Web Special Novel, Urdu Romance Novel,

Urdu Romance Novel, Tu Mera Sanam, Episode 3

Urdu Romance Novel, Tu Mera Sanam

Writter: Areeba Afzal , Episode 3

Web Site: Novelsnagri.com

Category: Web special novel 

Web Special Novel, Urdu Romance Novel,

تو_میرا_صنم

#از_اریبہ_افضل

#قسط_3

“لیزا بات تو سنو میری یار ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو بات تو کروں کم از کم مجھ سے “فہد اس کا بازو پکڑے اسے اپنی جانب کرتے بولا تو لیزا نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ اپنے بازو سے دور کیے تھے اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔۔۔
“کیا بات سنو میں تمھاری فہد یہاں تم مجھ سے محبت کے دعوے کر رہے ہو اور وہاں ممانی کو میرا وجود تک گوارہ نہیں ہے کیوں تم میری زندگی کو مزید ویران بنانا چاہتے ہو بہتر ہے فہد کے تم مجھ سے دور رہو “
لیزا سنجیدگی سے کہتے وہاں سے آگے کو بڑھ گئی جبکہ فہد سوچوں میں گھم تھا جلدی سے اسے جاتے دیکھ اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔
“لیزا پلیز میری بات تو سنو بس کچھ دن ہے میری جاب لگ جائے پھر میں پھپھو سے اپنے رشتے کی بات کروں گا بس تم مجھ سے یوں بات نا کرو “
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے لہجے میں سچائی بھرے بولا تھا لیزا گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں پر ” ممانی کی تیز آواز پر فہد نے فوراً اپنا ہاتھ لیزا کے کندھے سے ہٹایا جبکہ لیزا کی آنکھوں میں ہلکا خوف لپکا تھا ۔۔۔
“کچھ نہیں امی میں وہ لیزا کو چائے بنانے کو بول رہا تھا”
فہد اپنی ماں کی جانب دیکھتے لہجے میں چاشنی سموئے بولا تھا ۔۔
“ہممم خیر تمھیں بناتا تھا کہ کل ہم تمھارے لیے لڑکی دیکھنے جا رہے ہے میرے ساتھ چلنا میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھی ایرا غیرا میری بہو بننے کے خواب دیکھنے لگی جائے “
ممانی کا لہجہ زہر خند تھا انہوں نے کن انکھیوں سے لیزا کی جانب دیکھا جب کا چہرہ توہین کے باعث سرخ ہو چکا تھا جبکہ فہد نے لب بھینچ لیے تھے ۔۔۔
“تم میرے لیے چائے بناؤ” وہ لیزا کو وہاں سے بھیجتے خود ممانی کی جانب پلٹ گیا تھا ۔۔
“امی پر اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو میری جاب بھی نہیں لگی اور ویسے بھی مجھے کوئی اور پسند ہے “
فہد اپنی ماں کے تاثرات دیکھتا ناپ تول کر بول تھا ۔۔۔۔
“تیری یہ جاب تو ہے نا چھوٹی سی بڑی جاب بعد میں ڈھونڈ لینا اور ویسے بھی جس کو تو پسند کرتا ہے نا اس کا خیال ذہن سے نکال دے فہد میں بتا رہی ہو میں کسی صورت لیزا کو اپنی بہو نہیں بناؤ گی پہلے جو تو اس کی یونیورسٹی کا خرچہ اٹھا رہا ہے وہ کم ہے کیا “
نسرین بیگم انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی بولی تھی ان کے لہجے میں لیزا کے لیے صاف نفرت جھلک رہی تھی جبکہ فہد پریشان ہو چکا تھا کچن کے دروازے پر سب سنتی لیزا کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا ۔۔۔
