Web Special Novel, Most romantic Novel 2022 | Saiyaan by Bisma Bhatti | complete pdf

Urdu haveli based Novel | Saiyaan Ep#24

Urdu haveli based Novel | Saiyaan Epi#24 | Bisma Bhatti Novels

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

An online platform created just for urdu novel lovers, where they can easily find PDF copies of urdu novels and can download Pdf books free of cost. The website Novelsnagri contains Urdu romantic novels in PDF form; the same goes for other genres.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_24

 

🌹
🌹🌹

**** حال *****

” سب ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحبہ ؟ ” ماہم نے ڈاکٹر سے پوچھا جو ابھی فرحین شاہ کا چیک اپ کر کے ہٹی تهیں ۔

” کافی سٹریس لے گئیں ہیں ۔۔۔ میڈیسنز میں دے رہی ہوں انجیکشن میں لگا چکی ہوں ۔۔۔ ان کا بھرپور خیال رکھیں ۔۔۔ کیونکہ جس طرح ان کے زہن پر اثر پڑا ہے اگر زیادہ سٹریس لیں گی تو اللّٰه نا کرے زیادہ مسئلہ ہو سکتا ہے ” ڈاکٹر نے سنجیدگی سے ماہم کو دیکھتے کہا ۔

” بی جان ۔۔۔کیا ہوا “تبھی کیف کمرے میں تیزی سے داخل ہوتا پریشانی سے فرحین شاہ کہ طرف بڑھا ۔

” بس بھائی ۔۔۔ سر میں درد تھا ان کے کافی بس اسی سے چکر آ گیا تھا “ماہم نے فوراً سے بات سنبھالی تھی ۔ وہ ارم والا قصہ چھیڑ کر شاہ حویلی میں پریشانی نہیں پھیلانا چاہتی تھی ۔

سہیلہ زوبیہ اور فضیلت بھی اب ان کے کمرے میں موجود تھیں ۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ فرید شاہ کے ساتھ واپس آئیں تھیں اور فرحین کی طبیعت کا سن کر یہیں آ گئیں ۔

” کیسے سر میں درد ہو گیا اتنا ۔۔۔۔ کوئی ٹینشن والی بات تھی ! ” کیف نے ماہم کو دیکھا جس کا چہرہ سپاٹ تھا ۔

” نہیں ۔۔۔ بس سر میں شدید درد تھی ۔۔۔۔ہو جاتا ہوتا ہے کبھی کبھی ۔۔۔ آپ فکر نا کریں ۔۔۔۔ اور ڈاکٹر صاحبہ کو چھوڑ آئیں ان کے کلینک پر ” ماہم نے کیف کا دھیان ڈاکٹر کی طرف دلایا تا کہ وہ جا سکے ۔

کیف نے سر ہلا کر ڈاکٹر کو باہر کی طرف اشارہ کیا ۔

زمر دروازے پر کھڑی تھی ۔

” سب ٹھیک ہے نا ! “اس کے پاس پہنچتے آہستہ سے زمر سے پوچھا ۔

” فکر نا کریں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے ” زمر نے کیف کا ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا دباؤ دیا تا کہ وہ ریلیکس ہو جائے اور وہ زمر کی بات سے ریلیکس ہو بھی گیا تھا ۔ پھر ڈاکٹر کے پیچھے چلا گیا ۔

” کوئ آیا تھا کیا ! ” سہیلہ نے سنجیدگی سے پوچھا ۔

” ارم نام کی عورت آئیں تھی آج ” ملیحہ نے سہیلہ کو دیکھتے کہا ۔

سہیلہ اور زوبیہ نے بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔ فضیلت کے چہرے کے تاثرات بھی ایسے ہی تھے۔

” ا۔۔۔ ارررم آئی ۔۔۔تھی ۔۔۔ لالہ بھی تھے کیا ساتھ !” سہیلہ نے تجسس سے تینوں لڑکیوں کو دیکھتے پوچھا جو نا سمجھی سے اب سہیلہ کو دیکھ رہے تھے ۔

” لالہ ۔۔۔ کون ! ” ماہم نے پوچھا ۔ سہیلہ کا ری ایکشن فرحین جیسا ہی تھا کچھ ۔

” مطلب ۔۔ اس کے ساتھ کوئی مرد تها ؟ !” سہیلہ نے اپنے دھڑکتے دل سے پوچھا ۔ اسے لگ رہا تھا کہ فرحین نے شائد سبکتگین کو دیکھا ہو گا تبھی یہ حالت ہوئی ہو ۔

