Web Special Novel, Most romantic Novel 2022 | Saiyaan by Bisma Bhatti | complete pdf

Urdu haveli based Novel | Saiyaan Epi#25

Urdu haveli based Novel | Saiyaan Epi#25| Bisma Bhatti Novels

 

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

An online platform created just for urdu novel lovers, where they can easily find PDF copies of urdu novels and can download Pdf books free of cost. The website Novelsnagri contains Urdu romantic novels in PDF form; the same goes for other genres

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_25

زامل نےاس کے بازووں پر زور دے کر خود سے قریب کیا ۔

 

” کیا ظاہر کرانا چاہ رہی ہو ! ” اس کی آنکھوں میں اپنے لیے چاہت نا دیکھ کر وہ دانتوں کو پیستے بولا ۔

” مجھے کیا ضرورت کچھ ظاہر کرنے کی ۔۔۔ اب میرے اندر بچا ہی کیا ہے جو ظاہر کروں ۔۔۔ آپ سے بے پناہ محبت تھی جس کا آپ کو علم تھا ۔۔ بے لوث جزبات تھے جو میں آپ پر لوٹاتی رہی ۔۔۔ ایک تشنگی تھی جو پچپن سے آپ کی سانسوں سے جڑی تھی آپ سے چھپی نہیں رہی ۔۔۔ آپ کے اگنور کرنے سے کتنی تکلیف ہوتی مجھے آپ بے خبر نہیں ۔۔۔ آپ کے پاس نا آنے سے کتنا دل جلا میرا یہ بھی جانتے آپ ۔۔۔ اپنے اندر کی طلب تڑپ سب آپ کے سامنے کھول کر رکھ دی ۔۔۔ اب کچھ نہیں بچا میرے اندر ۔۔۔ جو ظاہر کروں ۔۔۔ ظاہر تبھی ہوتا جب مجھے بدلے میں آپ کی چاہت ملتی جو مجھے پور پور مہکا دیتی ۔۔۔ لیکن مجھے بدلے میں کچھ نہیں ملا تو میں اب خالی ہوں سائیں ۔۔۔ اب کچھ نہیں میرے اندر ” اپنی ویران نگاهوں کو اس کی آنکھوں میں ڈالے وہ ایک درد سے بول رہی تھی ۔ کوئی خوف کوئی جھجھک نہیں محسوس ہو رہی تھی ۔ کیونکہ وہ اپنے اندر کی اس ملیحہ کو سلا رہی تھی جو زامل کی ایک نظر سے سرخ پڑ جاتی تھی ۔

” سنو ۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے محبت تھی اور ہمیشہ رہے گی ۔۔۔ ” اس کے چہرے سے ایک انچ کا فاصلہ بناتے بڑے حق سے جتایا ۔

” تمہیں میری پرواہ ہے اور ہمیشہ رہے گی ” اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکاتے پھر سے حق جتایا ۔

” خبردار جو مجھ سے لاپرواہی دکھائی ۔۔۔۔ زامل شاہ سب برداشت کر سکتا ہے لیکن تمہاری لاپرواہی کیا تمہاری آنکھ کے زرا سے بدلنے کو بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا ” اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے آنکھیں بند کیے کہا ۔

” کیوں ! … کیوں چاہتے ہیں مجھ سے یہ سب ؟ جب میں آپ کی منظورِ نظر ہی نہیں ۔۔۔ آپ کے نزدیک بہن کی محبت اتنی ہے کہ مجھے تو کہیں کھو دیا آپ نے ۔۔۔۔ اب جب میں آپ سے دور ہو رہی ہوں آپ کے بار بار کہنے پر تو ہونے کیوں نہیں دے رہے ! ” اس کے کالرز کو مٹھیوں میں بھینچے استفسار کیا ۔

” تمہیں کیا لگتا ہے ! کہ زامل شاہ تم سے شادی نہیں کرتا تو یہ شاہ حویلی تمہاری شادی کہیں اور کر دیتے ! ” اس کی طرف غصے سے دیکھتے کہا ۔ وہ اتنا کھل کر بیان کرنے والی طبیعت نہیں رکھتا تھا جو اس کا جواب اتنی ہی چاہت سے دیتا جس کی ملیحہ منتظر تھی ۔