“پر ماں کیوں لیزا اچھی لڑکی ہے اور گھر میں آپ سب کے سامنے پلی بڑھی ہے کیا مسلہ ہے اگر میں اس سے شادی کر لوں تو “
فہد کو کچھ سمجھ نا آیا کہ وہ کیسے اپنی ماں کو منائے
“دیکھ اس چڑیل نے تجھے اپنے قبضے میں کر لیا ابھی سے اگر تم نے ایسا سوچا بھی نا فہد تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گا میں اور دیر ان دونوں ماں بیٹی کو سہن نہیں کر سکتی “
نسرین بیگم دانت پیستے بولتی وہاں سے چلی گئی جبکہ فہد ان کے اس سنگین فیصلے پر وہی گھم صم کھڑا تھا جبکہ لیزا اپنے ہی خیالوں میں گھم تھی ۔۔۔
_________________________!!
“تمھاری اوقات یہاں پر ہے سمجھی تم ” وہ سختی سے اس کے ہاتھوں کو پکڑتے ایک کمرے میں لاتے ہوئے بولا تھا کئی کانچ کی چوڑیاں ہیرا کے بازوؤں میں پیوست ہو گئی تھی نین کٹورے آنسوؤں سے بھر گے ۔۔۔
“کیوں گئی تھی وہاں اب بکواس کرو یہاں ۔بہت چل رہی تھی نا زبان تمھاری “
زمیل اس کے چہرے کو دبوچے غرا کر بولا تھا کہ ہیرا کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھی اس نے زمیل کے ہاتھوں پر اپنے نازک مومی ہاتھ دھرے تھے ۔۔۔
“چ۔چھوڑوں مجھے زمیل میں آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں”
وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھڑواتی چینخ کر بولی تھی جبکہ اس کے اس عمل پر زمیل کی آنکھیں خون آشام ہوئی تھی ۔۔
“شٹ اپ تم صرف میری پابند ہو سمجھی تم تمھاری ہر آتی جاتی سانس پر میرا حق ہے شاید یہ بات تم بھول چکی ہو روحی “
وہ میٹھیاں بھینچے بولا تھا سفید رنگ پر سرخیاں گھلی ہوئی تھی اس نے آنکھوں میں وحشت بھرے اس کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔
“نہیں ہے کوئی حق آپ کا مجھ پر آپ کی نظریں بھی مجھے برداشت نہیں ہے سمجھے آپ اور میرا نام ہیرا ہے میں ایک طوائف ہوں اور آپ یہاں خرید کر مجھے لائے ہے”۔
وہ آنکھوں میں سرخی لیے بولی اس کا لہجہ تلخ تر ہو گیا تھا جبکہ اس کی بات سنتے زمیل فاسق کا خون کھول اٹھا تھا جو بار بار ایسے الفاظ منہ سے نکال رہی تھی ۔۔۔
“آگ لگ گئی ہے سینے میں ہاں؟ جلن ہو رہی ہے کہ ایک نازک دو شیزہ سے ہار گے آپ فاسق خان نفرت کرتے تھے نا آپ مجھ سے آج میں آپ سے نفرت کرتی ہوں آپ کی جتائی گئی فکر پر میں تھوکتی ہوں فاسق خان سمجھے آپ صرف اس لیے کہ میں ایک طوائف کی بیٹی تھی کیا کیا آپ نے میرے ساتھ فاسق آئی ہیٹ یو “
وہ چینختی ہوئی اسے سچائی کا آئینہ دیکھاتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی جبکہ وہ سختی سے لب ایک دوسرے میں پیوست کر گیا تھا اس کے دل کو جیسے کسی نے جلتے انگاروں پر گھسیٹا تھا ۔۔۔
“تم مجھ سے نفرت کرتی ہو ہاں شٹ اپ جسٹ شٹ اپ مجھ سے نفرت بھی میری مرضی کے ساتھ ہوتی ہے اور صیح کہا تم ہو تو ایک گندی نالی کی پیدائش ہی نا”
وہ اسے دیکھتا نخوت اور استہزاء لہجے میں بولا کہ اس کی بات سنتے ہیرا کا دم اسے اس کمرے میں گھٹتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