“وہ اکیلی تھیں ۔۔۔۔ لیکن یہ کیا کہانی ہے مامی جان ؟ ۔۔۔۔۔ وہ ایسی ایسی باتیں کر رہی تھیں جس نے ہم سب کو اپنی جگہ لرزا دیا تھا ۔۔۔۔ یہ سبکتگین کون ہے ۔۔ ۔۔ اور وہ آغا جان کو عجیب نگاهوں سے کیوں دیکھ رہی تھیں ؟ کیا تعلق ہے اس کا آپ سب سے ؟

وہ بی جان کو کیوں باتیں سنا رہی تھی ۔۔۔۔ اور وہ کہہ رہی تھیں ۔۔۔ کہ عنابیہ ان کے بیٹے کے نکاح میں ہے ۔۔۔۔ مجھے بتائیں کہ کہانی کیا ہے ان سب کے پیچھے ! “ماہم مسلسل سوال پر سوال کر رہی تھی ۔ یہ سب سوال ملیحہ اور زمر کے دماغ میں بھی ابھر رہے تھے ۔ تینوں کی نظریں سہیلہ زوبیہ اور فضیلت پر ٹکی تھیں ۔جن کے چہرے کا رنگ سفید پڑ رہا تھا ۔

” مامی ججان ۔۔۔ بتائیں نا ” ماہم سہیلہ کے پاس آتے بولی ۔

” عنابیہ ۔۔۔۔ میری عنو ۔۔۔ اس کے بیٹے کے نکاح میں ہے ؟ … میرے لالہ کا بیٹا بھی ہے ! ” سہیلہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوش ہو یا روئے ۔اتنے سالوں بعد اس کے بھائی کی طرف سے ارم آئی تھی ۔ اب اسے علم ہوا تھا کہ اس کے لالہ کا بیٹا بھی ہے ۔۔ اور اسی کے ساتھ عنابیہ کا نکاح ہوا ؟ لیکن عنابیہ ان تک کیسے پہنچی ! سو سوچیں اس وقت سہیلہ کے دماغ میں چل رہی تھیں ۔

” یہ سب باتیں ۔۔۔ تمہاری بی جان بتائیں گی ۔۔۔۔ لیکن ان کی صحت یابی سے پہلے ۔۔۔ شاہ حویلی میں ارم کا زکر نا ہو ” زوبیہ نے سہیلہ کے گرد بازو پھیلاتے سب کو دیکھتے کہا ۔

” سہیلہ. ۔۔ ریلیکس رکھو ۔۔ ہماری عنو اچھے ہاتھوں میں ہے ” زوبیہ نے مسکرا کر سہیلہ سے کہا تو وہ خوشی سے زوبیہ کے گلے لگ گئیں ۔

 

 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 

 

گاڑی حویلی کے باہر روکی ۔ اس وقت شام کے سائے ہر سو پھیلے تھے ۔ وہ سارا دن آج ڈیرے پر رہا تھا ۔ سو کام تھے جو یوسف شاہ کے ساتھ اسے نمٹانے پڑے ۔

 

حویلی میں قدم رکھا تو اسے ہر سو ہی خاموشی محسوس ہوئی ۔ اتنی خنک اسے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی ۔ شائد اس وقت ماہم کی ٹانگوں کو سکون نا ہونے کے باعث وہ اس وقت اسے ادھر ادھر گھومتا دیکھتا تھا لیکن وہ بھی نہیں تهی تو اسے ایسے لگا جیسے شاہ حویلی کا لاؤنج اس کی مسکراہٹ سے ہی کھلتا تھا ۔

جو ویران ہے اب اپنی سوچ پر سر جھٹکتا اپنے کمرے کی طرف اوپر بڑھا یقیناً اسکی بیوی کمرے میں ہی موجود ہو گی جو اسے نیچے نظر نہیں آئی ۔

کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو خالی کمرہ اس کو منہ چڑا رہا تھا ۔ کیز اور والٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے وہ واشروم کی طرف بڑھا مگر اندر کوئی نہیں تها ۔ماتھے پر شدید بل پڑ چکے تھے اسے شدت سے ماہم اپنے سامنے چاہیے تھی۔