” زامل شاہ کہ مہر لگی ہے تم پر ۔۔۔۔ تمہیں نا بھی اپناتا تو کسی کی اتنی جرأت نہیں ہونی تھی تمہیں کسی اور کے نام کرنے کی ۔۔۔۔ تمہارے لیے تو میں کئی لاشیں کھڑے کھڑے بچھا دوں ۔۔۔ تو تمہیں شک گزر رہا اب کہ تم میری منظورِ نظر نہیں ! ” وہی سرد لہجہ وہی غصہ جو ہر وقت اس کی طبیعت کا خاصا بنتا جا رہا تھا ۔

ملیحہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا ۔

” ایک ۔۔۔ بار ۔۔ سائیں بس ایک بار ۔۔۔ میرے پاس آ جائیں ۔۔۔ یہ خود سے جنگ جو آپ لگائے بیٹھیں ہیں اس کا ۔۔۔ حل مل جائے گا ۔۔۔۔ میں سمیٹ لوں گی آپ کو ۔۔ یقین تو کریں ۔۔۔ مجھ سے دور رہ کر ۔۔۔ کیوں خود کو تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔ آپ بھی جانتے ہیں ۔۔۔ کہ ماہم سنبھال لے گی خود کو ۔۔ اپنے رشتے کو ۔۔۔ لیکن اس چکر میں ۔۔۔ آپ مجھے اور خود کو جوکھن میں کیوں ڈال رہے ہیں ۔۔۔ احسام بھائی سے بدلہ ایسے نا لیں ۔۔۔۔ ہم دونوں کا کیا کسور ہے ۔۔۔ سائیں ” اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیے وہ اس کو سنبھالنا چاہ رہی تھی ۔ اس کے دل کو سنبھالنا چاہ رہی تھی جو وہ خود کو قید کر رہا تھا خود میں ۔

 وہ جانتی تهی کہ زامل نہیں بھول رہا اس وقت کو جب احسام شاہ نے سب کے سامنے عنابیہ سے محبت کا اعتراف کیا تھا ۔ اور وہ جانتی تهی کہ کسی ایسے شخص سے شادی کر کے رہنا جو آپ سے محبت نہیں کرتا تو انسان کتنی تکلیف سے گزرتا ہے ۔ وہ ماہم کو اسی تکلیف سے گزرتا محسوس کر رہا تھا ۔ اور اسی کی سزا وہ احسام شاہ سے لے رہا تھا خود کو ملیحہ سے دور رکھ کر ۔ لیکن وہ دور رہ نہیں پا رہا تھا ۔ بے شک سب کے سامنے سخت گیر ثابت ہوا تھا لیکن ملیحہ اس کے اندر کے زامل کو جانتی تهی جو بے انتہاء ملیحہ سے پیار کرتا تھا ۔

 

زامل نے ایک نظر اسے دیکھا جو اس کے دل کی زبان بنے اسے دیکھ رہی تھی ۔

وہ تھک گیا تھا اس سے دور رہ رہ کر ۔ اسے تکلیف دے کر ۔ خود بھی تو اس کی محبت میں اتنا پاگل تھا کہ اس کا زرا سا اگنور کرنا اس کی جان پر بن گیا تھا ۔

چہرے کے تاثرات ڈھیلے ہوئے تھے ۔

اپنے بازووں کو اس کے گرد لپیٹتے وہ اس کی گردن میں چہرہ چھپا گیا تھا ۔ اس کی پکڑ ایک بچے جیسی تھی ۔ جیسے ایک بچہ اداسی میں اپنے پسندیدہ انسان کے گلے زور سے لگ جاتا ہے اسی طرح اس وقت زامل شاہ ایک معصوم بچے کی طرح ملیحہ کی گردن میں چہرہ دیے اس کے گرد بازو باندھے کھڑا تھا ۔

ملیحیہ نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا اور دوسرا اس کے بالوں میں دے دیا ۔ اس کی آنکھیں اشک بار تھیں ۔ پہلی بار زامل اس کے قریب آیا تھا ۔ ایک ٹھنڈک اس کے سینے میں جیسے پڑی تھی ۔

” تمہیں مجھ سے محبت نہیں رہی اب تبھی مجھے اگنور کرنے لگی ہو بیوفا بن رہی ہو مجھ سے دور جا کر مجھے تکلیف پہنچا کر میرا خیال نا کر کے تم خوش ہو اب کہاں تمھیں مجھ سے محبت ہو گی ظالم ہو تم ” اس کی گردن میں منہ دیے ہی وہ روٹھا روٹھا سا بولا ۔