“یہی مر جاؤ گی تمہیں یہاں رہنا نصیب کر رہا ہوں کیوں کہ ابھی بھی تم زمیل فاسق خان کی بیوی ہو پر کیا کرے آہستہ آہستہ تمھارا نام اور تمھارا وجود بھی اس دنیا سے مٹ جائے گا بغیر کسی کی نظروں میں آئے کیوں کہ میری اصلی بیوی عنایت خان ہے سمجھی تم اور تمھاری اوقات بس یہاں تک ہے “
وہ اس کی جانب دیکھا نفرت سے کہتے اسے دھکا دیتا اسی کمرے میں بند کر کہ جا چکا تھا جبکہ پیچھے روحی اس کی آخری بات پر اٹک چکی تھی
“اصلی بیوی عنایت خان ” تو کیا اس نے واقعی ہی شادی کر لی تھی کیا اس کی ساری باتیں جھوٹی تھی
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی اسے دیکھا جیسے کمرے کی ہر چیز غمگین تھی ۔۔۔
_________________________!!
“مے آئی کم آن سر ” ؟ وہ ہاتھ میں فائل پکڑے بولی تھی جبکہ چہرے پر سنجیدگی تھی اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہو گئی تھی ۔۔۔
“مس آپ کے ڈاکومنٹس چیک کیے میں نے اچھے ہے مگر آپ جاب کیوں کرنا چاہتی ہے جبکہ آپ کی سٹڈی اپنی مکمل نہیں ” وجدان خالص پروفیشنل طریقے سے اسے دیکھتا بولا تھا جس پر اس نازک لڑکی کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھری اور پل میں غائب ہو گئی
“سر بعض اوقات حالات ہم سے وہ سب کروا دیتے ہیں جو ہم کرنا نہیں چاہتے انہی میں سے یہ جاب بھی شامل ہے اگر آپ مجھے جاب دے گے تو امید ہے میں آپ کو مایوس نا کرو “
وہ پر اعتمادی سے بولی تھی وجدان نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
“اوکے مس آپ کل سے جوائن کر لے آپ کو کام میرا مینجر سمجھا دے گا سلیری آپ کی تیس ہزار ہو گی “
وہ فائل اٹھاتے ہوئے بولا تھا جس پر لیزا خوش ہو گئی اسے یقین نا آیا کہ واقعی اس کی جاب لگ گئی ہے اور شکریہ کہتی وہاں سے اٹھ کر جا چکی تھی
جبکہ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر اس نے نمبر ڈائل کرتے کان کو لگایا تھا چہرے پر مدھم مسکراہٹ خودبخود ہی آ گئی تھی ۔۔۔
“ہیلو اسلام علیکم کون ” صنم اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی جب مقابل سے آتی آواز پر اس نے دانتوں تلے لب دبائے ۔۔
“آپ کی روح کا حصہ ” وہ شوخ انداز میں بولا کہ صنم کے گال سرخ ہو گے تھے اس سے کچھ پل کے لیے کچھ بولا ہی نا گیا ابھی کچھ وقت پہلے بی اماں نے اسے بتایا تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے بچپن میں ہی ان کا نکاح ہو چکا تھا جبکہ بی اماں نے آدھی بات ہی اسے بتائی تھی تبھی ایک الگ رشتے کے احساس کی وجہ سے اس کے وجود میں کرنٹ سا دوڑ گیا تھا ۔۔
“ج۔۔جی ” صنم کا لہجہ اس کی بات سن لڑکھڑا گیا تھا پہلے ہی وہ اس سے خار کھاتی تھی اور اب تو وہ اس کے ساتھ ایک انوکھے رشتے میں بندھ چکی تھی ۔۔۔
“میرے کمرے میں جاؤ” وہ فون پر اسے ہدایت دیتا بولا تھا صنم اس کی بات سنتے آہستہ سے اس کے کمرے میں گئی تھی
“بیڈ پر دیکھو تمھارے لیے گفٹ ہے ” وہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا تھا صنم نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس بوکس کو کھولا وہاں ایک خوبصورت نیوی بلیو کلر کا ڈریس تھا مگر جیسے ہی صنم نے کانپتے ہاتھوں سے ڈریس اوپر اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گئی وہ ویسٹن ڈریس تھا جبکہ صنم نے پہلے ایسے کپڑے کبھی نہیں پہنے تھے ۔۔۔
