Web Special Novel, Urdu Novels 2022 , saiyaan

Urdu Novels 2022 | saiyaan | Last Episode | Bisma Bhatti Novels

Urdu Novels 2022 | saiyaan | Last Episode | Bisma Bhatti Novels

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital.

An online platform created just for Best Urdu Novels 2022 , saiyaan lovers, where they can easily find PDF copies of Urdu novels, haveli based novel 2022 and can download Pdf books free of cost.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#آخری_قسط

زمر ناک کر لے اندر آئی تو ماہم کو بیڈ پر لیٹے پایا اور اس کی آنکھیں اوپر چلتے پنکھے پر ٹکی تھیں ۔

” کب تک خود کو ایسے کمرے میں بند رکھو گی ماہو! ” زمر نے اس کے پاس بیٹھتے پیار سے پوچھا ۔ شاہ حویلی میں اس کی چلبلی حرکتوں سے بے حد جان تھی اب جیسے اس کی خاموشی پر شاہ حویلی سنسان ہو گئ تھی ۔

” ڈر لگتا ہے بہت ” آنکھوں سے آنسو بہہ کر بالوں میں جزب ہوا ۔

” وہ ایک حادثہ تها ۔ ۔۔۔ اسے گزرے ہفتہ ہو گیا ہے جان ” زمر نے دکھ سے کہا ۔ اس کے ماتھے کے بالوں کو سنوارا ۔

” اگر ۔۔۔ احسام نا ۔۔۔ آتے تو ! ” اس ہفتے کا وہ خوفزدہ کر دینے والا سوال جو اس کے لبوں پر ٹھہر گیا تھا ۔ اس سوال کو وہ ہر ایک سے پوچھتی تھی ۔ اس کا خوف کم ہو ہی نہیں رہا تھا ۔

” اٹھو ۔۔۔ میرے سامنے بیٹھو ” زمر نے اس کا ہاتھ کھینچتے کہا تو وہ زرد چہرے سے اٹھ بیٹھی اور گھٹنے کھڑے کرتے ان کے اردگرد بازو لپیٹ لیے ۔

” تم. ایک وکیل ہو ۔۔۔ ایک بہادر لڑکی ہو ۔۔ اللّٰه نے تمہاری حفاظت کا زمہ احسام بھائی کو دیا تھا اور ہے ۔۔۔ جب اللّٰه نے انہیں محافظ بنایا ہے ۔۔تو کس کی جرأت کے تمہیں نقصان پہنچاتا ! جبکہ تمہیں اپنے رب اور اپنے شوہر پر یقین تھا کہ وہ آ جائے گا تمہیں بچانے ” زمر اس کا ہاتھ پکڑ کر بول رہی تھی ۔

” ہاں جانتی ہوں ۔۔۔ لیکن میرے ۔۔۔ ساتھ ۔۔۔ ایسا کبھی ۔۔۔ نہیں ہوا زمر ۔۔۔ میں ۔۔۔ کینیڈا میں پلی بھری ہوں ۔۔۔۔ میں وہاں کبھی ایسے حادثت کا شکار نہیں ہوئی … پھر ۔۔۔ یہاں ! ” اس کی آواز کانپ رہی تھی ۔ اس کا دل دوبارہ سے اس وقت کو یاد کرتے دھڑکنا شروع ہو گیا تھا ۔

” تمہیں پتہ ہے ماہو ۔۔۔ ہمیں پردے میں آج تک کہوں رکھ گیا ہے ؟ ” نرمی سے سوال کیا ۔

مایم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔

” ہمیں شاہ حویلی میں اس لیے نہیں پردوں میں رکھا جاتا تھا کہ سب چھوٹے دماغ کے مرد تھے یا ان کی زہنیت ایسی تھی ۔۔۔۔ ہمیں اس لیے پردے میں رکھا گیا ہے کیونکہ عورت پردے میں ہی محفوظ رہی ہے آج تک ” مسکرا کر اس کے ہاتھ پر دباؤ دیا ۔

ماہم اس کی بات پر بس اسے دیکھ رہی تھی ۔

” عورت پر پردہ فرض ہے ۔۔۔۔۔ جانتی ہو ؟ ۔۔۔ جب ایک عورت بنا پردے کے باہر نکلتی ہے یا کھلے عام پھرتی ہے ۔۔۔ تو جس جس مرد کہ نظر اس پر پڑتی ہے وہ اسے گنہگار کر دیتی ہے ۔۔۔ وہ مرد تو گنہگار ہوا کہ اس نے آنکھ اٹھا کر اس عورت کو دیکھا اور اس کے حسن کا جائزہ لیا ۔۔۔۔ لیکن وہ عورت جو بنا پردے کے باہر نکلی تھی وہ دو گناء گناہ کی مرتکب ہو گی کیونکہ اس نے اللّٰه کا حکم نا مانا ۔۔۔ اور بنا پردے کے اپنی تمام حسین رعنائیوں کے ساتھ باہر نکلی تھی ” زمر کی آواز سنجیدہ تھی لیکن ماہم کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی ۔

