Urdu Novels , Tania Tahir Revenge Best Novel یہ عشق کی تلاش ہے

Urdu Novels | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir | Epi-29

Urdu Novels| یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir | Epi-29

Urdu Novels , Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Revenge Based Urdu Novels , online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode _29

عالم نے ان سب کو حویلی سے باہر پھیکوا دیا تھا اسی حالت میں اسنے کسی پر ترس نہیں کھایا تھا یہ کہ وہاج چلنے قابل نہیں یہ پھر وہ دونوں عورتیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں کہاں جائیں گی ۔۔۔

سب کو گارڈز سے دھکے دلوا کر نکلوا دیا تھا ۔۔۔

یہاں تک کے تو سارہ نے اسکی منتیں کیں تھیں کہ وہ واپس انھیں بھیجوا دے بس ۔۔ باقی دوبارہ اس سے کبھی نہیں ملیں گے ۔۔۔ مگر وہ ۔۔۔۔ انکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ ان کے ساتھ فیور کرتا ۔۔۔

اسنے تیمور کی لاش کو پورے گاؤں کے سامنے لٹکوا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

لوگ اسکی لاش سے گھن نہیں کھا رہے تھے اسکی ٹوٹی ہوئ گردن ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤں خون میں لت پت لاش کو دیکھ کر ۔۔۔۔ لوگ خوف نہیں کھا رہے تھے البتہ اس گاؤں کے گھروں کی عزتیں لوٹنے والا آج کس حالت میں تھا وہ تسکین محسوس کر رہے تھے ۔۔۔

ایک لڑکی جو اسی گاؤں کی بے بس تھی تیمور شاہ کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا بیٹھی تھی آگے بڑھ کر اسنے تیمور شاہ پر پتھر کھینچ کر مارا ۔۔۔۔

اور وہیں بیٹھی رونے لگی

عالم یہ سب منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اور اسکو دیکھا دیکھی لوگوں نے اسکی پہلے سے ۔۔ دھجیاں آڑی لاش پر پتھر برسا دیے وہ جس قدر ظالم تھا وہ موت کے بعد کی تکلیف بھی ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔۔۔۔

عالم نے وہ لاش جب اسکا پاؤں اسکے دھڑ سے جدا ہو گیا ۔۔۔ گارڈز سے کہہ کر دفنانے کا حکم دیا ۔۔۔

اور یوں تیمور شاہ ۔۔۔۔ جو کہ ۔۔۔۔ دنیا میں لوگوں پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑتا رہا تھا جس نے اروش کو مار دیا جس نے اسکی بیوی ۔۔۔۔ کے ساتھ ظلم کیا عالم شاہ نے اسے۔۔

سزا تو اس سے زیادہ بھیانک ہونی چاہیے تھی اسکی مگر ۔۔۔ عالم شاہ سکون میں آ گیا تھا جیسے ۔۔۔۔۔

ہاں جیسے اب اروش کی روح بھی سکون میں آ گئ ہو گی ۔۔۔

وہ گھر لوٹا تو ۔۔۔۔ائرہ نظر نہیں آئ ۔۔۔۔ ۔وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا اپنی پوری زندگی میں وہ اس سے زیادہ شرمندہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔

تیمور نے جو اسکے ساتھ کیا ۔۔۔

صرف عالم کی نفرت میں کیا اسکا چہرہ جو بے حد حسین تھا اسپر چاقو کے نشان بلاشبہ اسکی خوبصورتی پر برے نہیں لگ رہے تھے اور یہ بات وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہنا چاہتا تھا تم پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ مگر لب سیلے ہوئے تھے وہ کچھ نہیں بول سکا ۔۔۔۔

