Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Tania Tahir | Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#19

Tania Tahir | Romantic Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#19

 

Tania Tahir written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

 

 

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #19

تیمور اسکے پیچھے لپکا۔۔۔ عالم کہاں جا رہے ہو “وہ ایکدم بولا عالم نے اسکو۔۔ایسی نظروں سے دیکھا کہ اسے اپنے سوال پر شرمندگی ہوئ ۔۔
میرا مطلب ۔۔ تم یہاں ۔۔۔ یہاں رہنے والے ہو ۔۔”تیمور سنبھالا ۔۔
تم سے پوچھ کر رہوں گا ۔۔” عالم کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ایکچلی یہاں سب خراب ہو چکا ہے تم حویلی کے اندر ”
عالم کے ایکدم بیچ میں ٹوکنے پر تیمور رکا ۔۔۔۔

یہ میری جگہ ہے جہاں تم رہ رہے ہو ۔۔مجھے مت بتاو مجھے کہاں رہنا چاہیے اور کہاں نہیں” وہ دانت بھینچ کر کہتا ۔۔۔وہاں سے چلا گیا ۔۔
البتہ تیمور جانتا تھا یہاں ۔۔کون ہے۔۔۔۔
تبھی وہ اسکے پیچھے پیچھے تھا ۔۔۔
مکرم حالانکہ زخمی تھا پھر بھی اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔۔
تیمور نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔

یہ جگہ تو ویران اور برباد ہو گئ ہے تم کچھ دن حویلی میں رہ لو تب تک اس جگہ کو ٹھیک کرا دیتا ہوں ” اسفند شاہ بھی بیچ میں بولے مگر عالم نے انکو ایسے اگنور کیا جیسے کوئی بولا ہی نہ وہ ۔۔ اور اسنے ۔۔ ارد گرد دیکھا۔۔

یہ وہ جگہ تھی جو ۔۔اروش کی پسند کی تھی عین اسکی پسند کے مطابق اسکی مرضی کے مطابق ۔۔ اور یہاں پر سب برباد ہو چکا تھا ۔۔ ضبط سے ۔۔ وہ ۔۔۔ گھیرہ سانس بھر گیا ۔۔۔
اگر کوئ اس وقت عالم شاہ کے دل میں جھنکتا توشاید خود بھی دھاڑے مار کر روتا۔۔۔
اور وہ بے حس بنا کھڑا رہا ۔۔

مکرم سمجھہ سکتا تھا ۔۔وہ خاموشی سے اس جگہ کی ویرانی دیکھ رہا تھا اسنے ۔۔۔۔
بمشکل رخ موڑا۔۔اور۔۔ کانچ کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔

اسے جیسے بہت کچھ یاد آنے لگا۔۔۔جس یاد نے اسکی آنکھوں کو سرخ کر دیا ۔۔
جیسے ہی دروازہ دھکیل کر وہ اندر آیا ۔۔۔
اسکے پاؤں ۔۔ایک وجود سے ٹکرایا ۔۔ جو فرش پر موندھا پڑا تھا ۔۔۔
عالم رک گیا ۔۔۔

تو یہ تھا وہ وجود جس کی وجہ سے ۔۔وہ کانٹے دار جھاڑیوں پر چل کر یہاں تک پہنچا تھا ۔۔
ایک نظر ۔۔ادھی نظر یہ معمولی سی نظر اسنے وہ بھی ڈالنا مناسب نہیں سمھجہ اور وہ اندر چلا گیا ۔۔
تیمور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
باسم مکرم ایکدم آئرہ کی جانب بڑھے ۔۔۔

ائرہ ائرہ ” وہ اسے ہلا کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگے مگر اسکے جسم سے بہتے خون پر وہ دونوں پریشان ہو گئے جبکہ عالم ۔۔۔ سیدھا چلتا گیا ۔۔۔۔
کوئ جگہ تو ہوتی جس میں وہ اسے چھپا کر رکھ لیتا ۔۔۔
اگراسکے بس میں ہوتا وہ اسکا سایہ بھی کسی کو نہیں دیتا ۔۔۔۔
ہوا کو بھی اس کو چھونے نہیں دیتا ۔۔