” جس طرح خدا ہر جگہ مجھے ہے اسی طرح شیطان اس خدا سے دور کرنے کے لیے اس کے بندوں کو بہکاتا ہے ۔۔۔ شیطان چہرے کے خدوخال کو دکھا کر بہکانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔۔ عورت سے زیادہ ۔۔۔۔ مرد ایک نا محرم عورت اور وہ بھی حسین ہو تو بہک جاتا ہے ۔۔۔۔۔ بس شرط یہ ہے کہ اسے اللّٰه کے احکام کا علم ہو ۔۔۔ تو وہ اپنی نگاہوں کو اس حسن سے ہٹا لیتا ہے ۔۔۔ بشرطیکہ کہ وہ مرد ہو ۔۔۔ ” زمر کا ایک ایک لفظ گہرائی لیے ہوا تھا ۔ ہر لفظ میں گہری بات تھی ۔ وہ جو ماہم کو سمجھانا چاہ رہی تھی بلکل ٹھیک سمجھا رہی تھی ۔

” لیکن میرا ۔۔۔ ایسا کوئی ۔۔۔ ارادہ نہیں تھا کہ کوئی ۔۔۔ نا محرم مجھے دیکھ کر ۔۔۔ بہک جائے ۔۔۔ یا وہ کھوکھر ۔۔۔ میرے حسن پر فدا ہو جائے ۔۔۔ میں نے احسام کے علاوہ کسی کو نہیں چاہا ۔۔۔ اسی کے لیے سنورتی ہوں میں ” ماہم اپنے کردار کہ جیسے صفائی پیش کر رہی تھی کہ اس نے تو کبھی ایسا نہیں چاہا تھا جو ہوا ۔

” ہاں ۔۔۔ تم احسام بھائ کے لیے سجتی ہو ۔۔۔ یہ ہمیں پتہ ہے بھائی کو پتہ ہے ۔۔۔۔۔ مگر زمانے کو نہیں معلوم ۔۔۔ نا محرم کو نہیں معلوم ۔۔۔ یہ جو اللّٰه نے شکلیں بنا دی ہیں وہ بھی حسین ۔۔۔ یہ پردے کی اوٹ میں ہی رہیں تو بہتر ہے ۔۔۔ عورت کے لیے اس کا حسن ایک وبال ہے اس صورت میں اگر وہ اسے ڈھانپ کر نا رکھے ۔۔۔ تم بے حد حسین ہو ماہم ۔۔۔ خود کو چھپاؤ ۔۔۔۔ اپنے حسن کا خیال کرو ۔۔ محشر میں تم سے ۔۔۔ اس حسن کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔۔۔۔ کہ کب کب اور کیسے کیسے اس حسن کو عیاں کیا ۔۔۔۔ اور اگر دنیا میں ہم نے نا محرم کو اپنا حسن دکھایا ہوا ۔۔۔۔ تو سچ میں وہ مقام ہو گا کہ زمین پھٹے اور ہم اس میں سما جائیں ” زمر کا لہجہ رنجیدہ ہو گیا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں کرب تھا ۔

ماہم یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی .

” مجھے نہیں ۔۔۔۔ علم تھا اس سب کا ۔۔۔ کیا مجھے ۔۔۔ اب عزاب ہو گا ؟ ” ماہم نے ڈر کر پوچھا ۔

” جب تک علم نا ہو تب تک معافی مل جاتی ہے ۔۔۔ اور جب علم ہو جائے اور تب بھی خیال نا کیا جائے تو انسان نقصان اٹھاتا ہے. ۔۔۔ تمہیں بھائی اکثر کہتے تھے ۔۔۔ خود کو چھپاؤ ۔۔۔ ڈوپٹہ لو ۔۔۔ یہ تمہیں وارننگز تھیں ۔۔۔۔ اس دن جو ہوا وہ تمہارے لیے آزمائش تھی ۔۔۔ تمہیں اللّٰه نے بچا لیا ہے ۔۔۔ تمہاری عزت محفوظ ہے ۔۔ شکر ادا کرو ۔۔۔اور آگے سے خیال کرو ” ماہم کی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے کہا ۔

” میں لائیر ہوں ۔۔۔ میں کیسے پردہ کروں ” ماہم نے الجھ کر پوچھا ۔

” تم حجاب کرو ۔۔۔ ماسک پہنو ۔۔۔ یا نقاب کر لو ۔۔ اور جو تمہارا یونیفارم ہے وہ ساتھ پہنو ۔۔۔ ہر پیشے میں اتنی رعائت ہوتی ہے کہ اسلامی طرز کا خیال کیا جائے ۔۔ تم وکیل ہو ۔۔۔ سوچو کتنی لڑکیاں ۔۔۔ ایسے ریپ وکٹم کے کیسز میں ہوتی ہیں ۔۔۔ ان کے لیے لڑو ۔۔۔ انصاف دلوا سکتی ہو تم …اس طرح کمرے میں بند ہونے سے ۔۔۔ کیا حاصل ہو گا تمہیں ” زمر اسے بہت اچھے سے سمجھا گئ تھی ۔شائد اس سمجھ کی اسوقت ماہم کو ضرورت تھی ۔