مگر ائرہ کے دکھ کا اندازا تھا اسے ۔۔۔ اسکے ہاتھ اور چہرے کی ڈرسنگ کرنی تھی ۔

وہ ان نشانات کو ختم کروا دے گا وہ اسے بتانا چاہتا تھا ۔۔۔

جب ائرہ اسکے کمرے میں نہیں ملی تو اسنے ائرہ کے کمرے میں اسکو تلاشا

اور دروازہ کھولا ۔۔تو وہیں ٹھر گیا ۔۔

وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی ۔۔ اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر دائیں گال پرپوری ایک انگلی جتنا زخم تھا ۔۔۔۔ پھر اسنے اپنی کلائیاں دیکھیں ۔۔۔

جن پر بھی زخم تھے جبکہ ٹاکے بھی لگے تھے ۔۔۔

وہ پھرمڑگئ

عالم کو لگا وہ خود اذیتی کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔۔ وہ بے چین ہو گیا ۔۔۔۔

عجیب کیفیت ہو گئ وہ اسے بلکل ویسا ہی دیکھنا چاہتا تھا جیسے وہ تھی کبھی ۔۔ بہار تو کبھی سخت دھوپ مگر دو دن گزرنے کے بعد بھی اسکی آنکھوں میں چمک نہیں آ سکی ۔۔۔ عالم شرمندگی کی وجہ سے اسکے سامنے بھی کم ہی جاتا رہا تھا مگر آج اسکے یہ ٹانکے کھلنے تھے ۔۔۔۔

تبھی وہ اسے بلانے آیا تھا کہ ۔۔۔ ہسپیٹل چل لیں ۔۔۔۔

ائرہ مڑی تو اسے اپنے پیچھے دیکھا ۔۔۔ نظروں سے نظروں کا تصادم ہوا اور لمہوں میں ائرہ نے نگاہ پھیر لی

عالم شاہ کو یہ انداز بہایا نہیں وہ دیکھتی تھی تو ایسے جیسے برسوں بعد دیکھا ہو ۔۔۔۔ اور آنکھوں کی چمک میں عالم کے لیے ۔۔۔ چاہت امڈتی تھی ۔۔۔۔

اور آج نگاہ کیسے پھیر لی تھی ۔۔۔

اسکی وجہ سے ہی تو یہ سب ہوا تھا اسکی لاپرواہی جو اسنے ائرہ سے برتی وہ لڑ سکتا تھا مگر سب جانتے ہوئے چھوڑ کیوں گیا

مگر وہ یہ بھی تو دیکھے اسکی وجہ سے اسنے تیمور کو کس انجام پر پہنچایا ۔۔۔

مگر نقصان تو اسی کا ہوا تھا ساری زندگی چہرے پر یہ داغ سجائے وہ ۔۔۔۔ اسکی محبت کا ڈھنڈورا پیٹنے جسے وہ مانتا تک نہیں کہ محبت ہے “

اسکا دماغ اور دل آپس میں جنگ کررہے تھے ائرہ ۔۔۔ بنا کچھ کہے بستر پر لیٹ گئ ۔۔۔۔۔

آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔

عالم شاہ نے اسکی جناب نگاہ گھمائ اور پہلو بدلا یہ بدلاؤ ۔۔ یہ خاموشی کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔۔

وہ شدت سے یہاں محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

ائرہ۔۔

 بلآخر وہ خود بولا ۔۔ اپنی ہی آواز اجنبی لگی۔۔۔۔

ائرہ نے بس آنکھیں کھول کراسکیطرف دیکھا وہ اسکے نزدیک آ گیا ۔۔۔۔

اسی کے پاس جگہ بنا کر بیٹھ گیا ائرہ اسے دیکھنے لگی خاموش خالی نظروں سے ۔۔ یہ سٹیچیز آج کھل جائیں گے ۔۔۔میں کل ہی تمھیں ۔۔۔ باہر لے جاوں گا جہاں تم کہو یہ سارے نشان ختم ہو جائیں گے اور تم پہلے جیسی ہو جاؤ گی ” وہ بولتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام گیا ۔۔۔۔