” اللّٰه قسم نہیں ۔۔۔ بے پناہ محبت آپ سے سائیں ۔۔۔ خبردار ایسے الفاظ دوبارہ نکالے تو ” زرا سی گردن موڑ کر اس کے بالوں پر بوسہ دیتے وہ زرا مصنوعی غصے سے بولی ۔

زامل نے چہرہ اٹھا کر اس کے مقابل کیا ۔

” میری آنکھیں کیا کہہ رہی ہیں تمہیں ! ” اس کو ایسے ہی اپنے حصار میں لیے وہ سنجیدگی سے بولا ۔

” یہی کہ ملیحہ شاہ سے آپ کو بلکل بھی اب محبت نہیں رہی ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے کہا ۔ اب اس کے منی سے اظہار کرنے کا وقت تھا وہ خود اعتراف کر کر کے تھک گئ تھی ۔

زامل نے آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے دیکھا ۔

” جھوٹ بولنا بھی سیکھ لیا ہے ان دو دنوں ؟ ” سرد لہجے میں کہا ۔

” ہاں ۔۔۔ اب جھوٹ ہی بولنا پڑے گا ۔۔۔ کیونکہ سچ بولنے سے ۔۔۔ آپ اور دوریاں بڑھا دیتے ہو ” اس کی آنکھوں میں یک ٹک دیکھتے ایک جزب کے عالم میں جواب دیا ۔

” میرے بنا کچھ بولے. ۔۔۔۔ تم میرے دل اور آنکھوں کی حالت سمجھ نہیں سکتی کیا ؟ ” ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھتے سوال کیا ۔

” کبھی کبھی کسی کی جان کی خاطر ۔۔۔ منہ سے وہ الفاظ ادا کرنے پڑتے ہیں سائیں ۔۔۔ جو دل کے کسی کونے میں دفن ہوں ” اسی کے انداز میں اس کے گال پر ہاتھ رکھتے کہا ۔

” مجھے زیادہ بولنا نہیں آتا ۔۔۔۔ لیکن میں اپنے عمل سے تمہیں اس بات کا جواب دے سکتا ہوں تمہیں خود زامل شاہ کو سمجھنا ہو گا ۔ “اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے گھمگھیر لہجے میں کہا ۔

” کھانا کھا لیں سائیں ۔۔۔ ورنہ میں نے بھوک سے یہیں آپ کی پناہوں میں بے ہوش ہو جانا ہے ” اس کے سینے پر سر رکھتے وہ بھوک کی شدت سے منمنائی ۔

 

” اچھا ۔۔۔ تو ابھی ملازمہ کو کون میرے متھے مارنے کا ارادہ رکھتا تھا ” اس کی کمر پر حصار تنگ کرتے مصنوعی غصے سے پوچھا ۔

” سائیں ۔۔۔ میں خود کھلاؤں گی ۔۔۔ مجھے بڑی بھوک لگی ہے ۔۔۔ آئیں میں کپڑے دوں چینج کریں پہلے ” اس کے حصار سے نکلتی وہ تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر ڈریسنگ روم میں لے گئ ۔

وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسے دیکھنے لگا ۔ جو نازک سی تھی ۔

اس نے جلدی سے اس کے لیے ہلکا سا ٹراؤزرز اور شرٹ نکال کر دی ۔

” لے ناا ” اس کو ایسے خود کو تکتا پا کر وہ جھنجھلا کر بولی ۔

زامل نے مسکرا کر اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر گہری جسارت کی ۔

” پانچ منٹ میں آتا ہوں ” اس کے سرخ کندھاری چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے وہ باہر چلا گیا ۔

ملیحہ نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا ۔

اس عمل کی بات کر رہا تھا اگر زامل تو اس میں یقیناً ہمت نہیں تھی اس کی محبت سہنے کی ۔

🌹🌹🌹🌹🌹

” تیرا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔ تو نے اسے خود بھیجا وہاں ؟ تیری غیرت کہاں مر گئ تھی سیف ؟ ” دل شیر اس کو تنے چتونوں سے گھورتے بھول رہا تھا ۔