” شکریہ ۔۔مم مجھے سمجھانے کے لیے ۔ ” ماہم نے زمر کو گلے. لگا لیا ۔

” مینشن ناٹ ۔۔۔ اب نیچے چلو اٹھو ۔۔ شاہ حویلی سنسان پڑی ہے تمہارے بنا” اس کے بالوں کو بگاڑتے کہا کہ وہ مسکرا دی ۔

“بی بی جی۔۔۔۔ بی بی جی ۔۔۔ نیچے عنابیہ بی بی ْئی ہیں ” تبھی ملازمہ کی پر جوش آواز دروازے کے اور سے آئی کہ دونوں نے پلٹ کر دیکھا ۔

“ع ۔۔۔عنو !! ” زمر کو یقین نا آیا کہ یہ کیا سنا اس نے ۔جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی اور نکل گئ ۔

” عن ۔۔۔ ابیہ ” ماہم کے لب سنجیدگی سے پھر پھرائے ۔

“” مجھے عنابیہ پسند ہیں ۔۔۔ ہاں کرتا ہوں اس سے محبت ” اسی پل احسام کے الفاظ دوبارہ اس کے کانوں میں گونجے ۔

ایک انجانہ خوف اس کے دل میں بیٹھ گیا ۔

 

💙
💙💙

سب لوگوں کی نظر عنابیہ پر تھی جو باری باری سب سے مل رہی تھی جبکہ یوسف شاہ اور سبکتگین ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے تھے ۔

فرحین شاہ ابهى کمرے سے نکل کر نہیں آئی تھیں ۔

سہیلہ تو عنابیہ کو سینے سے لگا کر چھما چھم رو رہی تھیں ۔

قمر اور ارم ایک سائیڈ پر کھڑے تھے ۔

” میری چندا تو مجھے دیکھ ہی نہیں رہی ۔۔۔ اتنا ناراض ہو مجھ سے ! ” سبکتگین نے سہیلہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا تو وہ جو عنابیہ کو سینے سے لگائے ہوئی تھیں کہ جانی پہچامی آواز اور لہجے سے تڑپ کر پلٹی جہاں سبکتگین نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔

” ل ۔۔ لالہ ! ” وہ بے یقینی سے سبکتگین کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر محسوا کرنے لگی کہ کیا سچ میں وہ اپنے بھائی کو دیکھ رہی ہے ؟

” میں ہی ہوں چندا ۔۔۔۔ میری جان ” اس کو محبت سے سینےس ے لگاتے سبکتگین رو پڑے ۔ وہیں سہیلہ کیہچکیاں بندھ گئیں ۔

فضیلت اور زوبیہ بھی آبدیدہ ہو گئیں ۔

” میری عنابیہ آئی ہے ؟ ” تبھی فرحین شاہ کی کھلکھلاتی آواز نے سب کو متوجہ کیا جو سیڑھیاں اتر رہی تھیں اور نظر عنابی پر تھی ۔

” بی جان ! ” عنابیہ بھی ان کیطرف بڑھی ۔

سبکتگین نے آواز تو سن لی تھی اور ایک عرصے بعد پھر ان کا دل بری طرح سے دھڑکا تھا ۔

سہیلہ نے سر اٹھا کر انہیں بے یقینی سے دیکھا ۔

” نہیں چندا ۔۔۔ اب میری بیوی میرے لیے اہم ہے ” سہیلہ کی آنکھوں کا سوال پڑھ کر وہ مسکرا کر بولے ۔

” لیکن آپ بے اختیار ہو جاتے ہیں فرحین بھابھی کو دیکھ کر ” سہیلہ نے پریشانی سے کہا ۔

” پریشان نا ہو ۔۔۔ بیٹا میرا کردار کمزور نہیں ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔

” بی جان ۔۔۔بہت یاد کیا آپ کو ” عنابیہ نے روتے روتے کہا ۔

” جھلی نا ہو تو ۔۔۔ میں تو تیرے پاس ہی تھی ۔۔ بس اشارہ کرتی میں نے اڑ کر آ جانا تھا ” ہنستے ہوئے عنابیہ کے ماتھے پر بوسہ دیا.