بابا سے ملنا ہے” وہ بس اتنا ہی بولی ۔۔۔۔

عالم نے نگاہ گھما کر دیکھا ۔۔۔۔

اسکی بات کا یہ جواب نہیں تھا ۔۔۔۔۔بس اتنا کہہ کر وہ چپ تھی

عالم نے کچھ اور کہے بنا ۔۔۔ سر ہلایا

پہلے یہ سٹیچیزکھلوا لیں ۔۔۔ اسکے بعد ” وہ بولا تو وہ اٹھ گئ جیسے اسے جلدی ہو باپ سے ملنے کی عالم اسکی عجلت دیکھنے لگا اسنے ۔۔۔

چادر سر پر لی ۔۔۔ اور اسکے سامنے آ گئ ۔۔۔۔

عالم خاموشی سے اٹھ گیا ۔۔۔۔ اور دونوں باہر نکل آئے ۔۔۔

حویلی بلکل ویسے ہی پڑی تھی ۔۔۔۔

عالم کا دل کیا بس چلا جائے یہاں سے آزاد کر دے اس حویلی کو بھی مگر یہاں اروش تھی اسکی اپنی اروش ۔۔۔ اور کہیں بھی کوئ نہیں تھا مگر اروش تھی یہاں ۔۔۔

خاموشی سے ہسپتال تک کا سفر نکلا اور۔۔۔ ائرہ کے سٹیچیزکھلوانے میں اسنے پورے ہسپتال میں ایک ادھم مچا دیا ۔۔۔

کہ اسے تکلیف نہ ہو مکرم اسکے لیے جوس لیے کھڑا تھا ۔۔۔۔

شاید وہ اپنی شرمندگی مٹا رہا تھا ۔۔۔اسکے ساتھ بہتر رویہ رکھ کر اسکا ہاتھ

 تھامے وہ کھڑا تھا ۔۔اور آخر تک ہاتھ پکڑے رکھا ۔۔۔ جبکہ ائرہ کو زرا جو فرق پڑا ہو۔۔۔

وہ بس یوں ہی بیٹھی سب کچھ دیکھتی رہی

عالم نے اسکے آگے جوس کیا چہرے پر فکر کی لکیریں تھیں ائرہ نے ہاتھ میں تھام کر جوس پی لیا

درد تو نہیں ہو رہا” وہ پوچھ رہا تھا لہجے سے فکر واضح تھی مگر ائرہ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔

دل میں اتنا درد تھا بتانے بیٹھتی تو رو پڑتی اور رونے کے لیے بھی ہمت درکار تھی جو اب اس میں نہیں رہی تھی

وہ بنا کچھ کہے باہر نکل آئ ۔۔۔ عالم نے اسے جاتے دیکھا ۔۔۔۔

اور خود بھی ڈاکٹر سے مل کر باہر آ گیا ۔۔

میڈیم آپکو تکلیف تو نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ کیونکہ سٹیچیز کھلتے ہوئے ۔۔۔ خون نکل آیا تھا ” مکرم نے پوچھا تو ائرہ مسکرا دی

بس تھوڑی سی ہے ۔۔۔ وہ بھی اس ہاتھ میں ” اسنے اپنا ہاتھ مکرم کے آگے کیا

اوہ پھر آپ بیٹھ جائیں جلدی سے گاڑی میں آپکو بھوک لگی ہے یہاں سے کچھ لے دوں ” مکرم اسکا خیال کرتا بولا ۔۔۔

ائرہ نے سر ہلا دیا ۔۔۔

پلیز مجھے برگر کھانا ہے ” وہ بولی ۔۔۔ عالم خود کو جیسے ملازم سمجھنے لگا اسکی اہمیت اتنی تھی کہ وہ اپنے ملازم کے سامنے ٹکے کی اوقات نہیں رکھتا تھا اسکی بیوی اسے بتانے کے بجائے ملازم کو یہ ساری باتیں بتا رہیں

میں بس ابھی لایا میڈیم” وہ بولا تو ائرہ گاڑی میں بیٹھ گئ

عالم شاہ نے آنکھوں پر گلاسسز لگائے اور وہ خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا

اور مکرم کا انتظار کیے بنا وہ ۔۔۔ گاڑی آگے بڑھانے گیا ۔۔

ائرہ نہیں بولی تھی کہ مکرم کو تو آنے دیتے ۔۔ اسنے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا تیزی سے گزرتے راستوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔

عالم نےاسکیطرف دیکھا

غصے سے چہرہ سرخ ہونے لگا ۔۔

مجھ سے زیادہ تمھاری نظر میں مکرم کی اہمیت ہے جو تم نے اسے بتایا کہ تمھیں بھوک ہے ” بلآخر عالم بول اٹھا ائرہ نے مڑ کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔

آپکو فرق نہیں پڑنا چاہیے” وہ بس اتنا بولی ۔۔۔

دیکھو ائرہ یہ سب میں نے نہیں کیا تمھارے ساتھ جو تم اس طرح کا بیہیو کر رہی ہو ۔۔۔۔ ” وہ ایکدم گاڑی روکتا اسکیطرف رخ کیے بولا ۔۔۔

ائرہ کچھ نہیں بولی عالم اسکے جواب کا منتظر تھا مگر ائرہ نے جواب نہیں دیا

غصے سے سٹیرنگ پر ہاتھ مار کر اسنے اگڑی پھر آگے بڑھا لی ۔۔

بس اس رات میں ایک بات ہوئ تھی ان دونوں کی اور وہ یہ کہ ائرہ نے اسے اپنے گھر کا ایڈریس سمجھایا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر پہنچے تو ائرہ ایک پل میں گاڑی سے باہر نکلی اور دوڑتی ہوئی گھر میں داخل ہوئ۔۔۔۔۔

سامنے ہی باسم نظر آ گیا ۔

باسم اسکو شاکڈ کی کیفیت میں دیکھنے لگا ۔۔

ائرہ” وہ بے چین ہو کراسکیطرف بڑھا اور ائرہ اتنے عرصے بعد اپنوں کو دیکھ کر روتی ہوئی ۔۔باسم کے سینے سے جا لگی جبکہ عالم شاہ بھی وہیں کھڑا تھا ۔۔۔

باسم نے اسے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔۔۔

ائرہ ائرہ یہ سب کیا ہوا ہے ” وہ بے تابی سے پوچھنے لگا

عالم شاہ پر ایک بھڑکتی نگاہ ڈالی ۔۔

بابا کہاں ہیں” اسنے پوچھا ۔۔

اندر چلو” عالم کو دیکھے بنا وہ ۔۔۔ دونوں اندر چلے گئے ۔۔

عالم کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔۔۔

ایسا کچھ بھی اسنے پہلے کبھی فیس نہیں کیا تھا ۔۔

غصے کے شعلوں سے وہ بھڑ بھرا اٹھا ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد وہ خود سے اس کمرے کی جانب بڑھ گیا جہاں وہ دونوں گئے تھے ۔۔۔

عالم نے دروازہ بجایا اور اندر آ گیا ۔۔۔

سامنے ائرہ باپ کے سینےسے لگی رو رہی تھی جبکہ وہ پریشان تھے ۔۔۔۔

ائرہ چہرے پر کیا ہوا ہے ” وہ بیمار تھے شاید بستر پر لیٹے تھے اور ائرہ سر انکے سینے پر رکھے رو رہی تھی ۔۔

ایکدم وہ اٹھی اور ۔۔انکے آنسو صاف کیے

کچھ نہیں بس ۔۔۔ ” اسنے بنا چھپائے تیمور کا قصہ سنا دیا

مسٹر عالم آپ اپنی بیوی کی حفاظت نہیں کر سکے ” باسم غصے سے بولا ۔۔

عالم یہاں لاجواب تھا ۔۔۔۔

عالم کی خاموشی پر۔۔۔ ائرہ کے والد نے باسم کو روکا ۔۔۔۔

بیٹا بیٹھ جاؤ ” وہ بولے عالم نے انکیطرف دیکھا وہ کچھ نہیں بولے تھے ایسا جبکہ وہ تو ان سے بھی سنننے کے لیے تیار تھا ۔۔۔۔۔