“شام کو میرے آنے سے پہلے تیار ہو جانا” فون سے آتی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں آئی اسے سمجھ نا آئے کہ کیا بولے وہ اپنے گلابی لبوں پر ستم ڈھاتے خاموش رہی تھی ۔۔
“میرے حصے کا کام کرنا تمھاری عادت میں اب بھی شامل ہے ” وہ گھمبیر بھاری آواز میں بولا کہ صنم کا چہرہ سرخ اناری ہو گیا تھا اس کی معنی خیز بات کا مطلب سمجھتے اس نے فوراً اپنے لبوں کو آزاد کیا تھا ۔۔۔
“وج۔جدان میں ایسے کپڑے نہیں پہنتی ” وہ اپنی مشکل اسے بیان کرتی بولی تھی لہجے میں معصومیت در آئی تھی ۔۔۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا صنم یہ سب تم صرف میرے لیے پہنو گی اور میں چاہتا ہوں میری بیوی میری خواہش پوری کرے “
“پوری کرو گی نا ” وہ جذبات لفظوں میں بھرے بولا تھا جبکہ صنم خاموش رہی
“جی ” کچھ پل بعد وہ مدھم آواز میں بولی تھی
جبکہ مقابل نے مسکرا کر فون بند کر دیا “
صنم نے آہستہ سے فون کان سے الگ کیا اس ڈریس کو دیکھتے صنم کا دل تیزی سے دھڑکا تھا ۔۔۔
________________________________!!
“تم اندر کیسے آئے ” نین آنکھوں میں غصے بھرے بولی تھی جبکہ وہ استہزاء ہنسا
“کیا محل تعمیر کیا ہے تو نے جو پہرے دار رکھے ہو گے اپن تو دروازے سے آیا ہے اتنا غصے کاہے کو کرتی ہے “
وہ گن ہاتھوں میں پکڑے دروازے کی جانب اشارہ کرتا بولا تھا جب پر نین کی آنکھیں پھیل گئی خوف کی ایک لکیر اس کے چہرے پر واضع تھی اس کی حالت کو دیکھتے مہاویر نے گن فورآ جیب میں ڈالی
“ارے تیکھی مرچی اتنا کاہے ڈرتی ہے شادی کے بعد تو یہ سب تیرے سامنے ہی ہو گا بلکہ اپن چلانا بھی سیکھائے گا تیرے کو”
وہ شوخی آنکھوں میں بھرے بولا تھا جس پر نین کا دماغ ماؤف ہوا تھا ۔۔
“یہ سب لوگ کون ہے اور تم یہاں آئے ہی کیوں ہو”
نین غصے میں بولی تھی بار بار اسے اس شخص کا اس کے پیچھے آنا ذرا برابر بھی پسند نہیں آ رہا تھا
مہاویر اس کی بات نظر انداز کیے ساتھ لائے مولوی صاحب کو اس کا نام بتانے لگا تھا
“یہ کیا کر رہے ہو تم”نین کی آنکھیں سامنے کا منظر دیکھ حیرت سے پھیل گئی تھی اسے اس سنکی انسان سے ہلکا خوف محسوس ہوا ۔۔۔
“کاہے کو اتنی نوٹنکی کرتی ہے تو نظر نہیں آ رہا اپن مولوی لے کر آیا ہے تیرے سے شادی رچانے کو ” وہ اپنی ہلکی بڑھی ہوئی بیرڈ کو رگڑتا ہوا بولا تو نین نے اچھنبے سے اسے دیکھا اس کی بات سن نین سکتے میں آ گئی تھی اچانک غصے سے رخسار گلال ہو گے ۔۔۔
“یہ کیا بکواس ہے ہاں تمھیں سمجھ نہیں آتا مجھے شادی نہیں کرنی اور ایک موالی آوارہ سے تو بالکل نہیں ” وہ آنکھوں میں غصہ بھرے بولی تھی اس کا دل زورو شوروں سے دھڑک رہا تھا جبکہ مقابل تو اس کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر گہرا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
“بڑی تیکھی ہے رے تو تیرے سے ابھی اجازت نہیں مانگی بس جب مولوی تیرا نام میرے نام کے ساتھ لے تو خالی تو نے قبول ہے بولنا ہے بات ختم “
