Web Special afsanay, urdu afsana aur afsana nigar,

urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,

Web Special afsanay, urdu afsana aur afsana nigar,

urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,

میرا نام سائرہ ہے میرے ابو کا دو مہینے پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔ میری امی صرف میرے ساتھ رہتی تھیں میں اکلوتی اولاد تھی لیکن مہنگائی کے حساب سے خرچے بہت تھے میری امی کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھیں کیونکہ انھیں فالج تھا جو کہ تین مہینے پہلے ہی ختم ہوا۔۔۔

میں چونکہ ابھی چھوٹی تھی اور زیادہ کام نہیں کر سکتی تھی تو امی ہی سب کچھ کرتیں تھیں۔۔۔
فالج سے پہلے امی لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتیں تھیں اور ابو کے ساتھ بھی کپڑے سلواتی تھیںمیری امی پہلے میرے ابو کے ساتھ کام کواتیں تھیں کیونکہ ابو کا کام آدھا گھر میں ہی ہوتا تھا میرے ابو ایک درزی تھے ان کی وجہ سے ہمارا آدھا خرچہ چل جاتا تھا۔۔۔
ابو کے جانے کے بعد زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے پیسوں کی کبھی تنگی نہیں ہوئی تھی اب چونکہ امی بھی عدت میں تھی اور میں بھی ابھی چھوٹی تھی تو مکان مالک کا بار بار ہمیں پریشان کرنا بہت مشکل میں ڈال رہا تھا۔۔۔
ایک دن ساتھ والے گھر سے ایک عورت ہمارے گھر آئی اور ہمیں اندر آ کر دیکھنے لگ گئی پھر امی کے کان میں کچھ کہتی وہیں سے مجھے دیکھنے۔ لگ گئی میری امی نے مجھے کمرے میں جانے کا کہا تو میں جونہی کمرے میں گئی اس عورت نے امی سے کچھ ایسا کہا کہ امی نے اونچی آواز میں مجھے بلا کر چائے بنانے کا کہا تو میں نے کہا کہ وہ تھوڑا سا ہی دودھ ہے جو آپ کی دوائی کے لیے ہے لیکن امی نے زبردستی مجھے دودھ کی چائے بنانے بھیج دیا۔۔۔
میں جونہی چائے بنا کر لائی وہ عورت مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگ گئی مجھے اس کی نظریں اپنے اندر تک جاتی محسوس ہوئیں میں فورا سے اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی کہ مجھے دوبارہ امی نے آواز دی اور مٹھائی لانے کا کہا میں حیران رہ گئی کہ یہ امی کیا کہہ رہیں ہیں گھر میں کھانے کو پیسے نہیں ہیں اور امی مجھے مٹھائی لانے کا کہہ رہیں ہیں میں نے کچھ پوچھنے کے لیے ابھی۔ منہ کھولا ہی تھا کہ امی نے فورا میرے ہارط میں پیسے پکڑا کر مجھے باہر کی طرف دھکیل دیا..
میں مٹھائی لے کر ہی آئی تھی کہ امی نے مجھے ساتھ والے گھرمیں مٹھائی دینے بھیج دیا میں نے ان کے گھر کی گھنٹی بجائی تو وہی عورت دوبارہ باہر نکلی اور مجھے سر سے پاؤں تک دیکھتی مجھے اندر آنے کا کہا لیکن میں ان کے ہاتھ مٹھائی کا ڈبہ پکڑا کر گھر کی طرف بھاگتی ہوئی نکل گئی مجھے اپنے پیچھے اس عورت کا قہقہہ صاف سنائی دیا جو کہ۔ کافی ڈراونا تھا۔۔۔
میں گھر آ کر فورا سے اپنے کمرے میں بند ہو گئی امی حیرت سے مجھے باہر سے آوازیں دینے لگ گئیں لیکن میں پھر باہر نہیں نکلی ایک تو اس عورت کا ڈر اور اوپر سے امی کی حرکتوں نے مجھے کافی ڈرا دیا تھا میں فورا سے بستر میں گھس کر آیتوں کا ورد کر کے سو گئی۔۔۔