” اسلام علیکم “تبھی لاؤنج میں شنیزہ نے سلام کیا وہ ابھی سیف کے ساتھ باہر سے آ رہی تھی کہ لاؤنج میں سب کو دیکھ کر نا سمجھی سے سلام کیا ۔

” سیف کی بیوی ہے ” بی جان نے اداس نظروں سے عنابیہ کو دیکھا ۔ کتنی خواہش تھی کہ سیف کی بیوی کے روپ میں عنابیہ کو دیکھے ۔

عنابیہ نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔ جو بے حد حسین تھی ۔

” پیاری ہے ” مسکرا کر جواب دیا ۔

” امی ۔۔۔ یہ قمر ” عنابیہ نے قمر کا ہاتھ پکڑا اور سہیلہ کے سامنے کیا تو سہیلہ نے تشکر بڑے انداز میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ تم نے ہماری بیٹی کی قدر کی. ان کے جڑے ہاتھوں کو فوراً قمر نے پکڑ کر کھولا اور انہیں سینے سے لگا لیا ۔ عنابیہ سے جڑا ہر رشتہ اسے عزیز تھا اور اب تو یہ اس کی پھوپھو تھیں ۔

” ماشاءاللّٰه ۔۔۔ تم تو میری عنابیہ کے ساتھ بہت جچ رہے ہو ” یوسف شاہ نے قمر کے کندھے کے گرد بازو کرتے کہا تو وہ ہنس دیا ۔

سب کی محبت بھری نگاہیں عنابیہ پر اٹھیں جو سرخ ہوتی سر جھکا گئ۔

داخلی دروازے پر کھڑے سیف کی نظر اس پر ٹھہر گئ تھی لیکن اب تو اس کے پاس حق ہی نہیں تھا اسے جی بھر کر دیکھنے کا ۔ سر جھٹکا اور اندر بڑھا ۔

” اسلام علیکم ” سیف نے سب کو مشترکہ سلام کیا ۔

عنابیہ نے گہرا سانس لیا ۔ اس کادل ابھی اس کی موجودگی میں پریشان ہونا بند نہیں ہوا تھا ۔ شائد بڑھتے وقت میں وہ اپنے دل کو سمجھا لے ۔ اور یہ بھی سچ بات تھی کہ اسے قمر کا ساتھ اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا ۔ وہ اس کی وفادار تھی ۔

” فرحی ۔۔۔ مجھے معاف کر دو ” ارم نے سب کے سامنے فرحین کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے ۔

فرحین نے اس کیطرف دیکھا جہاں ساتھ ہی سبکتگین کھڑے تھے ۔ ایک پل کو آنکھیں رکی ضرور تھیں لیکن پھر اگلے پل آنکھوں کا رخ ارم کی طرف کر لیا ۔

” میں نے اس دن بہت تکلیف دی تمہیں ۔۔۔ معاف کر دو پلیز ” جڑے ہاتھوں سے ان کا لہجہ بھی رندہ ہوا تھا ۔

“بس کرو ارم ۔۔ مجھے صرف میری بہن چاہیے معافی کا کیا کروں گی میں ” ارم کو گلے لگاتی فرحین شاہ رو پڑیں ۔

” احسام بھائی ۔۔ کیف بھائی ۔۔۔ اور زامل بھائی کہاں ہیں ؟ ” عنابیہ نے ان کی غیر موجودگی محسوس کرتے پوچھا.

” فرید کے ساتھ ڈیرے پر گئے تھے ۔۔۔آنے والے ہیں ” جواب فرحین کی طرف سے آیا تھا۔

سب لاؤنج کے صوفوں پر براجمان تھے جبکہ خواتین کچن میں مصروف تھیں ۔

صرف فرحین شاہ اور زوبیہ شاہ لاؤنج میں بیٹھی تھیں ۔

ماہم سیڑھیاں میں کھڑی عنابیہ کو دیکھ رہی تھی جو پہلے سے زیادہ حسین لگ رہی تھی یا شائد اس کو لگا ۔

” پلیز احسام ۔۔۔ تم گھر نا آنا ” اس کا دل عجیب ڈر سے دھڑک تھا ۔ لیکن سب دعائیں کب قبول ہوتی ہیں ۔

باہر گاڑیوں کے رکنے کی آواز پر ماہم کا دل بھی جیسے کر گیا ۔

کسی نے نہیں دیکھا تھا کہ ماہم سیڑھیوں میں کھڑی تهی ۔ اس حادثے کا سب کو علم تھا اس لیے اسے کوئی بھی تنگ نہیں کرتا تھا باہر آنے کو ۔

احسا کیف زامل فرید آگے پیچھے داخلی دروازے سے اندر آئے

” کیف بھائی ” عنابیہ کی خوشی سے آواز نکلی ۔

کیف عنابیہ کہجلترنگ پر بے یقینی سے اس کی طرف بڑھا ۔پیچھے زامل اور فرید بھی خوشی سے آگے آئے جبکہ احسام کے قدم اس کی آواز پر آہستہ ہو گئے ۔ اسے امید نہیں تھی کہ عنابیہ ایسے یوں اچانک شاہ حویلی میں نظرآئے گی یا وہ کبھی اس کی آواز سن سکے گا ۔

وہ شائد مزید کچھ سوچتا یا عنابیہ کو دیکھتا کہ اس سے پہلے ہی اس کی نظر ماہم پر گئ جو سیڑھیوں پر کھڑی احسام کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں عجیب خوف عجیب ڈر تھا جو احسام نے نوٹس کیا. لیکن اسے بے حد خوشی تھی کہ وہ کم سے کم کمرے سے باہر تو نکلی ۔

کیف نے عنابیہ کے سر پر پیار دیا اور اسی طرح فرید نے عنابیہ کو گلے لگایا ۔ زامل نے بھی اس کے سر پر پیار دیا ۔

سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی ۔

“کیسی ہو عنابیہ ” احسام نے مسکرا کر اس سے پوچھا ۔

” ٹھیک ہوں بھائی ۔۔۔ آپ سنائے ؟ ” عنابیہ نے خوش دلی سے جواب دیا ۔

” قمر ۔۔۔ یہ ۔۔۔ احسام بھائی ہیں “عنابیہ نے قمر سے مخاطب ہوتے کہا تو قمر خوش دلی سے احسام بغل گیر ہوا.