بڑا ظلم ہواتھا اسکے دل پر ۔۔۔اوراس سب کے باوجود وہ زندہ تھا ستم تو یہ تھا ۔۔۔
اسکے آگے جان وجود آنکھوں میں نمی بکھیر گیا تھا یاداشت تھی کہ جاتی ہی نہیں تھی کتنا اچھا ہوتا کہ اسکی یاداشت سے سب نکل جاتا سب گم ہو جاتا ۔۔اور وہ یہاں کبھی نہ لوٹتا نہ کبھی لوٹ پاتا ۔۔۔۔۔۔

ائرہ کی حالت کے پیش نظر انھوں نے وہیں ڈاکٹر کو بولا لیا ۔۔۔
تیمور اس لڑکی کے ہاتھوں سے نکلنے پر ہاتھ ملنے لگا جبکہ ۔۔۔ باسم اور مکرم ائرہ کے ارد گرد ایسےتھے کہ اگر تیمور زرا سا بھی کچھ کرتا تو اسے چیر کر رکھ دیتے اور کچھ بھی تھا ۔۔عالم کی واپسی سے وہ ۔۔۔خود میں اتنی طاقت محسوس نہیں کر پا رہا تھا وہ غصے سے بھڑکتا ۔۔۔ وہاں سے نکل گیا جبکہ اسفند شاہ بھی وہاں سے نکل گئے ۔۔۔

اور ۔۔۔۔ ڈاکٹر آ گیا ۔۔ احرہ کو وہیں ٹریٹمنٹ دی جا رہی تھی ۔۔
یہ سٹیبل نہیں ہیں کہ معمولی سا بھی سفر کر سکیں ۔۔ یہ کٹ بہت گھیرے ہیں “ڈاکٹر نے سٹیچیز لگائے تھے اور ۔۔۔ باسم کو بتایا جو اسکو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔
یہاں دھول مٹی بہت ہے تبھی مکرم نے اسے ایک کمرے کا راستہ دیکھا ۔۔

نہیں میں یہاں نہیں رکنا چاہتا میں جانا چاہتا ہوں یہاں سے ” باسم بضد ہوا ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کچھ کہہ گئے ہیں۔۔ باسم صاحب آپ نے سنا ہی ہو گا ۔۔۔

تھوڑا سا صبرکر لیں رات تک روانگی کر لینا “مکرم نے کہا وہ بے انتہا خوش تھا اسے اپنی چوٹوں کی بھی پرواہ نہیں تھی اسنے یہاں کی صاف صفائی جلد از جلد کرنے کی سوچیں ڈاکٹر اسکی اور باسم کی بھی پٹی کر گیا تھا اور مکرم ایک بار پھر سے عالم کی خدمت پر فائز ہو چکا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات تک اسے ہوش آیا تو ۔۔اسے ایکدم تکلیف سی ہوئ۔۔اسنے آنکھ کھلی اور ایکدم نظر باسم پرگئ ۔۔
باسم ” وہ ۔۔۔ ایسی تھی نہیں مگر پھر بھی اسے دیکھ خود کو رونے سے روک نہ سکی۔۔ باسم نے پل میں اسکے ہاتھ تھامے ۔
اسکے رونے سے باسم کو سخت تکلیف ہوئ تھی۔۔

ریلکس ہو جاؤ ۔۔۔ ہم یہاں سے جلد از جلد چلے جائیں گے”باسم نے اسکے بال سنوارے ۔۔۔
میں اس زلیل کو زندہ نہیں چھوڑو گی “ائرہ نے کہا ۔۔اور اپنے آنسو صاف کر کے ہاتھوں کو دیکھنے لگی ۔۔

سفید ملائ سی رنگت پر دوائیاں پایوڈین اور ٹاکے لگے تھے وہ خود کو دیکھ کر رو دی پھر سے ایک جنون سا تیمور کی جان لینے کا سوار ہو گیا ۔۔۔۔۔

تم پاگل ہو جاؤ پہلے ہی اتنی بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو “باسم غصہ کو آیا۔۔
تم یہاں کیسے آئے ہو “ائرہ نے اسکی جانب دیکھا