آج دو دن بعد سیف حویلی آیا تھا ۔ وہاں مال سے ہی وہ شہر والے اپارٹمنٹ چلا گیا تھا ۔ اور اب وہ واپس آیا تھا ۔ تو دل شیر کے فورس کرنے پر اسے سب بتانا پڑا ۔ اور دل شیر تو اس کی بات سن کر کئی پل اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں سکا تھا ۔ اور اب وہ اس پر گرج رہا تھا ۔

” مجھے صرف ۔۔۔ کیف نظر آ رہا تھا ۔۔۔ زمر بھابھی نظر آ رہی تھیں ۔۔۔ نہیں برداشت ہو رہا تھا کیف کا ایسے تڑپنا ۔۔۔ تب مجھے محسوس بھی نہیں ہوا کہ میں اتنا برا عنابیہ کا ایڈکٹ ہو جاؤں گا ” تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔ اور چہرے پر ہاتھ رکھ دیے ۔ اس کا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ دو دن سے ہی سویا نہیں ۔

” اور اس میں عنابیہ کا کیا کسور تھا ! ” دل شیر نے حیرت سے پوچھا ۔

سیف نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا ۔

” اب تجھے اتنی شدت والی محبت بھی ہو گئ ہے واہ ۔۔۔ اور اس کا نتیجہ تو مال میں دیکھ چکا ہے ” سیف نے اکھڑے لہجے میں ڈانٹا ۔ اسے اس قدر بیوقوفی کی امید نہیں تھی سیف سے ۔

تبھی دروازے پر ناک ہوئی تو دونوں متوجہ ہوئے ۔

” چھوٹے شاہ جی ۔۔۔ وہ بڑی بی بی بلا رہی ہیں اپنے کمرے میں ” ملازم نے ادباً ہاتھ باندھ کر کہا ۔

سیف کا چہرہ کھل اٹھا کیونکہ فرحین شاہ اسے بلکل بھی بات نہیں کر رہی تھیں بجائے اس کو بلانا ۔

وہ فوراً سے اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔

” یا اللّٰه ۔۔ اسے ہدایت عطا کر ۔۔۔ اب یہ عنابیہ کے پیچھے نا پڑ جائے ۔۔۔ کوئی سواد کی لڑکی اس کے پلے ڈال دے جس کے چنگل سے یہ نکل نا سکے آمیننن ” دونوں ہاتھوں کو ہوا میں اٹھائے شدت سے دل شیر نے دعا کی ۔اندر سے بے حد پریشان تھا وہ سیف کے لیے ۔

🌹🌹🌹🌹

” بی جان آپ نے بلایا ” دروازے پر دستک دیتے مسکرا کر کہا ۔

فرحین شاہ جو بیڈ پر بیٹھی تھیں اسے سر ہلا کر اندر آنے کا اشارہ کیا۔

وہ تیزی سے اندر بڑھا اور بنا ادھر ادھر دیکھے سیدھا فرحین شاہ کے پاس پہنچ کر ان کو سینے سے لگا گیا.

فرحین شاہ کے لیے یہ ایک حملے جیسا ہی تھا ۔ لیکن وہ اپنے بیٹے کی اندر کی حالت سمجھ رہی تھیں ۔

” میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا سکون محسوس کر رہا ہوں اب ” ان کو سینے سے لگائے وہ نم آلود آواز سے بولا ۔

” فرجی بیگم ۔۔۔۔۔ برخوردار ” یوسف شاہ جو فرحین شاہ کہ طبیعت کا سن کر پھرتی سے کمرے میں آ رہے تھے کہ سیف کو فرحین شاہ کے سینے سے لگے دیکھ کر جل بھن کر رعب سے بولے ۔ اس عمر میں بھی جیلسی محسوس ہو رہی تھی وہ بھی اپنے ہی بچوں سے ۔

یوسف شاہ کی آواز پر فرحین شاہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے جان کر سیف کے گرد بازو کر دیے ۔

یوسف شاہ کو تو پتنگے لڑ گئے تھے جیسے اس منظر کو دیکھ کر ۔

ادھر سیف اپنے باپ کی آواز پر اٹھنا چاہ رہا تھا مگر ماں کی آغوش نے سکون اتنا دیا تھا کہ دوبارہ ان کو سینے میں بھینچ گیا ۔

” میری آواز نہیں آئی کیا تمہیں ! ” یوسف شاہ سیف کے سر پر سوار ہوتے دانت پیس کر بولے ۔

سیف نے گردن اٹھا کر انہیں دیکھا اور ماں کے گرد باہیں کر دی ۔

” کیا شاہ جی ۔۔۔ میرا بیٹا مجھ سے ملنے آیا ہے میں نے بلایا ہے اسے ۔۔۔ آپ کچھ دیر انتظار کیجیے ” سیف کے کندھے پر سر رکھتے بڑے مزے سے کہا کہ یوسف شاہ کا چہرہ مارے ضبط سے سرخ ہو گیا اور فرحین شاہ کا دل کیا کہ قہقہہ لگا کر ہنسے.