” شکریہ ۔۔۔ ہماری حویلی کی بیٹی کو اس رنگ سے نا دیکھنے کے لیے جس رنگ سے ہم نے بھیجا تھا “احسام شاہ نے تشکر سے کہا تو قمر نے نفی میں سر ہلایا اور دوبارہ احسام کے گلے لگا ۔

” میں زرا چینج کر آؤں ” احسام نے ماہم کو کمرے میں جاتا دیکھ کر کہا ۔

“بھائی ماہم کو بھی کہیں کمرے سے نکل آئے نا باہر “عنابیہ مے معصوم لہجے میں کہا ۔ بس ماہم ہی تو رہ گئی تھی جس سے نہیں ملی تھی ۔

احسام نے فقط سر ہلایا اور سیڑھیوں کہ طرف بڑھ گیا ۔ زوبیہ نے پریشانی سے احسام کو دیکھا نجانے وہ ماہم کے ساتھ اب ٹھیک بھی رہے گا یا نہیں ؟

💙💙💙

احسام نے دروازہ کھولا اور اندر آیا ۔

اس نے کمرے میں نظر دوڑائی لیکن اسے ماہم کہیں نا نظر آئی ۔ لیکن واشروم میں شاور کھلے ہونے کی آواز نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ اندر ہے ۔ لیکن وہ یقیناً الٹا سیدھا سوچ رہی ہو گی اسے یہ بھی یقین تھا ۔

سائیڈ ٹیبل پر گھڑی موبائل کیز والٹ رکھا اور کندھوں پر لی شال اتار کر بیڈ پر رکھی ۔ پاؤں سے جوتے اتار کر رکھے سائیڈ پر ۔

اب اس کا رخ واشروم کی طرف تھا جہاں فل شاور آن ہونے کی آواز آ رہی تھی ۔

 واش روم کا دروازہ کھولا تو وہ آرام سے کھل گیا یعنی وہ بنا بند کیے شاور میں نہا رہی تھی لیکن ماہم کبھی دروازہ نہیں کھولتی تھی اتنی سینس تو اسے تھی ۔

وہ اندر گیا تو وہ شاور کے نیچے کھڑی تهی اور چہرہ شاور کیطرف کیا ہوا تھا ۔ اس کے سارے کپڑے بھیگ چکے تھے ۔ یقیناً گرمی کا موسم تھا اور شدید ٹھنڈے پانی میں وہ کھڑی ہوئی تھی ۔ اسے یاد تھا کہ صبح ماہم کو سخت تیز بخار تھا اور اب ایسے وہ شاور کے نیچے کھڑی تهی ۔

وہ اس کی فرسٹیشن سمجھ رہا تھا ۔

دھیرے سے اس کے پیچھے کھڑا ہوا اور اس کے ارد گرد بازووں کا گھیرا بنا لیا ۔

مخصوص کلون کی خوشبو اور لمس پر وہ چونکی اور پھر اس کی پر حدت پناہ میں خود کو پرسکون پایا اور اپنی کمر اس کے سینے سے لگا دی اور سر اسکے کندھے پر رکھ دیا ۔

” ایسے پانی میں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔ تمہیں بخار ہے ماہی ” اس کی کنپٹی پر پیار کرتے نرمی سے پوچھا ۔

” ڈر ۔۔۔ لگ رہا تھا ۔۔۔ بہت ” آنکھوں کو بند کیے ایسے ہی جواب دیا ۔

” کس سے ؟ ” اس کی گردن کی سائیڈ پر بوسہ دیا ۔

” آپ سے ” آواز بھر آئی تھی ۔

احسام نے اسے گھمایا اور چہرہ مقابل کیا جو آنکھوں میں آنسو لیے ہوئی تھی ۔

شاور کے پریشر کو تھوڑا ہلکا کر دیا ۔

” کیوں ! مجھ سے کیوں ؟ ” اس کو ابهى بھی اپنے حصار میں لیے ہوئے پوچھا ۔

” نیچے عنابیہ آئی ہے احسام ۔۔۔ آپ نے دیکھا تھا ۔۔۔۔ اور میں آپ ۔۔۔ کا اسے دیکھنا بھی ۔۔۔۔برداشت نہیں کر پائی ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ نظریں جھکائے ایسے بول رہی تھی جیسے اس کہ یہ غلطی ہے ۔ وہ چاہتی تھی احسام پر یقین کرنا لیکن نہیں کر پا رہی تھی ۔

