ

مکرم کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا.

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

9 thoughts on “Tania Tahir | Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#18”

Leave a Comment

Your email address will not be published.