اسے نہیں معلوم تھا کیوں بس اسے سامنے چاہیے تھی ۔ اسے غصہ آ رہا تھا کہ وہ سارا دن کھپتا حویلی شام کو لوٹا ہے اور اس کی بیگم صاحبہ کو اس کے آنے تک کی خبر نہیں اور نجانے کہاں چھپ کر بیٹھی ہے ۔

اتنی بری عادت کسی کی نہیں ہونی چاہیے جتنی بری عادت احسام شاہ کو ماہم احسام شاہ کی پڑ گئی تھی ۔ کمرے میں ادھورا پن محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی بستا ہی نہیں ہو ۔ اس کی منظورِ نظر جو کمرے میں نہیں تھی ۔

تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تا کہ اسے ڈھونڈ سکے ۔

ماتھے کے بلوں کے ساتھ وہ سیڑھیاں اترا کہ اسے مہمان خانے سے باتوں کی آوازیں آئیں ۔ اس کے قدم تھمے ۔ اس کو پورا یقین تھا کہ اس کی زوجہ محترمہ یہیں تشریف رکھے ہوں گی ۔ گردن موڑ کر قہر برساتی نگاہوں سے دروازے کو گھورا جو نیم واں تھا ۔

سخت قدم بڑھاتا دروازے کی طرف بڑھا ۔ اور قریب جانے پر اسے یقین ہو چکا تھا کہ اس کی محترمہ اندر ہی ہیں کیونکہ اس کی پٹر پٹر زبان جو چل رہی تھی ۔ دروازے کے پٹ سختی سے پکڑے اپنا اشتعال کم کرنا جتنا مشکل ہوتا ہے یہ آج احسام شاہ کو علم ہو رہا تھا ۔ اس نے دروازہ کھولا تو دونوں کو پیپر پر جھکے ہوئے تھے سر اٹھا جر دروازے کی طرف دیکھا ۔

احسام نے ماہم کو دیکھا جو نیلی پیلی ڈریس میں پھول لگ رہی تھی اور کیسے اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر اس سے باتوں میں لگی ہوئی تھی ۔

” او مائی گاڈ احساااممم ” تبھی ماہم اپنی جگہ سے اچھلتی اس کی طرف چیخنے کے انداز میں بھاگی ۔

احسام نے نا سمجھی سے اسے دیکھا جو اس کی طرف آ رہی تھی ۔

وہ بھاگتے ہوئے آئی اور زور سے اس کے سینے سے لگ گئ ۔ احسام تو اپنی جگہ اس کی حرکت پر جیسے جامد ہو گیا تھا ۔ البتہ دل شیر کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تهی وہ ایسی ہی جگہ سے آیا تھا جہاں ایسے گلے لگنا کامن تھا ۔

وہ پوری جان سے اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔

“ایک گڈ نیوز دوں ! ” چہرہ اوپر کرتے احسام سے پوچھا ۔

اس کی چمکتی سفید گلابی رنگت پر احسام کو ٹوٹ کر پیار آیا ۔ پہلے جو اشتعال تھا اس کے اندر وہ اس کے قریب آنے سے جیسے سکون سے سو گیا تھا ۔ اتنا پیارا احساس اسے کبھی نہیں ہوا تھا جو ماہم کے نزدیک آنے سے ہوتا تھا ۔

” سناؤ ” اس کی کمر پر بازو رکھتے پوچھا ۔

 دوسرے ہاتھ سے اس کے گال پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے کیا ۔اس وقت وہ اپنی ہائی پونی میں جو کہ اس کے کندھے سے نیچے آ رہی تھی ایک کیوٹ سی لڑکی لگ رہی تھی ۔ کئی آوارہ للٹیں اس کے ماتھے اور گال پر جھوم رہی تھی ۔ وہ لاپرواہ سی لڑکی احسام شاہ کو پاگل کر دینے کے لیے ہی بنی تھی ۔

” یو نو ۔۔۔ میں نے اپنے ہائی سکول میں ٹاپ کیا ہے ۔۔۔ ایل ایل بی میرا مکمل ہو گیا اور میں نے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ہے ۔۔۔ میرا نام ٹاپرز میں ہے اور پتہ ہے ۔۔۔ وہاں کے مین بورڈ پر سب سے اوپر میرا نام ہے ۔۔۔ میں نے ڈینیل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ” وہ چہکتی ہوئی اسے بتا رہی تھی ۔ دونوں ہاتھ اس کے سینے پر تھے ۔ اس کے چہرے سےخوشی کی شعائیں پھوٹ رہی تھیں ۔