” تو تمہیں لگا کہ احسام کے دل میں عنابیہ اب بھی ہو گی یا دوبارہ عنابیہ کی طرف مائل ہو جاؤں گا؟ ” احسام نے اس کے چہرے سے بالوں کو ہٹاتے اسی نرمی سے پوچھا ۔

ماہم نے سر ہاں میں ہلایا ۔

” لیکن احسام شاہ تو تمہارا ہے ” اس کی تھوڑی اوپر کرتے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا تھا ۔

“پکا نا ۔۔ ! ” ماہم. نے معصوم چہرے سے اسے دیکھتے پوچھا ۔

” اتنی بے یقینی ماہی ؟ … تم مجھے ہرٹ کر رہی ہو ” شاور بند کرتے مصنوعی ناراضگی سے کہا .

” ہاں ۔ ۔ لیکن مجھے نہیں ۔۔۔ پتہ کیوں ۔۔۔ دل میرا ۔۔۔ آپ کے معاملے میں ۔۔۔۔ بغاوت پر اتر آتا ہے احسام ۔۔۔ آپ سے محبت کی ہے ۔۔۔ اتنی ظرف نہیں ہے کہ آپ کو شئیر کر سکوں ” اپنے اندر کی حالت کو باہر نکالتے وہ پریشان ہو رہی تھی ۔ وہ احسام کو ہرٹ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

احسام نے تولیہ ہینگر سے اتارا اور اس کے بالوں کو اچھے سے خشک کرنے لگا اور وہ اس دوران احسام کی ناراض چہرے کو دیکھتی رہی ۔

” پلیز احسام ۔۔۔۔ میری خاطر ایک ۔۔۔دفعہ ۔۔۔ آخری دفعہ یقین نہیں دلا سکتے کہ آپ میرے ہیں ؟ ” اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر روکتے منت سے پوچھا ۔

” یقین کرنا خود سیکھو ماہم ۔۔۔ میں اپنے کردار کی صفائیاں کبھی خود نہیں دیتا “اس کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے کہا ۔

” ہر وقت ۔۔۔ غصہ تو آپ ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔ تب بھی کہہ دیا کریں ۔۔۔ کہ میں نہیں کروں گا غصہ ” اس کے ہاتھوں کو اپنے بازووں سے ہٹاتے ناراضگی سے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی ۔

اس کی بات نے نا چاہتے ہوئے بھی احسام کو ہنسنے پر مجبور کر دیا ۔ وہ جلدی سے پلٹا اور اس کےنکلنے سے پہلے ہی اسے اپنی گود میں بڑھ چکا تھا ۔

ماہم نے اس کی طرف نہیں دیکھا ۔

وہ مسکراتا ہوا اسے ایسے ہی لیے ڈریسنگ روم میں لے آیا اور کھڑا کیا ۔ اس کے کمر کے گرد بازو حائل کرتے اپنے نزدیک کر لیا ۔

” میری جان تم میں بستی ہے ماہم ۔۔۔ میرا دل تو تم نے اپنے ہونٹوں سے وار وار کر کچا کھا لیا ہے ۔۔ اب اسے کیسے نکال کر دکھاؤں تمہارے سامنے ! ” اس کو ہنسانے کی غرض سے ایسے کہا کہ وہ سچ میں اس کی بات پر ہنس دی ۔

” میں آپ سے شدید والی محبت کرتی ہوں احسام ” اس کی گردن میں باہیں ڈالتے وارفتگی سے کہا ۔

” اور مجھے بولنے سے زیادہ دکھانے میں مزا آتا یے ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا کہ ماہم اس کی پکڑ میں مچلی ۔

” نو ۔۔۔۔ بہت دنوں بعد ہاتھ لگی ہو ” اس پر گرفت مضبوط کرتے وہ ماہم کو بے بس کر گیا تھا ۔

” احساامممممم ” دانتوں کو کچکچایا ۔

” میری جان ” اس کے ماتھے سے ماتھا جوڑ لیا ۔

 

 

💙💙💙💙

” ویسے شاہ حویلی میں سب لڑکوں میں ۔۔۔ احسام بھائی کی پرسنلٹی بہت کمال کی ہے ” قمر نے پر سوچ نگاہوں سے کہا ۔

عنابیہ جو ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی بالوں کو برش کر رہی تھی رک کر اور مڑ کر اسے دیکھا جو رات کے گیارہ بجے کیا یاد کر رہا تھا ۔