وہ بات کو ہوا میں اڑاتے اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر بولا تو نین نے دانت پیسے تھے کتنا ڈھیٹ تھا وہ ۔۔۔
“کتنے ڈھیٹ انسان ہو تم تمھیں سمجھ نہیں آتی رکو ابھی پولیس کو فون لگاتی ہوں “
نین بھڑکتے ہوئے بولی ساتھ ہی فون پر نمبر ڈائل کرتے کان سے لگایا جس پر مہاویر نے بڑی پھرتی سے اس کے نازک مومی ہاتھوں سے فون جھپٹا تھا اور فون دور کیاری میں پھینک دیا ۔۔
“کیا سمجھتی ہے تو خود کو چار لفظ کیا پڑھ لیے انگریز کی اولاد ہو گئی ہے شادی تو تیری میرے سے ہی ہو گی یہ لکھ لے تو اور رہی بات ڈھیٹ کی تو سو بات کی سیدھی بات اپن ڈھیٹ نہیں ڈھیٹ لفظ بھی اپن کے لیے کم ہے “
وہ اس کا نازک ہاتھ اپنے بھاری ہاتھ میں لیتا بولا کہ نین نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا تھا جبکہ سلگتی گرفت بے حد مضبوط تھی ۔۔۔
“تیری زندگی اب سے اپن کی امانت ہے اس لیے تیرے یہ دل ،گردے ، جگر ، چہرہ غرض تیرا وجود اور روح صرف اپن کے بارے میں سوچے تو بہتر ہے ورنہ ۔۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا انگلی اٹھا کر وارن کرتا وہاں سے سب کو لیتا باہر نکل گیا جبکہ نین پیچھے پھیلی آنکھوں سے اسے جاتا دیکھتی رہی تھی کس جاہل انسان کے پلے پڑ گئی تھی جلتا سا لمس اسے اپنی کلائی پر محسوس ہوا تو فوراً دوسرا ہاتھ اس جگہ پر رکھا تھا ۔۔۔۔۔
“جاہل انسان نا ہو تو اب یہاں رہنا مشکل ہے ہمارا”
وہ بڑبڑاتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی اس کا ارادہ اب اپنے بابا کو لے کر یہاں سے جانے کا تھا ۔۔۔
کیوں کہ مہاویر نے اس کا یہاں رہنا تو دوبھر کر دیا تھا
______________________________!!
” مجھے اس ٹاپک کی سمجھ نہیں آئی ” لیزا افرا کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تھی جو اس کے تاثرات دیکھ رہی تھی ۔۔
“سمجھ آئے گی بھی کیسے میڈم تو کسی اور ہی دنیا میں کھوئی ہوئی ہے “
افرا اس کو آنکھیں دیکھاتی بولی تھی جو واقعی آج صبح سے کھوئی کھوئی لگ رہی تھی
“ہممم میں نے سنا تھا لوگ موت سے ڈرتے ہیں مگر اصلی ڈر تو زندگی سے لگنا چاہیے بہت بے رحم ہے زندگی “
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی اس کی آواز سے اداسی جھلک رہی تھی
“کیا ہوا ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو ” افرا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں فکر مندی سے بولی تھی
“کچھ نہیں جاب مل گئی ہے مجھے پارٹ ٹائم کروں گی وہ اب میں مزید کسی پر بوجھ نہیں بن سکتی “
لیزا سر جھٹکتے خوشی سے بولی تھی افرا اس کی بات سنتے واقعی خوش ہوئی ۔
“کیا حال ہے دشمنو!”
وہ مغرور انداز میں چلتا ٹھیک اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا سن گلاسز ہٹاتے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے وہ اسے دیکھنے میں مصروف تھا
“چلو یہاں سے افرا ” وہ اسے مکمل اگنور کیے بولی تو افان کا چہرہ غصے کی وجہ سے سرخ ہوا اپنا نظر انداز ہونا وہ بھی اس لڑکی سے اسے سخت زہر لگا تھا
لیزا ابھی ایک قدم ہی بڑھی تھی جب اپنی کلائی پر مظبوط گرفت نے جیسے اس کے پاؤں جو زنجیروں میں قید کر لیا تھا ۔۔۔