میں یہاں آ گیا ہوں بس تم کچھ دیر ریسٹ کرو میں عالم صاحب سے گاڑی مانگتا ہوں ہم ڈائریکٹ بس گھر جائیں گے “باسم نے کہا جبکہ وہ باہر نکل گیا اور ائرہ سوچ رہی تھی کون ہے عالم ۔۔۔۔

اور اسی سوچ کے تحت اسنے اپنے زخموں کی پرواہ نہیں کی اور چھپ کر وہ وہاں سے ۔۔۔ باہر نکلنے لگی ۔۔

تیمور کے ہاتھوں پر بھی جب تک یہ ۔۔زخم نہیں دے گی تب تک وہ یہاں سے نہیں جائے گی ۔۔۔اگر اسکے ہاتھ کھل جاتے تو ۔۔ یہ تیمور کیا اور اسکی شکل کیا ۔۔۔ وہ تپ کر سوچتی اٹھی بہت تکلیف ہو رہی تھی ۔۔ ہاتھوں میں اسنے ۔۔ اپنے آنسوں کو اندر اتارا ۔۔اور وہ باہر آ گئ ۔۔۔

وہ باہر کا منظر دیکھ کر ایک پل کو دنگ رہ گئ ۔۔۔
بلیک ان وائٹ کومبینیشن میں یہ جگہ چمچماتی ہوئ ۔۔۔ بے حد حسین لگ رہی تھی ایک پل کو اسے شبہ ہوا کہ کیا واقعی وہ ۔۔ قید تھی یہاں ۔۔۔۔

اسنے آج سے پہلے اتنی خوبصورت جگہ نہیں دیکھی تھی ۔سامنے دیوار پر ۔۔۔ بلیک ان وائٹ میں ہی ایک پوری وال جتنی تصویر لگی ہوئ تھی وہ کسی لڑکی کی تھی ۔۔۔
وہ تصویر کو دیکھنے لگی ۔۔۔

وہ جو کوئ بھی تھی وہ بے حد خوبصورت تھی ۔۔۔

جو کوئ بھی صوفے پر بیٹھا تھا اسکی ائرہ کیطرف سے پشت تھی باسم اسکے سامنے کھڑا تھا باسم کی نظر ائرہ پر گئ اور اسنے گھور کر اسے دوبارہ جانے کا کہا مگر ائرہ کہاں روکتی ائرہ اس شخص کو دیکھنے کے لیے ۔۔۔چلتی وہئ سامنے آ گئ اور جیسے وہ ٹھر گئ ۔۔

منظر رک گیا ۔۔۔۔

اسکی سانس کی روانگی بھی جیسے رک گئ ۔۔۔
اور وہ تھم گئ۔۔۔ کوئ ایک۔۔ ایک غلط نظر بھی ڈالنا اس شخص نے ائرہ پر مناسب نہیں سمھجا تھا

تھنکیو سر ۔۔ آپ نے ہماری بہت مدد کی ” باسم بولا۔
ائرہ بت کیطرح کھڑی تھی عالم نے سر ہلایا ۔۔۔

آپ ہمیں اجازت دیں” باسم نے فارمل سے انداز میں مسکرا کر کہا ۔۔ تو عالم نے سر ہلا دیا ۔۔۔
جبکہ ائرہ کے وجود میں اب بھی جنبش نہیں ہوئ تھی ۔۔۔

اسنے اتنا خوبصورت مرد پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔اتنا ہینڈسم اتنا جازب نظر ایک طوفان سا اپنی سرد آنکھوں میں روکے ۔۔۔
وہ شاندار شخص کیسے بیٹھا تھا ائرہ اپنی ہارٹ بیٹ مس کررہی تھی
باسم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔

چلیں”وہ بولا تو ائرہ ہوش میں آئ اور باسم کی جانب دیکھا اسنے تھوک نگلا تھا عالم نے موبائل نکال لیا اور موبائل کو دیکھنے لگا ۔۔ ائرہ اسکی یہ سرد مہری دیکھنے لگی ایک نگاہ جو اٹھا کراسکی جانب دیکھا ہو ۔۔۔
میں نہیں جاؤ گی ” ائرہ نے کہا ۔۔

مگر اسکی بات سے بھی عالم پر کوئ فرق نہیں پڑا ائرہ” باسم کو شدید شرمندگی ہوئ ۔۔۔۔
اور اسنے اسے گھورا