عالم بیٹھ گیا ۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا میری جان تمھارا چہرہ پہلے جیسے ہو جائے گا “

کیسے” وہ بچوں کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی ” عالم کو اب احساس ہوا وہ اندر ہی اندرکس طرح گھل رہی تھی ۔۔

آہ میرا بچہ” وہ مسکرا کر اسے سینے سے لگا گئے

میں ٹھیک کراوں گا یہ سارے نشان ہٹ جائیں گے ” وہ اسے تسلی دینے لگے

پرومیس کریں” وہ بولی

پرومیس پرنسیز ” وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یقین دلانے لگی

عالم یہ سب دیکھ رہا تھا اسکی جانب وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور یہاں کیسے وہ اپنے باپ سے لاڈ اٹھوا رہی تھی ۔۔۔

بابا آپ مجھے معاف کر دیں گے” وہ پھر سے بھیگے لہجے میں بولی ۔۔۔۔

انھوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر خود سے نزدیک کر لیا ۔۔

بیٹی تھی وہ انکی اور ایسی حالت میں لوٹی تھی ۔۔وہ اسے خود سے دور کر ہی نہیں سکتے تھے ۔۔

ائرہ جیسے خوش ہو گئ ۔۔

باسم” اسنے باسم کی جانب دیکھا جو اسکے نزدیک آیا مسکرا دیا ۔۔

میں تم سے ناراض رہ ہی نہیں سکتا

 جانتی ہو بچپن میں بھی تم اپنی من مانی کرتی تھی پھر نقصان اٹھاتی تھی اور میرے پاس پہنچ جاتی تھی پھر تمھارا سارا خراب کیا ہوا مجھے درست کرنا پڑتا تھا ” وہ بولا مسکراہٹ لبوں میں تھی ائرہ ہنس دی ۔۔ باپ کے سینے سے لگ گئ

نظریں عالم شاہ کی سرخ نظروں سے جا ٹکرائیں

اور اسنے آنکھیں موند لیں ۔۔۔

وہ اتنی بھی گئ گزری نہیں تھی جتنا عالم شاہ اسے جج رہا تھا ۔۔اسکے پاس اسکے رشتے تھے ۔۔۔۔ وہ اروش نہیں تھی جس کے سگے ماں باپ بھیج دیتے یہ اسکے نہ ہوتے جو ایک دن بس چپ چاپ ۔۔ وہ گھر چھوڑ گئے تھے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم شاہ کو ائرہ کے والد نے بہت پروٹوکول اور عزت دی جیسے ایک داماد کو دی جاتی تھی ائرہ سو گئ تھی اپنے فادر کے ہی کمرے میں جبکہ باسم کچھ دیر کے لیے چلا گیا تھا

انھوں نے بیچ میں سے ساری ہزیٹیشن نکال دی تھی

تو بیٹا کچھ دن یہیں رک جاؤ ” وہ بولے ۔۔۔۔

عالم نے ایکدم انکیطرف دیکھا

یہاں

میرا مطلب انکل یہاں کیسے ” وہ ہلکا سا مسکرایا ۔۔

تمھارا گھر ہے بیٹا داماد ہو تم میرے ۔۔ میں کچھ دن ائرہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ” وہ بولے لبوں پر انکے بھی مسکان تھی ۔۔

انکل آپ ائرہ کو رکھ لیں مگر میرا یہاں رکنا آکورڈ لگتا ہے” وہ بولا ۔۔۔

کیسے آکورڈ۔۔۔ بیٹے ہو تم ” وہ بولے تو عالم نے مزید کچھ تردد کے بعد حامی بھر لی ۔۔۔

وہ کافی خوش ہو گئے تھے اسکے ماننے سے ۔۔۔

عالم کچھ دیر کے لیے خود بھی ریسٹ کرنے چلا گیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات میں جب اسکی آنکھ کھلی تو چارو جانب اجنبیت تھی مگرسکون تھا ۔۔ آنکھ کھلتے ہی اروش سے آنکھ نہیں ٹکرائی تھی اسکی تصویریں نظروں کے سمانے نہیں آئیں تھیں اور کہیں نہ کہیں وہ جیسے پھر بھی نارمل تھا ۔۔