“جب تک میں نا کہو تم یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی سمجھی تم “
وہ دانت پیستے اونچی آواز میں بولا کہ لیزا نے ایک نظر اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا اور پھر آس پاس اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے جبکہ افرا پریشان کھڑی تھی
“تمھارے باپ کی جاگیر نہیں ہوں میں ہاتھ چھوڑوں میرا ورنہ پولیس میں کمپلینٹ کر دوں گی “
وہ آنکھوں میں انگارے بھرے بولی تھی پہلے ہی کل ممانی کی باتوں نے اسے خاصا ڈسٹرب کر دیا تھا اور اب یہ افان راجپوت ۔۔۔۔!!
“ہاہاہاہاہاہاہا پولیس میں کمپلینٹ کروں گی میری افان راجپوت کی ہاہاہاہاہاہاہا اچھا مذاق ہے ون مور پلیز “
وہ طنزیہ ہنسی ہنستا اس کی جانب دیکھتا بولا کچھ سٹوڈنٹ مزا لینے کے لیے وہاں کھڑے دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے
“یہ یونیورسٹی میری ہے اور جس پر افان راجپوت کی نظر پڑ جائے وہ اسی کی جاگیر کہلاتی ہے چاہے وہ کوئی چیز ہو یا تم جیسی کوئی لڑکی “
وہ لیزا کی جانب دیکھتا سخت لہجے میں بولا تھا کہ لیزا کے چہرے کا رنگ “تم جیسی لڑکی ” پر فق ہوا تھا
“ہاتھ چھوڑوں میرا بدتمیز انسان کیا تمھارے ماں باپ نے یہی تمیز سیکھائی ہے تمھیں یا پھر وہ بھی تمھاری طرح بدتمیز۔۔۔۔!!”
وہ اس کی آنکھوں میں چھانے والی سرخی کو دیکھ بات ادھوری چھوڑ گئی تھی اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا
“لیزا ” وہ پوری شدت سے دھاڑا تھا اتنا کہ وہاں موجود تمام لوگ اس کی دھاڑ سن خوف زدہ ہو گے تھے اور ان میں لیزا بھی شامل تھی ۔۔۔۔
لیزا اس سے ہاتھ چھڑواتی وہاں سے تیزی سے نکلی تھی جبکہ وہ آنکھوں میں تپش لیے اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔
“بہت غلط کیا ہے تم نے لیزا میرے زخموں کو ادھیڑ کر بہت غلط کیا ہے تم نے اور افان راجپوت تو کسی کا احسان نہیں بخشتا تم نے تو پھر غلطی کی ہے تمھیں میں دیکھاؤ گا کہ درد کیا ہوتا ہے تکلیف کیا ہوتی ہے جسٹ ویٹ اینڈ واچ “
وہ میٹھیاں بھینچے لفظ چبا چبا کر ادا کرتے بولا تھا جس پر وہاں کھڑے مہروز کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔
______________________________!!
“تیار ہو ” میسج کی بپ بھیجتے جیسے ہی اس نے میسج اوپن کیا تو اس کا دل دھڑک اٹھا تھا
“جی” مومی انگلیوں سے میسج ٹائپ کر کہ بھیجا گیا تھا اس کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔۔
“اوپر ٹیرس پر پہنچو ” اگلا میسج دیکھ اس کی روح فنا ہوئی تھی وہ بلیک فراک کو سنبھالتی اپنے کمرے سے باہر نکلی اور سیدھا اوپر ٹیرس کی جانب رخ کیا وہاں پہنچتے اس کی آنکھیں جیسے چندھیا گئی تھی
کالا آسمان ٹیرس کے بالکل درمیان میں ٹیبل اور اس۔پر رکھا کھانا آس پاس موم بتیاں رکھی ہوئی تھی جبکہ تھوڑی دور ہٹ کر ایک جھولا تھا جیسے وائٹ پھولوں سے سجایا گیا تھا ماحول خواب ناک تھا صنم کو سمجھ نا آیا کہ یہ سب اس نے کب کیا تھا ۔۔۔