” آپ کو احسام بھائی کہاں سے یاد آ گئے ؟ ” عنابیہ نے پوچھا ۔

” ویسے ہی اس دن کی ملاقات یاد آ گئی تو کہہ دیا ” قمر نے کندھے اچکائے ۔

” ہممم ۔۔۔ میری حویلی کے سب لڑکے بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔ ہماری حویلی کے لڑکوں کے لیے آپ کو پتہ ہے ہر کوئی رال ٹپکائے بیٹھا تھا ہر کوئی چاہتا تھا کہ ان کی بیٹیوں کی شادی یہاں ہو جائے ۔۔۔مگر افسوس سب کے سب بچپن میں ہی فکس ہو گئے اور جس جس کو علم ہوتا اس کی حالت پر افسوس بھی ہوتا اور ہنسی بھی آتی ” اپنی ٹون میں وہ ان پلوں کو یاد کرتے ہنستے ہوئے بتا رہی تھی ۔

تبھی قمر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا ۔

.” کیا ہوا ! ” اس کو یک ٹک خود کو دیکھتے پا کر وہ نا سمجھی سے بولی ۔

” آپ نے کبھی میرے بارے میں بتایا ہی نہیں کہ آپ کو کیسا لگتا ہوں ” اس کے سر پر اپنی تھوڑی رکھتی شیشے میں اس کے عکس پر نگاہیں ٹکائے پوچھا.

اس کا سوال تھا کہ کیا کہ عنابیہ سورخ ہو گئی تھی اور اا کی ہلکیں بے اختیار جھک گئی تھیں ۔

” بتا دیں عنا ۔۔۔ میں تو ہر وقت ہر لمحہ ہر بار آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے آپ کتنی حسین کتنی پیاری لگتی ہیں ۔۔۔ آپ بھی کبھی اظہار کریں ۔۔۔ اتنا ترسانا اچھا نہیں ہوتا ۔ ” اس کی جھکی نگاہوں کو محبت سے دیکھتے پوچھا ۔ لہجے میں ایک لاڈ تھا ایک مان تھا ۔

” کبھی کبھی ۔۔۔ ہم بیویوں کو اپنے شوہروں کو ۔۔ ترسانا بہت اچھا لگتا ہے ” برش کے بیڈز پر انگلی پھیڑتے ہلکی مسکان سے جواب دیا.

قمر نے روٹھنے کے سے انداز میں اس کے سر سے اپنی تھوڑی ہٹائی ۔ عنابیہ نے فوراً اسے شیشے میں دیکھا جو اب ناراض نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔

” کبھی منایا ہے کسی روٹھے کو ؟ ” سنجیدگی سے پوچھا ۔

اس کے سوال پر عنابیہ کی مسکراہٹ سمٹی یعنی وہ اس کی بات کا برامنا چکا تھا ۔

” مجھ سے ناراض ہونے لگے ہیں آپ ؟ ” پریشانی سے پوچھا ۔

” بلکل ۔۔۔ جب ستانا ہی ہے آپ نے مجھے تو بہتر یہی ہے کہ میں بات نا کروں آپ سے ” روٹھے لہجے میں کہا اور جا کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔ سائیڈ لیمپ آف کیا اور آنکھوں پر بازو رکھ دیا ۔

عنابیہ اس کے اتنی شدید ری ایکشن پر ہقا بقا اسے دیکھتی رہی ۔

اٹھ کر اپنی سائیڈ پر بیٹھی اور اسے دیکھا جو لاپرواہ بنا شدید ناراض ہو چکا تھا ۔

” قمر ۔۔۔ قمر ” اس کا کندھا ہلایا لیکن قمر نے جواب نہیں دیا ۔

” قمرر ” پھر سے کندھا ہلایا ۔

” سونے دیں عنابیہ ” کروٹ لیتے اسی روٹھے ہوئے لہجے میں کہا ۔

اس کی بے رخی پر عنابیہ کے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آ گئے اور اتنا سا دل تھا اس کا کہ ہمیشہ عنا کہہ کر بلاتا تھا اب پورا نام لے رہا تھا ۔ اس کی برداشت بس اتنی سی تھی کہ وہ بلک بلک کر رو دی ۔

اس کے رونے پر قمر کی ایکٹنگ ایک سیکنڈ میں ختم ہوئی تھی ۔سائیڈ لیمپ جلاتا وہ جلدی سے اس کی طرف پلٹا جو چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بچوں کی طرح رو رہی تھی ۔

” عنا …. میری جان ۔۔۔ یار سوری ” اس کی نازک ہوتی حالت پر وہ اسے اپنی آغوش میں لے گیا اور عنابیہ کو اس کا سینہ کیا ملا کہ اور رونے میں اضافہ فرما دیا ۔

” یار ۔۔۔ میں نے کیا کہا آپ کو ۔۔۔ میری جند جان واری آپ کی مسکراہٹ پر ۔۔۔ آپ کو رلانے کا ارادہ نہیں تھا بلکل بھی ” اسے زور سے خود میں بھینچے پریشانی سے کہا ۔

” آپ بے حد برے ہیں ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ کیسے دور کیا خود سے ۔۔۔ ایسے ہاتھ سے جھٹکا دیا کہ چلی جاؤ میرے پاس سے ” اس کے بازووں سے نکلتی روتے ہوئے ایکٹ کر کے بتایا کہ کیسے اس نے دور کیا تھا ۔