فریش ہو کر وہ باہر آیا

تو مکرم کی کال آ گئ اسنے اسے بتایا کہ وہ کہاں ہے

سائیں میں بھی آ جاتا ہوں ” وہ بولا عالم ہنس دیا وہ اسکی جان چھوڑنے والا تھا ہی نہیں سر ہلا کر فون بند کر دیا ۔۔۔

وہ فریش ہو کر روم سے باہر نکلا تو نیچے سے کافی شور کی آواز آ رہی تھی

وہ سیڑھیاں اترا تو ۔۔۔ باسم اور ائرہ کو کیرم کھیلتے دیکھا ۔۔۔۔

ائرہ اس سے اتنی فرینک تھی بار بار باسم کے ہاتھ پر مکہ مارتی کبھی اپنی ٹانگ مارتی ۔۔

تم تم جیت نہیں سکتے ہارو تم بس ورنہ یہ کیرم تمھارے سر پر الٹ دوں گی” وہ غصے سے بولی

تم بچپن سے چیٹنگ کرتی آئ ہو اب تو کوئ خیال کرو ” باسم نے اسکو گھورا

میں نے کہا ہے نہ ہارو گے” وہ بولی لہجے میں ضد تھی

اوکے میں ہار گیا تمھارے سامنے سب کچھ ” باسم نے اپنی باری اسے دے دی اور وہ جیت گئ ۔۔ آئرہ خوشی سے اچھلنے لگی

اوکے ریلکس ۔۔۔۔” باسم ہنسا ۔۔

اور عالم سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا ہاں اسے فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا ۔۔ وہ خود کھلے عام اروش کی محبت کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا تھا کسی کے بھی دل کا خیال کئے بنا

تم کچھ کھاؤ گی” باسم نے پوچھا

ہاں برگر کھانے سے صبح سے دل کر رہا ہے” وہ بولی ۔۔

اوکے” وہ مسکرا کر آرڈر کرنے لگا ۔۔۔۔

تبھی ائرہ کی نگاہ ۔۔ عالم پرگئ ۔۔۔

وہ پھر سے انھیں سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

کیا میں کچھ دیراپنی بیوی سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں ” سخت سرد لہجے میں وہ باسم کی جانب دیکھ کر بولا ۔۔

باسم بنا جواب دیے اٹھ کر چلا گیا وہ اسکے منہ لگنا نہیں چاہتا تھا ۔۔

ائرہ کو یہ بات اچھی نہیں لگی ۔۔۔

ہم میں میاں بیوی والا کوئ رشتہ نہیں جو اچانک آپکو مجھ سے بات کرنی ہے ۔۔۔ ” اسے اچھا نہیں لگا تھا تبھی اسکا فیور کرتی بولی ۔۔

کیا ہم میں میاں بیوی والا کچھ نہیں” وہ اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔

ائرہ اٹھنے لگی عالم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر نیچے کھینچ کر بیٹھا لیا

تم یہ سب کچھ جان بوجھ کر مجھے جیلس کرنے کے لیے کر رہی ہو تو سنو ہاں مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تمھارا اس طرح اس باسم سے فری ہونا ” وہ غصے سے بولا ۔۔

مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔

اپنے باپ کے گھر میں ہوں آپکے گھر میں نہیں جو منہ سی لوں گی

تو یہ تھی تمھاری محبت “

عالم ہنسا

اگر میرے منہ پر یہ تمغے سجنے کے بعد ہی میرا ہونا تھا آپ نے ۔۔۔

تو ایک بار کہتے تو صیحی سارے تمغے اپنے ہاتھوں سے آپکے لیے دیتی

مگر اب نہیں عالم شاہ اب مجھے نہ آپکی محبت کی پرواہ اور نہ کسی چیز کی ۔”