جب تک اس تیمور کے ہاتھوں پر بھی یہ ہی نشان نہیں دے دوں گی میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی” ائرہ نے آنکھیں نکال کر باسم کو واضح لفظوں میں کہا اور یہ وہی لمحہ تھا کہ عالم کی نگاہ ائرہ پر اٹھی

ملگجے سے جینز شرٹ میں ۔۔۔۔ وہ بکھرے بالوں اور شفاف رنگت چہرہ حسین ۔۔کہ کوئ بھی آدمی بہک جائے وہ لڑکی سرخ ہو رہی تھی شاید غصے سے ۔۔۔ائرہ کی بھی تبھی نگاہ عالم سےجا ملی ۔۔۔

میں بدلہ لیے بنا یہاں سے نہیں جاؤں گی” ائرہ نے عالم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
عالم نے نگاہ پھیر لیا ور دوبارہ اپنے کام میں مگن ہو گیا ۔۔
ائرہ فضول باتیں نہ کرو “باسم کو احساس ہو رہا تھا کہ کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ۔۔

تم جاؤ ” وہ بولی اور دوبارہ کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
باسم کا چہرہ عالم
کے سامنے سرخ ہو گیا ۔۔۔۔
باسم سے کوئ بات نہیں بن پائ۔۔۔

اٹس اوکے ۔۔۔۔ ” عالم نے اسے عام سے لہجے میں کہا اس چھٹانک بھر کی لڑکی نے اچھے بھلے آدمی کو شرمندہ کر دیا تھا خیرعالم کو کیا فرق پڑتا تھا کوئ رہتا یہ نہ رہتا ۔۔۔۔
وہ خود یہاں عارضی تھا ۔۔۔۔ گویا اسفند شاہ اور تیمور شاہ کی موت بن کر اور اسکے بعد وہ یہاں سے چلا جاتا ۔۔۔۔
ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔

وہ اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا جبکہ باسم تن فن کرتا ایرہ تک پہنچا ۔۔
کیا حرکت تھی یہ کیا سوچتے ہوں گے عالم صاحب ہمارے بارے میں” باسم غصے سے بولا ۔۔
جو مرضی سوچیں لگتا تو نہیں دیکھ کر کچھ سوچتے بھی ہیں” وہ مسکراہٹ دباتی بولی ۔۔۔
کیا مطلب” باسم سمھجا نہیں ۔۔

کچھ نہیں تم جانتے ہو ان زخموں کا بدلہ لیا بنا میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اور کچھ دنوں کی بعد ہے اس تیمور کو ۔۔۔ ٹھکانے لگا کر ہی نکلوں گی یہاں سے ویسے یہ جگہ تمھارے عالم صاحب کی ہے” وہ پوچھنے لگی ۔۔

ہاں اور اس تیمور نے تمھیں انکے آنے پر ہی چھوڑا ہے ” باسم نے کہا ۔۔۔
کول” ائرہ مسکرا کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔ عجیب تتلیاں سی اڑ رہیں تھیں چاروں طرف ۔۔
باسم سر تھام گیا اور اسکے والد کو کال ملا کر اسکے ہاتھوں میں تھما دی

ضد کی وہ کتنی پکی تھی یہ بات تواسکے والد بھی جانتے تھے انکے لاکھ کہنے کے باوجود بھی وہ اپنی بات سے نہیں ہٹیں اور اسطرح باسم کواسکے ساتھ ہی رکنا پڑا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات آرام دہ نیند کے بعد صبح اٹھی تواسکے سٹیچیز میں بے حد پین تھا ۔۔ کہ وہ۔۔خود کو سمبھال رہی تھی مگر ۔۔ اسکے آنسو نہیں تھم رہے تھے ۔۔۔۔۔
اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی ۔۔۔

اسنے باسم کو پکارنا چاہا مگر وہ الگ روم میں رکا تھا وہ اٹھی اور باہر نکلی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی باسم کہاں ہے ۔۔ وہ لاونج میں ادھر ادھر دیکھنے لگی بے دھیانی میں ٹانکوں سے خون رسنے لگا تھا ۔۔
آنسوں نے اسے مزید سحرانگیز خوبصورتی بخش دی تھی۔۔۔

باہر سے آتے عالم کی نگاہ اسپر گئ ۔۔۔۔
وہ رورہی تھی۔۔اوراگراسکا دل پتھرنہ ہوتا تو وہ یہ اڈمیٹ ضرورکرتا وہ روتے میں بلا کی حسین دیکھ رہی تھی۔۔
ائرہ کو اس سے ہی کچھ ہمدردی کی امید ہوئ ۔۔۔

وہ اسکی جانب دیکھ چکی تھی عالم نے بھی اسکے نکلتے خون کو دیکھا اور ایسے اجنبی بن کر ۔۔۔ اسکے پاس سےگزرگیا جیسے وہ راہ گیر ہو ۔۔ شاید راہ گیر کے لیے بھی کسی کے دل میں رحم ہمدردی آ جاتی ہو گی مگر یہاں نہیں آئ تھی ۔۔۔
اجنبی بن کر وہ پاس سے گزر گیا تھا ۔۔

ائرہ رونا بھول کراسکی بے حسی دیکھتی رہ گئ ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
جبکہ اسنے غصے سے ۔۔ہاتھوں کو ۔۔۔ یوں ہی چھوڑ دیا ۔۔

ایکدم چھوڑنے سے ۔۔ کھینچاو بڑھ گیا تھا اور اسکے ٹانکوں سے مزید خون رسنے لگا ۔۔وہ یوں ہی کھڑی رہی

باسم باہر نہ نکلتا تو وہ ضد میں یوں ہی کھڑی رہتی نہ جانے کیا ہوگیا تھا دل کو ۔۔۔اسکی اس حرکت سے اصولا تو وہ اجنبی ہی تھا اسکے لیے وہ کیوں رکتا یہ گھر اسکا تھا۔۔وہ یہاں ٹھری تھی اپنی ضد میں ۔۔۔۔
ائرہ کے وجود میں غصے کی آگ اٹھنے لگی ۔۔۔

کیا کسی اجنبی کو تکلیف میں دیکھ کر بھی ۔۔۔ کوئ نہیں رکتا ۔۔۔۔
وہ دانت بھینچے کھڑی رہی ۔۔۔

اور اسنے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا جنھیں باسم تھامے اسے کچھ کہہ رہا تھا مگرا پنے غصے میں وہ ایک لفظ نہ سن پا رہی تھی نہ سمجھہ ۔۔۔۔ اسنے باسم سے اپنے ہاتھ آزاد کیے اور کھینچ کر ہاتھ اس لڑکی کی تصویر پر مار دیے۔۔ خون کی بوندیں جا بجا ۔۔اس تصویر پر چیپک گئیں ۔۔ عالم شاہ فریش ہو کر باہرنکلا تھا ۔۔ اروش کی تصویر پر خون کی بوندیں دیکھ کر اور اس لڑکی کی حرکت اپنی آنکھوں سے دیکھ کراسکے اندر طوفان سا اٹھا ۔۔۔۔

جسے وہ یوں ہی کھڑا دیکھتا رہا ۔۔۔۔

وہ چاہتا تو ایک پل میں اس لڑکی کے ٹکڑے کر دیتا کیوں کہ وہ اس موڑ پرکھڑا تھا جہاں مار دو یہ مر جاؤ کی کہانی تھی ۔۔۔

وہ لڑکی سرخ نظروں اور سرخ چہرے اور خون میں لت پت ہاتھوں سے لبوں میں لب دبائے اسے دیکھنے لگی ۔۔

عالم کی غصیلی نظریں بھی اسی پر تھیں ۔۔ ائرہ پل بھر کے لئے مسکرا اٹھی ۔۔۔۔۔

کوئ تاثر تو آیا نظروں میں سرد مہری تو نہیں تھی اب بھلے نفرت اور غصہ ہی سہی اور لہرا کر زمین بوس ہو گئ ۔۔
جبکہ باسم کی حالت غیر ہو گئ
ائرہ ائرہ “اسنے اسکا چہرہ تھپتھپایا ۔۔

عالم کے اندر اس حرکت سے مزید نفرت بڑھ گئ ۔۔
جبکہ وہ جس کام کے لیے نکلا تھا باہر نکل گیا ۔۔ اسنے طبعیت پوچھنے جانی تھی ۔۔ صیام کی ۔۔۔

مکرم نے البتہ باسم کی مدد کی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے ہوش آیا باسم اسپر چیخ رہا تھا ۔۔

کیوں کر رہی ہو یہ سب تم ۔۔تمھارے ٹانگیں کچے ہیں تم نے کیوں مارا اس تصویر پر ہاتھ تم جانتی ہو مکرم نے وہ خون صفا کرتے ہوئے ۔۔ مجھے ۔۔ بتایا ہے کہ یہ تصویر عالم صاحب کے لیے انکی سانسوں سے بھی زیادہ اہم ہے دوبارہ تم تصویر کے پاس مت دیکھائی دینا ۔۔

کون یہ لڑکی ” ائرہ نے باسم کی طرف مسکرا کر دیکھا ۔۔

کیا ہو گیا ہے تمھیں عجیب بیہیو کیوں کر رہی ہو اتنی تکلیف میں بھی مسکرا رہی وہ” باسم اسکے نزدیک آ گیا ۔۔ اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
چھوڑو اسے چلو چلتے ہیں یہاں سے “باسم نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
نہیں” وہ صاف انکار کر گئ ۔۔

ائرہ ضد مت کرو “یہ ہی نشان تیمور کے ہاتھ پر ڈال دو میں چل لوں گی تمھارے ساتھ” وہ غصے سے بولی ۔۔۔

باسم چپ رہ گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ ائرہ نے پھر سے اسکیطرف دیکھا ۔۔
کون ہے یہ لڑکی” وہ بولی ۔۔۔
اروش نام ہے اسکا ۔۔۔ عالم صاحب کا عشق ”
محبت نہیں ” وہ جلدی سے بولی ۔۔۔
باسم حیرانگی سے اسکو دیکھتا گیا ۔۔۔۔

ائرہ کی نظروں میں ایسی بات تھی باسم وہیں تھم گیا ۔۔۔۔
وہ حونک تھا ۔۔۔۔
عشق ” ائرہ نے لبوں میں لفظ دوبارہ دہرایا ۔۔
یہ جانے بنا باسم پر کیا بیتی تھی ۔۔
عشق تو بھلائے نہیں بھولتا ۔۔۔

محبت میں دوسری ہونے کا چانس تو ہوتا ہے” وہ پریشان سی لگی ۔۔
ائرہ ہم یہاں سے جا رہے ہیں” وہ بولا ۔۔۔۔

باسم ”
ائرہ میں تیمور کے ہاتھ پر یہ ہی نشان ڈال دوں گا تمھارے سامنے مگر یہاں نہیں روکیں گے ہم”وہ حتمی لہجے میں بولا۔۔۔
کانچ کیطرح اسکا دل ٹوٹ گیا تھا ۔۔اور وہ ۔۔حیران پریشان سا ۔۔ باہر نکل گیا ۔۔
ائرہ کھڑی ہوگئ ۔۔۔

اسکی آنکھوں سے بلاوجہ آنسو بہنے لگے۔۔
عشق وہ خود بھی محسوس نہیں کر پا رہی تھی وہ کیا چاہتی ہے وہ پیچھے گیرکر ایکدم رو دی ۔۔۔۔

کہاں ہو گی اب یہ لڑکی “وہ سوچنے لگی ۔۔۔ اور سوچتے سوچتے ہی اسکی آنکھ لگ گئ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صیام کے پاس سے واپس لوٹا ۔۔۔ تو رات زیادہ ہو گئ تھی ۔۔۔۔

حمائل کے ہاتھ کا کھانا کھا کر اسے اچھا لگا تھا ۔۔وہاں جا کر اپنائیت کا احساس ہوتا تھا اور ایک بار پھر اسی کھنڈر میں آ گیا تھا اسنے سارا باہر کا لون بھی ٹھیک کرا دیا تھا ۔۔۔
عالم وہاں سے چلتا ہوا ۔۔۔ اروش کے پاس جا کھڑا ہوا

اسکے مسکراتے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔ تبھی اروش بھی بھوک کی شدت سے کمرے سے نکلی تھی ہاتھ میں اب بھی تکلیف تھی ۔۔ اور ۔۔۔ نظر سامنے عالم پر اٹھ گئ ۔۔۔

عجیب سا لگا ۔۔۔ یوں اسے اسکے پاس دیکھنا دل میں ۔۔ بھی عجیب کیفیت سی بن گئ ۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں اسکے پاس آ گئ ۔۔
عالم نے مڑ کر ائرہ کو دیکھا ۔۔۔
پورے وجود میں ناگواری چھا گئ ۔۔
وہ وہاں سے ہٹنے لگا ۔۔۔۔

عشق ہی کیوں ” ائرہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔ اور
عالم نے مزید ناگواری سے اسکو دیکھا ۔۔
وہ لڑکی ایک دن میں اسکے لیے ناقابل برداشت ہو گئ تھی ۔۔۔
کل یہاں نظر نہ آنا ” وہ سخت لہجے میں بولا ۔۔

ائرہ اسکی جانب مڑی مسکرانے لگی ۔۔
سچ” اسنے بات چھڑائی ۔۔ عالم غصے سے اسے دیکھنے لگا اور پشتایا وہ بولا ہی کیوں اس سے ٹھیک ہے ۔۔ توکل اس تیمور کے ہاتھ پر یہ زخم دے کر چلی جاؤ گی”
ائرہ بولی ۔۔
اور عالم وہاں سے چلا گیا ۔۔

کاش وہ رک جاتا نفرت سے ہی سہی اسے دیکھتا تو۔۔۔۔ اگلے دن ۔۔۔ باسم یہ حالات دیکھتے ہوئے وہاں سے اسے لے جانے کی ضد باندھ چکا تھا ائرہ۔۔۔
عادت کے برخلاف خاموشی سے حامی بھر گئ ۔۔
اور دونوں جانے کے ارادے سے باہرنکلے ۔۔۔

توعالم کو ٹریک سوٹ میں دیکھ کر ائرہ تھم گئ ۔۔۔ہاں بار بار اسکو دیکھ کر ہارٹ بیٹ مس ہو جاتی تھی اسکی۔۔
وہ ٹھر کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔

باسم نے اسکی نظروں کو دیکھا اور عالم کے نزدیک گیا ۔۔
تھنکیو اینڈ گڈ بائے”باسم مسکرا کر بولا تو ۔۔۔۔
عالم نے بس سر ہلایا ۔۔اور اسکے پاس سے چلا گیا ۔۔
ائرہ اسے اندرتک دیکھتی رہی ۔۔اتنی سردمہری ۔۔اتنی بے حسی ۔۔وہ نم نظروں سے دیکھتی رہی اور باہر نکل گئ ۔۔۔۔

باسم بھی ساتھ تھا ۔۔ گاڑی مکرم چلا رہا تھا ۔۔
صیام کی حویلی جانا ہے مجھے” اچانک اروش بولی ۔۔۔
باسم نے تپ کر اسے دیکھا ۔۔۔

مکرم نے سر ہلایا اور ۔۔۔ صیام کی حویلی کیطرف گاڑی موڑ لی ۔۔
ائرہ کے لیے یہ سفر ۔۔۔۔ بہت اداس تھا ۔۔۔ نہ جانے کیوں ۔۔
وہ حمائل سے ملنا چاہتی تھی ۔۔۔
شاید بہتر محسوس کرتی ۔۔۔
گاڑی لمبے سفر کے بعد حویلی پہنچی ۔۔

اور ائرہ بنا باسم کی جانب دیکھے وہاں سے نکل کر باہر بھاگ تھی ۔۔۔
وہ حویلی کے اندر داخل ہوئے تو ۔۔۔ حمائل ۔۔۔

اپنے روم میں تھی ملازمہ نے اسے بتایا وہ بنا کچھ سوچے سمجھے وہاں داخل ہوئ ۔۔ اور صیام کا دروازہ کھول دیا ۔۔۔
دونوں اسکی سرخ ۔۔۔ آنسوں سے تر نظریں دیکھ کر ایکدم حیران ہوئے ۔۔

حمائل پل میں اس تک پہنچی تھی اور ائرہ اسکے سینے سے لگ کر رو دی ۔۔۔

continued……….

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Revenge Story Novel 2022, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit  Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published.