” اٹھو یہاں سے ” سیف کو تیکھے چتونوں سے گھورتے کہا.

” آغا جان ۔۔۔ اتنے دن بی جان ناراض تھیں مجھ سے ۔۔۔ اب بلایا ہے تو. ۔۔ تھوڑی دیر رہنے دیں نا پاس ۔۔۔۔ ساری عمر آپ کے پاس ہی تھی ” خود میں فرحین شاہ کو بھینچتے معصوم صورت لیے کہا ۔

” اب ہمیں کوئی منانے نا آئے جا رہے ہیں مردان خانے ۔۔۔ بیٹھو تم دونوں ماں بیٹا یہیں ۔۔۔ اب یوسف شاہ کی ضرورت کسے ہو گی ” غصے سے دونوں کو دیکھتے وہ باہر کی طرف بڑھے ۔ لیکن پھر رکے ۔

دونوں ان کو ہی دیکھ رہے تھے ۔

“خبر دار جو اپنی ماں کے چہرے کا ایک بھی نقش چوما خاص طور پر ماتھا ” پلٹ کر سیف کو سختی سے وارن کیا اور لمبے لمبے ڈانگ بڑھتے کمرے سے چلے گئے ۔

” اوکرو گے کیونکہ تمہیں اس کی موجودگی بری طرح تنگ کرتی ہے؟ ” اسی نرم لہجے سے پوچھا ۔

” نہیں بی جان میں ۔۔۔ اب ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ اس کی محبت کو دھتکارا میں نے ہمیشہ ۔۔ اچھی بات ہے اگر اسے ایسا شخص ملا ہے جو اسے بے لوث محبت کرتا ہے ” اداس مسکان سے جواب دیا اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں ۔

“بی بی جی ؟ … باہر کوئی لڑکی آئی ہے ” دروازے پر ملازمہ نے ناک کرتے کہا ۔

” کون ہے ! ” فرحین شاہ نے گھری دیکھتے پوچھا ۔ رات کے 8 بج رہے تھے ۔

” کوئ ۔۔ شنی۔۔ زہ ۔۔ ایسا ہی نام ہے بی بی جی اور آپ سے ملناچاہتی ہے” ملازمہ نے پھر سے کہا ۔

“شنیزہ !” سیف حیرت سے بولا ۔

فرحین نے ایک نظر سیف کو دیکھا ۔

“اسے ادھر ہی بھیج دو ” مہمان خانے میں بھیجنے کی بجائے اسے یہیں بلا لیا ۔

 

” جی بی بی جی” وہ جواب دیتی فوراً چلی گئی ۔

” بی جان وہ ۔۔۔ آپ سے کیوں ملنا چاہتی ! ” سیف ان کی گود سے اٹھتا کنفیوز ہوتا بولا ۔

” اب یہ کون ہے اور مجھ سے کیا چاہتی یہ تو اس کے یہاں آ کر مجھ سے بات کر کے علم ہو گا نا بیٹے” سیف کے ماتھے پر بوسہ دیتے پیار سے کہا ۔

سیف نے پہلو بدلہ ۔ وہ اس کی موجودگی شاہ حویلی میں تصور نہیں کر پا رہا تھا ۔

تبھی دروازہ کھٹکا اور شنیزہ اندر داخل ہوئی ۔

” اسلام علیکم ” اندر آتے فرحین شاہ کو دیکھتے سلام کیا ۔

” وعلیکم اسلام ۔۔۔ آؤ بیٹھو بیٹا ” سامنے صوفے کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔

شنیزہ نے اسے دیکھا جو اسے ہی سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئ ۔ ہاتھ آپس میں پیوست کر لیے ۔