جہاں احسام اس کی ساری بات مسکرا کر سن رہا تھا کہ ڈینیل کے نام پر لب سکڑے اور ماتھے پر بل آ گئے ۔

” یہ ڈینیل کون ہے ! ” اس کی کمر پر زرا گرفت سخت کی ۔

” یار میں نے اتنی بڑی خبر دی ہے اور تم اس بدتمیز ڈینیل کا پوچھ رہے ۔۔۔ یہ دیکھو نا میں نے ٹاپ کیا ہے ” اس کی کالرز کو جھٹکا دیتے وہ اسکی توجہ اپنی طرف دلا رہی تھی ۔

” آئی ٹھنگ میں چلا جاتا ہوں ” دل شیر نے تھوڑا عجیب محسوس کرتے کہا تو احسام نے اس کے سامنے ہاتھ کر کے روکا ۔

ماہم اب بھی اس کے ایک بازو کے حصار میں تھی ۔

” وی ایکسکیوز یو ۔۔۔۔ یہ ہمارا کمرہ نہیں ہے ” سنجیدگی سے دل شیر کو دیکھتے کہا اور اس کا جواب سنے بنا جھک کر ماہم کو اپنے بازووں میں بھر لیا کہ وہ اس اچانک حملے پر جلدی سے اس کی گردن کے گرد بازو حائل کر گئ اور آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھا جو سنجیدگی سے دل شیر کو دیکھنے کا بعد باہر کی طرف رخ کر گیا تھا ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیوں اتنا دل شیر سے خار کھاتا ہے ۔

” کتنی بری بات ہے تم مجھے ویسے ساتھ چلنے کا کہہ سکتے تھے ” اس کے سنجیدہ چہرے پر نظر ٹکاتے کہا ۔

” کیوں ۔۔۔ تمہیں برا لگا ایسے تمہیں اپنی باہوں میں اٹھانا ؟ ” زرا سی گردن موڑ کر پوچھا ۔ وہ اب سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔

” نہیں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ مطلب ۔۔۔ نہیں یار ۔۔۔ آئی مین ۔۔۔ باہر کوئی دیکھ سکتا تھا ” اپنے منہ سے سچ بولنے کی بھی اس میں ہمت نہیں ہوئی تھی کہ ہڑبڑا کر کچھ بھی کہ دیا ۔ ماہم کیسے جھک جائے احسام شاہ کے سامنے کہ اس کا یہ عمل کتنا حسین تھا ۔

 

  احسام شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی چھاپ دکھی پھر معدوم ہو گئ ۔ وہ اس کی سائیکی جو سمجھ گیا تھا ۔ جبکہ ماہم سے یہ پوشیدہ نا رہ سکا ۔

 

دروازہ کھولا اور پاؤں سے ہی اسے بند کیا۔ اور اسے اندر لا کر کھڑا کیا ۔

” ہاں اب بولو ۔۔۔ کون سی گڈ نیوز دے رہی تھی ” اس کی کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔

” ایسے پوچھو گے تو کیا میں بتا دوں گی ! ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ بناتے کہا ۔ آنکھیں اس کی قربت سے کبھی جھک رہی تھیں تو کبھی اٹھ رہی تھیں ۔

” تو تمہیں دور کر کے کوئی بات سننی ہے تو رہنے دو ۔۔۔ مجھے نہیں سننی ” ہاتھ بڑھا کر اس کے بندھے بالوں کو کھول دیا کہ وہ لہرا کر اس کے کندھوں پر بکھر گئے. مشکل سے اس کے بال کمر تک آ رہے تھے ۔ بڑھاا جو رہی تھی ۔

ماہم نے اس کی آنکھوں میں عجیب خمار دیکھا ۔

وہ ہلکا سا مسکراتا اس کے کندھے میں سر رکھ کر اس کے بالوں میں چہرہ دے دیا ۔

” آر ۔۔۔۔ یو ۔۔۔ اوکے ! ” اس کی گرفت اپنی کمر پر سخت ہوتے دیکھ کر وہ بوکھلا گئی ۔ اس کی قربت کتنی جان لیوا تھی کیسے بتاتی وہ احسام شاہ کو ۔

“نہیں ۔۔۔۔ تم ٹھیک کر دو ” اس کے بالوں میں چہرہ دیے خمار سے کہا ۔

” اح۔۔۔ احسام ” اس کے گلے میں خشکی سے ہونے لگ گئی تھی ۔ دل تو بری طرح سے دھڑک کر پسلیوں میں جا کر ڈرم بجا رہا تھا ۔

” کال می ۔۔۔ سائیں ” اس کے کان پر لب رکھ کر سرگوشی کی ۔

” واٹ ! .. سائیں ۔۔۔ کیوں ؟ ” اپنے دل کو قابو کرتے اس کی فرمائش پر تپتے کہا ۔

” کیونکہ تمہارے ہونٹوں پر سوٹ کرے گا ” دوبارہ سے اس کی کمر میں گرفت تنگ کرتے اسے سینے میں بھینچنا چاہا ۔

” احسام ۔۔ تم میری سانس تنگ کر رہے ہو ” اس کے لبوں کی گستاخیاں اپنی گردن پر محسوس کرتے مشکل سے کہا ۔

” اسے سانس تنگ کرنا نہیں کہتے ڈارلنگ ۔۔۔۔ احسام شاہ اتنی آسانی سے سانس تنگ نہیں کرتا ” اس کی گردن پر بائٹ کرتے ویسے ہی کان میں سرگوشی کی ۔کہ وہ اس کے حصار میں تڑپ کر رہ گئی ۔

” میں نے گڈ نیوز سنائی تهی ۔۔۔ مجھے وش بھی نہیں کیا ۔۔۔ اور اب ایسے پکڑے کھڑے ہو ” اس کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھے وہ جاہِ فرار دھونڈ رہی تھی لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔

” ہاں وہی سراہنے لگا ہوں ۔۔۔ ” اس کے رخسار پر بائٹ کرتے وہاں لب رکھے ۔ دوبارہ سے اس کی گردن میں چہرہ دے دیا اور اس کی گردن کو اپنے بھیگے لبوں کی گستاخیوں سے معطر کرنے لگا ۔

 

ماہم دھڑکتے دل سے اس کے بالوں میں ہاتھ دے گئ۔ جو احسام شاہ کو بہکانے کے لیے کافی تھا ۔

 

ایک جھٹکے سے جھک کر اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ کی طرف بڑھا ۔

وہ سرخ ہوئی بیڈ پر لیٹی تھی ۔ نظریں اٹھنا بھول گئ تھیں ۔

 

وہ اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کر ایک سائے کی طرح اس پر جیسے چھا گیا تھا ۔

” لسن ۔۔۔ مجھے تم اپنے بے حد پاس چاہیے ۔۔ اور اس دل شیر سے جتنی دور رہ سکتی ہو اتنی دور چاہیے ” اس کے ماتھے سے ماتھا جوڑے کہا ۔

” تمہیں ۔۔۔ اس سے کیا ۔۔۔ پرابلم ہے ! ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے پوچھا

” خون جلتا ہے تمہیں کسی اور کے ساتھ ہنستا ہوا دیکھ کر باتیں کرتے دیکھ کر ” اس کی آنکھوں پر گہرا بوسہ دیا ۔

” کیوں احسام ! ” اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے مقابل کرتے پوچھا ۔

” مجھے نہیں پتہ. ۔۔ مجھے تم اپنے بے حد پاس چاہیے ۔۔۔ بے حد بے انتہا ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وارفتگی سے کہا ۔

” لیکن ۔۔۔تم عنابیہ سے محبت کرتے تھے ۔۔۔ کیسے بھولوں ۔۔۔ یہ خیال تمہارے پاس نہیں آنے دیتا مجھے ” اس کے چہرے کو ایسے ہی ہاتھوں میں لیے تڑپ کر کہا ۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی آ گئ تھی ۔

” تم سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کیا کروں میں ۔۔۔۔ مجھے تم کیوں ہر وقت اپنے پاس چاہیے کیوں ! کیوں مجھے تمہاری خوشبو سے سکون ملتا ہے ۔۔۔ کیوں! کیوں نہیں دیکھ سکتا تمہیں کسی اور کے ساتھ ۔۔۔ کیوں دل بے ایمان ہو جاتا ہے تمہیں اپنے نزدیک دیکھ کر ۔۔۔ دل کیوں کرتا ہے تمہیں اپنے سینے میں چھپا لوں ! ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ سوال کر رہا تھا ۔ اپنی حالت پر سوال کر رہا تھا جو پہلی دفعہ اس کے ساتھ ہو رہا تھا ۔

” کیا اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ تمہیں میری عادت لگ گئ ہے ! ” اس کی خمار سے سرخ ہوتی آنکھوں پر بوسہ دیتے پوچھا ۔

” ہاں. ۔۔۔۔ کیونکہ تم ایک جنون کی طرح میرے اندر سرائیت کرتی ہو ۔۔۔ احسام شاہ کبھی اتنا بے بس نہیں ہوا تھا جتنا وہ تمہیں دیکھ کر ۔۔۔بے کار ہو جاتا ہے ” اس کے رخسار پر بوسہ دیتے کہا تو اس کی بات پر ماہم کے لب مسکراہٹ میں بدلے ۔

” میں نے چیلنج کیا تھا نا ۔۔۔ کہ میں ماہم ہوں ۔۔۔ پیچھے ہٹنا میں نے سیکھا نہیں ۔۔۔ اور تم میرے سامنے ۔۔۔ میرے اسیر بنے ہوئے ہو ۔۔۔ اپنی فتح کا جشن منانا پڑے گا اب تو ” اس کی گردن میں بازو ڈالتے ایک مغرور ادا سے کہا ۔

” تو آؤ ۔۔۔ تمہیں تمہاری فتح کا ۔۔۔ جشن منانے دیتے ہیں ۔۔۔ مل کر ” اس کے ناک سے ناک رگڑ کر مسکرا کر کہا ۔

” اتنی حسین مسکراہٹ ہے ۔۔۔۔ ہمیشہ مجھ سے چھپاتے ہو ” اس کے بالوں کو مٹھی میں لے کر کھینچا یہ ایک سزا تھی اس کی مسکراہٹ نا دکھانے پر ۔

” جانم ۔۔۔۔ ہم دونوں کو سکون چاہیے ۔۔۔ میرا سکون تو شائد ۔۔۔ تم سے نکاح کے بعد کا تھا ۔۔۔ لیکن تم نے تو میرا انتظار بچپن سے کیا ہے ۔۔۔ تمہیں تو بے پناہ سکون چاہیے ” ایک افسردگی ایک پشیمانی تھی جو احسام کے الفاظ سے جھلک رہی تھی ۔

” مجھے تو تبھی مل گیا تھا سکون ۔۔۔۔ جب تمہیں پا لیا تھا ۔۔۔ تمہارے نکاح میں آئی تھی ۔۔۔ جینے کی دوبارہ وجہ ملی تهی ۔۔۔۔ تمہارے پہلے استحقاق بھرے لمس نے ۔۔۔ میرے اندر زندگی کو جینے کی امنگ بھر دی تھی ۔۔۔۔ تم کسی برے نشے کی طرح مجھے اپناا عادی بنا چکے ہو۔۔

تمہاری قربت کتنی جان لیوا ہے ۔۔۔ میں شائد لفظوں میں نا بتا سکوں ۔۔۔ تمہیں دیکھ کر سر اٹھا کر جینے کو دل کرتا ہے ۔۔۔ میرے نام کے آگے تمہارا نام لگا یے ۔۔۔ شائد میرے نام سے زیادہ آج تک کسی کا نام اتنا پیارا نہیں ہے ” اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔ وہ کھل کر عیاں ہوئی تھی اس کے آگے ۔دل جیسے بضد ہوا تھا اس کی محبت کی چاشنی میں ۔

احسام نے جھک کر اس کے آنسووں کو چن لیا ۔

” تمہاری آنکھ میں آنسو نا آئیں اب ۔۔۔ جان لے لوں گا ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا تو وہ بنا آواز کے سسکتے اس کے سینے سے لگ گئی ۔

اور احسام شاہ نے اسے قیمتی متاع کی طرح اپنی باہوں میں سمیٹ لیا ۔ اسے اپنے سینے میں چھپا لیا ۔ جیسے وہ اسے اپنی زات میں گم کر دینا چاہتا ہو ۔

 

 