“ویلکم مائی لیڈی ” وہ پیچھے سے آتے اس کے گرد حصار باندھے اس کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکا کر بولا کہ صنم ہڑبڑا گئی تھی ۔۔
“کیسا۔لگا سب ” اس کے کندھے پر آہستہ سے اپنا لمس چھوڑتے وہ مسرور سا بولا تو صنم نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
“خوبصورت” وہ مدھم آواز میں بولی تھی وجہ وہ انسان تھا جو اس کے بے حد قریب کھڑا تھا
“آؤ” اس کا۔ہاتھ تھامے وہ اسے ٹیبل تک لے گیا تھا اپنے ہاتھوں پر دباؤ پڑتا دیکھ صنم کا چہرہ سرخ اناری ہوا تھا ۔۔۔۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا جبکہ وجی کھا کم رہا تھا اس کی نظریں خوبصورتی سے سجی صنم پر تھی
“کھانے کے بعد وہ سکون سے اسے جھولے پر بیٹھائے خود اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا اوپر چاند کی روشنی بہت دلفریب لگ رہی تھی جبکہ کہ اس کے وجود کو خود کے قریب پاتے وجی نے اس کے گرد بازو حمائل کیے ۔۔
“جانتی ہو تمھارا شوہر ہوں میں ” وہ مدھم آواز میں اس کی جانب جھکتے بولا تھا اس کی گرم سانسیں صنم کے چہرے پر پڑ رہی تھی
“۔ج۔جی” وہ انگلیاں مڑوڑتے بولی تھی جس پر وجی آہستہ سے مسکرایا تھا
“ہمممم….!” وہ اس کی جانب مزید جھکتے اس کی کان کی لو کو لبوں سے دباتا بولا کہ صنم نے مظبوطی سے اپنی فراک کو پکڑا تھا ۔۔۔
وجی نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا تھا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو بیوی ” وہ اسے مخمور نظروں سے دیکھتا بولا تھا صنم سے تو کچھ بولا ہی نا گیا وہ پہلی بار ایک خاص رشتے کے چلتے اس کے یوں قریب بیٹھی تھی جبکہ وجی نے نہایت نرمی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے خود کے قریب کیا تھا ۔۔۔۔
“وہ آہستہ سے اس کی جانب جھکا کچھ پل وہی رہتے اس نے زور سے صنم کو دھکا دیا کہ وہ زمین پر جا گری تھی اس کے بازوؤں پر چوٹ آئی تھی حیرانی سے وہ وجدان کو دیکھ رہی تھی ۔۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی ہاں میں تمھارا خون کر دوں گا مجھے تم نہیں چاہیے میری زندگی میں سمجھی تم “
وہ پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے بولا تھا اچانک ماحول میں خوف طاری ہوا تھا صنم کو سمجھ نا آیا کہ اچانک ہوا کیا تھا وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ڈرتے ہوئے وہ وجی کے قریب پہنچی
“وج۔جی کیا ہوا آپ کو ” اس کے بازوؤں کو پکڑے وہ مدھم آواز میں ڈر لیے بولی تھی جو اپنے سر کو پکڑے کھڑا تھا اس نے خون آشام نظروں سے صنم کو دیکھا
“دفع ہو جاؤ یہاں سے نفرت ہے مجھے تم سے بدکردار لڑکی دفع ہو جاؤ تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا نہیں چھوڑوں گا میں تمھیں “
وہ ہذیانتی ہوتا کھانے کی میز سے شیشے کا گلاس لیتا صنم کے سر پر مارتا غرا کر بولا کہ ایک خون کی دھار صنم کے سر سے نکلتی زمین پر گرنے لگی تھی جبکہ اس کی چینخیں بلند ہوئی تھی ۔۔۔۔
اسے پہلے تو وجدان سے خوف آتا تھا مگر وہ اسے ایسا نہیں سمجھتی تھی وہ تو پاگل ہو رہا تھا اسے وجی سے آخری حد تھا ڈر محسوس ہوا تھا نجانے اس کا کیا قصور تھا خود وجی نے اسے یہاں بلایا تھا ۔۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے وہاں سے نیچے گئی تھی سڑھیاں اترتے وہ فوراً بی اماں کے پاس پہنچی تھی جو اسے ایسی حالت میں دیکھ سہم گئی تھی
“ب۔ب۔ی۔اماں۔و۔وہ۔وجی۔نے ” روتے ہوئے اس سے کچھ بولا ہی جا گیا تھا ہچکیاں خوف کی وجہ سے بندھ چکی تھی بی اماں نے حیرت سے اسے دیکھا جس کے سر پر خون تھا ۔۔۔۔
وہ فوراً ملازمہ سے فرسٹ ایڈ منگوا کر اس کی پٹی کرنے لگی تھی ساتھ اسے پین کلر دے کر پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی ایسے حالات وہ کئی مرتبہ جھیل چکی تھی ۔۔۔
“یا اللہ وجی ٹھیک ہو ” وہ اللہ کو پکارتی بولی تھی فکر مندی ان کے چہرے پر تھی جبکہ صنم کسی بچے کی مانند ان میں چھپی ہوئی تھی خوف سے اس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا جبکہ بی اماں اسے تسلیاں دے رہی تھی
___________________________!!
“مہاویر ایک کام دیا تھا تجھے تجھ سے وہ تک پورا نہیں ہوا “
بادشاہ اسے دیکھ غصے سے بولا تو مہاویر نے کن انکھیوں سے بادشاہ کی جانب دیکھا تھا
“دیکھ رے میرے سے ہوشیاری مارنے کی زیادہ ضرورت کوئی نہیں ہے تیرے کو وہ چھوکری نہیں مانتی تو کیا کرے اپن”
مہاویر سیگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبائے نخوت سے بولا تھا سیگریٹ پینے کی وجہ سے اس کے ہونٹ سیاہ ہوچکے تھے مگر وہ بہت پر کشش تھے
کئی مرتبہ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا تھا کہ سیگریٹ چھوڑ دو مگر اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا
“سالوں تم میرے کو بے وفائی کرنے کو بول رہے ہو اپن تم سب کو جہنم میں بھیج سکتا ہے مگر سیگریٹ نہیں چھوڑ سکتا سمجھے کیا “
وہ غصے سے ان کی زبانیں بند کروا دیا کرتا تھا
“وہ کوئی شہزادی نہیں ہے جو تم اسے مناؤ سمجھے تم جیسے تیسے کر کہ اسے پیار کے طلسم میں جکڑو ایک وہی ہے جو میری خواہش پوری کر سکتی ہے بہت نام سنا تھا تمھارا مگر شاید یہ کام تیرے بس کی بات نہیں “۔
بادشاہ اسے اکساتے ہوئے بولا تھا جس پر مہاویر نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے اسے زمین پر پھینک دیا اس پر اپنے قیمتی جوتے رکھ اسے رگڑ دیا تھا
“تیرے کو پتا ہے بادشاہ لوگ اب اس سیگریٹ کے جیسے ہیں استمعال کر کہ پھینک دیتے ہے تیرے کو کیا لگتا ہے تیرے کہنے سے یہ مہاویر کام کرے گا اپن اپنی مرضی کا۔مالک ہے خود کی مرضی پر کام کرے گا اور تیرے کو وہ لڑکی منگتا نا مل جائے گی جا عیش کر “
وہ ہاتھوں کے اشارے سے اسے دور رہنے کا بول خود باہر نکل گیا تھا جبکہ بادشاہ پیسے سے مسکرایا

___________________________!!

جاری ہے ۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

Read more urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,best urdu afsanay & Online urdu Afsana at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit our facebook page kindly.

1 thought on “Urdu Romance Novel, Tu Mera Sanam, Episode 3”

Leave a Comment

Your email address will not be published.