” کیا نام تمہارا ! ” فرحین شاہ نے پوچھا ۔

” شنیزہ ۔۔۔ سیف کی کلاس فیلو رہ چکی ہوں کینیڈا میں ” اپنا ہلکا سا تعرف کروایا ۔

” اچھا ۔۔۔ تو بچے یہاں کیسے آنا ہوا ! ” سیف کو دیکھ کر پوچھا ۔

” ْپ کا بیٹا تو مجھے پل پل مار رہا ہے ۔۔۔ سوچا مر جانے سے پہلے ایک درخواست آپ کے حضور بھی پیش کر دوں ۔۔۔ شائد آپ ہی میری زندگی کا پروانہ مجھے دے سکیں ” سیف شکایتی نظروں سے دیکھتے وہ فرحین شاہ سے مخاطب تھی ۔

فرحین شاہ نے نا سمجھی سے دونوں کو دیکھا ۔

” کیا مطلب اس بات کا ؟ موت پروانہ درخواست ۔۔۔ کھل کر بات کرو بچے ” فرحین شاہ اب بلکل سنجیدہ نظر آ رہی تھیں ۔

” میں تو آپ کے بیٹے کے سامنے ہر طرح کی منت کر کے دیکھ چکی ہوں ۔۔۔۔ لیکن نجانے کیسا دل ہے اس کا جو نرم پڑ ہی نہیں رہا ۔۔۔۔ اس کے ساتھ زندگی جینے کے لیے مجھے اپنے پاپا کو چھوڑنا پڑا کیونکہ ۔۔۔ انہیں سیف پسند نہیں تھا ۔۔۔۔ اس وقت میں ان کی پہنچ کی وجہ سے ڈر گئ تھی اور سیف کے پروپوزل کو پوری یونیورسٹی کے سامنے ریجیکٹ کیا تھا ” شنیزہ کا سر جھک گیا ۔ آج بھی وہ پل یاد کر کے اسے رونا بھی آ رہا تھا اور پچھتاوا الگ ہو رہا تھا ۔

فرحین شاہ نے سمجھنے والے انداز میں اسے غور سے دیکھا جو اب شرمندہ سی سر جھکا چکی تھی ۔

” اچھا ۔۔۔تو تم تھی جس نے میرے بیٹے کو خاموش کروا دیا تھا ” فرحین شاہ نے ڈانٹ کر پوچھا تو شنیزہ کا سر اور جھک گیا ۔

” بی جان “

” تم چپ کرو ” فرحین شاہ نے سیف کو ٹوکا جو کوئی بات کرنے لگا تھا۔

“اب کیا تمہارے فادر کچھ نہیں کریں گےتمہری شادی کے حوالے سے یا انہیں کوئی پرواہ نہیں ! ” فرحین شاہ نے پوچھا ۔

” ان کو میں نے چھوڑ دیا اور انہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ۔۔۔ ان کو اپنی پراپرٹی زیادہ پسند تھی ۔۔۔ وہ کہتے تھے کہ جو پراپرٹی میرے نام ہے وہ ان کے نام کر دی جائے تو وہ میری شادی میری پسند سے کر دیں گے ۔۔۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی جاتا تو

۔۔۔ تب بھی وہ مجھے ساتھ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے سوشل سرکل میں بےعزتی کا مقام ہونا تھا اسی لیے میں انہیں چھوڑ کر یہاں آ گئ ۔۔۔ انہیں فرق بھی نہیں پڑے گا ۔ ان کا دل رکھنے کے لیے ان کی دوسری بیوی اور بچے ہیں ” اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بتا رہی تھی ۔ اس دوران سر اٹھا کر انہیں نہیں دیکھا تھا ۔

 

” ہممم ۔۔۔ تو رہ کہاں رہی ہو ؟ ” پھر سے پوچھا ۔

” ہوٹیل میں ۔۔۔ میں نے تو اس حوالے سے بھی آپ کے محترم بیٹے کی منت کی تھی کہ ۔۔ میری چاہت کے عوض اپنے نام کر کے ۔۔ اس حویلی کے کسی کونے میں جگہ دے دے ۔۔۔ اس کا نام تو ہو گا میرے پاس ۔۔۔ لاوارثوں والا احساس تو نہیں ہو گا کم سے کم ” سیف کو پھر سے شکایتی نظروں سے دیکھتے کہا ۔