” میں ۔۔۔ نے کب ۔۔۔ آپ کو ایسے جھٹکا دیا ۔۔۔ اور کہا کہ چلی جاؤ یہاں سے ! “وہ تو اس کی بات پر حیران ہوتا بولا اور آخری الفاظ اسی کی ایکٹنگ میں دوہرائے ۔

” ارادہ تو یہی تھا نا آپ کا ۔۔۔ اب کہاں مانے گے آپ ۔۔ اتنی زور سے کروٹ لی ۔۔۔ یوں فٹاک سے چہرہ موڑ لیا ۔۔۔ شرم نہیں آئی مجھے ایسے ہرٹ کرتے ہوئے ” آنسوؤں کو بہانے کے دوران ہچکیاں بھی بندھ گئ تھی اور قمر تو بوکھلا گیا تھا ۔ اس نے ایسا کب کہا یا سوچا جو عنابیہ کہہ رہی تھی ۔

“نہیں ۔۔ بلکل بھی نہیں میری جان ” قمر نے اسے دوبارہ اپنے حصار میں لیا اور وہ دوبارہ اس کے حصار میں سوں سوں کرنے لگی ۔

کتنی دیر وہ اسے خود سے لگائے پریشان بیٹھا رہا ۔ اور یہ سوچتا رہا کہ اس نے کب ایسا سوچا یا کہا ۔ اسے تو یہی غصہ آ رہا تھا کہ کیا ضرورت تھی ناراض ہونے کی ایکٹنگ کرنے کی ۔

“اتنی مزے کی گڈ نیوز دینے والی تھی آپ کو ۔۔۔مگر آپ تو مجھے بس ہرٹ کری جا رہے ہیں ” سوں سوں کے دوران شکوہ کیا ۔

” آپ ہزار باتیں کریں جانم میں ۔۔۔۔ کیسے ہرٹ کر سکتا آپ کو ۔۔۔بتائیں میں سن رہا ” اس کے چہرے کو سامنے کرتے پیار سے کہا ۔

عنابیہ کا پتہ نہیں لیکن اسے منانا آتا تھا اپنے سے جڑے رشتوں کو ۔

” وہ ۔۔۔ میرا دل نہیں کر رہا ” بتانے کے لیے لب کھولے کے فوراً سے انکار کیا ۔

“بتائیں نا ” اس کو بازووں کے درمیان سے کھسکتے محسوس کرتے دوبارہ اپنے حصار میں لیتے زور دیا ۔

عنابیہ نے اسے دیکھا جو اس کے بولنے کا منتظر تھا ۔

” قمر ۔۔۔ آپ ۔۔۔ میرا طلب ۔۔۔ we are going to become parents ” دھیمی لہجے میں اسے وہ گڈ نیوز دی جس نے قمر کو اپنی جگہ ساکت کر دیا تھا ۔

عنابیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا ردِ عمل دے گا ۔

” کیا کہا ! ” قمر نے بے یقینی سے پوچھا ۔

” قمر آپ بابا بننے والے ہیں ” اس کے سینے پر سر رکھتے تشکر سے کہا ۔

قمر کی دھڑکن تیز ہو گئ تھی جو عنابیہ کو محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرے کیسے بتائے کہ کیا محسوس کر رہا تھا وہ ۔

” کچھ کہیں گے نہیں ! ” اس کی طرف چہرہ اٹھاتے پوچھا ۔

قمر نے اسے دیکھا ۔اس کی آنکھیں پانی سے بھری ہوئ تھیں ۔

” شکریہ ۔۔۔۔ عنا ۔۔۔ میرا رب گواہ ہے کہ میں اس وقت کیسا محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔۔ شکریہ ۔۔۔ تم اتنی پیاری نعمت ہو میرے لیے ۔۔۔ شکریہ شکریہ ” اس کے ماتھے پر بار بار بوسہ دیتے وہ نم آواز سے بول رہا ت۔

اس کی خوشی دیکھ کر وہ ہنس دی تھی ۔ قمر کا ری ایکشن تو اس کے اپنے عمل سے بھی کئی گناہ جوشیلہ تھا ۔

سکون سے اس کے سینے پر سر رکھتے آنکھیں موند لیں ۔

 

 

💙💙💙💙

زندگی میں سب کو ان کی من چاہی محبت مل جائے ضروری تو نہیں کیونکہ اللّٰه وہی نوازتا ہے جس میں اس کے بندے کی بھلائی ہو ۔ اللّٰه کی حکمت ہم نہیں جان سکتے لیکن ہم پر فرض ہے کہ اس کے بندے ہونے کے ناطے اس کے فیصلوں کے سامنے سر جھکا دیں ۔ عنقریب وہ اس جھکے سر کے بدلے اتنا نوازے گا کہ بانٹنے پر بھی آئے تو جھولی خالی نہیں ہو گی ۔

 

 

 

Read Best Urdu Novels 2022, saiyaan , Urdu novel at this website for more Online Urdu Novels and afsany that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

https://youtube.com/channel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment

Your email address will not be published.