 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 

” بی جان ۔۔۔ آپ ٹھیک محسوس کر رہی ہیں ! ” ملیحہ نے ان کو سہارا دیتے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔ بس جسم میں درد سا ہے ۔۔۔۔ تمہارے آغا جان آ گئے ! ” فرحین شاہ نے دروازے کی طرف دیکھتے پوچھا ۔

” نہیں بی جان ۔۔۔ وہ ابھی نہیں آئے ۔۔۔ بابا بھی ان کے ساتھ عصر کے وقت گئے تھے ۔۔۔ کہہ رہے تھے کہ گاؤں کی کچھ زمینوں کاا مسئلہ ہے وہی وہ سلجھانے گئے ہیں کسانوں کے ساتھ بات بھی کرنی تھی ” ملیحہ نے ان کے سامنے کھانے کی پلیٹ رکھتے بتایا ۔

” اسلام علیکم بی جان ۔۔۔ کیا ہوا آپ کو ! امی بتا رہی تھیں آپ ٹھیک نہیں ہیں ! ” تبھی زامل اندر آتے بی جان کی طرف بڑھا ۔

فرحین شاہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور ماتھا چوما ۔

” میں ٹھیک ہوں بس ایسے ہی سب پریشان ہو. گئے ” فرحین شاہ نے مسکرا کر جواب دیا ۔

زامل نے ایک نظر پاس کھڑی ملیحہ کو دیکھا جو اسے نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ بڑے انہماک سے فرحین شاہ کی دوائیوں کو دیکھ رہی تھی کہ کون سی کب دینی ہے ۔

اس کا ایسے لاتعلق ہونا زامل کو پسند نا آیا ۔ کل صبح کا وہ آفس گیا تھا جو وہ بنوا رہا تھا۔

اور اتنی مصروفیات تھی کہ وہ گھر نا آ سکا اور آج شام کو لوٹا تھا ۔ جو بھی مسئلہ تھا ان میں وہ الگ بات تھی لیکن وہ عادی تھا اس کی محبت بھری نظروں کا اس کے خیال رکھنے کا اس کے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈنے کا ۔ لیکن اب وہ لا تعلق بنی ہوئ تھی یہ جیسے بڑی طرح دل کو لگی تھی ۔

” اپنا خیال رکھیں آپ ۔۔ میں فریش ہوں لوں زرا ” فرحین شاہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ بولا ۔

ایک نظر اس نے ملیحہ کو دیکھا جو اب بھی لا تعلقی دکھاتے دوائیاں بی جان کے سامنے رکھ رہی تھی ۔ سر جھٹک کر فوراً کمرے کی طرف بڑھا ۔

” جاؤ ۔۔۔ اسے کچھ ضرورت ہو گی ” فرحین شاہ نے ملیحہ سے کہا تو اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔

” جی ” بس اتنا کہا اور کمرے سے باہر نکل گئ۔

کمرے کی طرف جانے کی بجائے وہ کچن میں چلی گئی ۔ اسے علم تھا کہ اس وقت زامل کو شدید بھوک لگی ہو گی ۔

 

وہ کمرے میں آیا ۔ اپنا والٹ گھڑی موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔ کمرہ بلکل ایسے لگا جیسے کوئی صبح سے یہاں نہیں آیا ۔ بیڈ پر اس کے کپڑے نہیں پڑے تھے ۔ حیرت ہوئی کیونکہ اس کے آنے سے پہلے ہی وہ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی اس کے کپڑے باہر بیڈ پر رکھے ہوتے تھے.

آج نہیں تھے ڈریسنگ روم کا سوچ کر کہ شائد وہاں رکھ دیے ہوں ۔ کمرے میں گیا تو وہاں بھی ایسے ہی بلکل ان ٹچ تھا جیسے کسی نے اس کمرے کا رخ کیا ہی نا ہو ۔ اس کے کپڑے ایسے ہی الماری میں ٹنگے ہوئے تھے ۔ اس کے ماتھے پر بے پناہ بل پڑ گئے ۔

اسے بلکل برداشت نہیں ہوا تھا ملیحہ کا اس کی طرف سے لاپرواہی دکھانا ۔ غصے سے ڈریسنگ روم سے باہر نکلا اور اس کے انتظار میں کمرے میں ٹہلنے لگا ۔ اگر کپڑے اس نے نہیں نکالے تهے تو اسے بھی کوئی شوق نہیں تھا خود سے کپڑے نکالنے کا ۔

 

کافی ٹہلنے کے بعد جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو گہرے سانس لیتا کمرے سے باہر نکلا ۔ اس کی تلاش میں نظریں گھمائی تو وہ سامنے کچن میں ملازمہ کے پاس نظر آئی ۔

 

غصے سے لمبے لمبے قدم لیتا وہ کچن کی طرف بڑھا ۔ کچن میں داخل ہوا تو اسے ملازمہ کو کوئی ہدایت کرتے دیکھا .