” تمہیں اس حویلی کا کونہ کیوں چاہیے! ؟ مجھے تو لگا تھا کہ تم سیف سمیت اس کا کمرہ مانگو گی ” فرحین شاہ سنجیدگی سے اسے جانچنا چاہا ۔

شنیزہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ اور یہی چونکنے والی حالت سیف کی تھی ۔

” جججیی؟ ” اسے حیرت ہوئ ۔

” کیوں ؟ ۔۔ میری بہو بننا پسند نہیں کیا ؟ ” فرحین شاہ نے شرارت سے پوچھا تو شنیزہ سرخ پڑ گئی ۔ اب کیا وہ منہ سے ہاں کرتی ۔

“بی جان ۔۔۔ ” سیف سے تو بات ہی نہیں بن رہی تھی کہ وہ اس دوران کیا بولے ۔

” تم چپ کرو ” فرحین شاہ نے دوبارہ چپ کروا دیا کہ وہ اتنا سا منہ لے کر بیٹھ گیا ۔

” لڑکی تم آج سے اوپر کمرے میں رہا گی ملازمہ سے کہہ کر میں تمہارا کمرہ سیٹ کروا دیتی ہوں اور شاہ جی سے میں بات کر لوں گی ۔ اسی ہفتے تم دونوں کا نکاح ہے “فرحین شاہ نے شنیزہ کو دیکھتے حاکمانہ انداز سے کہا ۔

دونوں ہی اپنی جگہ اچھل کر رہ گئے۔

” بی جان ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہیں آپ ! ” سیف نےحیرانی سے پوچھا ۔

” بی جان میں کیسے آج ۔۔۔ میرا سارا سامان ہوٹیل میں ہے ” شنیزہ گڑبڑاتے بولی ۔ اسے نہیں علم تھا کہ تنی جلدی سب پلین ہو گا.

” سب کل تمہارے کمرے میں موجود ہو گا ۔۔۔ صائمہ صائمہ ” فرحین شاہ نے حتمی بات کی اوراپنی ملازمہ کو آواز دی ۔ جو چند سیکنڈز میں اندر داخل ہوئی اور مؤدب سی کھڑی ہو گئ ۔

” فوراً سے ماہم کے ساتھ والا کمرہ جو خالی ہے اسے سیٹ کرو اور بی بی کو وہاں لے کر جاؤ ” فرحین شاہ نے اسے حکم دیا تو وہ فوراً سر ہلاتی کمرے سے نکل گئ۔

” بی جان ۔۔۔ ایسے اچانک ۔۔۔ مجھ سے تو پوچھ لیں ” سیف نے زچ ہوتے کہا ۔

” سیف ۔۔۔ بیٹا ساری زندگی تم نے وہ کیا جو تمہیں صحیح لگا ۔۔۔ ہمارے ہر فیصلے کو تم نے رد کیا ۔۔ ہر اس فیصلے کو ترجیح دی جس سے ہم خائف تھے ۔۔۔ آج پہلی اور آخری بار ۔۔۔ تم ہمارا کہا مان لو ۔۔۔ اس فیصلے کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھنا ۔۔۔ اب ہم بوڑھے ہو رہے ہیں ۔۔۔ اتنی ہمتیں نہیں رکھتے کہ تم لوگوں کے درد اور غم سنبھالیں ۔۔۔ اب تم لوگوں کی باری ہے ۔۔ ہمیں سنبھالنے کی ” فرحین شاہ نے سیف کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پیار سے سمجھایا ۔

ان کی باتوں میں پاور تھی تبھی وہ گہرا سانس لے کر سر جھکا گیا ۔

آنکھوں میں عنابیہ کا چہرہ بار بار آ رہا تھا

یعنی اب اسے اپنی بی جان کی ہی سننی تھی ۔سب ٹھیک کرنا تھا ۔ ٹھیک تو کہا تھا اس کی بی جان نے کہ ہر بار اس نے خودی فیصلے لیے اور نقصان اٹھایا ۔۔۔ اب اسے سکون چاہیے تھا ۔ اور اسے اپنی بی جان کے مسکراتے چہرے سے لگ رہا تھا کہ اب اسے سکون مل جائے گا۔

Continued……

Read Urdu haveli based novel, saiyaan , Urdu novel at this website Rude Heroine | Novels 2022 | QAID JUNOON | Epi#09 for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook.visit to my channel for more New novels

https://youtu.be/yizlZanKZiw

Leave a Comment

Your email address will not be published.