میں صبح اٹھی تو میں نے فورا اٹھ کر نماز ادا کی اور اپنی امی کے لیے دعا کر کے باہر آئی ہی تھی کہ وہ عورت میرے کمرے کے دروازے سے لگ کر کھڑی تھی ڈر سے میری چینخ اتنی بلند ہوئی کہ امی جو کیچن میں پراٹھے بنا رہیں تھیں دل پہ ہاتھ رکھ کر فورا باہر آئیں اور حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہتیں ہیں کہ کیا ہوا میں فورا سے دروازہ بند کرتی ہوں اور دروازے سے لگ کر بیٹھ جاتی ہوں کہ مجھے آواز آتی ہے کہ وہی عورت میری امی کو کہتی ہے کہ میں تو بچی کواٹھانے آئی تھی مجھے کیا علم تھا وہ ڈری ہوئی ہو گی اتنا امی اس عورت سے معذرت کرتیں ہیں اور انھیں کہتیں ہیں کہ سائرہ ابھی آ کر آپ سے معافی مانگتی ہے ۔۔۔
امی کے دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی میں دروازہ نہیں کھولتی اور بستر میں دوبارہ گھس کر آیتیں پڑھنے لگ جاتی ہوں۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب میں کمرے سے باہر نکلتی ہوں تو وہ عورت گھر میں نہیں ہوتی۔۔۔ میں فورا سے جا کر ناشتہ کرتی ہوں اور دوبارہ کمرے میں بند ہو جاتی ہوں باہر امی مجھے آوازیں دیتیں ہیں کہ کام کون کرے گا لیکن میں کوئی جواب نہیں دیتی۔۔۔ میرا نام سائرہ ہے میرے ابو کا دو مہینے پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔
میری امی صرف میرے ساتھ رہتی تھیں میں اکلوتی اولاد تھی لیکن مہنگائی کے حساب سے خرچے بہت تھے میری امی کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھیں کیونکہ انھیں فالج تھا جو کہ تین مہینے پہلے ہی ختم ہوا۔۔۔
میں چونکہ ابھی چھوٹی تھی اور زیادہ کام نہیں کر سکتی تھی تو امی ہی سب کچھ کرتیں تھیں۔۔۔
فالج سے پہلے امی لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتیں تھیں اور کپڑے سلائی کرتیں تھیں۔ فالج کے بعد امی نے کام ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن کام نہیں ملا…
ہمارا مکان مالک بھی یہ سب دیکھتا تھا امی کو مجھ سے زیادہ مالک مکان کو کرایہ دینے کی فکر ہوتی تھی فالج کے بعد کام نا ملنے پہ ایک مہینے کا تو جیسے تیسے کر کہ دے دیا ہم نے۔۔۔ لیکن ایسے ہی اگلے مہینے نا تو کوئی امی بچا پائیں نا ہی کام مل پایا تو مکان مالک سے اگلے مہینے اکٹھا دینے کا وعدہ کیا۔۔۔ لیکن وہ مسلسل جب بھی ہم گھر سے باہر نکلتے یا کہیں جانے لگتے ہمیں یاد کرواتا۔۔۔ اس طرح ہمیں بھی اپنی بیعزتی محسوس ہوتی امی نے ایک دو دفعہ اسے سمجھایا کہ اگلے مہینے مل جائیں گے لیکن وہ باز نا آیا۔۔۔
اسی طرح کرتے کرتے اگلا مہینا آ گیا تو وہ پر روز گھر آیا ہوتا۔۔۔۔
 مکان مالک روز شور کرتا کہ دو ماہ سے کرایہ نہیں دیا گھر خالی کرو اماں عدت میں تھی کیونکہ ابا کو مرے دو ماہ ہوئے تھے جب اماں نے اپنا دامن پھاڑا اور اس میں اپنی ایک لٹ کاٹ کر لپیٹ کر مجھے دی اور بولی کے اسے چولہے کے نیچے رکھ آ کھول کر نہیں دیکھنا میں نے ویسا ہی کیا اس کے بعد مکان مالک نے پریشان کرنا چھوڑ دیا میں بڑی حیران ہوئی ایک دن کچھ سوچتے چولہے کے نیچے سے وہ جلی ہوئی پوٹلی نکال کر کھولی تو منہ سے چیخیں نکل گئیں کہ اندر تو مکان مالک۔۔
اس میں مکان مالک کے کٹے ہوئے ناخن اور اس کے سر کے آدھے بال اس کی ٹوپی سمیت پڑے تھے۔۔۔ میں فورا امی پاس گئی کہ یہ کیا ہے تو امی نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھا اور مجھے وہاں سے جانے جو کہا لیکن میں اپنی ضد پہ قائم رہی امی کہتیں بیٹا مہمان آنے والے ہیں چاے بنا کر لاو لیکن میں کہتی ہوں کہ ایسے کونسے مہمان ہیں جو ہر روز ہمارے گھر آئے ہوتے ہیں چائے پینے کے لیے۔۔۔
امی فورا اٹھیں اور معزرت کرتی خالی چارپائی سے مجھے بازو سے پکڑ کر باہر لے گئیں اور میرے منہ پہ تھپڑ مارنے لگی کہ یہ تم نے کیوں بتمیزی کی۔۔۔
میں رونے لگ گئی کیونکہ یہ پہلی مرتبہ تھا جو امی نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا ہو میں دوسرے کمرے میں جا کر بند ہو گئی لیکن باہر سے امی مجھ پہ ساتھ ساتھ چینخ بھی رہیں تھیں۔۔۔
میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اور رونے لگ گئی یہ دیوار میرے اور امی کے کمرے کے درمیان تھی میں رو ہی رہی تھی کہ مجھے ساتھ والے کمرے سے اونچی اونچی آوازیں آنے لگی نا انسانوں کی نا جانوروں کی۔۔۔
بہت عجیب سی آوازیں تھیں ان کے اندر ہی امی کی آوازیں بھی شامل تھیں۔۔۔
دیوار کے اندر موجود سوراخ جو کہ میں نے خود تب کیا جب امی کو فالج ہوا تھا امی مجھے ہر رات دودھ پلاتی تھیں جس کی وجہ سے نا تو مجھے ان آوازوں کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا کیونکہ دودھ میں موجود تین نیند کی گولیاں مجھے سیدھا صبح ہی جگاتیں تھیں۔۔۔
میں نے سوراخ کے اندر سے جھونکا تو۔۔۔۔۔
میری روح پرواز کرنے والا منظر تھا کیونکہ سامنے ہی کالے لباس میں تین عورتیں میری امی کے ساتھ بیٹھیں تھیں ان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے کیونکہ دو عورتوں کے بال جو کہ کالے تھے سارے اس کے چہرے پہ آئے ہوئے تھے اور ایک کے بال سفید تھے اس کا چہرہ تھوڑا سا ہی نظر آیا تھا جس کا آدھا چہرہ جلا ہوا اور دو دانت باہر نکلے ہوئے تھے وہ عورت میری امی کے سر پہ ہاتھ رکھے زور زور سے جھوم رہی تھی باقی دونوں بھی زور زور جھوم رہیں تھیں ایک کالے دائرے کے گرد وہ بیٹھیں تھیں اندر چکور سائز ڈبہ بنا تھا۔۔۔
میں نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا ورنہ عین ممکن تھا کہ میری چینخوں سے وہ میری طرف متوجہ ہوتے۔۔۔
میں فورا سے بستر پہ جا کر لیٹ گئی اور روتے ہوئے کب سوئی مجھے پتا ہی نا چلا میں جب صبح اٹھی تو فورا امی کے کمرے کی طرف گئی اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو وہ غصے سے پہلے تو مجھے دیکھتی رہیں لیکن پھر انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے گہرا سانس لیا اور مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔
کہ جب مکان مالک آتا تھا اور ذلیل کر کے جاتا تھا تو ساتھ جو ہمارے نئے کرائے دار آئے تھے انھوں نے یہ سب دیکھا تو میرے پاس آئیں وہ اور مجھے بتایا کہ ہمارے ساتھ بھی پہلے ایسا ہوتا تھا تو ہم نے کالہ جادو سیکھا۔۔
میں نے پوچھا ہم کون تو وہ کہتیں ہیں کہ میرے ساتھ رہنے والی ہوائی مخلوق۔۔۔ تم چاہو تو تمہارا کام بھی آسان کر دیتے ہیں پہلے تو امی مانیں نہیں تھی لیکن اس کے بتانے پہ مان گئی اور پھر تب سے کالا جادو اس گھر میں ہوتا ہے اور مکان مالک اب تنگ بھی نہیں کرتا۔۔۔
مجھے یہ سن کر خوف سا آنے لگا اور امی کو وہیں چھوڑ اپنے کمرے میں اگئی۔ میںمیں اپنا سامان لے کر کمرے سے باہر نکل گئی تو امی مجھے دیکھ کر حیرت سے پوچھتیں ہیں کہ کہاں جا رہی ہو؟
میں امی کی طرف ان نظروں سے دیکھتی ہوں کہ وہ نظریں چرا کر رہ گئیں اس وقت کہاں جاو گی تم گھر میں رہو لیکن میں کام بند کئے گھر سے باہر نکل گئی کچھ پیسے جو کہ میں نے سمنبھال کر رکھے تھے تاکہ آہستہ آہستہ مکان کا کرایہ دے سکوں لیکن وہ سارے میں لے آئی تھی رکشہ پکڑ کر میں فورا سے بھائی کو کسی یتیم کھانے رکنے کا کہا میں وہاں پہنچ کر کچھ فارم بھرنے کے بعد میں ایک کمرے میں پہنچ گئی اور ایک بستر پہ گرتے ہی آنسو بہانے لگ گئی۔۔۔
میں روتے روتے کب سوئی مجھے نہیں علم۔۔۔ رات آدھی رات کو عجیب سی آوازوں سے میری آنکھ کھلی تو ان تینوں عورتوں کو اپنے اردگرد موجود دیکھ کر میں کانپ اٹھی وہ ہوا میں موجود میرے اردگرد چکر لگا رہیں تھیں مجھے اس وقت جتنی سورتیں آتیں تھیں انکھیں بند کر کے وہ ساری پڑھ لیں میں نے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میرے آنکھیں کھولتے ہی وہ وہاں سے غائب تھیں ۔۔۔۔۔
اسی طرح کئی راتیں میں نے ایسے ہی گزاریں
میرے سورتیں پڑھنے پہ وہ۔ فورا چلی جاتیں تھیں۔ ایک دن میں نے بھی ٹھان لیا کہ آج تو ان سے بات کر کے ہی رہوں گی کہ میرے پیچھے کہیں امی نے تو۔ نہیں لگا دیے وہ رات بہت بھیانک ثابت ہوئی میرے لیے کیونکہ جب میں نے ان چیزوں سے بات کی تو مجھے یہ پتا چلا کہ امی نے ان چیزوں کو مجھے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن امی مر چکیں ہیں میری۔۔۔ یہ سن کر میں بیہوش ہو گئی اور یب صبح اٹھی تو وہ چیزیں نہیں تھیں۔۔۔
میں فورا اپنی جگہ سے اٹھی اور سامان پیک کر کے گھر آئی تو گھر خالی پڑا میرا منہ دیکھ رہا تھا میں نے ساتھ والی آنٹی کے گھر جھانکا تو دروازہ کھلا ملا میں اندر گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ۔۔۔۔
وہی تین عورتیں وہاں بیٹھیں تھیں اور وہ آنٹی ان کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہی تھیں لیکن اپنی امی کا نام سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے کہ میری امی کو مارنے میں ان کا ہاتھ ہے میرا غصے اور غم سے برا حال تھا میں نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک کالے رنگ کا چھرے جیسا کچھ پڑا نظر آیا اس وقت میرا غصے سے برا حال تھا اور فورا کمرے میں جا کر میں جا کر وہ چھرا اس عورت کے اندر گھسا دیا اس عورت کی ہی نہیں بلکہ ان تینوں عورتوں کی بھانک چینچیں کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھیں لیکن میں نےپھر بھی بس نہیں کی دوبارہ نکال کر اندر گھسا دیا اس عورت کو اور ان تینوں کو دھواں بنتے دیکھ میں پرسکون ہو گئی تھی اور اپنے گھر واپس آ کر مکان مالک کو ان کے پیسے دہے اور گھر چھوڑ دوبارہ یتیم کھانے چلی گئی۔۔۔
اسی طرح میرا سفر ہوا شروع اور پتا چلنا شروع ہوا کہ زندگی کیا ہے۔۔۔ زندگی تب مشکل ہوتی ہے جب ہم اپنے ماں باپ کے پروں سے نکل کر اسے جینے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
لیکن میری میڈیم جو کہ یتیم خانے کی مالکن تھیں انہوں نے میرے ساتھ بہت کوپریٹ کیا میرے ساتھ بڑا تعاون کیا جس کی وجہ سے مجھے کبھی اپنی ماں کی کمی محسوس نہیں ہوئی انہوں نے مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا کیونکہ میں وہاں موجود سب لڑکیوں سے چھوٹی تھی۔۔۔
مجھے اسکول لے کر جانے اور آنے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے سر لی تھی۔۔۔ میں اب اپنی زندگی میں خوش ہوں کیونکہ یہاں نا مکان مالک کی ٹینشن ہے اور نا ہی کسی کو کرایہ دینے۔۔۔
زندگی بڑے بڑے امتحان لیتی ہے ہماری ثابت قدمی اور اللہ پر ایمان ہمیں ہر مشکل سے نکال دیتا ہے

Read more urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,best urdu afsanay & Online urdu Afsana at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit our facebook page kindly.

1 thought on “urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,”

Leave a Comment

Your email address will not be published.