” ملیحہ ۔۔۔ کمرے میں آو ” روعب سے اسے بلایا ۔

 

ملیحہ نے ایک نظر اسے دیکھا ۔ اس کے دیکھنے سے زامل تڑپ گیا ۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق کیوں نہیں تھی ۔

” چلیں آپ ۔۔ تم صاحب کے لیے کھانا فوراً گرم کر کے ٹیبل پر لگاؤ ” اس کے سامنے اس نے پہلی بار ملازمہ سے کھانے کا کہا تھا ورنہ وہ عادی تھا اس کے کام کا کہ وہ اسے خود کھانا دیتی تهی کسی بھی ملازمی کو پاس آنے نہیں دیتی. تهی ۔ ایک مہینے سے اوپر ہو گیا تھا ان کی شادی کو ۔ یہ ایک اور تکلیف دہ بات تھی. لب بھینچتا وہ اپنے کمرے میں واپس چلا گیا ۔

 

ملیحہ نے گہرا سانس لیا اور کمرے کی طرف بڑھی. جانتی تهی کہ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ایسے اگنور کرنا لیکن وہ بھی تھک گئ تھی اس کی بے رخی اس کے سخت جملے سن سن کر ۔ تھک گئ تھی اس کی دوری سے ۔ اب وہ پیچھے ہٹی تھی ۔

 

کمرے میں داخل ہوئی تو اسے غصے سے بیڈ پر بیٹھے پایا ۔ اور وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

” جی ! ” یک حرفی بات کی ۔ زامل کو تو مزید غصہ چڑھا ۔

اس کے مسلسل گھورنے پر ملیحہ نے پورے کمرے میں نظر دوڑائی. یقیناً وہ خفا ہو رہا تھا. کسی بات سے ۔

” اوہ ۔۔ سوری ۔۔۔ آپ کیا پہننا پسند کریں گے مجھے پتہ نہیں تھا تو میں بے کپڑے بھی نہیں نکالے ۔۔ آپ دیکھ لیں جو آپ کو پہننے ہیں ” ٹھنڈے لہجے میں سکون سے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی ۔

زامل ایک جست میں اس تک پہنچا اور بازو سے کھینچتے اپنے نزدیک کیا ۔ ملیحہ نے سہم کر اسے دیکھا ۔

” کیسے بات کر رہی ہو مجھسے!” تنے جبڑے سے پوچھا ۔

” کیسے ۔۔ ! ” پھر سے انجان بنتے پوچھا ۔

” مجھے عادت نہیں ہے تمہاری اس لاتعلقی رویے کی ۔ ایسے لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو میری زات سے تمہارے خیال کرنے کا عادی ہوں کیسے اگنور کیا تم نے مجھے ! ” اس کے بازووں کو اپنی گرفت میں لیے وہ غصے سے بول رہا تھا ۔

” سوری ۔۔۔ مجھے بھی عادت نہیں آپ کے اس رویے کی ۔۔ پلیز مجھ سے سرد رویہ ہی رکھیے جیسے رکھتے ہیں میری فکر کیے بنا ۔۔ اور کل صبح آپ نے خودی کہا تھا کہ میں آپ کی کسی چیز کو ہاتھ نا لگاؤں۔

اور اس کمرے میں میرا کچھ بھی نہیں اسی لیے میں نے کل سے اس کمرے کو ہاتھ نہیں لگایا ” اس کی آنکھوں میں دیکھتی سکون سے بولتی وہ زامل شاہ کا سکون غارت کر گئ تھی ۔ اس سے بدلہ لے رہی تھی کیا وہ ! یا اس سے لاتعلق ہو کر زندگی تنگ کر رہی تھی ۔

 

Continued…..

 

 

Read Urdu haveli based novel, saiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook.

Leave a Comment

Your email address will not be published.