وہ بولی عالم اسے گھورنے لگا دو منٹ میں تمھارے ہوش ٹھکانے لگا دوں گا میری نرمی کا فائدہ نہ اٹھاو یہ سب کچھ میں نے نہیں کیا تمھارے ساتھ

آپ نے کیا ہوتا تو شاید مجھے تکلیف نہ ہوتی” وہ جیسے ہار کر بولی ۔۔

عالم ایک اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔

یہ جو آپکا دل ہے کہ اروش کی پریشانی اسکی آہ و بکا سن سکتا ہے ائرہ کی نہیں

تبھی میرے چلانے چیخنے ۔۔۔ پکارنے کی کوئ صدا آپ تک نہیں پہنچی

اور جب وہ یہ سب میرے ساتھ کر چکا تب آپ کسی فلم کے ہیرو کیطرح حاضر ہو گئے

اور آپ نے بدلا اروش کا لیا۔۔۔ عالم میرا نہیں” وہ اسے دھکا دے کر چیخی ۔

میرا لیتے تو اس کے منہ پر یہ ہی نشان ڈالتی میں ۔۔۔

اسے کروانا اروش کا بدلا تھا ۔۔ کیونکہ گری اروش تھی میں نہیں ” وہ چیخی اسکا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔

آپکو لگتا ہے آپ کی یہ ہمدردیاں ۔۔۔ مجھے ۔۔ آپکی طرف مائل کریں گی نہیں عالم آپ مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں میں دیکھ چکی ہوں ۔۔یہ نفرت ۔۔” وہ آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتی بولی ۔۔۔

نہ جانے عالم شاہ کو کیا ہوا اچانک اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر اسنے اسکے لفظوں کو خود میں چن لیا ۔۔۔

یہ بے ساختہ نہیں تھا ائرہ کو لگا جبکہ عالم خود کچھ سوچ نہیں پایا ۔۔۔۔

وہ حسین لمہے حسین نرم لمس اسے بخشنے لگا ۔۔۔۔

ائرہ نے خود کو چھڑانا چاہا مگر وہ اسے مزید نزدیک کرگیا کہ وہ ۔۔۔ اسکے سینے سے لگ گئ ۔ ۔۔

تادیر اسکا بھیگا لمس اسپر برستا رہا ۔۔۔

اور عالم اس سے آہستہ سے جدا ہوا ۔

تمھاری ساری باتیں سچ ہیں مگر یہ جھوٹ ہے کہ میں نے اروش کا بدلا لیا ۔۔

یقین مانو تو اس وقت بس تم سوار تھی میرے دماغ پرایک جنون کیطرح ۔۔۔۔

کہ اسکی جرت کیسے ہوئی میری بیوی تک پہنچے اور اسکا یہ حال کرے ۔۔ہاں مجھے تم سے اسکا منہ ٹٹوا دینا چاہیے تھے ۔۔ مگر میں نے اس وقت اروش کو نہیں سوچا ۔۔ ایک پل کے لیے بھی نہیں ۔۔۔ بس میرے دماغ میں ائرہ تھی ۔۔۔۔

وہ بولا ۔۔۔ ائرہ کی بھاری ہوئ سانسوں کو ایک بار پھر نرمی سے جکڑا اور پل میں چھوڑ دیا ۔۔۔

یہ سب کیوں کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ چھوٹ گئ آپکی جان مجھ سے ہو گیا میرا دل آپ سے باغی جائیں اروش کے پاس ۔۔” وہ اپنا چہرہ پھیر گئ ۔۔۔

عالم اسکو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔

یہ نہیں کہوں گا تم سے محبت ہے۔ ۔۔۔۔ وہ بولا اور اسکا چہرہ بلکل اپنے سامنے کر لیا ۔۔۔۔

مگر تمھارا ساتھ چاہیے ۔۔۔ ساری زندگی کے لیے ۔۔

کیا تمھاری محبت ہم دونوں کے لیے کافی نہیں ” وہ سوال کرنے لگا ۔۔

ائرہ دنگ رہ گئ ۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Urdu Novels , Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and Afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our Facebook page for more content Novelsnagrhttp://Novelsnagr ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *